قبائلیوں کو درپیش مسائل اور حکومتی ترجیحات

220

شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر میران شاہ میں پچھلے ہفتے ایک تاریخی جلسہ منعقد کیاگیا۔ اس جلسے میں اگرچہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختون تحفظ تحریک کے سرگرم کارکنوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی تھی مگر شمالی وزیرستان ہی سے شرکاء کی تعداد توقعات سے زیادہ تھی۔ جلسہ گاہ کے پنڈال کے بھر جانے کے بعد لوگ ملحقہ عمارتوں اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر صبح دس بجے سے شام تک مقررین کی باتیں سننے کے لیے ہم تن گوش تھے۔ پختون تحفظ تحریک سے لاکھ اختلاف سہی مگر لگ بھگ دوہفتوں کے دوران پشاور اور میران شاہ میں منعقد ہ جلسوں میں نوجوانوں کے جو ش و خروش کو دیکھ کر لگتا ہے کہ  حکمران طبقے کو اپنی  پالیسوں اور پختونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر نظرثانی کی ضرورت پڑے گی۔ پشاور اور میران شاہ میں پی ٹی ایم کے جلسوں میں شریک ہونے والوں کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں تھا بلکہ ان میں مختلف الخیال اور  مختلف نظریات کے حامی لوگ شامل  تھے۔

گو کہ پچھلے ایک سال سے حکومت اور حکومتی ادارے کسی نہ کسی طریقے سے پختون تحفظ تحریک کو ٹی وی چینلز سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے اب پی ٹی ایم کی آواز نہ صرف دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے بلکہ یہ مکمل طور پر اب  ایک سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آچکی  ہے۔ اس تحریک کے آنے سے ایک طرف حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کی پختون قوم میں مقبولیت کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں تو دوسری طرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو پختون آبادی بالخصوص وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی اضلاع میں کھلا میدان مل گیا ہے۔

 حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سرکاری عہدوں کے بل بوتے پر سابق قبائلی علاقوں میں جلسے منعقد کرسکتے ہیں، پختون تحفظ تحریک کو بھی آزادی ہے لیکن دیگر سیاسی پارٹیوں بالخصوص پختون قوم پرست جماعتوں میں سرفہرست عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ایسا ممکن نہیں

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں کے لیے مختص صوبائی اسمبلی کی 21  نشستوں پر انتخابات کی تیاری آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ان نشستوں میں سے 16 کو عام انتخابات، چار خواتین اور ایک مذہبی اقلیتوں کے مخصوص کوٹے کی بنیاد پر پُر کیا جائے گا۔ پچھلے سال اگست میں حکومت سازی کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی تمام تر توجہ ان نشستوں کے حصول پر مرکوز  ہے۔ عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان اب تک شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند اور خیبر کے دورے کرچکے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی صوبائی یا وفاقی وزیر بھی ان علاقوں کے دورے پر ہوتا ہے۔ یہ لوگ قبائلیوں کے دل جیتنے کے لیے خوشحالی وترقی کے خواب دکھا رہے ہیں۔ جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ جب تک وفاقی محاصل یعنی قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے تین فیصد حصہ مختص نہیں کیا جاتا تب تک اعلان کردہ  100 ارب کے دس سالہ ترقیاتی منصوبے پر کام شروع ہونا ناممکن ہے۔

ایک تو پچھلے سال مئی کے اواخر میں قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ انتہائی جلد بازی میں کیا گیا تھا، دوسرا  موجودہ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث انضمام کے بعد ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر سے اب قبائلیوں کے لیے  صورتحال آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا والی بن گئی ہے۔ نہ عدلیہ کا نظم فعال ہوسکا، نہ دیگر انتظامی امور چلائے جاسکے۔ جبکہ  برطانوی حکمرانوں سے وراثت میں ملے ہوئے نظام کے خاتمے سے پیدا ہونے والے خلا کو فوج پُر کر رہی ہے۔ قبائلی علاقوں کی افغانستان سے متصل سرحدی گزرگاہیں سونے کی کان کی مانند ہیں۔ ماضی قریب میں حکومت کے حامی اور وفادار قبائلی رہنما اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے مگر اب ان رہنماؤں کی تمام تر مراعات معطل ہوچکی ہیں تو سرحدی گزرگاہ سے روازنہ کی بنیاد پر جمع ہونے والی کروڑوں کی رقوم  کو مخصوص جتھے آپس ہی میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔

ایک اور قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سرکاری عہدوں کے بل بوتے پر سابق قبائلی علاقوں میں جلسے منعقد کرسکتے ہیں۔ پختون تحفظ تحریک کو بھی آزادی ہے۔ مگر دیگر سیاسی پارٹیوں بالخصوص پختون قوم پرست جماعتوں میں سرفہرست عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ایسا ممکن نہیں۔ چند روز قبل عوامی نیشنل پارٹی نے باجوڑ میں جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا مگر باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کرکے اس جلسے کو روکنے کی کوشش کی۔ صرف عوامی نیشنل پارٹی کو ہی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی، جمعیت العلماء اسلام (ف) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کو نہ صرف سابق قبائلی علاقوں میں مقبولیت اور حمایت حاصل ہے بلکہ یہ جماعتیں قبائلیوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے حکمرانوں کو اقدامات کرنے پر مجبور بھی کرسکتی ہیں لیکن ان کو آزادی میسر نہیں ہے۔ یہ طرز عمل صرف ان سیاسی جماعتوں کو ان کے حق سے محروم نہیں کرتا بلکہ سابق قبائلیوں کی خواہشات اور امیدوں پر بھی پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ حکومت قبائلیوں کے مسائل حل کرنے سے زیادہ انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...