گھریلو ملازمین بچے بھی مزدور ہیں

222

شاکر ؔشجاع آبادی کی نظم سے ایک شعر دیکھیے گا، اگر آنکھیں نم ہوں تو سمجھ لیجیے گاکہ  شاکر کو داد وصول ہوگئی۔

اونہاں دے بال ساری رات روندن بُکھ توں سُمدے نئیں

جنہاں دی کہیں دے بالاں کو ں کھڈیندیں شام تھی ویندی

(ان کے بچے ساری  رات بھوک سے روتے ہیں سونہیں سکتے، جنہیں کسی کے بچوں کی دیکھ بھال کرتے شام ہوجاتی ہے)

میں سوچ رہا ہوں اس تحریر کاعنوان کیا ہونا چاہیےجس کا متن آپ کی تن ورتی ہو۔ میں اگر آپ سے ایسی تحریر کا پوچھوں جس کے کردار آپ خود ہوں یا آپ کی آنکھوں نے وہ کردار دیکھے ہوں جو تحریر کا موضوع ہوں تو آپ کیسے لکھنا شروع کریں گے۔ ممکن ہے کہ وہ سارا الجھا ہوا ہو یا اس میں اس قدر پیچیدگی ہوکہ قاری سمجھ ہی نہ سکے کہ مصنف کہنا کیا چاہ رہا ہے۔ ویسے بھی دانا لوگ فرماتے ہیں  کہ ردِعمل، غصے اور جذبات میں لکھنے یا کوئی بھی بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ اس سے بجائے فائدے کے نقصان کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔

میری والدہ نے مجھے ایک قصہ سنایا جو مجھے بار بار کچوکے لگاتا ہے۔ شاکرؔ کاجو شعر پیش لفظ میں درج ہے وہ اسی واقعے کی منظوم صورت ہے۔ بہت سال پہلے کی بات ہے کہ میرے چچا اکسیر عباس نے گھر میں پھیلی بھوک کا لبادہ چاک کرنے کے لیے لاہور جا کر نوکری کرلینے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ شاید ساتویں جماعت میں ہوں گےکہ گھر سے یعنی ہمارے آبائی گاؤں خوشاب سے لاہور بھاگ گئےاور وہاں جا کر کہیں نوکری کرنے لگے۔ امی بتاتی ہیں کہ کسی بڑے سے بنگلے میں انہیں بچے بہلانے کی نوکری ملی۔ جس کےعوض انہیں چند سو روپے تنخواہ اور کھانا و رہائش  فراہم کی گئی۔ چچا کچھ مہینے بعد گاؤں لوٹے تو میری نانی اماں نے ان سے پوچھا کہ ملازمت کیسی ہے؟ میرے چچا کا جواب سن کر میری نانی اماں ہنسنے لگیں، ان کی یہ بات بطور لطیفہ یادگار ہے، کہا ’’بس آپا جی! کام مشکل نہیں ہے۔ صرف اتنی پریشانی ہے کہ جب بھی مالکان کا بچہ روتا ہے تو مجھے تھپڑ لگا دیتے ہیں۔‘‘

ملازمین کے بچوں میں سے کوئی ایک اگر آپ کے گھر سے کچھ چوری کرے تو اس پر تشدد مت کیجیے۔ اس کے باپ کو بھی تشدد مت کرنے دیجیے۔ بعد میں ممکن ہے کہ وہ چوری کی ہوئی کھانے کی کوئی چیز یاکوئی کھلونا آپ کی نواسی یا پوتی دیوار پہ مار کر توڑ دے اور آپ بس ہنس دیں

سو یہ تحریر اسی لطیفہ نما قصے سے پھوٹ رہی ہے خدا کرے کہ کسی نازک آبگینے کو ٹھیس نہ لگے۔ میرا  مقصد کسی کی ذاتیات پر تنقید نہیں ہے۔ کوشش یہی ہےکہ رویے اور اس کی لطافت پر لگی چوٹوں اور کھرنڈوں کونوچ کر اگر کوئی پیغام کسی کے ہاں کوئی عملی تبدیلی لاسکے تو مقصد پورا ہوجائے۔ سو اس واسطے یہ سب لکھنا لازم ہےکیونکہ اگر لکھنے سے بھی باز رہیں گے تو وہ کیسے سمجھیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملازمین بچوں پر تشدد کرنا جرم ہے، انہیں پیار سے رکھنا چاہیے۔ ہم نے تو بھی ملازم رکھے ہوئے ہیں، ہم نے تو کبھی ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ وہی کھانے کو دیتے ہیں جو خود کھاتے ہیں۔ وہی پہننے کو دیتے ہیں جو اپنے بچوں کو دلواتے ہیں۔ تنخواہ بھی ٹائم پر دے دیا کرتے ہیں۔ دیکھوبھئی ہم ایسے نہیں ہیں، نجانے یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو بچوں کو ملازم رکھتے ہیں اور پھر ان پر تشدد بھی کرتے ہیں۔ توبہ توبہ!

دیکھیے صاحبان، ایسا ہی ہے بچوں پہ تشدد چاہے ماں باپ کریں یااساتذہ، یا وہ کریں جو انہیں ملازم رکھتے ہیں، یہ جرم ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ بات تھوڑا گہرائی میں جھانکنے کی ہے۔ ضرورت رویے اور نفسیات پہ دستک دینے کی ہے۔ چند باتیں یاد آتی ہیں جو کہہ دینی ضروری ہیں کہ اب ہم اس قدر بالغ تو ہوچکے کہ بات کہنے سننے کی ہمت ہوسکے۔

آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ نے بھی اپنے بڑے گھر کا ایک کمرہ کسی ملازم خاندان کو دے رکھا ہے تو مہربانی کرکے انہیں دو کمرے دے دیجیے۔ ایک میں وہ میاں بیوی رہتے رہیں اور ایک میں ان کے سبھی بچے۔ میں آپ کو یقین سے کہتا ہوں کہ ایک کمرے میں وہ آٹھ بہن بھائی بھی ہوئے تو سولیں گے، رہ لیں گے ۔ ایک کمرے میں بہت ستم ہے۔ سچ، ستم ہے مان لیجیے !

اسی معاملے پرایک اور درخواست ہے، بے شک آپ کے ملازم بچے صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے ہوں گے۔ اس صورت میں انہیں صوفے یا کرسی پہ، پلنگ یا بیڈ پر یا کسی بھی آرام دہ اور باعزت جگہ پر بیٹھنے کی اجازت دینا کم عقلی ہے، اور یقین کیجیےایسے کم عقل دیکھےبھی گئے ہیں لیکن آپ اگر ایسے نہیں ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن انہیں  نیچے  فرش پر بیٹھنے کے لیے  کوئی گدا یا کشن لے کر دے دیجیے وہ اسی پر خوش ہوجائیں گے۔ ایک دوسرا معاملہ بھی ہے وہ یہ کہ وہ جو آٹھ دس سال کی چھوٹی بچی جو آپ نے اپنے دو تین چار یا پانچ سال کے بچے کو سنبھالنے کے لیے رکھی ہوئی ہے، وہی جس کا باپ ہر مہینے کی پہلی کو آپ سے پانچ یا سات  ہزار روپے لے جاتا ہے۔ جس سے آپ کی منی یا منا کھیلتا ہے۔ جو اسے نہلاتی دھلاتی ہے۔ جو اس کا ہگ موت صاف کرتی ہے۔ جو اس کے نخرے اٹھاتی ہے۔ جو اس سے مار کھاتی ہے۔  جس کو آپ کا منا یا منی گندی کہہ کر بلاتا ہے۔ ہاں وہی، جس کے بال آپ نے اس لیے منڈوا دیے ہیں کہ آپ کامنا یا منی اس کے بالوں کو منہ میں نہ ڈال لے اور اسے جراثیم نہ لگ جائیں۔ اس کی یوں ٹنڈ مت کروا دیا کیجیے۔ وہ جب بھی اپنے گاؤں میں جاتی ہے کسی سہیلی یا ہم عمر رشتہ دار سے مل جل نہیں سکتی، لوگ اسے طعنے مارتے ہیں۔ اسے ایک سخت سا حجاب پہنا دیجیے جس سے اس کے بال قابو میں رہیں گے۔ اس طرح دین بھی سلامت رہےگا  اور آپ کا معاملہ بھی حل ہو جائے  گا۔    دیکھیے عرض ہے، فقط عرض  اور تو کوئی چارہ  ہےنہیں۔ مان لیجیے تو یقین جانیے وہ بچی آپ کے آئندہ پیدا ہونے والے بچوں کی بھی وفادار ملازم بن کر رہے گی۔ آخر کو آپ نے اس کے ماں باپ سے جہیز میں معاونت کا وعدہ بھی تو کر رکھا ہے۔

اسی بچی یا اس جیسے کسی ملازم بچے  کے متعلق ہی  مزیدایک اور بات کہنی ہے۔ آپ بچوں کو کے ایف سی لے جاتے ہیں، لے جائیے۔ وہاں آپ کے بچے شوق سے برگر کھاتےہیں، ست بسم اللہ !کھائی ۔ آپ نہیں چاہتے کہ آپ اس بچی پر چھے سو روپے خرچ کرکے اسے بھی برگر دلوائیں تو بے شک نہ دلوائیں۔ لیکن اگر ایف ٹین مرکز میں کے ایف سی کے دوسرے فلور پر بیٹھے ہوئے آپ کے پاس کے ایف سی والوں کی خاتون ورکر آئے اور آپ کو ایک برگر یہ کہہ کر پیش کرے کہ یہ کے ایف سی کی طرف سے تحفہ ہے تو وہ برگر یہ کہہ کر واپس مت کر دیجیے کہ اسے پیک کردیں ہم گھر جا کر کھا لیں گے ۔ کیوں کہ وہ برگر کسی اور کرسی پر بیٹھے ہوئے کچھ اجنبی لوگوں کی طرف سے آپ کی اس ملازمہ بچی کے لیے بھجوایا گیاتھا جو کافی دیر سے زنگر کے اس ٹکڑے کو تاک رہی تھی جسے ابھی ابھی آپ کی منی نے فرش پہ پھینکا تھا۔ وہ تحفہ نہیں تھا ، کے ایف سی والے یوں مفت میں زنگر کےتحفے نہیں دیا کرتے۔

میرے پاس ایسی بہت سی کہانیاں ہیں۔ بیان کی جانے لگیں تو دفتر ہوجائیں۔ نمونے کے طور پر کچھ جملے مزید اور پھر بیان ختم، پہلے ہی بہت طوالت ہوچکی۔ ملازمین کے بچوں میں سے کوئی ایک اگر آپ کے گھر سے کچھ چوری کرے تو اس پر تشدد مت کیجیے۔ اس کے باپ کو بھی تشدد مت کرنے دیجیے۔ بعد میں ممکن ہے کہ وہ چوری کی ہوئی کھانے کی کوئی چیز یاکوئی کھلونا آپ کی نواسی یا پوتی دیوار پہ مار کر توڑ دے اور آپ بس ہنس دیں۔ میری درخواست ہے کہ زبانی سمجھا دیں، مجھے یقین ہے کہ وہ ملازم بچہ آئندہ چوری نہیں کرے گا۔ یہ بچے بہت اچھے نہیں ہوتے مگر اتنے برے بھی نہیں ہوتے۔ میرا ایسے بچوں سے ذاتی تعارف رہا ہے۔

بعض اوقات یہ ملازمین بچے بے وجہ سو جانا چاہتے ہیں، انہیں سونے مت دیجیے۔ بعض اوقات ان ملازم بچوں کا دل نہیں چاہتا کہ وہ آپ کی منی یا منے سے کھیلیں۔ انہیں زبردستی کھیلنے پہ مجبور کیے رکھیے۔ بعض اوقات یہ ملازمین بچے آپ کی ٹانگیں پنڈلیاں یا پاؤں دبانے میں متوجہ نہیں ہوتے۔ انہیں ایک آدھ دھپہ لگا دیا کیجیے۔بعض اوقات یہ ملازمین بچے صبح جلدی نہیں اٹھتے کہ رات کوآپ کے منے یا منی کی ضد کی وجہ سے دیر سے سوئے ہوتے ہیں۔ چہرے پہ ٹھنڈا پانی پھینک دینے میں کیا حرج ہے، جاگ جائیں گے۔ یہ تمام تر ہلکی پھلکی پیار بھری صورتیں تشدد کے زمرے میں نہیں آتیں سو یہ سبھی جائز ہیں، آخر آپ انہیں روٹی کھلاتے ہیں، کپڑے دلاتے ہیں، سونے کو چھت مہیا کرتے ہیں۔ آپ کی دی گئی تنخواہ سے ان ملازم بچوں کے ماں باپ کے گھر روٹی اور دوا دارو کا بندوبست ہوتا ہے۔ آپ چین سے سوئیے، آپ کا منا چین سے سوئے۔ آپ کی نوازش سلامت آپ کے ملازم  بچے جو آپ کی کرم فرمائی سے زندہ ہیں، وہ تھک کے آپ کی بدولت چین کی ہی نیند سوتے ہیں !

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...