سری لنکا میں ایسٹر بم دھماکے اور مشتبہ بھارتی تعلق

نیروپاما سبرامنین

97

 تامل ناڈو کے دو مبلغین سری لنکا گئے۔ ایک کو پولیس نے دھرلیا اور دوسرے کو بےدخل کردیا گیا۔

ایسٹر کے اتوار کو ہوئے بم دھماکوں میں جس میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد تامل ناڈو کی توحید جماعت کو سری لنکا کے مسلمانوں میں اپنے نظریات کے پرچار کرنے پر کڑی نگرانی کا سامنا ہے۔

چند سال پہلے تامل ناڈو کی توحید جماعت سے تعلق رکھنے والے دو مبلغین نے سری لنکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مسلم اجتماعات میں خالص توحید کے نظریات کا پرچار کیا۔ تاہم مقامی مسلمانوں نے اس معاملے کو پسند نہیں کیا اور حکام سے یہ کہہ کر شکایت کی کہ یہ افراد یہاں فرقہ واریت اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایسٹر کے اتوار کو ہوئے بم دھماکوں میں جس میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد تامل ناڈو کی توحید جماعت کو سری لنکا کے مسلمانوں میں اپنے نظریات کے پرچار کرنے پر کڑی نگرانی کا سامنا ہے۔ تامل ناڈو کی توحید جماعت سے گزشتہ سال تک وابستہ ایک مبلغ جس کا نام پی۔ جین العابدین تھا کو سال 2006 میں کولمبو سے اس وقت بے دخل کردیا گیا تھا جب آل سائیلون جمیعت علما نے حکام سے شکایت کی کہ یہ مبلغ مسلمانوں کے درمیان اپنے نظریات کےسبب تفریق پیدا کررہا ہے۔

انڈین ایکسپریس کو چنائی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، یہ مبلغ جسے مختصراََ پی ۔ جے کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، اس نے بعد ازاں دو مختلف مواقع پر، پہلے سال 2008 میں اور اس کے بعد 2015 میں سری لنکا جانے کی کوشش کی تاہم اسے ویزا نہیں دیا گیا۔ توحید جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور مبلغ کووائی ایوب کو جس کا تعلق جمیعت القرآن والحدیث سے تھا (یہ گروپ بھی تامل ناڈو کی توحید جماعت کا پرانا حصہ ہے) کو جولائی 2009 میں سری لنکا میں اس وقت شہرت ملی جب پولیس نے وزارت مذہبی امور کی شکایت پر اس کو گرفتار کرنے کوشش کی۔

مسلح اہلکار کولمبو کے سینٹ انتھونی چرچ کے باہر مستعد کھڑے ہیں

تامل ناڈو کی توحید جماعت نے سری لنکن توحید جماعت سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ اس جماعت کا مقصد سماجی برائیوں جیسا کہ جہیز کی رسم کا خاتمہ ہے۔ تاہم اس جماعت کے دعویٰ کے برعکس اس کے ایک مبلغ پی۔جے کو سری لنکا کے مسلمانوں نے متنازعہ قرار دیا تھا اور اس جماعت کے ایک اور مبلغ ایوب نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں توحید کے نظریات کے پرچار کے لئے جمیعت القرآن والحدیث سے علیحدہ توحید جماعت قائم کی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں مبلغین تامل ناڈو کے مسلمانوں کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں خاصی شہرت رکھتے ہیں اور لوگ انہیں ان کے غصیلے انداز تقریر کے سبب جانتے ہیں۔

پی ۔ جے نے بھی اپنی سرگرمیوں کا آغاز جمیعت القرآن والحدیث سے کیا تھا لیکن بعدازاں وہ اسے چھوڑ کر نوے کی دہائی میں قائم ہونے والی ایک سیاسی جماعت تامل مسلم  منیترا کازاگام میں شامل ہوگیا تھا۔ سال 2001 کے بعد اس نے یہ جماعت بھی چھوڑ دی اور تامل ناڈو توحید جماعت کی بنیاد رکھی۔ وہ اس جماعت کا گزشتہ سال تک سربراہ رہا۔ اسے اس کی قیادت سے جنسی ہراسیت اور مالی غبن کے الزام میں ہٹا دیا گیا۔ سری لنکا کے مسلمان جو کہ روایتی طور پر اعتدال پسند تصور ہوتے ہیں انہوں نے ان مبلغین کی سرگرمیوں پہ اس وقت اعتراض کیا جب انہوں نے یہاں کا سفر کرنا شروع کیا اور یہاں کے مسلمانوں کے رسوم و رواج  مثال کے طور پر درگاہوں پر جانے کو غیر اسلامی کہنا شروع کیا۔

سینٹ انتھونی چرچ کے باہر تعینات مسلح اہلکار کے ماقبل میں پادری افسردہ کھڑے ہیں

پی۔جے کو پہلی مرتبہ سری لنکا میں سال 2006 میں مدعو کیا گیا۔ اس کے ساتھی بکر نے بتایا کہ وہ اس سفر میں اس کے ساتھ تھا اور انہیں چند افراد نے ذاتی حیثیت میں دعوت دی تھی کیونکہ وہ جماعت توحید کے پیغام سے متاثر تھے۔ انہوں نے سری لنکا کے سات مقامات کا دورہ کیا جس میں مشرقی صوبے میں کٹانکڈی اور شمال مغرب میں پوٹالام کا علاقہ بھی شامل تھا۔ کولمبو میں انہیں تین مقامات پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔ جب وہ آخری بار کولمبو میں تھے تو پولیس نے مقامی مسلمانوں کی شکایت پر پی۔جے کو گرفتار کرلیا اور  اسی روز کی فلائٹ سے ملک بدر کرتے ہوئے واپس چنائی بھیج دیا۔

بکر، جوکہ ایک اور تنظیم انڈین  توحید جماعت  کا بانی ہے، نے مزید بتایا کہ سال 2018 میں پی ۔ جے کو دوبارہ سری لنکا جانے کی دعوت دی گئی انہی دنوں میں سری لنکن توحید جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اسے ویزا نہیں دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے سال 2015 میں بھی اسے دعوت دی گئی تھی جب سنہالا زبان میں قرآن کے ترجمے کے اجرا کی ایک تقریب سوگاتھاداسا اسٹیڈیم میں رکھی گئی تھی۔ اس موقع پر بھی کولمبو کے مسلمانوں کی شکایت پر اسے ویز ا نہیں دیا گیا تھا۔ سری لنکن میڈیا نے بھی بکر کے ان بیانات کی تصدیق کی ہے۔

اگست 2009 میں ایل ٹی ٹی ای کی مکمل شکست کے چند مہینے بعد ہی کووائی ایوب کو دعوت دی گئی اور وہ  کولمبو پہنچا۔ وہ مشرقی سری لنکا کے ضلع امپارا میں واقع  ایک مسلم اکثریتی قصبے کالمونائی کی ایک مسجد جس کانا م توحید مسجد تھا وہاں جمعے کا خطبہ دینے والا تھا کہ پولیس نے وزارت مذہبی امور اور ڈیپارٹمنٹ آف امیگریشن کی شکایت پر اسے گرفتار کر لیا۔ سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایوب کو واپس بھارت بھیج دیا گیا تھا تاہم اس کے خطبے کا متن مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر نشر کیا  گیا تھا۔ ایوب نے کہا کہ وہ مسجد تک نہیں پہنچ سکا تھا کیونکہ پولیس نے اسے دھر لیا تھا۔

ریاس ابوبکر کو کوچی (بھارت) میں خصوصی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔ ان پر دولت اسلامیہ سے تعلقات کا الزام ہے

باوثوق ذرائع کے مطابق ایوب نے چند سال بعد جمیعت القرآن والحدیث سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنی اپنی جماعتوں سے الگ ہونے کے بعد دونوں، ایوب اور پی ۔جے نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی تھیں۔ اگرچہ ان دونوں نے حالیہ چند سالوں میں سری لنکا کا دورہ نہیں کیا، تاہم وہ سری لنکن توحید جماعت کے چاہنے والوں میں اپنے یوٹیوب خطبے کے سبب خاصے معروف تھے۔ اس مضمون کو تحریر کرتے وقت کووائی ایوب اور پی ۔جے، دونوں  سے رائے لینے کی کوشش کی گئی تاہم اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

بشکریہ: دی انڈین ایکسپریس،مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...