بیلٹ اینڈ روڈ فورم : ’’چین استعماری عزائم نہیں رکھتا‘‘

225

بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے زیراہتمام بیجنگ میں منعقد ہونے والے تین روزہ اجلاس میں چالیس کے قریب ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس کا مقصد چین کی طرف سے منصوبے پر بات چیت، اس کی تشہیر اور اس کے متعلق پائے جانے والے شکوک وشبہات کو دُور کرنا تھا۔ 2017 میں اِس فورم کے تحت ہونے ہولے پہلے اجلاس میں 29 ممالک نے شرکت کی تھی، جبکہ اِس سال یہ تعداد بڑھ کر 37 تک ہوچکی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت چین 2013 سے اب تک 80 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ اور منصوبے کا حصہ بننے والے ترقی پذیر ممالک کو 175 سے 265 بلین یورو کے قرضے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

اس منصوبے میں شامل اکثریت ترقی پذیر ممالک کی ہے لیکن آہستہ آہستہ مضبوط ملک بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں۔ یورپ وامریکا کو  اس پر تحفظات ہیں اس لیے وہ ابھی تک اس کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ البتہ اٹلی جو ترقی یافتہ یورپی ملک اور گروپ آف سیون کا رکن بھی ہے وہ اس منصوبہ میں شامل ہوگیا ہے۔ اٹلی کے صدر نے گزشتہ ماہ چینی صدر کے اٹلی دورہ کے موقع پر اس کا اعلان کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان 2.8 بلین کے تجارتی معاہدے بھی ہوئے۔ سوئٹزرلینڈ نے اگرچہ اس کا حصہ بننے کی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے لیکن اس کے سربراہ نے فورم میں شرکت کی ہے۔ جبکہ یورپ کے بعض دیگر ممالک کی جانب سے وزراء کی نمائندگی موجود تھی جس میں فرانس  کے وزیرخارجہ بھی شامل ہیں۔ اہم عرب شخصیات میں امارات کے محمد بن راشد اور مصر کے عبدالفتاح سیسی نمایاں تھے۔ 15 اور 16 اپریل کو چائنا عرب فورم آن ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیراہتمام  بیجنگ میں منعقد ہونے والی  کانفرنس میں 17 عرب ممالک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بننے پر آمادگی کا اظہارکرچکے ہیں۔

فورم میں چینی صدر نے اپنے خطاب میں ان تمام اعتراضات کے جواب دیے جو اس منصوبے پر اٹھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم شفافیت کے ساتھ کام کریں گے۔ اس منصوبہ میں یہ صلاحیت ہے کہ آگے چل سکے۔ انہوں نے اس تأثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ چین کے کوئی استعماری عزائم ہیں یا وہ کمزور ممالک کو مقروض کرکے ان کے وسائل پر اجارہ داری چاہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اجلاس میں تقریر کی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں اورغربت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ تعلق کے نئے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر چین کے ساتھ زراعت اور تعلیم کے شعبہ میں باہمی تعاون کی خواہش بھی اظہارکیا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...