سری لنکا بم دھماکے: کب کیا ہوا؟

مرحلہ وار بم دھماکوں نے سری لنکا کی فضا لرزا کر رکھ دی۔ ایسٹر کے دن گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہوئے بم دھماکوں میں 290 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سمیت کے ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ اتوار ایسٹر کے روز 3 گرجا گھروں اور پر تعیش ہوٹلوں میں 8 بم دھماکے مرحلہ وار ہوئے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مسیحی برادری کے لوگ ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں۔ بحر ہند میں واقع اس جزیرے پر یہ حملہ 10 سال پہلے کی خانہ جنگی کے اختتام کے بعد سب سے بڑا واقعہ ہے۔ تاحال کسی گروہ نے اس کی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم ایک حکومتی وزیر کے مطابق ایک مقامی انتہاپسند مسلم جماعت جو کہ زیادہ مقبول نہیں ہے، ان بم دھماکوں میں ملوث ہے انہوں نے یہ قیاس کیا کہ اس تنظیم کو ان حملوں میں غیر ملکی مدد حاصل تھی۔ درج ذیل چھ امور واقعے کی تفصیلات پہ روشنی ڈالتے ہیں:

ایسٹر کا قیامت خیز دن

پہلا دھماکہ کولمبو کے سینٹ اینتھونی گرجا گھر پہ ہوا جو کہ رومن کیتھولک مسیحی مذہب کی اہم عبادتگاہ ہے۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 45 منٹ پر جب عبادتگاہ میں ایسٹر کے سبب بڑی تعداد میں لوگ دعائیہ تقریبات میں شریک تھے ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں گرجا کی چھت زمین بوس ہوگئی۔ عبادت میں شریک بہت سے لوگ موقع پر ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دیگر 3 بم دھماکے جن میں گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سے ایک سینٹ سیبستائن کیتھولک چرچ نوگیمبو میں ہوا۔ یہ کولمبو کے شمال میں واقع ایک قصبہ ہے جس کی اکثریتی آبادی کیتھولک مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں بھی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔ جبکہ گرجا گھر پہ ہونے والا تیسرا بم دھماکہ مشرقی ساحلی قصبے بیٹیکولا کے پروٹسنٹ زائیون چرچ پہ ہوا۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے تین مزید بم دھماکوں کی اطلاع جاری کی گئی جوکہ دارلحکومت کے پرتعیش ہوٹلوں پر کئے گئے۔ ان میں شنگریلا ان، سینیمن گرینڈ اور کنگسبری شامل تھے۔

کچھ گھنٹوں کے بعد کولمبو کے نواحی ضلع دہیوالا کے قومی چڑیا گھر کے قریب ایک گیسٹ ہاوس میں بم دھماکہ ہوا۔ آٹھواں بم دھماکہ کولمبو میں واقع ایک مکان میں ہوا۔ میڈیا اور پولیس کے مطابق اس دھماکے میں تین پولیس افسر ہلاک ہوئے۔ سری لنکن حکومت میں وزیر برائے معاشی اصلاحات ہرشا ڈی سلوا نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ وہ بم حملوں کا شکار دو ہوٹلوں اور سینٹ اینتھونی گرجاگھر  میں صورتحال کا جائزہ لینے خود گئے جہاں انہیں ہر طرف تباہی اور انسانی اعضاء بکھرے دکھائی دیئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بہت سے غیر ملکی بھی ہیں۔

سری لنکن سیکورٹی اہلکار نوگیمبو میں تباہ شدہ گرجا گھر سیبستائین میں کھڑے ہیں

حملے کے متأثرین

حملے کا براہ راست نشانہ سری لنکا کی اقلیتی مسیحی برادری تھی جو کہ بڑی تعداد میں ایسٹر کی دعائیہ تقریبات میں شرکت کے لئے عبادتگاہوں میں موجود تھی۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں کے متعلق تفصیلی جانچ ہونا ابھی باقی ہے اس کے بعد یہ معلوم ہوگا کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں کا  تعلق کس مذہب اور علاقے سے تھا۔ حکام کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد مقامی سری لنکن شہریوں کی ہے تاہم درجنوں غیر ملکی بھی ان حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سری لنکا کی وزارت خارجہ نے مارے جانے والے  کچھ غیرملکی شہریوں کے متعلق میڈیا کو آگاہ کیا ہے جن  کے مطابق تین بھارتی شہری، ایک پرتگالی، دو ترک، تین برطانوی اور دو امریکی شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔  مقامی میڈیا چینی اور ڈچ شہریوں کی ہلاکت کی خبریں بھی دے رہا ہے۔

سری لنکن پولیس اہلکار سینٹ اینتھونی گرجا گھر کے باہر حفاظتی دائرہ بنائے کھڑے ہیں

دھماکوں کے ذمہ دار عناصر

ان حملوں کے فوراََ بعد کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم سری لنکا کے وزیر دفاع رووان وجے وردنے نے میڈیا کو بتایا کہ ان حملوں میں انتہاپسند مذہبی عناصر ملوث ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک 24 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ سری لنکن وزیر صحت راجیتھا سینا رتنے نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایک مقامی گروہ جس کا نام نیشنل توحید جماعت ہے، وہ ان حملوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ طور پر ان حملوں میں غیر ملکی عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں تاہم ابھی کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

سری لنکن وزیر اعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پریس کو بتایا کہ ابھی تک کی تحقیقات کے نتیجے میں جن عناصر کو ان حملوں میں ملوث پایا گیا ہے وہ سبھی مقامی ہیں۔ تاہم اس معاملے پر تحقیقات جاری ہیں کہ کیا ان افراد کو غیر ملکی مدد حاصل تھی یا نہیں؟ انہوں نے اس امر کی تصدیق بھی کی کہ ان حملوں کے متعلق پیشگی اطلاعات موجود تھیں تاہم انہیں روکنے کے لئے کوئی اہم اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی جانچ بھی کرے گی کہ پیشگی اطلاعات کے باوجود بھی ان حملو ں کو روکنے کے لئے کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔

دھماکے سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کولمبو کے ہسپتال کے باہر غم سے نڈھال ہیں

سری لنکا کا ردعمل

وزیراعظم نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ وہ سری لنکا کے عوام پر ہوئے اس بھیانک حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور تمام سری لنکن شہریوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں متحد اور مضبوط رہیں۔ سری لنکن صدر میتھری پالا سری سینا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے پولیس اور دیگر اداروں کو ان حملو ں میں ملوث افراد کو  گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جلد ہی اس میں ملوث افراد پکڑے جائیں گے اور ان حملوں کے مقاصد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ حملوں کے بعد ملک میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ سوشل میڈیا تک عوامی رسائی روک دی گئی اور کولمبو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام فوج نےسنبھال لیا۔

عالمی رہنماؤں کے بیانات

دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان حملوں کی مذمت کی۔ پوپ فرانسس نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے اپیل کی وہ ایسٹر کی دعائیہ تقریبات میں سری لنکا کے متاثرین کو یاد کریں۔ انہوں نے ایسٹر کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل سری لنکا کے معصوم مسیحیو ں کے لئے غم سے بھرا ہوا ہے جو ایسٹر کے روز عبادت کے لئے گئے اور ان بھیانک حملے کا نشانہ بنے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے سے اس حملے کی مذمت کی اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایک بیان میں کہا کہ روس اس مشکل گھڑی میں سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سری لنکا کا پرانا ساتھی ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ان بم حملوں کو پوری انسانیت پر حملہ قرار دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریسا مے نے کہا کہ وہ ان حملوں پر سخت غمزدہ ہیں اور ان کی تمام ہمدردیاں اس بھیانک جرم سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔ لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے کہا کہ ان حملوں میں معصوم شہری مارے گئے جو کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ ان کی حکومت سری لنکا کے عوام کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ سری لنکا میں ہوئے بم حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجےمیں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سری لنکا کے اپنے بھائیوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔ پاکستان اس غم کی گھڑی میں پوری طرح سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر کوند نے اپنے پیغامات میں سری لنکا میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے اور حکومت اور وہاں کی عوام سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے لکھا کہ سری لنکا میں ہونے والے دہشتناک دھماکوں کی شدید مذمت کرتا ہوں، اس طرح کی بربریت کی ہمارے خطے میں کوئی جگہ نہیں۔ انڈیا سری لنکا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے کہا کہ میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقعے پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے خوفناک اور تباہ کن دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ نیوزی لینڈ، قطر، بحرین، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سے دیگر ممالک نے بھی ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

دھماکوں کے فورا بعد کرفیو نافذ کردیاگیا

سری لنکا کی آبادی میں مذہبی اور نسلی تناسب

ان حملوں نے سری لنکا میں 36 سالہ خوں ریز خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس جزیرہ ریاست کی کل آبادی 23 ملین ہے۔ جہاں کل آبادی کا تین تہائی سنہالا نسل کے افراد پر مشتمل ہے۔ اقلیتی نسلی گروہ تامل ملک کی مجموعی آبادی کا 15 فیصد ہے اور یہ ملک کے شمال اور شمال مشرق میں آباد ہیں۔ مسلمان ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباََ 10 فیصد جبکہ مسیحی برادری ملک کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ 6 فیصد ہے۔ تامل آبادی کو یہ گلہ تھا کہ برطانوی راج سے آزادی کے بعد ملک کا اکثریتی سنہالا طبقہ ان کے حقوق ادا نہیں کررہا۔ حقوق کی یہ جدوجہد بعد میں پرتشدد خانہ جنگی میں بدل گئی اور یہ بدترین خانہ جنگی 30 سال سے زائد تک رہی۔ سال2009 میں تامل علیحدگی پسند لڑاکا گروپ لبریشن آف تامل ایلام ٹائیگرز کے سربراہ پربھارکرن کی موت کے بعد اس طویل لڑائی کا خاتمہ مرکزی حکومت کی جیت کے ساتھ ہوا۔

جب ملک میں نسلی تعصب پر مبنی تشدد کا خاتمہ ہوا تو اس کے فوراََ بعد مذہبی تفریق نے سر اٹھا لیا۔ سال 2010 میں بدھ مت راہبوں نے مسلم برادری کے خلاف عوام کو تشدد پر اکسایا اور مسلم برادری کے خلاف جلوس نکالے۔ سال 2018 میں سوشل میڈیا پر افواہ پھیلائی گئی کہ مسلمانوں نے بدھ مت کے ماننے والوں کے خلاف حملے کئے ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے مرکزی حکومت نے عارضی ایمرجنسی بھی نافذ کئے رکھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...