پاکستان میں شناخت پسند سیاست کے رجحانات

سماجیات کے سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں آئیڈیالوجی کی سیاست کا مرحلہ ختم ہوچکا ہے۔ اب ہر جگہ شناخت پسند سیاست کی گہما گہمی ہے۔ آئیڈیالوجی کا دائرہ عمل وسیع ہوتا ہے اور یہ کامل سماج کی تشکیل کی سعی کرتی ہے۔ جبکہ شناخت پسند سیاست میں احترام اور پہچانے جانے کا عنصر اور اس کے احساسات نمایاں ہوتے ہیں۔ آئیڈیالوجی سے شناخت کی سیاست کی جانب انتقال معاشی ابتری وعدم مساوات اور بدامنی کی وجہ سے ہوا ہے۔ یورپ کی جامعات میں 70 کی دہائی سے شناخت کا موضوع سیاسیات کا حصہ ہے۔ وہاں جنگ عظیم اول دوم کے بعد عوامی سطح پر شناخت پسند سیاست کی مقبولیت میں اضافہ رواں دہائی میں زیادہ ہواہے۔ جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ عنصر نیا نہیں ہے۔ خصوصا نوآبادیاتی قبضہ سے آزادی پانے والے ممالک میں نسلی، لسانی، ثقافتی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم موجود رہی ہے اور اس پر سیاست ہوتی ہے۔ کہیں کہیں اس نے تحریکوں کی شکل بھی اختیار کی ہے۔

پاکستان میں آئیڈیالوجیکل اور شناخت پسند، دونوں طرح کی سیاست ابتدا سے موجود رہی ہے۔ شناخت کی سیاست کی پہلی مثال بنگلہ دیش ہے۔ یہ بعد میں تحریک کی صورت اختیار کر گئی اور نتیجتا بنگالی قوم ہم سے الگ ہوگئی۔ پاکستانی تناظر میں شناخت کی سیاست کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ دفاعی سیاست (politics of resistance)پر مبنی رہی ہے ۔اس میں دیگر شناختوں پر غلبہ پانے کی انگیخت موجود نہیں رہی۔ جب کہ یورپ میں شناخت پسند سیاست کا دوسرا پہلو (politics of dominance) نمایاں ہے۔ شناخت کی دفاعی سیاست جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتی لیکن پاکستان میں ریاست نے ایسی سیاست کرنے والے تمام  طبقات کو اس طرح پیش کیا کہ یہ جمہوری عمل اور قومی اتحاد کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں جبر سے دبانے کی کوشش کی اس لیے ان میں کچھ ایسے پہلو بھی در آئے جس کے باعث ناپسندیدہ نتائج بھگتنا پڑے۔ مشرقی پاکستان کے قضیہ میں یہی ہوا۔ یوں تو بنگلہ دیش کی علیحدگی سے قبل مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں شناخت کی سیاست وجود رکھتی تھی لیکن اس کے بعد اس نوع سیاست کو مزید انگیخت اور امید ملی۔ لیکن اس کا دائرہ پھر بھی زیادہ تر دفاعی رہا۔ یہ دعوی کرتی تھیں کہ ان کے لسانی، نسلی و ثقافتی تشخص کو خطرہ ہے، اسے تحفظ دیا جائے، اور اس کا زیادہ ظہور انتخابات میں ہوتا تھا۔

سوشل میڈیا کے دور میں تشخص کی سیاست زیادہ فعال ہوئی ہے اور اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے بھرپور طریقہ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سماج کے متنوع تشخص باہم متصادم ہو رہے ہیں

شناخت پسند سیاست کی دوسری نمایاں مثال ایم کیو ایم ہے۔ مہاجروں کا دعوی ’’ہم یہ ہیں ‘‘ کی بجائے اس پر قائم تھا کہ ’’ہم یہ نہیں ہیں‘‘، وہ کہتے تھے ہم سندھی، بلوچ، پختون اور پنجابی نہیں ہیں۔ وہ سندھیوں کو کم مہذب خیال کرتے تھے کیونکہ وہ جاگیردارانہ اور وڈیرہ نظم کے حامل تھے، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ان کے حقوق کا استحصال ہو رہا ہے۔ حقوق و پہچانے کی یہ تحریک بعد میں سیاسی عمل کا حصہ بن گئی جس میں تشدد بھی غالب رہا۔ شناخت کی سیاست کی اس مثال میں ابتدائی دور کے برعکس کسی حد تک غلبہ کا عنصر نمایاں رہا۔ کراچی کی جانب نقل مکانی کے سبب دیگر قومیتیں بھی اب اس قسم کی سیاست کا حصہ بن گئی ہیں اور اس پہ ووٹ کا مطالبہ کرتی ہیں۔

پختونخوا و بلوچستان میں شناخت کی سیاست پاکستان بننے کے وقت سے وجود رکھتی ہے۔ لیکن یہ زیادہ عوامی نہیں رہی۔ جس طرح کہ اب نظر آتی ہے۔ پہلے اس کا دائرہ انتخابات میں ووٹ کے حصول تک محدود تھا۔ قوم پرست قبائل ایک دوسرے کے اشتراک کے ساتھ ووٹ حاصل کرتے اور پارلیمنٹ پہنچتے۔ قبائل کی شناخت پسند سیاست انتہائی محدود تھی۔ یہ ملکی سیاست پر کبھی اثرانداز نہیں رہی۔ جبکہ پنجاب میں برادریوں کی اساس پر ہونے والی سیاست زیادہ طاقتور رہی اور ملکی سیاست پر اثرانداز بھی۔ بلوچستان اور پختونخوا میں سرد جنگ کے دوران اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک قوم پرست سیاست کمزور ہوئی۔ اس کی جگہ مذہبی آئیڈیالوجیکل سیاست نے لے لی جو اب حالیہ دور میں کمزور ہوچکی ہے۔ اس کی جگہ اب ایسی پختون شناخت پسند سیاست نے لے لی ہے جو انتخابات تک محدود نہیں ہے اور جو خالص عوامی ہے۔ اگرچہ یہ ابھی تک دفاعی دائرہ میں محدود ہے لیکن مستقبل میں کیا شکل اختیار کرے گی، ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اس کا تعین ریاست کا رویہ کرے گا۔ جبکہ بلوچ قوم پرست جدید سیاست تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے،جس کے مسلح مظاہر بھی ہیں۔

پنجاب کے سرائیکی طبقہ میں شناخت کی سیاست موجود ہے۔ یہ ابھی اس مرحلہ میں ہے جس میں پہلے پختون و بلوچ قوم پرست روایتی  شناخت کی سیاست تھی۔ یعنی کہ اس کا طاقتور اظہار صرف انتخابات کے دنوں میں ہوتا ہے۔ سرائیکیوں میں شناخت پسند سیاست کا محور تخت لاہور ہے۔ اس کے مقابلہ میں بلوچ وپختون سیاست کا محور مرکز کی طرف سے استحصال کو سمجھا جاتا ہے۔

اگر پاکستان کی موجودہ بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پہلی دوجماعتیں شروع میں آئیڈیالوجی کی سیاست کرتی رہی ہیں لیکن اب ان کے اندر بھی شناخت کی سیاست کے رجحانات واضح نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ ملک گیر جماعتیں ہیں۔ خصوصا پچھلے الیکشن کے دوران مسلم لیگ نے پنجاب میں پنجابی شناخت اور پیپلز پارٹی نے سندھ میں سندھی شناخت کے کارڈ کا زیادہ استعمال کیا۔ تحریک انصاف کا ابتدائی پس منظر مختلف تھا لیکن حالیہ انتخابات میں یہ پاپولسٹ جماعت کے تشخص کے ساتھ سامنے آئی، یہ کسی چھوٹی شناخت پر تو سیاست نہیں کرتی لیکن حقوق وعوامی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے رومانوی نیشنل ازم کی اساس پر سیاست کرتی ہے۔

سماجی سطح پر عام آدمی کے اندر بھی شناخت کی حساسیت کے عنصر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں ہر مسئلے کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پہ پنجابی آرمی کی اصطلاح ابھی تک مضبوطی کے ساتھ تینوں صوبوں میں موجود ہے۔ بدامنی کے واقعات کو صوبائی سطح پر تشخص کے تصور میں دیکھا جاتا ہے۔ مرنے والا کس قبیلہ وزبان کا حامل ہے، کس کو کتنا نقصان ہوتا ہے، سب کچھ کو نسلی، لسانی وثقافتی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے۔ افغان بارڈر کی بندش پر پختون کہتے ہیں کہ یہ پشتونوں کو الگ کرنے کی سازش ہے، ڈیم بنانے کی بات پر سندھی کہتے ہیں کہ سندھیوں کا حق مارا جارہا ہے۔ روزمرہ میں اس طرح کے مظاہر کثرت سے محسوس کیے اور دیکھے جاسکتے ہیں۔ خصوصا سوشل میڈیا پر۔

مجموعی طور پہ پاکستان میں شناخت کی سیاست کے رجحان میں تین چیزیں نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ تاریخی طور پہ اس کا دفاعی پہلو زیادہ مضبوط رہا ہے۔غلبہ کی سیاست (politics of dominance)کا پہلو نہیں پایا جاتا۔دوسرا یہ کہ اس کی وجہ سے مختلف شناختوں کے باہمی تعلقات پر اثر تو پڑا ہے لیکن استحصال کا حقیقی ذمہ دار ریاست کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ بنگالی تحریک کے علاوہ شناخت کے باقی جدید وطاقتور سیاسی رجحانات کے پیچھے معاشی سے زیادہ بدامنی کے اسباب ہیں۔ معاشی عدم مساوات واستحصال بلاشبہ سبب ہے اور یہی ابتدائی ہے لیکن شناخت کی حالیہ تحریکوں کے طاقتور ظہور کے پس منظر میں بدامنی کا عنصر نمایاں ہے۔ جس کا ریاست کو ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ خصوصا پی ٹی ایم اور بلوچ مسلح قوم پرست تحریکوں کو اس زاویہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں تشخص کی سیاست زیادہ فعال ہوئی ہے اور اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے بھرپور طریقہ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سماج کے متنوع تشخص باہم متصادم ہو رہے ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال ہے۔ جس پر سیاسی جماعتوں اور اہل دانش کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...