سجان سنگھ حویلی

شاید لوگ یہ نہیں جانتے کہ جہاں آج اسلام آباد ہے وہ کبھی سجان سنگھ کی ریاست تھی

499

بھابڑا بازار راولپنڈی کی تنگ و تاریک گلیوں میں حویلی سجان سنگھ واقع ہے۔ اپنے وقت کے اس عالیشان محل کے مکین کون تھے اور کہاں چلے گئے۔ آج کے جھمیلے میں شاید لوگوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ جس جگہ آج پاکستان کی قومی اسمبلی، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ، سیکرٹریٹ اور غیر ملکی سفارتخانوں سمیت گولڑہ شریف سے مری کی پہاڑیوں کے درمیان کا علاقہ ہے اس کے مالکان اِسی حویلی کے مکین تھے تو ایک لمحے کو شاید آپ سوچیں کہ وقت کیسی کیسی کروٹیں لیتا ہے۔ اس کی پاتال سے کیسے کیسے رنگ ابھرتے ہیں لمحہ بھر کے لئے ماحول کو رنگین بناتے ہیں اور گم ہو جاتے ہیں۔

سجان سنگھ کی ایک یادگار تصویر

سجان سنگھ حویلی کے ساتھ متصل بھابڑا بازار جین مت کے ایک فرقے سے موسوم ہے۔ یہ لوگ بدھ مت اور ہندو مت کی درمیانی شکل تھے جو عدم تشدد کے پیروکار تھے۔ اسی بازار کی ایک گلی میں مشہور صوفی شاہ چن چراغ کا مزار بھی ہے جو اس وقت تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے گوشہ عافیت سے کم نہ تھا۔ سجان سنگھ  کے آباؤ اجداد اسی حویلی میں مقیم تھے۔ 1890ء میں سجان سنگھ نے اپنے آبائی گھر کو ایک شاندار محل میں بدلنے کے لئے ہندوستان کے نامور ماہرین تعمیرات کی خدمات حاصل کیں۔ اس محل کے باسیوں کا سلسلہ نسب بابا گرو نانک سے اور سردار ملکھا سنگھ تھلہ پوریا سے ملتا تھا جس نے 1766ء میں راولپنڈی کی بنیاد رکھی تھی اور جو پوٹھوہار کا پہلا سکھ حکمران بھی رہا۔سجان سنگھ کا دادا سردار بدھا سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ضلع راولپنڈی کے محکمہ  مال کا افسر تھا جبکہ اس کا باپ سردار نند سنگھ جو 1871ء میں فوت ہوا اُسے پنجاب میں انگریز سرکار کے دربار میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ نند سنگھ نے شہر میں فلاحی سرگرمیوں میں نام کمایا اور کئی ادارے کھولے۔ سنگ جانی کی سرائے بھی سجان سنگ کے والد نند سنگھ نے بنوائی تھی۔ سردار سادھو سنگھ بھی اسی خاندان سے تھا جس نے شاہ اللہ دتہ میں سادھو باغ لگایا تھا جو آج بھی موجود ہے۔

حویلی کا دروازہ جو اب مقفل ہے

سردار سجان سنگھ کے پاس جو دو بڑی جاگیریں تھیں ان میں ایک کٹاریاں اور دوسری مصریوٹ تھی۔ انہی جاگیروں پر آج پاکستان کا دارلحکومت آباد ہے۔ سجان سنگھ لکڑی کا کاروبار کرتا تھا اور کشمیر سے قیمتی لکڑی منگوا کر بیچتا تھا۔ مگر اس پر قسمت کی دیوی اس وقت مہربان ہوئی جب اینگلو افغان جنگوں میں وہ ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر سامنے آیا اور انگریزی فوج کو اشیائے خوردو نوش، جانوروں کے لئے چارہ اور ایندھن کی سپلائی  شروع کی جس کے عوض 1888ء میں اسے وائسرائے  ہند نے رائے بہادر کا خطاب دیا اور گورنر پنجاب نے سجان سنگھ کی خدمات پر 1873ء میں حسن ابدال میں منعقدہ دربار میں انہیں خلعت سے بھی سرفراز کیا۔ سجان سنگھ 1901ء میں فوت ہو گیا۔ “تذکرہ رؤسائے پنجاب ” (مرتب 1940ء  از سر لیپل ایچ گرفن اور کرنل میسی) کے صفحہ 646 پر درج ہے کہ سجان سنگھ جب فوت ہوا تو اس کا بیٹا سردار ہردیت سنگھ اس کی جائیداد کا وارث بنا مگر وہ بھی تین سال بعد اپنے دو بیٹے سردار موہن سنگھ اور سردار سوہن سنگھ چھوڑ کر فوت ہو گیا جو ایچی سن کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے۔ جنگ عظیم  دوم کے وقت انہوں نے نہ صرف فوجیوں کی بھرتی میں تاج برطانیہ کی مدد کی بلکہ تین لاکھ روپیہ نقد بھی دیا (بحوالہ وار ہسٹری آف دی راولپنڈی ڈسٹرکٹ)۔ ان خدمات کے عوض سردار موہن سنگھ کو اعزازی تلوار، پستول اور کئی سندیں عطا ہوئیں۔ 1930ء سے 1934ء تک یہ انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کا منتخب ممبر بھی رہا۔ اس کے علاوہ چیف خالصہ کالج کا ممبر، راولپنڈی کا اعزازی مجسٹریٹ درجہ اوّل رہا۔ اسے 1935ء میں سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند کونسل کا ممبر مقرر کر کے انگلستان بھیجا گیا جہاں وہ 1940ء میں سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا کا مشیر بھی بن گیا۔ سجان سنگھ کا دوسرا بیٹا سردار سوہن سنگھ رفاہی کاموں میں از حد دلچسپی رکھتا تھا، اسے بھی پنڈی اور مری کے اعزازی مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل  تھے۔ اس کے تین بیٹے تھے جن میں سے ایک گربچن سنگھ تھا جو آزادی کے بعد بھارت کا  پاکستان، سوئٹزر لینڈ اور مراکو میں سفیر بھی رہا۔ سردار سوہن سنگھ کے بیٹے کرنل سردار شمشیر سنگھ کی شادی ہندوستان کی ایک امیر ریاست “جند” کے مہاراجہ کی بیٹی راجکماری بلبیر کور سے ہوئی تھی۔ ریاست جند 3260 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی جس کی سالانہ آمدنی اس وقت تیس لاکھ تھی۔

حویلی کی ایک یادگار تصویر (1920)

سجان سنگھ حویلی 1893ء میں بنائی گئی۔ اس کی افتتاحی تختی حویلی پر نصب تھی جسے 1990ء میں سکریپ میں بیچ دیا گیا۔ اس حویلی کے دو ادوار ہیں۔ 1893ء سے 1947ء تک 54 سال یہ سجان سنگھ خاندان کے زیر استعمال رہی جبکہ دوسرا دور 1947ء سے 1982ء تک کا ہے جب یہ حویلی کشمیر سے آنےوالے مہاجرین کو الاٹ کی گئی اور یہاں 40 سے زائد خاندان مقیم رہے۔ حویلی جس جگہ بنائی گئی تھی اس سے آج بھی پورا شہر اور اسلام آباد کا خوبصورت نظارہ ملتا ہے۔ ماضی میں جب یہ شہر مختصر سا تھا تو مارگلہ اور مری کی پہاڑیوں کا انتہائی دلفریب نظارہ اس کے مکین حویلی کے جھروکوں سے دیکھتے ہوں گے۔ اس حویلی کے ارد گرد باغات تھے اور جب یہ بنائی گئی تو تب یہ شہر کی اولین عمارت تھی جس میں نانک شاہی اینٹ کا استعمال  کیا گیا تھا۔

حویلی کی دیواروں میں درخت اگ چکے ہیں

علاقے کے پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ حویلی کی تعمیر میں سونا بھی استعمال ہوا تھا اور دیواروں پر سونے سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ حویلی کے مکین سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے تھے اور شاہانہ فرنیچر موجود تھا۔ صحن میں مور ناچتے تھے اور برآمدوں میں شیر بندھا ہوتا تھا۔ شام کو حویلی سے سریلی موسیقی کی آوازیں آتی تھیں۔ دروازوں، چھتوں اور چوباروں پر لکڑی کا انتہائی دیدہ زیب کام ہوا تھا۔ حویلی کا ڈھکا ہوا ایریا 24،000 مربع فٹ ہے۔ حویلی کی تعمیر میں استعمال ہونے والا لوہا اور لوہے کی چادریں اور تانبا برطانیہ سے منگوایا گیا تھا۔ 1937ء میں اس حویلی میں بجلی لگ گئی۔

حویلی کے وہ جھروکے جن کے نظارے تو وہی ہیں مگر انہیں دیکھنے والے نہیں رہے

حویلی کا دروازہ ایک گلی میں کھلتا ہے جس کے دونوں طرف حویلی ہے۔ گلی کے اوپر سے بھی حویلی ملی ہوئی ہے اس کے ایک طرف حویلی کے مکین جبکہ دوسری جانب ان کے خادمین رہا کرتے تھے۔ برآمدہ نما یہ دروازہ قلعے کے دروازوں کی طرز پر ہے جس پر  انتہائی خوبصورت پھول بنے ہوئے ہیں اور ان میں ہاتھی دانت بھی نقش تھے۔ جبکہ اندر داخل ہو ں تو ایک اور برآمدہ ہے جس کے اطراف میں کمرے ہیں اور آگے ایک صحن ہے جس میں فوارے لگے ہوئے  تھے۔ اس دور کے ماہر مصوروں نے حویلی کے مکینوں کی تصویروں کے ساتھ مختلف فن پارے دیواروں پر نقش کئے ہوئے تھے۔ چاروں طرف کمرے ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سیڑھیاں اوپر کی منزل تک جاتی ہیں۔ اوپر کی منزل میں خوبصورت جھروکے ہیں جن پر لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ صحن کی طرف پھر بر آمدے ہیں جہاں دھوپ سے بچاؤ کے لئے اٹلی سے درآمد کیے گئے لوہے کے شیڈ استعمال کئے گئے ہیں۔ جبکہ اوپر کی منزل میں دو طرف کمرے ہیں جہاں سے پورا شہر اور مارگلہ ہلز کا نظارہ ملتا ہے۔ لگتا ہے سجان سنگھ فیملی یہاں شام کی پارٹیاں کرتی تھی۔ یہاں موسیقی بجائی جاتی اور سماجی اور مذہبی تقریبات منعقد کی جاتیں۔ حویلی کے دروازے، کھڑکیاں اور جھروکے آج بھی انتہائی دیدہ زیب دکھائی دیتے ہیں اور شاید آج بھی یہاں ایسا کوئی کاریگر نہیں جو اتنا باریک کام اتنی نفاست سے کر سکتا ہو۔ یہاں جو ٹائلیں استعمال کی گئیں وہ اس وقت برطانیہ سے منگوائی گئی تھیں۔ فرنیچر وکٹورین سٹائل تھا اور کھانے کے برتن چین سے لائے گئے تھے۔ جب شام کو اس چار منزلہ حویلی میں چراغاں ہوتا تو حویلی کے 45 کمرے جگمگا اٹھتے اور لوگ دور دور سے اس حویلی کا نظارہ دیکھنے آتے۔

حویلی کے نقش و نگار تاریخی ورثہ ہیں مگر انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں

سجان سنگھ خاندان نے اپنا مال و دولت صرف اس شاندار محل کی تعمیر میں ہی صرف نہیں کیا بلکہ شہر میں مفاد عامہ کی دیگر عمارتیں بھی بنوائیں۔ راولپنڈی کے گزیٹیئر 1910ء کے مطابق 1883ء میں سجان سنگھ نے میسی مارکیٹ بھی بنائی۔ باغ سرداراں بھی سجان سنگھ نے تعمیر کروایا تھاجہاں باغات تھے، گھاس کے لان تھے اور بارہ دریاں تھیں۔ اس کے علاوہ ایک گوردوارہ، ایک شادی ہال، میوزیم اور ہردیت سنگھ لائبریری بنوائی۔ برگیڈئیر جنرل جان میسی کی یاد میں میسی  گیٹ بھی سجان سنگھ نے دولاکھ کی لاگت سے بنوایا تھا۔ سجان سنگھ نے اپنے چچا کرپال سنگھ کے ساتھ مل کر 1890ء میں مال روڈ راولپنڈی میں لینزڈاؤنے انسٹی ٹیوٹ بھی بنایا۔ جہاں پر تھیٹر اور ڈانس کے لئے آدیٹوریم بنے ہوئے تھے، یہاں فنکاروں کے قیام و طعام کی سہولتیں بھی موجود تھیں۔ لارڈ لینز ڈاؤنے 1888ء سے 1894ء تک ہندوستان کے وائسرائے تھے۔

شہر کے اوپر سے حویلی سجان سنگھ کی تصویر

حکومت اس حویلی کی بحالی میں سنجیدہ تو ہے مگر پاکستان میں تاریخی ورثے کی بحالی کا کوئی ادارہ موجود ہے نہ ہی کسی کو اس کام میں مہارت ہے اس لئے پہلے ڈاکٹر قدیر خان کو کہا گیا کہ وہ یہاں خواتین کے لئے ایک سائنس کالج بنائیں مگر حویلی کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی دلچسپی نہ دکھائی، پھر فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے حوالے کرتے ہوئے تاکید کی گئی کہ وہ اس کی بحالی کا پروگرام بنائیں جب یونیورسٹی نے بھی کچھ نہ کیا تو آخر میں یہ حویلی نیشنل کالج آف آرٹس کے ذمے ڈال دی گئی جنہوں نے اس کو تالہ لگا دیا ہے۔ یوں صرف حویلی کو ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ ایک پورے عہد کو قفل  لگ گیا ہے۔
میں سجان سنگھ حویلی کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتا ہوں کہ کیسے عالی شان لوگ تھے جو محلوں میں رہتے تھے مگر مفاد عامہ کے تحت سرائیں بنواتے تھے، لائبریریاں، میوزیم، عوامی گیٹ، سرائے، سکول اور ہسپتال بنواتے تھے۔ وقت کتنا بدل گیا ہے، آج  بھی اس شہر میں سجان سنگھ جیسے امیر لوگ بستے ہیں جو اپنے لئے تو عالیشان محل بنواتے ہیں مگر سجان سنگھ کی طرح مفاد عامہ کا کوئی کام نہیں کرتے ہاں البتہ سالانہ ٹیکس ریبیٹ لینے کے لئے دسترخوان ضرور لگاتے ہیں۔ وقت اگر سجان سنگھ کو بھول گیا ہے تو یہ لوگ بھی خاک ہی تو ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...