کیا پی ٹی ایم اور مدارس کا مسئلہ حل ہونے کو ہے؟

224

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے آج ریس ریلیز کے دوران کہا ہے کہ حکومت نے مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پختون تحفظ تحریک کے بارے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پی ٹی ایم کو جتنی چھوٹ لینی تھی لے لی۔ اس کا وقت ختم ہوگیا۔ انہوں نے تحریک کے راہنماؤں پر افغانستان اور بھارت کے ساتھ خفیہ رابطوں کا الزام بھی عائد کیا۔

مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے اور اس کے نصاب پر نظرثانی کا فیصلہ اچھا اقدام ہے۔ اگرچہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہی ایسا کوئی پالیسی بیان جاری کرے۔ لیکن فوج کی طرف سے یہ بیان آنے کی بظاہر یہ وجہ ہوسکتی ہے تاکہ مذہبی طبقے کی طرف سے سخت ردعمل سامنے نہ آسکے۔ اس بات کا امکان البتہ موجود ہے کہ تمام مدارس، خصوصا دیوبندی مسلک اس فیصلہ کو تسلیم نہ کرے، جیساکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔ لیکن دیگر مسالک کی جانب سے اس فیصلہ کو تسلیم کیے جانے کے بعد کوئی اختلاف خاص وزن نہیں رکھے گا۔ یہ فیصلہ بہرحال اہم ہے لیکن اس بات کا طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اصلاحات کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کتنی سُودمند ثابت ہوں گی۔

پریس ریلیز کا دوسرا اہم موضوع پی ٹی ایم تھا۔ اس پس منظر میں کہ جب چند دن قبل ملک کے وزیراعظم نے وزیرستان میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم جو باتیں کرتی ہے میں بھی ہمیشہ سے وہی کرتا آیا ہوں۔ آج اسی تحریک کو ریاست مخالف کہہ دینے سے یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا وزیراعظم نے درست بات کی تھی یا نہیں؟  ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو الزامات عائد کیے ہیں اگر وہ ثابت ہوسکتے ہیں تو اس پر قانون کے مطابق کاروائی کرنی ضروری ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر قبائلی پختونوں کے حقیقی مسائل کو  نظرانداز کر دینے اور ساری تحریک کو مشکوک بنا کر اس کے خلاف سخت لہجہ استعمال کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح کے لہجہ کا استعمال پہلے کئی بار کیا جاچکا ہے جس کے نقصانات برآمد ہوئے۔ ریاست اگر فریق نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...