پاکستان سفارتی جنگ ہار رہا ہے

179

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کل مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب اکبرالدین نے اِس پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو اپنے ملک کے لیے بہت بڑی فتح سے تعبیر کیا۔ مولانا مسعود اظہر کو 2008 سے امریکا کی طرف سے اور 2016 سے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بلیک لسٹ کرانے کے لیے کوشش کی جارہی تھی لیکن چین کے وِیٹو کرنے کی وجہ سے اب تک کامیابی نہ ہوسکی تھی۔ انڈیا میں اب چین کے پیچھے ہٹنے کو بھی اہم موڑ قرار دیا جارہا ہے۔

پاکستان نے اس پر ردعمل دیا ہے کہ مسعوداظہر کے بلیک لسٹ کیے جانے کو پلوامہ حملے یا مسئلہ کشمیر سے نہیں جوڑا گیا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ ساری دنیا اسے بھارتی سفارتی کامیابی سے ہی جوڑ رہی ہے۔ اس وقت اہم چیز یہ ہے کہ اس کے بعد پاکستان کی ساکھ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ عالمی دہشت گرد نامزد پاکستان کا شہری ہے جسے دنیا میں پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے تنہائی اور دباؤ کا سامنا ہے۔ انڈیا کی حالیہ کامیابی کے بعد پاکستان کو ہر بڑے فورم پر اپنا دفاع کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف سخت سفارتی جنگ لڑے گا۔ گزشتہ روز کی کامیابی اسی کا تسلسل ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے۔ سابق وزیرخزانہ اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کرانے کی کوشش میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ بھارت اس تنظیم کا اہم رکن ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد تنظیم نے حملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ابھی گرے لسٹ میں رکھا جائے گا۔ اس معاملے میں بھی پاکستان کی پوزیشن حقیقت میں انتہائی کمزور ہے۔ اس کے لیے تنظیم کے تمام مطالبات پر عملدارآمد مشکل ہے۔ وہ عالمی سطح پر ایسی مضبوط سفارتکاری اور اثرورسوخ بھی نہیں رکھتا کہ اپنا بچاؤ کرسکے۔ اگر اس فورم پر  بھی حکومت کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ واضح رہے یورپی یونین کمیشن کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے شبہ میں پاکستان کو منی لانڈرنگ بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...