بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری

330

بلوچستان میں بے روزگاری اور غربت کی شرح آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ یہاں پرائیوٹ اداروں کا فقدان ہے اور صنعتی انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ نوجوان جو محنت کے بل بوتے پر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنا چاہتے ہیں ان کے  لیے PCS اور CSS پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن بلوچستان میں وہ واحد ادارہ ہے جس پر ابھی تک لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ یہ ادارہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی آسامیوں کا تحریری اور زبانی امتحان لیتا ہے، اس کے بعد وہ نوکریوں کا اعلان اپنی ویب سائیٹ یا اخبارات کے ذریعہ کرتا ہے لیکن آسامیوں کی تعداد سالانہ 1000 سے اوپر  نہیں ہوتی، اور ان میں سے بھی زیادہ تر ٹیکنیکل قسم کی  ہوتی ہیں جن پر وہی لوگ اپلائی کرسکتے ہیں جن کے پاس مذکورہ آسامیوں کی ڈگری ہو۔ جبکہ بلوچستان میں تعلیم کا نظم کمزور ہونے کی وجہ سے ٹیکنیکل تعلیم تو بالخصوص بہت نایاب ہے۔

روزگار کے حوالے سے نوجوانوں کے لیے ایک ذہنی اذیت یہ بھی ہے کہ اخبارات میں سرکاری ملازمتوں کے اشتہارات شائع ہوتے ہیں جو زیادہ تر گریڈ 1 تا 14 کی ہوتی ہیں۔ لیکن ان کی اشاعت کے چند روز بعد ہی ’’ناگزیر وجوہات‘‘ کی سرخی لگا کر منسوخی کا اشتہار جاری کردیا جاتا ہے۔ آنکھ مچولی کا یہ کھیل گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے جس نے نوجوانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ اس کھیل کا خاتمہ چاہتے ہیں اور حکومتی سنجیدگی کے منتظر ہیں۔ اس سے متعلق سرکاری اداروں کی جانب سے کبھی کوئی واضح اور معقول جواز پیش نہیں کیاگیا۔ دس سالہ اخباری اشتہارات اور درخواستوں پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ لگائیں تویہ کروڑوں روپے بنتے ہیں۔ کچھ آسامیاں سفارش، اقربا پروری اور رشوت کی نذر ہوجاتی ہیں۔ سفارش، رشوت، اقربا پروری کے اس کلچر میں وزراء اور سرکاری آفسران سے لے کر کلرک تک سب برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات نہ رپورٹ کیے جاتے ہیں اور نہ ہی ایسا ریکارڑ سامنے آتا ہے جس سے  نظام کی یہ بہیمانہ شکل عیاں ہو سکے۔

وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کا کوٹہ 6 فیصد رکھا گیا ہے جس پر بہت کم عملدرآمد کیا جاتا ہے، اگر ہو بھی جائے تو آسامیوں کے حقدار وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جو بلوچستان کا ڈومیسائل لے کر اسلام آباد، لاہور یا دیگر بڑے شہروں میں آباد ہیں

2017میں صوبائی کابینہ نے 90 دن کے اندراندر 30 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ کیا تھا۔ گریڈ 16 کی آسامیاں جو گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی تھیں ان پر تقرری کا سلسلہ بہت جلد شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ اعلان سے بلوچستان کے بے روزگار حلقے میں امید کی ایک کرن جاگ اٹھی تھی۔ مگریہ منظوری صرف فائلوں کی حد تک ہی رہی، بات اس سے آگے نہ جا سکی۔ بلوچستان میں احساسِ محرومی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومتیں ماضی میں اعلانات تو کرتی رہیں مگر عملدرآمد کا فقدان رہا۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت ملازمتیں محکمہ تعلیم تک ہی محدود رہیں۔ پیکج کے تحت بلوچستان بھر سے 5000 نوجوانوں کو محکمہ تعلیم میں کھپایا گیا۔ بعد میں یہ سلسلہ سست روی کا شکار ہوا اور آغازِ حقوق اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک کے دورِ حکومت سے نوجوانوں کی امیدیں وابستہ تھیں۔ ظاہر یہی کیا جا تا تھا کہ ان کی حکومت بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں سرکاری ملازمتوں پہ ایک طرح کی پابندی رہی۔ امیدوں کا پہاڑ مایوسی کی صورت میں نوجوانوں پر آگر پڑا۔

وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کا کوٹہ 6 فیصد رکھا گیا ہے جس پر بہت کم عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ اگر ہو بھی جائے تو آسامیوں کے حقدار وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جو بلوچستان کا ڈومیسائل لے کر اسلام آباد، لاہور یا دیگر بڑے شہروں میں آباد ہیں۔ وفاق اور صوبے کے درمیان ایک وسیع خلیج نے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔ وفاقی اداروں میں بلوچستان کے ملازمین کے ساتھ درست رویہ روا رکھا نہیں جاتا اس طرح جو قلیل تعداد ہوتی ہے وہ بھی ملازمت چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ جنوری 2014 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی اداروں میں بلوچستان کوٹہ کی 10 ہزار ملازمتوں کی 4000 پوسٹیں خالی پڑی ہیں جنہیں پُر نہیں کیا جا سکا ہے۔ جبکہ 6 ہزار خالی آسامیاں وہ ہیں جن پر بلوچستان کے ڈومیسائل پر تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے وفاقی ملازمتوں میں بھرتیوں سے متعلق بلوچستان کے سینیٹرز سینٹ میں  بارہا آواز اٹھا چکے ہیں۔ 2017  میں اسی مسئلے پر سینٹ میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے پاکستان پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کی حمایت سے منظور کیا گیا۔ خبریں گردش کرتی رہیں کہ ری چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے۔ دو سال گزر جانے کے باوجود قرار داد کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے چرچے تو ہیں مگر اس  میں ایسے کتنے نوجوانوں کو کھپایا جائے گا جن کے پاس ٹیکنیکل ہنر کا کوئی سرٹیفکیٹ موجود نہیں۔ بلوچستان حکومت آج تک کوئی ایسا ٹیکنیکل ادارہ قائم ہی نہ کر سکی  جو آنے والے وقتوں میں سی پیک جیسے منصوبوں کی ضرورت پوری کر سکے۔ BTVETAفنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے فقط ایک ڈھانچہ بن کر رہ چکا ہے۔ یہ ادارہ صرف  اتنا کر رہا ہے کہ اپنے ملازمین کو بھوکا مرنے نہیں دے رہا۔

2017کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی دُگنی ہو گئی ہے لیکن روزگار کے مواقع میں اضافہ نہیں ہوا۔ بلوچستان حکومت کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کو طویل المدتی منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں حکومت پر روزگار کا بوجھ کم ہو سکے اور بلوچستان کی افرادی قوت سے استفادہ کیا جا سکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...