حقیقت کے متعدد رُوپ

ندیم فاروق پراچہ

یہ 1970 کی دہائی کے اواخر کی بات ہے جب انڈونیشیا، ملائشیا اور مصر کے اخباروں نے خصوصی ضمیمے شائع کیے جن میں سرورق پر نیل آرمسٹرانگ کے متعلق خبر درج تھی۔ نیل آرمسٹرانگ وہ شہرہ آفاق امریکی خلاباز اور انسانی تاریخ کا پہلا فرد ہے جس نے سال 1969 میں چاند پر چہل قدمی کی۔ خبر یہ تھی کہ آرمسٹرانگ نے اسلا م قبول کرلیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ اس نے چاند پر آذان کی آواز سنی تھی۔

جے آر ہینسن، جنہوں نے آرمسٹرانگ کے حالات زندگی پر ایک کتاب بعنوان ” فرسٹ مین ” لکھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی تک یہ خبر مسلم دنیا میں تواتر سے شائع ہوتی رہی۔ حالات یہاں تک آگئے کہ آرمسٹرانگ کو آئے روز مسلم دنیا کی تنظیموں اور امریکہ میں موجود مسلم اداروں کی جانب سے دعوت نامے موصول ہونے لگے۔ مسلم دنیا میں جب اس معاملے کی شہرت بہت زیادہ پھیل گئی تو آرمسڑانگ نے امریکی حکومت سے اس صورتحال پر دخل اندازی کی درخواست کی۔ امریکی دفتر خارجہ نے مسلم ممالک میں قائم اپنے سفارتخانوں کو یہ ہدایت جاری کی کہ وہ نرم مگر مضبوط لہجے میں مقامی میڈیا تک یہ پیغام پہنچائیں کہ آرمسٹرانگ نے اسلام قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ کوئی ایسا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ اسلامی تقریبات میں شریک ہونے کے لئے مسلم ممالک کا سفر کریں۔ اس کے باوجود بھی یہ افواہ کہ آرمسٹرانگ نے چاند پر آذان کی آواز سنی اور اسلام قبول کرلیا، پھیلتی رہی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج بھی یوٹیوب اور دیگر ویب سائٹس پر چند مسلمان تنظیمیں اس افواہ کو پھیلانے سے باز نہیں آتیں۔

مارکوس بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو معروضی زمینی حقائق سے خوش نہیں ہوتے وہ ایک تصوراتی حقیقت قائم کرلیتے ہیں۔ معروضی حقیقت تو یہ ہے جس کا سامنا ہمیں ہر روز کرنا ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب تصوراتی حقیقت وہ سچائی ہے جس کو باقاعدہ محنت سے ذہن سازی کے ذریعے کسی کے دماغ میں بھرا جاتا ہے یا ایسی حقیقت جس میں ہم  یہ چاہتے ہیں کہ معروضی سچائی کو ایسا ہونا چاہیےتھا

مصنف جے آر ہینسن یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ آرمسٹرانگ کے متعلق مسلمان تنظیموں کی جانب سے اس خبر کی اشاعت کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں اس لئے تھی کہ پہلے چند مسیحی تنظیموں نے اس کے چاند تک پہنچنے کو مسیحیت کی الہامی کامیابی قرار دیتے ہوئے انہیں ایک عمل پسند مسیحی بیان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الہامی ہاتھ تھا جو آرمسٹرانگ کو چاند تک لے گیا تاکہ وہ تمام انسانوں کو اپنے نور سے آگاہ کرسکے۔ لہذا مسلم تنظیموں نے اس مسیحی پروپیگنڈے کے جواب میں اپنا پروپیگنڈہ شروع کردیا۔

مشہور امریکی پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کے متعلق بھی یہی مشہور ہوا کہ انہوں نے اپنی موت سے چند دن پہلے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس کے متعلق ایک ایم پی تھری آڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پہ پھیلایا گیا جس میں موجود نعت کے متعلق یہ دعویٰ تھا کہ اسے مائیکل جیکسن پڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ صاف سنائی دیتا تھا کہ نعت پڑھنے والا مائیکل جیکسن نہیں ہے تاہم مسلم دنیا میں اس خبر کو بہت حد تک حقیقت سمجھا گیا۔

تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا ایک مطمئن کردینے والا جواب ہمیں مؤرخ مارکوس ڈایئکل کی سال 2002 میں شائع ہونے والی تحقیق جس کا عنوان ’’پاکستان اور بھارت کے شہری متوسط  طبقے کا ماحول‘‘ ہے، وہاں سے مل سکتا ہے۔ اگرچہ اس کتاب کا موضوع تاریخ میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی جانب سے فطرت کے معروضی حقائق پر الہام  کی ملمع کاری کا احوال ہے تاہم وہ پیمانہ جس کے ذریعے وہ اس معاملے کی جانچ کرتے ہیں اسے پوری دنیا کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مارکوس بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو معروضی زمینی حقائق سے خوش نہیں ہوتے وہ ایک تصوراتی حقیقت قائم کرلیتے ہیں۔ معروضی حقیقت تو یہ ہے جس کا سامنا ہمیں ہر روز کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب تصوراتی حقیقت وہ سچائی ہے جس کو باقاعدہ محنت سے ذہن سازی کے ذریعے کسی کے دماغ میں بھرا جاتا ہے یا یہ ایسی حقیقت ہے جس میں ہم  یہ چاہتے ہیں کہ معروضی سچائی کو ایسا ہونا چاہیےتھا۔ اب چونکہ یہ تصوراتی حقیقت محض تصور میں  ہوتی ہے تو ہم اس کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمینی حقائق ڈھونڈتے ہیں تاکہ اس کو معروضی حقیقت کے طور پر بیان کرسکیں۔

مارکوس لکھتے ہیں کہ اس طرح کا دعویٰ کرنے والے عموماََ مذہب یا کسی نظریے کے کاربند ہوتے ہیں اور ان کا مقصد دیگر افراد پر ان خیالات اور عقائد کا نفاذ ہوتا ہے جن کا ان نظریات و عقائد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اس طرح کی مشہوریوں کو عوامی میڈیا کے ذریعے  اچھالا جاتا ہے اور اس میں معروضی حقائق شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک اور دلچسپ مثال کے ذریعے مارکوس بتاتے ہیں کہ موجودہ ہندو اور مسلمان نسل کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تقسیم سے پہلے ہندو اور مسلم تنظیمیں باقاعدہ وردیاں پہنتی تھیں اور گلی محلوں میں پریڈ کرتی تھیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ لیکن موجودہ مذہبی شناخت پر زور دینے والی تنظیمیں یہ چاہتی ہیں کہ نوجوان اس طرح سے سوچیں، لہذا انہوں نے اس تصوراتی حقیقت کو پروان چڑھایا کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے تھا۔ لہذا وہ اس طرح کی تصوراتی انقلابی مہم کا تصور قائم کرتی ہیں اور پھر اپنا تعلق اس انقلاب سے جوڑتی ہیں۔ مارکوس یہ بھی لکھتے ہیں کہ مغرب کی سائنسی اور معاشی ترقی کا معروضی دنیا میں مقابلہ نہ کرسکنے پر ہندو مسلم ادارے یہ شہرت کرتے ہیں کہ جو کچھ مغرب نے آج حاصل کیا ہے وہ صدیوں پہلے یا تو قدیم ہندومذہب حاصل کرچکا تھا یا یہ سب اسلام میں پہلے سے ہی بیان کیا جا چکا ہے۔

دسمبر 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹر پر 1988 کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں متنازعہ مذہبی رہنما ڈاکٹر اسرار احمد بیان کررہے ہیں کہ قائد اعظم کے ایک ڈاکٹر نے یہ بتایا کہ قائد نے آخری لمحات میں پاکستان کے لئے شریعت کا قانون اور خلافت کےنظام  کی اہمیت کے متعلق بیان کیا تھا۔ یہ تصوراتی حقیقت کی عمدہ مثال ہے جسے معروضی حقیقت کے مقابل قائم کیا جارہا ہے کیونکہ قائد اعظم نے ایسا کبھی نہیں کہا کیونکہ وہ ایک مغربی طرز کے تنوع پسند مسلم سیاستدان تھے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی تصوراتی حقیقت کی کہانی مزید پرانی ہے۔

نومبر 1939 میں جدید ترکی کے بانی اور سیکولر مسلم رہنما کمال اتاترک کی وفات کے اگلے روز تقسیم سے پہلے کے معروف اردو اخبار ’’انقلاب‘‘ نے یہ سرخی لگائی کہ اتا ترک وفات سے پہلے کوما میں چلے گئے تھے۔ ایک ایسا رہنما جس نے ساری زندگی سیکولرازم کے لئے جدوجہد کی اور اپنے دور حکومت میں ترکی کے خلافت کے زمانے کی تمام ثقافتی و معاشرتی نشانیاں مٹادیں، اخبار کے مطابق مرنے سے چند لمحے پہلے اتاترک نے کچھ لمحوں  کے لئے آنکھ کھولی اور اپنے ملازم سے کہا کہ ”میرا پیغام امت مسلمہ تک پہنچا دینا، ہمیشہ خلفائے راشدین کے رستے پر چلیں۔ ”

انقلاب ایک معتبر اردو اخبار تھا جس کے قارئین کی بڑی تعداد متوسط طبقے کے پڑھے لکھے مسلمان تھے۔ 11نومبر 1939 کے پرچے میں درج تھا کہ مرنے سے چند لمحے پہلے جب اتاترک کی آنکھ کھلی تو انہوں نے زوردار آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیا اور پھر ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں۔ ظاہر ہے کہ جب معروضی حقائق نے اس سوچ کے لوگوں کی مدد نہیں کی تو انہوں نے تصوراتی حقائق بنالئے جن کے مطابق جناح اور اتاترک، دونوں ہی اپنی اپنی موت کے بعد خلافت کے داعی نظر آتے ہیں۔

مترجم:شوذب عسکری، بشکریہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...