سکیورٹی و معاشی بندوبست

432

بیشتر تجزیہ کاروں کی رائے میں وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر اتھل پتھل دراصل مایوس کن معاشی صورتِ حال کے سبب پیدا شدہ جھنجھلاہٹ سے چھٹکارا پانے کی ایک حکومتی کوشش ہے۔ وفاقی کابینہ میں تغیر وتبدل کا یہ عمل وزیرِاعظم عمران خان کے دورہِ ایران و چین سے چند روز پیشتر سامنے آیا ہے، جبکہ وزیرِ اعظم کے اس بیرونی دورے میں معاشی و سکیورٹی تعاون کا موضوع بطورِ خاص زیرِ غورلایا جانا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان بیجنگ سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت اقتصادی مراکز کی جلد فعالیت و شروعات کے لیے مزید تعاون کی توقع رکھتا ہے۔

چین پاکستان کی معاشی مشکلات سے آگاہ ہے۔ تاہم چینی سرمایہ کاروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں آسان شرائط اور تیز رو بنیادوں پر سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔ انہیں بلوچستان کی خراب سکیورٹی صورتِ حال پر تشویش ہے جہاں مذہبی عسکریت پسند اور علیحدگی پسند عناصر ایسا ماحول پیدا کیے ہوئے ہیں جو کسی طور اقتصادی راہداری منصوبوں کے قیام اور گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے لیے موزوں نہیں ہے۔

مکران ساحلی شاہراہ صوبے کی محفوظ شاہراہ سمجھی جاتی ہے، چنانچہ یہاں سکیورٹی افسران پر کیا گیا حالیہ حملہ چینی تشویش میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ بلوچ باغیوں نے حالیہ دنوں میں انتہائی شدید حملے کیے ہیں، جن میں چند ایک خودکش حملے بھی شامل ہیں، ان حملوں کی شدت سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچ مزاحمت کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اب علیحدگی پسند گروہ مشترکہ کارروائیاں کرنے لگے ہیں، مکران شاہراہ پر ہونے والے حالیہ حملے کی ذمہ داری تین مختلف مسلح باغی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے قبول کی ہے۔

پاک ایران سرحدی علاقوں میں فعال عسکریت پسند گروہوں کے مقاصد اور عزائم سے دونوں ملک بخوبی آگاہ ہیں، ان کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ 70 کی دہائی کے دوران  ذوالفقار علی بھٹو اور رضا شاہ پہلوی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف موثر اور مشترکہ کارروائی کرچکے ہیں

حالیہ حملوں کے سبب بلوچستان کی سکیورٹی صورتِ حال میں بہتری کے حوالے سے چینی و ایرانی حکام کو قائل کرنا وزیرِاعظم عمران خان کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔ عمران خان کا دورہِ ایران تاخیر کا شکارہے اور سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہِ پاکستان کے باعث پسِ منظر میں چلا گیا تھا۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس دورے  کے دوران سرحدی سلامتی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پرزیرِ بحث لایا جائے گا۔ دوسری طرف چین  بھی غیرمحفوظ پاک ایران سرحد کے بارے میں حساس نظر آتا ہے جو علیحدگی پسندوں، مذہبی عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف خطے میں تزویراتی مسائل کا باعث ہے بلکہ صوبے کے ساحلی علاقوں میں اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا موجب بن رہی ہے۔

ایران اس بات پر نالاں نظر آتا ہے کہ سعودی عرب کا پروردہ ایک علیحدگی پسند گروہ، جیش العدل ایرانی فوج پر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرتا ہے۔ رواں سال فروری میں اسی گروہ کے ایک حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 27 فوجی مارے گئےتھے جس سے دونوں ملکوں کے مابین تناؤ کو مہمیز ملی تھی اور ایرانی وزیرِاطلاعات محمود علوی نے اپنے ایک بیان میں ذمہ دار عناصر سے خود بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ دریں اثنا پاکستان نے اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطح وفد تہران بھیجا اور واقعے کی تفتیش اور ذمہ داروں کی تلاش میں ہر ممکن معاونت کا یقین دلایا۔ پاکستانی حکومت نے پاک افغان سرحد کی طرح پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ نسبتاً پیچیدہ عمل ہے۔

پاکستان کو بھی ایرانی سرحدی افواج سے دراندازی کی شکایات رہتی ہیں۔ 2018 کے دوران ایرانی سرحدی افواج کی جانب سے بلوچستانی علاقوں، چاغی، گوادر اور پنجگور میں چھ حملے کیے گئے جبکہ 2017 میں ایسے حملوں کی تعداد 12 تھی۔ ایرانی فوجی دستوں کی جانب سے سرحد پار شیلنگ کے واقعات بہت حد تک مکانات و املاک کی توڑ پھوڑ کا باعث بنتے ہیں، ان واقعات سے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر پاکستانی بری طرح متاثر ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ روزمرہ کام بالکل رک جاتے ہیں۔

مقامی افراد کا گمان ہے کہ ایران پاکستان کے علیحدگی پسند عناصر، بالخصوص بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی سے متعلق نرم گوشہ رکھتا ہے جن سے منسلک افراد واضح طور پر ایرانی سرزمین پر پناہ لیے دکھائی دیتےہیں۔ ایران کی اس حکمتِ عملی کو دراصل اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ بی ایل ایف اور بی ایل اے بائیں بازو کی سیکولر علیحدگی پسند تنظیمیں ہیں جو ایران کے بلوچ اکثریتی صوبے سیستان کی آزادی کو بھی اپنا مطمحِ نظر بتاتی ہیں۔

دسمبر 2018 میں بلوچستان لبریش آرمی کی جانب سے پاک ایران سرحد کے قریبی بلوچستانی ضلع کیچ  میں کیے گئے ایک حملے میں چھ پاکستانی فوجی قتل ہو گئے تھے جس سے بی ایل اے عسکریت پسندوں کے سرحد پار ٹھکانوں کی موجودگی کا پتہ ملتا ہے۔ یہ حملہ ’’اسلحہ، منشیات، پٹرولیم مصنوعات سمیت انسانوں کی غیر قانونی ترسیل کو روکنے اور سرحدی سلامتی میں بہتری‘‘ کے لیے ہونے والے پاک ایران معاہدے کے ٹھیک دوسرے روز کیا گیا۔

ان تمام پیچیدہ سرحدی مسائل کے باوجود ہر دو ملک ابھی بھی مذہبی و قوم پرست عسکریت پسند عناصر کی سرحد پار نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے سرحدی سلامتی کا دو طرفہ موثر بندوبست یقینی بنا سکتے ہیں۔ پاک ایران سرحدی علاقوں میں فعال عسکریت پسند گروہوں کے مقاصد اور عزائم سے دونوں ملک بخوبی آگاہ ہیں، ان کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ 70 کی دہائی کے دوران  ذوالفقار علی بھٹو اور رضا شاہ پہلوی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف موثر اور مشترکہ کارروائی کرچکے ہیں۔

تاہم اس ساری صورتِ حال میں سعودی عرب ایک اہم عامل کے طور پر موجودرہتا ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اگرچہ پاکستان کو معاشی معاونت کی اشد ضرورت ہے تاہم اسے بلوچستان کے حالات کی خرابی کے ذمہ دار اور اقتصادی راہداری سے جڑے معاشی مفادات کو زک پہنچانے کا باعث عسکریت پسند عوضی گروہوں سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔

وزیرِاعظم عمران خان بیجنگ سے پہلے تہران جارہے ہیں، انہیں سکیورٹی معاونت کے معاملے پر تہران سے مثبت جواب مل سکتا ہے، اس طرح کی کوئی بھی پیش رفت پاکستان اور چین کے مابین دوطرفہ بات چیت پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔ بیجنگ میں وفاقی وزیرِخزانہ اسد عمر کی عہدے سے برطرفی کو دو وجوہات کی بنا پر مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جائے گا کیوں کہ وہ نہ صرف ملکی معیشت کو چلانے میں ناکام رہے بلکہ اقتصادی راہداری منصوبوں میں تاخیر کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔

معاشی استحکام کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے، بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے غیرسنجیدہ، کاہلانہ اور مبہم جوابی اقدامات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بنا پر بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر قائل کر لینے کی خوش فہمی نے نہ صرف اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس سے مجموعی طور پر ملکی معیشت بھی دگرگوں ہوئی ہے۔ تباہ کن معاشی صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان ازسرِ نو اقتصادی راہداری پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ تاہم  معاشی حوالے سے ملکی سمت کا صحیح اندازہ نئے مشیرِ خزانہ اور ان کی ٹیم حکومت کے نئے معاشی لائحہِ عمل  کو سامنے لانے کے بعد ہی ہوسکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے پاس  کوئی نیالائحہِ عمل موجود ہو۔

چین ’’ایک خطہ، ایک راہداری‘‘ منصوبے کو ہر ممکن حد تک کامیاب دیکھنا چاہتا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری اس منصوبے کا جزوِ لازم ہے، چین کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر دوبارہ تیزی سے کام شروع کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس سے ’ایک خطہ، ایک راہداری‘ منصوبے کے ممکنہ شراکت داروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا جو فی الحال اس منصوبے کا حصہ بننے سے ہچکچارہے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین نئے معاشی تعاون کے ممکنہ تنائج و مضمرات سلامتی کی صورتِ حال پر موقوف رہیں گے۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...