ہتھکڑی ڈال دی ظالم نے قضا سے پہلے

وہ تو بھلا ہو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہ انہوں نے 16 اپریل کو حکم سنا دیا کہ آج کے  بعد کسی بھی گرفتار افسر کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی۔ ورنہ مملکت خداداد میں تو یہ چلن ہو چلا تھا کہ ہر ملزم اور مجرم کو ہتھکڑی پہنا کر کہا جانے لگا تھا کہ پاکستان میں قانون کی نظر میں سب ایک ہیں۔ ہتھکڑی کے بارے میں ایک صدی سے بحث مباحثہ چلا آرہا ہے۔  ان میں شعرا، سیاستدان اور ماہرین قانون سب اپنی اپنی کہے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ امید ہے کہ نیب کے چیئرمین کے بیان سے پچھلی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ نئی پیدا ہوں گی تو وقت آنے پر ان کو بھی دور کیا جاسکے گا۔ ہم  نے ضروری سمجھا کہ پچھلی خوش فہمیوں کا مختصر جائزہ پیش کرکےغلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔

جہاں تک شعرا کا تعلق ہے ہم نے جس مصرعے کو آج کی گفتگو کا عنوان بنایا ہے وہ حکیم مومن خان مومن کے ایک شعر کا مصرع ثانی ہے۔ جیسا کہ شاعر کے نام سے ظاہر ہے وہ اول و آخر مومن تھے بلکہ مومن کے مکرر ذکر سے اس بات میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اپنی ذات میں مومنین تھے۔ انہوں نے محض گرفتاری کے وقت قضا سے پہلے ہتھکڑی لگنے پر شدید احتجاج کیا تو ان کو شکایت یہ تھی کہ

ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے زلف دوتا تک مومن

ہتھکڑی  ڈال دی ظالم نے قضا سے پہلے

ہم یہاں تفصیل میں نہیں جائیں گے کہ ظالم کون تھا، قضا کسے کہتے ہیں اور پہلے اور بعد میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ آج کل رواج ہے ہم زلف دو تا تک ہاتھ پہنچنے یا نہ پہنچنے کی ٹریل کی کھوج بھی نہیں لگائیں گے۔ ہم اس شعر کو صرف اس بات کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں کہ مومنین ہمیشہ سے ہتھکڑی کو ظلم سمجھتے آئے ہیں۔ لیکن قضا سے پہلے ہتھکڑی تو سراسر ظلم ہے۔

دوسرے شاعر جنہوں نے ہتھکڑی پر کلام کیا ہے امیر مینائی  ہیں۔ ان کی استدعا تھی

ہم بہت لاغر ہیں پہناو نہ ہم کو ہتھکڑی

ڈال دو چھلاّ کوئی اپنا  ہمارے ہاتھ میں

امیرمینائی کے شعر میں ہتھکڑی کے تکلیف دہ ہونے پر احتجاج تو ہے لیکن اس میں مومن کا سا طنطنہ نہیں۔ شعر بے دلی اور بے بسی   کی تصویر نظر آتا ہے۔ اور چھلّے کے ذکر سے پلی بارگین کا گمان ہوتا ہے۔ اسی لئے اس دور میں  شور مچ گیا تھا کہ امیر مینائی این آر او مانگ رہے ہیں۔ کمپنی بہادر کا حکم چلتا تھا۔ امیر مینائی کی اپیل خارج ہو گئی۔

تیسرے شاعر میرزا غالب ہیں۔ انہوں نے ہتھکڑی کا ذکر تو نہیں کیا لیکن پکڑ دھکڑ پر قانونی سوال اٹھا دیا۔ یوں ہتھکڑی کیا، سرے سے پکڑ دھکڑ  کو ہی مشکوک بتا دیا۔

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی اپنا  کوئی دم تحریر بھی تھا

شعرا کی ان کوششوں سے قانون میں تو اصلاح نہ ہوسکی لیکن معاشرے میں ایسی سوچوں کی داغ بیل ضرور پڑی جس نے سیاست دانوں اور ماہرین قانون کے لئے فکر وعمل کی نئی راہیں کھول دیں۔ ہم شواہد پیش کریں گے تو اس سے ملک میں تفتیش و تحقیق کا عمل  متعصب ہوگا۔ اشارے کے طورپر ایک دو مثالیں کافی ہوں گی۔ سیاست دانوں میں سے صاحبان فہم و فراست نے غالب کی بات پلے باندھ لی اور دم تحریر ‘ اپنے آدمیوں’ کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے پولیس میں محرر کے نام سے ایک مخصوص عہدہ مقرر کروالیا۔ قانون کی نظر میں فرشتہ نہ بھی ہو، ہر شخص محرر کو کسی نہ کسی کا  ‘اپنا آدمی’ ضرور سمجھتا ہے۔ جب یہ رشتہ بالکل معمہ بن گیا تو نیب وجود میں آئی۔ نیب کے چیئرمین  کے مذکورہ بالا بیان سے اس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں واضح ہو گئی ہیں۔

بعض سیاست دانوں نے ہتھکڑی اور گرفتاری سے وابستہ  ہتک عزت کے مفروضوں کی نفی کرتے ہوے جیل اور سزاوں کو انتقامی سیاست کا درجہ دے کر جمہوری سیاست کا لازمی حصہ قرار دیا۔ یوں ہتھکڑی اور جیل وطن کی خدمت اور سیاستدان کے پورٹ فولیو اور مناقب کا لازمی جزو بن گیا۔ حتی کہ دیسی فلموں کا ہیرو یہ کہتے سنا گیا کہ ہتھکڑیاں مردوں کا زیور ہیں۔

پاکستان میں معروف قانون دانوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون میں ہتھکڑی کا ذکر صرف جیل کے قوانین اور قیدیوں کے قواعد و ضوابط میں ملتا ہے۔ گرفتاری کے وقت ہتھکڑی کے بارے میں پاکستان میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ قانون میں ہتھکڑی کا ذکر نہ ہونے سے یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ اس کے لئے قانون ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے پارلیمنٹ ہی قانون سازی کرے۔ حکیم مومن خان مومن کے شعر میں یہ صراحت موجود ہے کہ قضا سے پہلے  ہتھکڑی ڈالنا  ظلم ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوی نے بھی مومن کے شعر کی توثیق کردی ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ ملزم کیا، اسلام تو کسی مجرم کو بھی ہتھکڑی ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی کمی تھی تو چیئرمین نیب کے بیان سے دور ہو گئی کہ مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں، چیئرمین نیب کا وضاحتی بیان کافی ہے۔ پاکستان کے تما م شہری اسلام کے، اسلامی نظریاتی کونسل کے اور نیب کے چیئرمین کے شکر گذار ہیں کہ مملکت خداداد میں گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کو چیئرمین نیب کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ اور نیب کے ریجنل آفیسر تو کسی بیورو کریٹ کو از خود گرفتار بھی نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسران بلا خوف و خطر فرائض سرانجام دیں۔ اس حوصلہ افزائی سے افسران کی جان میں جان آگئی ہے۔ اور حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔

چیئرمین نیب کے وضاحتی بیان سے پہلے تو برا حال تھا۔ بہت سی تصویری خبریں یاد آتی ہیں تو دل بہت برا ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک تصویر 4 اپریل 2011ء کی ہے جس میں گورنمنٹ ہائی سکول، وہاڑی، ضلع ملتان کا نویں جماعت کا طالب علم ہتھکڑی پہنے امتحان کا پرچہ حل کر رہا ہے۔ جی نہیں وہ کمرہ امتحان سے بھاگ نہیں رہا تھا۔  بلکہ اس لئے کہ اس پر چوری کی فرد جرم عائد ہوچکی تھی کہ اس نے کسی زمیندار کی لکڑی کی لا تعداد الماریاں اور دروازے چوری کر لئے تھے۔ جرم کا فیصلہ باقی تھا لیکن زمیندار کا کہنا تھا کہ یہ عادی چور ہے۔ اس چوری میں بچ بھی جائے تو آئندہ مقدمات میں بچ نہیں پائےگا۔ جرائم کی فہرست جتنی طویل ہوگی فیصلے میں اتنی ہی دیر لگتی ہے۔ کم از کم اسے ہتھکڑی پہنا کر مزید جرم سے کچھ دیر تو روکا جا سکتا  ہے۔ وہاڑی کے اس طالب علم کے بارے میں تو امید ہے کہ اصل جرم کا فیصلہ سرائیکی صوبہ بنتے ہی ہو جائے گا کیونکہ اٹھارہویں ترمیم صوبوں کی خود مختاری کی ضامن ہو گئی ہے۔ لیکن ایک اور تصویر جس میں ایک پروفیسر ہتھکڑی لگے موت کی نیند سورہا ہے اس پر تو ابھی فرد جرم عائد بھی نہیں ہوئی تھی۔

1894ء  کے برطانوی قانون جیلخانہ جات، قیدیوں کے بارے میں پاکستان کے ترمیمی قوانین 1978ء کی روسے جیل میں قید مجرموں کی حفاظت اور سزا کے مقصد سے ہتھکڑی لگانے کی گنجائش موجود ہے۔ اور خود اس ہتھکڑی کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے۔ ان قواعد میں یہ وضاحت موجود ہے کہ خواتین اور سول/سیاسی قیدیوں کو ہتھکڑی لگانا ضروری نہیں۔ یہ اصول بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ ” کسی شخص کو بغیر جواز ہتھکڑی ڈالنا اس پر حملے کے مترادف ہے اور  قانون اس کی اجازت نہیں  دیتا”۔  البتہ اس جواز کا فیصلہ کون کرے گا اس کی وضاحت قواعد میں نہیں ہے۔ اسی طرح قاعدہ نمبر 174 میں یہ ہدایت ہے کہ خواتین اور کلاس اے کے علاوہ ہر قیدی کو جیل سے باہر لے جاتے وقت ہتھکڑی لگانا ضروری ہے۔

ان تمام قواعد کو پڑھنے سے ہتھکڑی کا جو فلسفہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجرم کو اصلاح احوال کے لئے قید کیا جاتا ہے، سیرسپاٹے کے لئے نہیں۔ اس کی سرکشی اور مجرمانہ رویے کی اصلاح کے لئے اس کی تربیت ضروری ہے اور تربیت کے لئے نفس کشی  لازمی ہے۔ ہتھکڑی اصلا ح نفس کے لئے مفید ہے۔ اس کے پہننے سے جرم سے رکنے کی عادت پڑ تی ہے اور عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ شرفا، سیاستدانوں اور اعلی افسروں کو نفس کشی  کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے ان کو ہتھکڑی لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کو جیل میں ڈالنا  بھی بلا تکلیف تکلف ہے۔

چیئرمین نیب نے اعلی افسروں اور سیاست دانوں کو ہتھکڑی سے مستثنی قرار دیا تو باقی قیدیوں اور خصوصاً پولیس حکام میں پھر سے پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ قانون کے رکھوالوں کو تشویش ہے کہ ہتھکڑی کے بغیر قانون کی چادر اور چار دیواری کو کیسے محفوظ رکھ سکیں گے۔

ہتھکڑی سازوں نے پولیس کی تشویش کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوے اب دو قسم کی ہتھکڑیاں تیار کر لی ہیں۔ ایک تو پولیس ہتھکڑیوں  کی جدید شکل تیار کی ہے جو دیکھنے میں پولیس ہتھکڑی لگتی ہے لیکن وزن میں اتنی ہلکی ہے کہ گرفتار شدہ کو سبکی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ وہ ہنسی خوشی پہنے رکھے گا۔ یہ ہتھکڑیاں مختلف رنگوں میں تیار کی گئی ہیں تاکہ ملزم کے سوٹ کے رنگ سے میچ ہو سکے۔ یوں وہ دیکھنے والوں کو سوٹ کا حصہ لگے گی۔ دوسری قسم کی ہتھکڑیاں جو جدید ٹکنالوجی کا شاہکار ہیں غیر مرئی پلاسٹک سے تیار کی گئی ہیں۔ یہ نظر نہیں آتیں۔ اس لئے ملزم اسے پہن کر بے توقیری محسوس نہیں کرتا۔ اس کو مختلف ڈیزائنوں میں تیار کیا گیا ہے۔ روایتی ہاتھوں کو سامنے سے باندھنے والے ڈیزائن کے علاوہ، ہاتھوں کو پیٹھ پیچھے بھی باندھا جاسکتا ہے۔ اور اس طرح بھی باندھا جاسکتا ہے کہ ملزم اپنے پرستاروں کو ہائی ہیلو کر تا نظر آئے۔ اس میں دو طرح کی سیکیورٹی چپس بھی دستیاب ہیں۔ ایک چِپ کا تعلق جی پی ایس سے  ہے۔ ہتھکڑی پہن کر ملزم  کی آمدو رفت پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس کی بات چیت اور فون وغیرہ کو ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ملزم اور مجرم اپنے کو مکمل آزاد لیکن محفوظ محسوس کرتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ ہتھکڑیاں غلامی کے دور کی روایت ہیں۔ لیکن جدید ٹکنالوجی نے اس کی افادیت میں اضافے کرتے ہوے روایت کو زیادہ مفید بنادیا ہے۔ اب صارف کو اتنی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں کہ یہ سلامتی کی ضامن ہونے کی وجہ سے بہت جلد ملزموں اور مجرموں میں ہی نہیں، پاکستان کے ہر شہری کی ضرورت بن جائیں گی۔ پولیس کے کندھوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوگا۔

لیکن اس صورت حال سے اگر لوگ یہ سمجھنے لگے کہ پولیس کا محکمہ محض مشق ستم کے لئے ایجاد ہوا تھا تو اس نئی غلط فہمی کو نیب کیسے دور کر پائے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...