مسلم سماج اور شناخت کی تلاش

شفیق منصور ’’تجزیات ‘‘ کے معاون مدیر ہیں، اوربین الاقوامی اسلامی یونیور سٹی سے عربی ز بان و ادب میں ایم فل کی سند حاصل کر رکھی ہے ، مذہب ، سماج اور جدید دور میں ان کی باہمی کشمکش اور اس سے جڑے مسائل ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہیں۔ شفیق منصور ’’سیاسی اسلام اور جدید ریاست‘‘ کے مصنف ہیں۔ مسلم سماج اور بالخصوص پاکستان کے تناظر میں شناخت کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔نو آبادیاتی عہد کے اختتام کے بعد مسلم معاشرے اپنے تشخص اوراقدار کے حوالے سے ابہام کا شکاررہے ہیں۔ اجتماعی شعوری آزادی کے فقدان،مذہبی آئیڈیالوجی کی مخصوص تعبیرات، اور ریاست وسماج کے تعلق کے مابین عدمِ توازن نے شناخت کے شد ید مسائل کو جنم دیا ہے۔زیر نظر مضمون میں اس نقطہ پر اظہارِخیال کیا گیا ہے کہ شعوری آزادی کتنی اہم ہے، مذہبی سیاسی آئیڈیالوجی نے سماجی ساخت اور خود مذہب کی رْوح پرکیا منفی اثرات مرتب کیے ہیں،شناخت کا جوہر اوراس کی اصل کیا ہے اور اس کے اندر در آنے والی فسطائیت کیسے فعال شہریت کا راستہ روک کر معاشرے کو انتشار اور تصادم کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ ا ن کا یہ مضمون شناخت سے جڑے مسائل کا بطریقِ احسن احاطہ کر تا اور سوچ وفکر کے نئے در وَا کرتا ہے۔

م کون ہیں؟
مسلم سماج اور بالخصوص پاکستان میں بظاہر اس سوال کا جواب حاصل کرنا مشکل نہیں، مگرشناخت کی نمائندگی کرنے والی متعدد توانا اور کمزورآوازوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے ہم اپنے سوال کو دوبارہ دہرائیں گے کہ:ہم کون ہیں، ہماری شناخت کیا ہے؟
ہم سوال کا اعادہ اس لیے کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ آزادی تعینِ شناخت کے مرحلے سے مقدم ہوتی ہے، جبکہ ہماری موجودہ شناختیں سول سوسائٹی کی اپنی فکر سے حاصل کی ہوئی نہیں ہیں۔یہ وہ شناختیں نہیں ہیں جو افراد نے آزادی کے ساتھ غور و فکر کرنے کے بعد خود طے کی ہوں۔ یہ شناختیں خاص اداروں اور جماعتوں کی عطا کردہ ہیں جن میں سے ہر ایک کے پس منظر میں مخصوص تحریکی، متنازعہ تاریخی اور سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔ یعنی کہ سماج نے اپنا تشخص خود طے نہیں کیا بلکہ اسے خاص مراحل اور عوامل کی اساس پرتشکیل دی جانے والی شناختوں کا اسیر بنایا گیا ہے۔ سماج جب تک اداروں اور گروہوں سے بالاتر ہوکر از خود شعور اور آگہی کے ساتھ اپنی شناخت نہ طے کرلے وہ تعمیر اورترقی کا مفہوم اور ان کا عملی طریقہ کار اور میکانزم بھی طے نہیں کرسکتا۔لہٰذاشناخت کی تشکیل سے قبل اجتماعی شعوری آزادی کا وجود ضروری ہے۔
یہ بھی ایک دردناک پہلو ہے کہ ہماری شناخت کا ہماری سماجی تعمیروترقی کے ساتھ عملاً کوئی تعلق نہیں ہے۔شناخت اگر سماج پر مستقبل کے دروازے نہ کھولے تو اس کے عناصر پر نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔مشکل مگر یہ ہے کہ جوطبقات ان شناختوں کے محافظ بنے ہوئے ہیں انہوں نے سماج کی ذہنی ساخت ہی اپنی چاہت اور ضرورت کے عین مطابق تیار کرڈالی ہے۔جب کہاجاتا ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھ پارہے توکسی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ فلاح اور ترقی کی تعریف ہی بدل دی گئی ہے یاپھر اس کے سرے غیراخلاقیت کے ساتھ جوڑ دیے گئے ہیں۔یہ گروہ ایسی سائنٹیفک ومنطقی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیتے جو تشخص کو معاشرتی تعمیر اور ترقی کے ساتھ منسلک رکھے۔
ہم ہر گز یہ نہیں کہتے کہ کوئی بھی مخصوص شناخت اپنی ذات میں غیرمحترم یا لایعنی ہوتی ہے بلکہ ہرطرح کی دینی،ثقافتی اور تہذیبی شناختیں محترم ہیں اور ان کا وجود سماج کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہوتا لیکن جب کوئی شناخت اس حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہ دعوی کرنے لگے کہ وہی برحق ہے،ناقابلِ تغیر ہے اور اسے خطرات لاحق ہیں تو امین معلوف کے مطابق ایسی شناخت ’’قاتل شناخت‘‘ کی شکل اختیار کرچکی ہوتی ہے۔کیونکہ یہ تینوں دعوے فسطائیت کی علامت اور فساد کا پیش خیمہ ہیں۔
آزادی
ایک متوازن شناخت کی تلاش سے پہلے کا مرحلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے وجود کو مستقل بالذات تسلیم کریں۔ یعنی ایک ایسا وجود جو آپ ہی ایک حقیقت ہے اور اسے محسوس کرنے کے لیے کسی خارجی مغایر وجود (other)کی ضرورت نہیں ہے۔
اپنی ذات کا کسی غیر کے ساتھ موازنہ کرنا منفی طرزعمل نہیں ہے۔البتہ غیر کے وجود کے بغیر اپنے وجود کے احساس کا معدوم ہوجانا یا غیر سے نفرت کو شناخت کا عنصر بنادینا غیرمتوازن اور تباہ کن عمل ہے۔مثبت موازنے میں مسابقت اور ہمت کے جذبات کارفرما ہوتے ہیں جبکہ نفرت جہاں ناانصافی کا جواز مہیا کرتی ہے وہیں اعتراف کے جذبے کو قتل کرکے سماجی تنوع کو بھی ناقابل برداشت سمجھ لیتی ہے۔اگر شناخت کے جوہرمیں کسی غیر (other) سے نفرت کا عنصر بھی شامل ہوتو یہ ایسا ہے جیسے اس کا حامل فرد ڈیکارٹ کے اسلوب میں یہ کہہ رہا ہو ’نفرت کرنا میرے ہونے کی دلیل ہے‘۔ نفرت جب آکسیجن کی حیثیت اختیار کرلے اور شناخت کے محترم ڈھانچے میں داخل ہوکر ایک فضیلت بن جائے تو سماج میں ناانصافی اور عدم برداشت تلاش کرنے کے لیے غور کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ گلی گلی کوچہ کوچہ ان کی تمثیل بن جاتا ہے۔کیونکہ شناخت کے عناصر اپنی ترکیب میں مخالف اور غیر پر اثرانداز ہونے کی بجائے فرد کی اپنی نفسیات اور اس کے مزاج کی تشکیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔اس لیے کہ شناخت بارود کا گولہ نہیں ہوتی جس سے کسی کو نشانہ بنایا جاسکے بلکہ یہ ایک سیڑھی ہوتی ہے جس کے ذریعے سماج خود یاتو کامیابی کی بلندیاں طے کرتا ہے یاپھر کسی ظلمت کدے میں اتر کر نابود ہوجاتا ہے۔بطور قوم ہم میں ناانصافی اور عدم برداشت کا غلبہ بتا رہا ہے کہ ہم اس سیڑھی کے ذریعے کہیں ظلمت کدے میں اتر رہے ہیں،نہ کہ کسی بلندی کی جانب رُوبہ سفر۔
مستقل بالذات ہونے کا دوسرا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ہم تاریخ اور ماضی سے صرف وہی کام لیں جو اس کا دائرہ اور حدود ہے۔ہم نے تاریخ سے معلومات کے انبار تو لگائے ہیں لیکن اس موضوع پر غور نہ کرسکے کہ تاریخ سے استفادے کا دائرہ کار اور اس کی حدود کیا ہوتی ہیں ۔ تاریخ کو اس کے حق سے زیادہ حصہ دینا اپنی ذات کو بے نشان اور غیر واضح رکھنے کے مترادف ہے۔ماضی اور حال کو ان کا پوارا حصہ دینے کے حوالے سے عرب مفکر عابد الجابری وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’وہ ماضی،جسے استعمار نے مسخ کر ڈالا تھا ، اسے دوبارہ زندہ کرنے اور اس کے ذریعے اپنی میراث کی صحیح پہچان کو اجاگر کرنا ثقافتی ضرورت ہے، لیکن حقیقی قومی ثقافتی نقوش و مظاہر تب اجاگر ہوں گے جب ہم موجود اور حاضر مرحلے کو بھی زندہ کرنے کی کوشش کریں گے، یعنی جب ہم دور جدید کے مسائل کا ادارک، ان کی تعبیر اور قومی شعور کو ان کے لیے سنجیدہ اور متحد کر پائیں گے، یہ وہ حقیقی ثقافت ہے جو عوام کو نئے راستوں اور نئے آہنگ سے روشنا س کراتی ہے۔ ثقافت کا جوہر صرف ماضی اور تاریخ میں پنہاں نہیں ہوتا۔ ثقافت کے جوہر کا بھرپور مظہر اور مصداق موجود ہ زمانے کے مسائل اور مستقبل کے امکانات کی ترجمانی اور ان کے لیے جدوجہد بھی ہے، اس سے ہم اپنے مقاصد کا حصول ٹھیک اور بروقت کرسکتے ہیں‘‘(1)۔
تاریخیت اور آزادی کبھی جمع نہیں ہوسکتے، تاریخ سے اُنس ایک الگ قضیہ ہے اور بجا طور پر اہم بھی ہے لیکن تاریخ میں لوٹ جانے کی خواہش خدا کے قانونِ فطرت کے متصادم بھی ہے اور ہماری عقلوں و صلاحیتوں کو زنجیریں ڈالنے کا سبب بھی۔اس لیے پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو مستقل بالذات بنانا اور تسلیم کرنا ہوگا۔یہی آزادی کی حقیقی تعریف ہے۔
شناخت عقیدہ نہیں ہوتی
کالونیل عہدکے اختتام اورآزادی کے حصول کے بعد ملک میں ریاست کے بالادست طبقے کوکڑا امتحان درپیش تھاکہ وہ عوام کے مزاج کی تشکیل کس طور کرتے ہیں۔ان کے سامنے دو راستے تھے۔ایک آسان اور دوسرا مشکل۔
آسان راستہ یہ تھا کہ آزادی کی تحریکوں کے دوران تشکیل پانے والی ذہنیت پر نظرثانی نہ کی جائے (تحریکی مرحلے اورنارمل حالات،دونوں کی ضرورتیں و تقاضے الگ اور مختلف ہوتے ہیں) اس لیے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ استعماری جبر کو مسترد کرنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ جدیدیت کوبھی جگہ نہ دی جائے۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ تنوع کی مخالفت کا دائرہ صرف مغربی جدیدیت تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ریاست کے اندر بھی تقسیم کی لکیریں کھنچنے لگی،کیونکہ تفریق کی ذہنیت ایک جگہ ٹھہرتی نہیں ہے بلکہ آگے سفر کرتی ہے۔اب ملک کے اندر لسانی ، نسلی اور مسلکی امتیازات میں تعصب کی وہی شدت محسوس کی جاسکتی ہے جو تحریکی ذہنیت کی مغربی استعمار اور اس کی ثقافت کے خلاف تھی۔کیونکہ شناختیں بڑی ہوں یاچھوٹی ان کی حساسیت اور حیثیت کا درجہ اور ماحصل ایک جیسا ہی ہوتا ہے،ان کے اثرات میں فرق نہیں ہوتا۔
اس کے برخلاف دوسرا راستہ مشکل تھا،لیکن وہ تعمیری اور فلاحی تھا۔اگر استعمار اور جدیدیت کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھ کر عوام کے ذہن میں تہذیبی تنوع کے لیے نرمی کے جذبات پیداکیے جاتے توشناخت عقیدے کی بجائے ایک لچکدار سماجی سیاسی نوعیت کا ایک قضیہ ہوتی۔اس راہ میں مشکل یہ تھی کہ تحریکی مرحلے سے نکلی ہوئی، جمہوری اقدار سے نومتعارف اور ہر قضیے کو فقہ (حلال یاحرام،جائزیاناجائز) کے تناظر میں دیکھنے والی قوم کے لیے تنوع کے تصور کو قبول کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا۔اسے قابل قبول بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑتی اور تنقید کوبھی برداشت کرناپڑتا۔اس لیے شناخت کی تشکیل کا بیڑہ اٹھانے والے حلقوں نے پہلے راستے پر چلنے میں ہی عافیت سمجھی۔اس سہولت پسندی نے ہمارے سماج میں ایک ایسے فرد کو تخلیق کرڈالا ہے جو ہم آہنگی اور حقیقی جمہوریت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیاہے۔یہ فرد شناخت کی نرگسیت کے مر ض کا شکار ہے۔اس مرض میں شناخت کا تعصبانہ امتیاز اول وآخر کی حیثیت اختیار کرلیتاہے۔ ایڈورڈسعید کے مطابق جب کوئی تہذیب،ثقافت اور سیاسی جماعت شناخت کی نرگسیت کے مرض میں مبتلا ہوجائے تویہ اس کی تباہی کا پیش خیمہ ہے،کیونکہ اس کاسفر رک جاتاہے(2)۔
جب کسی شناخت کی جذباتیت عقیدے کی حد کوپہنچ جائے اور اس کے حاملین سماج کے تاریخی پراسس اوراس کے تقاضوں سے بالکل نابلد ہوں تو وہ تباہی اورفساد کاذریعہ بن جاتی ہے۔ اور یہ صرف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تقدیسیت اور غیر شعوریت دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی شناخت سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔ یہ رویے فاشزم کی علامت ہوتے ہیں۔فاشسٹ تنوع اور غیر(other)کا بے رحم دشمن ہوتاہے۔امین معلوف کے الفاظ میں فاشسٹ اس طرح سوچتے ہیں،’’جولوگ ہماری جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں ان کی اور ہماری منزل ایک ہوتی ہے، ہم ان کے ساتھ کبھی بھی سختی کا برتاؤنہیں کرتے، اگر وہ جماعت میں رہتے ہوئے سستی اور بے دلی کا مظاہرہ کرنے لگیں تو ہم ان کو خائن خیال کرتے ہیں، ان کا محاسبہ کرتے ہیں۔جبکہ وہ لوگ جو ہماری جماعت کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ہمارے نظریے کے مخالف ہوتے ہیں توہم اپنی ذات کو ان کی جگہ رکھ کر کبھی نہیں سوچتے کہ شاید وہ اس قضیے میں حق بجانب ہوں اور ہم غلط ہوں اور نہ ہی ہمیں اس بات سے کوئی سروکار ہوتا ہے کہ ان پر ہونے والے ظلم اور تشدد سے ان پر کیا بیتتی ہے بلکہ اس میں کمی ہمارے لیے فائدہ مند نہیں۔ ہمارے لیے صرف ہماری جماعت کا نظریہ اہم ہوتا ہے(3)”۔
فاشسٹ تاریخی پراسس اور بدلتے حالات کی ضرورتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔اُس کا نظریہ اُس کا عقیدہ ہوتا ہے۔ ترکی الحمد نے اپنی کتاب الثقافۃ العربیہ فی عصر العولمہ(4) کے آخری باب میں اِس مسئلے کو بہترین انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ان کا مقدمہ یہی ہے کہ تاریخی پراسس شناخت پر اثرانداز ہوتا ہے۔انسان کا ماحول ، ضرورتیں،خواہشیں،انفرادی واجتماعی بدلتے حالات،متنوع تہذیبوں اور ثقافتوں میں قربت یا ان کا انضمام، سیاسی وجغرافیائی محرکات،اور ایسی دیگر بہت سی چیزیں جو فطری تاریخی پراسس کا حصہ ہوتی ہیںیہ سب مل کر شعوری یاغیرشعوری طورپرشناخت کے تعین میں کردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ شناختوں کے ممیزات ومفاہیم پر سماجی پراسس اثرانداز ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ نتیجہ نکالنا بھی آسان ہوجاتا ہے کہ اس تغیر کے بعد شناخت مقدس نہیں رہتی،کیونکہ اس میں انسانی سماجی تہذیبی عوامل کی اثرانگیزی موجود ہوتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ تاریخی عوامل کے زیراثر شناختی اصطلاحات بھی تبدیل ہوجائیں مگر اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ شناختی اصطلاحات کے طویل عرصہ تک بھی ایک ہونے کے باوجود ان کے ممیزات اور مفاہیم ایک جیسے نہیں رہتے۔اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ ایک شخص جب وہ چھوٹاہوتا ہے اور اس سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون ہے تووہ جواب دیتا ہے میں زید ہوں،پھر وہ جوان ہوتاہے تب بھی وہ یہی جواب دیتا ہے،اس کے بعد جب وہ بوڑھا ہوجاتا ہے اس وقت بھی اس کاجواب نہیں بدلتا۔مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ دوتین سال کابچہ جب ’’میں زیدہوں‘‘ کہتا ہے تو اس کے ساتھ جو ممیز اور مقصود ہوتا ہے وہ اس سے مختلف ہوتاہے جب وہ جوانی کے کسی مرحلے میں اپنا تعارف کراتاہے،اور ایسے ہی اس شناخت کے ممیزات بڑھاپے میں مزید الگ ہوجاتے ہیں۔ایک ہی تعارف میں تاریخی عوامل نظر انداز نہیں کیے جاسکتے۔ایک بچہ دوسرے بچے سے صرف نام کے اختلاف کو اپنی شناخت سمجھتا ہے،جوں جوں عمر بڑھتی ہے اسی تعارف میں احساسات وممیزات بھی بدلتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح تعارف کے ایک ہونے کے باوجود عمر کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل ایک جیسی نہیں رہتی،دوسال کا بچہ بھی زیدتھا،کڑیل جوان بھی ،جس کا حلیہ بالکل بدل چکاہے زیدہے،اور جھریوں والا چہرہ بھی وہی ہے۔یہ تاریخی عوامل کی اثرانگیزی ہے۔یعنی کہ شناخت کی اصطلاح اور لفظ کاظاہرتو چاہے ایک جیسارہے مگر اس کا جوہر،مقصود اور ممیزات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔
ترکی الحمد کہتے ہیں کہ جب ہم شناخت کی تشکیل کے تاریخی عوامل کی بات کرتے ہیں تو ان سے مراد ’عناصرومتغیرات‘ ہوتے ہیں،یہ وہ جوہر ہے جو زمان و مکان کی تبدیلی کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔یوں جب ہم شناخت کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد ایک ایسی ’ظاہری شکل‘ ہوتی ہے جو بظاہر ثابت اور جامد ہے مگرحقیقت میں وہ متغیر اور غیرثابت ہوتی ہے۔حتی کہ شناخت کے عناصر میں سب سے زیادہ ثابت اور جامد سمجھے جانے والاعنصر اسلامیت بھی غیرثابت اور متغیر ہی ہے۔اسلام شناخت کا وہ عنصر ہے جو بڑا اور اولین درجے کاحامل سمجھا جاتا ہے ۔ اگر یہ غیرثابت ہوسکتا ہے اور تاریخی عوامل اس کے ممیزات اور مفاہیم پر اثرانداز ہوسکتے ہیں تو پھر اس سے کم درجے کی اور چھوٹی شناختیں تو بدرجہ اولی اپنے جوہر میں تغیرپذیر ہونگی۔شناخت کے جوہر میں تبدیلی کی مزید توضیح کے لیے مصنف یہ مثال پیش کرتے ہیں کہ اگر چوتھی صدی ہجری کے کسی مسلمان سے اس کا مذہبی تعارف پوچھاجاتا اور وہ اس کے جواب میں کہتا کہ ’میں مسلم ہوں‘ تو اس جملے کا جوہر اور مقصود ہرگز وہ نہیں ہوتا تھاجو آج کا مسلمان یہی جملہ دہرا کر مراد لیتاہے۔ چوتھی ہجری میں ’میں مسلم ہوں‘ کا مطلب یہ تھا کہ وہ شخص اللہ،آخرت،ملائکہ،انبیا،اور آسمانی کتب پر ایمان رکھتاہے۔اس سے آگے کوئی اور مسلمات یا مستثنیات نہیں تھے۔مگر اس کے بالمقابل جب آج کا مسلمان یہی جملہ ادا کرتا ہے تو کیا اس جملے کی ادائیگی کے ساتھ ذہن میں آنے والے ممیزات بھی وہی ہوتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔عصرحاضر میں جب لوگ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو پہلے تو اس کے ممیزات وہ نہیں ہوتے جو چوتھی ہجری کے مسلمان کے دماغ میں وارد ہوتھے تھے اور اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ اب عصرحاضر میں ہر مسلمان کے ذہن میں آنے والا ممیز ایک بھی نہیں ہوتا۔ہر مسلمان کی جماعتی وابستگی اس کی مراد کو متعین کرتی ہے۔سیاسی اسلام سے وابستہ فرد کے ذہن میں فورا حاکمیت اعلیٰ،دارالاسلام ودارالحرب، خلافت،فقہی مسائل، اور مغربی تہذیب وغیرہ جیسے مسلمات و مستثنیات اور ان کی تفاصیل گھوم جاتی ہیں۔تصوف اور خانقاہ سے جڑا شخص کچھ اور محسوسات رکھتا ہوگا۔تبلیغی جماعت کا رکن مسلم ہونے کا ایک الگ مطلب جانتاہے۔اور نیچے آکر اگر فرقوں اور مسالک کی بات کریں تو مسلم ہونے کے ممیزات کا ایک اور جہان کھل جاتاہے۔
مسلم سماج میں ’اسلامیت‘ کے عنصر کے مفاہیم وممیزات میں اتنازیادہ اختلاف ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے مسلمات ومستثنیات، جو تاریخی عوامل کی اثرانگیزی کا نتیجہ ہیں مقدس اور عین اسلام نہیں ہیں۔
مذہب اور انسانی عنصر
شناخت کے حوالے سے مثبت اور صحت مند رویے اس وقت تک پنپ سکتے ہیں نہ ہی جدید سیاسی معاشرے کی بِنا اس وقت تک ڈالنا ممکن ہے جب تک ہم انسان اور مذہب کے درمیان تعلق کی نوعیت پر نظرثانی کرکے کچھ امور کو واضح نہ کرلیں اورمسلسل جدوجہدکے ذریعہ عملًا انہیں سماجی نفسیات کا حصہ نہ بنالیں۔
انسان اور مذہب کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ کیا انسان مذہب کی خدمت کے لیے تخلیق کیاگیا ہے یا مذہب انسان کے فائدے اور فلاح کے لیے نازل کیا گیا؟
یہ سوال بالکل ایسے ہے جیسے یہ کہا جائے کہ سماج میں قانون اور شہری کے درمیان کس طرح کا تعلق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس کا جواب یہ ہوگا کہ سماج اور شہری قانون سے زیادہ اہم ہوتے ہیں کیونکہ سماج اصل ہوتا ہے اور قوانین اس کی خدمت اور بھلائی کے لیے وضع کیے جاتے ہیں،البتہ اس جواب کی صحت پر آمادگی کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ سماج کا کوئی شہری قانون سے بالاتر بھی ہوسکتا ہے۔یعنی قانون بنائے تو اس لیے جاتے ہیں کہ وہ شہریوں کی بھلائی کا ذریعہ بنیں مگر اس کے بعد سماج سے ہر فرد کو قانون پر عمل کرنا فرض ہوتا ہے، ہر فرد اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ ان کی پاسداری کرے۔ گویاسماج اور شہری اصل ہوتے ہیں اور قوانین ان کے خدمت گار اور معاون۔ اس کی ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ جب سڑک پر ایک ایمبولینس ہارن بجاتی ہوئی آتی ہے تو اس کے لیے ٹریفک کے تمام اصول و قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ایمبولینس کو ٹریفک قوانین کا پابند بنانے کی کوشش کسی شہری کی جان لے سکتی ہے اوریہ عمل قوانین وضع کرنے کے مقاصد کی خلاف ورزی کہلائے گا۔معلوم ہوا انسان قانون سے اہم اور افضل ہوتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قوانین ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ بدلتے رہتے ہیں اور اس تبدیلی کا محرک انسان کی فلاح ہوتا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر قانون وضع کر دینے کے بعد ارادتاً اس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ معاشرے میں قانون کا غلط استعمال نہ ہوسکے، اس کے ذریعے کسی دوسرے کا استحصال نہ ہوسکے ورنہ سماج اورقانون کے درمیان طے شدہ تعلق کی حقیقت متاثر ہوگی جوکہ فساد کا پیش خیمہ ہے۔ اس تمہید سے تین باتیں واضح ہوئیں:
(1) شہری افضل اوراصل ہوتے ہیں اور قوانین ان کے خدمت گار و معاون۔
(2) اجتماعیت کی بہبود کی خاطر عملاً تمام شہری قانون کا احترام کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔
(3) کسی کے استحصال کے لیے قانون کا غلط استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اب ہم پہلے سوال کی طرف واپس آتے ہیں کہ انسان اورمذہب کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ اس کا جواب بھی وہی ہے جو دوسرے سوال کے ضمن میں دیا گیا ہے کہ سماج اور قانون کے مابین کس طرح کا رشتہ ہوتا ہے۔
مذہب بنیادی طور پرانسان کی خدمت و فلاح کے واسطے نازل کی گئی اُلوہی اخلاقی دستاویز ہے جس کا اولین مقصد دنیا کی کامیابی ہے اور اس کے بعد اخروی سعادت کا انعام۔ انسان اور مذہب کا تعلق بالکل ویسا ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سبت اورانسان کے مابین قائم فرمایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم سبت(ہفتہ کا دن جو عیسائیت میں صرف عبادت کے لیے خاص تھا) میں ایک مریض لایا گیا، آپ نے اس کا علاج کر دیا، حواریوں نے دیکھا تو معترض ہوئے کہ خدائی حکم تو یہ ہے کہ سبت صرف عبادت کے لیے مخصوص ہے، جواب میں آپ نے فرمایا: ’’سبت انسان کے لیے ہے نہ کہ انسان سبت کے لیے‘‘(5)۔حضرت عیسیٰؑ کے اس فرمان سے وسیلہ اور ہدف کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے۔ سماج میں سب سے پہلے اس تصور کو راسخ کرنے ضرورت ہے کہ مذاہب وسیلہ ہوتے ہیں نہ کہ اہداف اور مقاصد۔ ان کا اصل ہدف اور مقصود انسانیت ہے۔یہی تصور ہماری شناخت کے نظریے کو بھی درست مقام عطا کرتا ہے کہ ہماری اولین اور اہم شناخت انسان دوستی اور انسانیت ہے، اس کے بعد دین کا درجہ آتا ہے۔
انسانیت کو بطور شناخت ہائی لائٹ کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عصر حاضر کی مذہبی تعبیر میں اس عنصر کی اہمیت کم تر ہوتی جارہی ہے اور وسیلہ و ہدف کے درمیان فرق ختم کردیا گیا ہے۔حالانکہ قرآن و سنت میں مذہب وانسان کے اس خاص تعلق پر کئی طرح سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں خلفاے راشدینؓ کے عہد سے بھی کئی شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں جو زیادہ تر مشہور ہیں، لیکن انہیں اس پہلو سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی طر ف سے تمام ارکانِ اسلام(اور ان کے علاوہ) میں رخصت کے قاعدے کے جہاں دیگر کئی پہلو ہیں وہاں سب سے بڑا اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مذاہب وسیلہ،جبکہ انسان اور انسانیت مقصود کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر شرعی قوانین اہداف و مقاصد ہوتے تو ان کی تفصیلات کی ضرورت نہ رہتی بلکہ انہیں من وعن سب پر نافذ کر دیے جانے کا حکم ہوتا۔
انسانی عنصر کی اہمت کا ایک مظہر اختلاف کو جگہ دینا اور فردکی عقلی صلاحیتوں کا اعتراف اور ان کا استعمال بھی ہے۔ اس کی تائید بھی آنحضور کی زندگی کے متعدد واقعات سے ہوتی ہے،جب صحابہ کرامؓ نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا اور آزادی کے حق کا کھل کر استعمال کیا۔ خود قرآن کریم کی آیتِ شوریٰ بھی تو حقیقت میں عقلانیت اور اختلاف کی صلاحیت کی توصیف کا نام ہے۔تاریخ اسلام کے ابتدائی مرحلہ کے بعد بھی اگر دیکھا جائے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی عنصر اور عقلانیت کوبہت اہمیت دی جاتی تھی۔ تیسری صدی ہجری میں خلیفہ مامون کے عہد میں بیت الحکمہ کی بنیاد رکھی گئی جہاں یونانی علوم و فلسفہ کا عربی زبان میں ترجمہ کیا جاتا تھا، عباسی عہد کی اس ترجمہ کی تحریک کو تاریخ کی سب سے بڑی ترجمہ کی تحریک کہا جاسکتا ہے، بلاشبہ یہ عہد مسلم ثقافت اور یونانی ثقافت کے درمیان تعارف اور مضبوط رشتے کا عہد تھا۔ اس تحریک کے حوالے سے دو چیزیں نظر انداز نہیں کی جاسکتیں، اول یہ کہ ترجمہ کی یہ صرف تحریک سرکاری دلچسپی کی عکاس نہیں تھی، بلکہ خلیفہ مامون نے مسلم سماجی ثقافتی رجحان اورآمادگی کی وجہ سے بیت الحکمہ کی بنیاد رکھنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یونانی و فارسی ادب کا عربی میں ترجمہ امویوں کے دور سے ہی شروع ہوچکا تھا اور عوام کی طرف سے اسے مکمل سراہا جارہا تھااس کامطلب یہ ہوا کہ یونانی آداب کے ساتھ مسلم ثقافت کامیل حکومتی فیصلے کے سبب نہیں ہوا تھا،بلکہ یہ عوامی رجحان اور دلچسپی کامرہون منت تھا۔ دوم یہ کہ یونانی میراث کے ساتھ تعلق صنعتی اور عملی تہذیبی امور سے زیادہ فلسفہ کے شعبے میں تھا اور فلسفہ کا سب سے بڑا موضوع ’’انسان‘‘ تھا۔ مسلمان اس حقیقت پر مکمل ایمان رکھتے تھے کہ ’’انسان‘‘ کے متعلق جو تصورات اسلام نے پیش کیے ہیں وہ برحق ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔ یہ ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انسان کے متعلق ایک اور نقطہ نظر اور مختلف تصور کو اپنی علمی سماجی مجالس میں جگہ دی، اس لیے کہ وہ اس الگ اور مختلف تصور کو دینی عقائد و ایمان کے مترادف سمجھ کر نہیں قبول کرتے تھے بلکہ اسے ایک ’’انسانی عقلی سعی کی جھلک‘‘ خیال کرکے اپنے ہاں جگہ دیتے تھے۔ ایک ایسی سعی جو تمام انسانوں کی مشترکہ وراثت ہوتی ہے۔لہٰذا عباسی عہد کی ترجمہ کی تحریک کو مشترکہ انسان دوستی کے مظہر کے عنوان سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس تحریک کے بعد سامنے آنے والے مسلم فلسفہ کو بھی اسی مظہر کا اعتراف کہا جاسکتا ہے۔
مسلم فلاسفہ کے ہاں جب ’’انسان‘‘ کے متعلق بات ہوتی ہے تو وہ صرف اسلامی مابعد الطبیعیاتی نظریات تک محدود نہیں ٹھہرتی بلکہ اس سے تجاوز کرتے ہوئے انسانی عقلیاتی دائروں تک چلی جاتی ہے۔ وہ معرفت کی کھوج میں بشریاتی فہم و دانش کی حیثیت کو کسی طور کم تر نہیں سمجھتے۔مثلاً فارابی معرفت کو جامد خیال نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ معرفت حلقوں کی شکل میں درجات رکھتی ہے۔ یہ خدائے تعالیٰ سے شروع ہوتی ہے اور انسان تک پہنچتی ہے۔ پھر انسانی معرفت کو بھی حلقوں میں پروتے ہیں،اس کی انواع بیان کرتے ہیں۔ اس سب بحث میں عقل پر زبردست اعتماد اور اس کی پذیرائی واضح نظرآتی ہے۔ یہ دراصل انسان اور انسانی عظمت کا آئینہ ہے، وہ انسانی عظمت جو خدائے تعالیٰ نے انسان کو اپنی نیابت کاتاج سجا کراسے عطا کی۔
عربی کے عظیم ادیب ابو حیان توحیدی جب کہتے ہیں’’لقدأشکل الانسان علی الانسان‘‘ انسان کی ذات انسان کے لیے ایک عقدہ بن کررہ گئی ہے تو یہ جملہ ابو حیان توحیدی کے اندر موجزن معرفت کے بلا خیز سمندر اور انسان کی لامحدودیت کوآشکار کررہا ہوتا ہے۔ ابو حیان کی بات ایک فرد کی بات نہیں ہے بلکہ یہ عکس ہے اس وقت کی اجتماعی فکر کا، جہاں یہ بات کہی گئی اورجہاں یہ بات سنی گئی۔ابوحیان انسان کے مقام کی یافت کے تحت لکھتے ہیں، ’’نفس ناطق کے اخلاق میں شامل ہے کہ پہلے وہ ’انسان‘ کی کھوج لگائے اس کے بعد کائنات میں غورکرے ۔ جب ’انسان‘ کو پہچان لیا گیا تو گویا عالمِ صغیر کودریافت کرلیا،اور جب کائنات کی کھوج لگا لی گئی تو گویا ’انسانِ کبیر‘ کوپالیا گیا۔اور جب یہ دونوں عالم جان لیے گئے تو وہ ذاتِ الٰہی بھی آشکار ہوجائے گی جس کے وجود سے سب کچھ وجود میں ہے‘‘(6)۔
اور جب ابن رشد یہ صدا لگاتے ہیں کہ:’’ہم مسلمان یہ پختہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ عقل شرعی نقطہ نظر کی مخالفت نہیں کرتی کیونکہ حق حق کا مخالف نہیں ہوتا بلکہ اس کے عین موافق ہوتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے‘‘ (7) تو وہ انسانی سوچ کی وسعتوں اور اس کی سچائیوں کے درست ہونے کا اعلان کررہے ہوتے ہیں۔
انسانی عظمت کا یہ اعتراف صرف فلاسفہ کے ہاں ہی نہیں ملتا بلکہ اس کے اظہار میں صوفیا ئے کرام کا حصہ بھی شامل ہے۔ انسانی روح کی کھوج، اس کے پوشیدہ میلانات کی جانچ، اس کے اندر کی قوتوں تک رسائی، کائنات کے خالق کے ساتھ اس کا مضبوط ربط بلکہ زمین پراس کے ارادوں کی تکمیل کا وسیلہ بننا،یہ تمام مباحث انسان کی عظمت کا پتہ دیتے ہیں۔
انسان کے مقام اور اس کے خداے تعالیٰ اور کائنات کے ساتھ تعلق کے بارے میں فرانسیسی مسلم مفکر عبدالنوربیدار نے زبردست بات کی ہے۔ انہوں نے انسان کے خلیفۃ اللہ علی الارض ہونے کی تشریح یہ کی ہے کہ اس لقب میں انسان کو مقدس اور عظیم تر ہونے کا منصب عطا کیا گیا ہے۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ یہ منصب حاصل کرنے کا سبب یا طریق کیا ہے؟اس پر وہ کہتے ہیں کہ اس کاجواب قرآنی لقب(خلیفۃ اللہ علی الارض) کے اندر موجود ہے، انسان کو اللہ کا خلیفہ کہا گیا ہے اور انسان کی نیابت میں اعزاز کا سبب وہی ہوگا جو اصل اور مصدر کے اندر موجود ہے، اور اللہ تعالیٰ کی سب سے اولین صفت اس کا خالق ہونا ہے، لہٰذا انسان کی عظمت بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ تخلیق کار ہو، تعمیری ہو اور تہذیب کو پروان چڑھانے والا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ انسان کے خلیفتہ اللہ علی الارض ہونے کا خطاب بلا تفریق ہر انسان کے لیے عام ہے، چاہے وہ مؤمن ہے یا نہیں۔۔۔‘‘اس تصور کی اجمالی وضاحت ہم اس طرح کرسکتے ہیں کہ ہم میں ہر فرد کو تسلسل کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں نئے افق کی تلاش کرتے رہنی چاہیے، یعنی ذاتِ انسانی کے ارتقاکے لیے جہد دائم، ترقی کی خاطر زیادہ سے زیادہ امکانات کی کھوج اورکائنات کے تحفظ اور اسے گھٹن سے پاک رکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اسے یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ فرد کو اپنی ذات کی تخلیقی صلاحیتوں اور دیگر انسانوں اور مخلوقات کی تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔ تہذیب کے ان ذرائع اور صلاحیتوں تک ہر اس فرد کو برابر رسائی دی جائے جو زندگی کے شعبوں میں اس کے ارتقاکے لیے کوشاں ہے، جیسا کہ تربیت، پیداوار، ہمدردی، ساتھ، مدد، ذمہ داریوں کی تقسیم، اچھی ہمسائیگی، تخلیق اور فن اور محبت۔ انسان کی اسی نوع کی تصویر ہمیں تصوف میں ابن عربی کے ہاں بھی ملتی ہے ،جب وہ شجرۃ الکون اور انسانِ کامل جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ ابن عربی کے ہاں انسانِ کامل اس کو نیاتی و عالمگیر شجر کی مانندہوتا ہے جس کی عطا اور پھیلاؤلامحدود ہوتا ہے۔ یہ ’’شجرۃالکون‘‘ زندگی کا استعارہ ہے جس کی ٹہنیوں پر ہر قسم کے پرندے اترتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں، ہم بھی جب یہ کہتے ہیں کہ ہمیں شجرہ حیات کی طرح ہونا چاہیے تو ہمارا مقصود بھی یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ایک ایسی ذات بننے کی سعی کرنی چاہیے جو تخلیق کار اور سودمند ہو، بالکل رحم مادر کی طرح(8)۔
اسی آرٹیکل میں انہوں نے انسان کے متعلق قرآن میں وارد ہونے والے ایک ظاہری تضاد کوبھی حل کیا ہے۔قرآن میں انسان کو کئی مقامات پر عاجز اور حقیر کہا گیا ہے جبکہ سورۃ البقرہ میں اس کو خلیفۃ اللہ علی الارض جیسے عظیم ترین خطاب سے بھی نوازا گیا ہے۔ اس کا جواب عبدالنوریہ دیتے ہیں کہ ان درجات اور کیفیتوں کا تعلق دراصل علم الحیوان الا نسانی(Anthropology)سے ہے کہ اسے عاجز سے تخلیق کار بننے کی دعوت دی گئی ہے۔تاریخ میں انسان کا تہذیبی ارتقائی سفر حقیقت میں انسان کامل (خلیفۃ اللہ) بننے کی جدوجہد کی تمثیل ہے، جوں جوں انسان اس سفر میں آگے بڑھتا چلا جائے گا وہ عجز اورکمتری سے نکل کر اپنے مطلوب منصب کے قریب ہوتا چلا جائے گا(9)۔
مسلم فلسفہ میں انسان اور انسانی عظمت کے صریح شواہد کے وجود کے باوصف اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فلسفیانہ ادب کی روایت میں مذہبی تعلیمات و حقائق کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ مذہب کی حیثیت کو اپنے مقام میں اس کا مرتبہ عطا کرتے ہوئے انسانی عنصر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابن رشد نے وضاحت کی تھی کہ عقل ایک سچائی ہے اور شریعت بھی اور حق ،حق کا متضاد نہیں ہوتا بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں۔لہٰذا انسانیت،عقلانیت اور اس کی بنیاد پر ہونے والے اختلاف کو غیردینی کہنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔
مذہب اور آئیڈیالوجی
آئیڈیالوجی کے دو سِرے ہوتے ہیں،ایک حقیقی ہوتا ہے اور دوسرا خیالی و توہماتی۔ حقیقی رُخ وہ ہوتا ہے جسے ہم بحران، ضرورت اور موجود ابتری جیسے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہ سماج کی وہ کیفیت ہوتی ہے جس سے وہ گزررہا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہوتی ہے جو عموماً خوشگوار نہیں ہوتی۔جبکہ دوسرا سِرا خیالی اور غیر واقعاتی ہوتا ہے، جسے ہم خواہش، امید، آرزو اور دلکشی جیسے الفاظ کا نام دے سکتے ہیں۔آئیڈیالوجی سماج کو پہلے سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے کے لیے بھاگتے رہنے پر اکساتی ہے، مگر چونکہ دونوں سروں کا آپس میں تعلق یقین اور بھر پور امکان پر مبنی نہیں ہوتا اس لیے سماج کو مصروفیت تو ملتی رہتی ہے مگر نتائج کاحصول حتمی نہیں ہوتا۔
آئیڈیالوجی دونوں سروں کو ربط عطا کرنے کے لیے تاریخی تفسیر کا سہارا لیتی ہے۔ یہ من مانی تفسیر ہوتی ہے اور غیر حتمی بھی۔ مگر اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ سماج کو کسی طور قائل کرسکے۔
اس کا مقصدِاول سماج میں تحریک پیدا کرنا ہوتا ہے،حقیقت تک رسائی اس کا مطمح نظر نہیں ہوتا۔اس میں جو حقیقت نظر آرہی ہوتی ہے وہ تلاش کی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ تشکیل دی ہوئی ہوتی ہے۔
آئیڈیالوجی سماج کے بحرانی مرحلے میں جنم لیتی ہے اور بحران کو ہی پسند کرتی ہے۔اسی لیے آئیڈیالوجیکل جماعتیں استقرار کے مرحلہ میں بھی ماضی،بحران اور انقلاب کی باتیں کرتی ہیں اور سماج کی تعمیری صلاحیتوں کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
آئیڈیالوجی مذہبی ہو یا غیر مذہبی، اپنی ماہیت اور تشکیل کے منہج میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ مقدس کو غیر مقدس بنا سکتی ہے اور غیرمقدس کو مقدس ترین بھی۔ یہ زندہ رہنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے اور جان لینے کی وجہ بھی مہیا کرتی ہے۔ یہ کبھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتی۔ اس کی نسوں میں تعصب ہوتا ہے اور یہ اپنی بقا کے لیے سماج کو بے دریغ ایندھن بنا سکتی ہے اور یہ ایندھن عموماً غریب اور جاہل ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صدیوں کی تھکن کے بعد بھی ’’انقلاب‘‘ کے لفظ سے بیزار نہیں ہوئے۔
آئیڈیالوجی کی ان تمام خصوصیات اور سیاسی اسلام کی تعبیر وتحریک کے مابین ربط آسانی سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔سیاسی اسلام نے مذہب سے اُس کی رُوح سلب کرلی اور لوگوں کو اس چیزپر آمادہ کیا کہ وہ اسے ایک اخلاقی پیغام سمجھنے کی بجائے ایک انقلابی دستاویز خیال کریں۔خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد دین کی اس جدید تعبیر نے مسلم سماج کو مصروفیت تو فراہم کی لیکن اس کے مسائل کا حل نہیں دے پائی اور یہ سفر ابھی تک جاری ہے۔ایک صدی کی مسلسل کوشش کے بعد اب عام آدمی بھی یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ مذہب آئیڈیالوجی نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کی دستاویز اور ثقافت تھا۔ ثقافت اپنی ماہیت میں روادار اور وسیع الظرف ہوتی ہے، مگر جب یہ آئیدیالوجی میں تبدیل ہوتو پھرتصادم اور جبر جنم لیتے ہیں۔دین اسلام کی ثقافت سے آئیڈیالوجی میں تبدیلی کا عمل اس وقت شروع ہوا جب اسے مغرب سے آئی ہوئی جدیدیت کا سامنا ہوا۔
ایرانی مفکر علی شریعتی سے سوال کیا گیا کہ آپ کی جدوجہد کا حاصل کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا،’’ ہم نے اسلام کو ثقافت سے آئیڈیالوجی میں تبدیل کردیا‘‘(10) گویا اس سے پہلے اسلام کی جو شکل موجود تھی وہ اس سے الگ تھی جو بیسویں صدی کے نصف کے بعد وجود میں آئی اور جس کے لیے اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی کے رہنما بھی کوشاں رہے۔ پہلے اسلام کا تعارف ثقافتی، روحانی اور اخلاقی اقدار اور نقطہ ہاے نظر سے کیا جاتا تھا اور سماج مذہب کو اس زاویے سے دیکھنے اور اسے پریکٹس کرنے کا عادی تھا مگر بیسویں صدی چونکہ آئیڈیالوجیز کی گہما گہمی کی صدی تھی اس فضا سے متاثر ہوکر کچھ مسلم مفکرین نے مذہب اسلام کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا شروع کیا اور اسے انقلابی سیاسی تحریک کی شکل عطا کرکے اس کے جوہر میں تبدیلی واقع کردی۔ آئیڈیالوجی نے جہاں لوگوں کے اندر تحریک پیدا کی وہیں اس کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ اس نے دین سے اس کا تقدس سلب کرلیا۔ اس کے بعددین ایک مابعد الطبیعاتی روحانی پیغا م نہیں رہابلکہ دوسرے نظاموں اور فلسفوں کی طرح ایک سماجی نوعیت کا اور اسی مرتبے کا ایک مسئلہ بن گیا۔ لوگ اس پر تنقید کرنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔ دراصل وہ اس پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ عبدالجبار رفاعی لکھتے ہیں: دین کو آئیڈیالوجائز کرنے کا عمل اسے ایک دنیاوی و سماجی حیثیت کی شے بنا دیتا ہے، دین کے شعائرو اعمال میں جو رمزیت اور روحانیت ہوتی ہے، وہ ختم ہوکر رہ جاتی ہے اور نیتجہ یہ نکلتا ہے کہ دین معنویت سے خالی ہوجاتا ہے۔ دینی مفاہیم اپنی ذات میں ایک خاص طرح کا مقصود، طاقت اور ہدف رکھتے ہیں، جب یہ اپنی حدود سے باہر نکلتے ہیں تو اپنی صلاحیتیں اور امکانات کھو دیتے ہیں(11)۔
عرب سامراجیت
اسلام کا شناختوں کے حوالے سے رواداری اور وسعت ظرفی کا معاملہ غیرمحدود ہے۔اسلام کی تعلیمات سے یہی سمجھ میں آتاہے۔مگر مسلم تاریخ میں نظر آتا ہے کہ ایک فکر اپنے عملی پیراہن کے ساتھ خاموشی سے پھلتی پھولتی رہی اور جو ابھی تک پوری قوت کے ساتھ وجود رکھتی ہے۔وہ یہ کہ عربی زبان وثقافت اور عربی بالادستی کے تصور کو دین اسلام کے ساتھ جوڑدیاگیا۔یہ تصور عجمی مسلم سماج پر اس طرح سے نافذ کردیاگیا کہ یہ برتری ایک استحصالی سامراجیت کی صورت اختیار کرگئی۔عربی ہونا ہر حوالے سے افضلیت کا مترادف بن گیا اور عجمیت کمتری کی علامت ٹھہر گئی۔کوئی زبانِ قال سے اس حقیقت کا انکار کرکے یہ کہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں تو یہ الگ بات ہے وگرنہ زبانِ حال تو اسے جھٹلانے سے قاصر ہے۔اس تصور کی مضبوطی اور تقدیسیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دینِ اسلام کو دینِ عربی کہاجاتاہے ،حالانکہ وحی کے جزیرہ عرب میں نازل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ دین عربی ہے اور یہ کہ مسلمانوں پر عربی زبان اور رسوم ورواج سے تقدس وبرتری کا ربط رکھنا ضروری ہے۔
جولوگ عربی صحافت،ادب اور دینی لٹریچر سے ربط رکھتے ہیں وہ یہ بات محسوس کرسکتے ہیں کہ جب مسلمان اور ان کے مسائل کا ذکر کیاجاتاہے تو عام طور پر امت مسلمہ کی بجائے عرب اور امت عربیہ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔گویا عجمی مسلمان ان کے نزدیک کوئی اہمیت وحیثیت نہیں رکھتے۔ان کے خیال میں اسلام کو اوج وعظمت بھی اسی وقت نصیب ہوگی جب امت عربیہ کو اوج وعظمت ملے گی۔یہ فکر عرب عوام سے لے کر علماتک سب کے اذہان میں راسخ ہے۔
عربیت وعجمیت کے مابین آقا اور غلام والے تعلق کی حوصلہ شکنی عربوں کے کسی طبقے میں نظر نہیں آتی۔ان کے علمابھی اس غیرمجاز تعلق کی عملًا ستائش کرتے ہیں اور کسی نے دونوں کے تعلق کو برابری کا تعلق کہنے کی زحمت نہیں کی۔عربوں کے عجمی مسلمان پر برتری کا احساس اتنا گہرا ہے کہ ان کے لبرل اہل علم بھی نفسیاتی طور پر اس احساس برتری کاشدید شکارہیں۔ہماری معلومات کے مطابق سوائے ایک آدھ صاحب علم کے کسی نے اس پر آج تک بات کرنا ضروری نہیں سمجھا۔مثلا فہمی جدعان نے چند جملے اس تصور کی مذمت میں لکھے،وہ کہتے ہیں:میرا خیال ہے کہ اس تصور کی مذمت کرنا اسلام کو اس فولادی خول سے نکالنے کے لیے ازحدضروری ہے جس میں اسے ماضی میں رکھا گیا۔اب یہ جدید عہد میں اس طرح داخل ہوچکاہے کہ اس کاوصف رواداری،ہم آہنگی،رحم دلی،انسانیت اور وسعت ظرفی ہے۔میری اس رائے کا مقصد عربوں کی تقصیر کرنا نہیں ہے(میں خودعرب ہوں) اور نہ ہی یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ ان کا کردار تاریخ سے ختم ہوگیا۔بلکہ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ چیزوں کو ان کا حقیقی اور مجاز درجہ دیاجائے۔جس طرح اسلام اہل تشیع یا اہل سنت کا نہیں ہے اسی طرح یہ صرف عربوں کا دین اور مذہب بھی نہیں ہے۔ضروری ہے کہ عربی ثقافتی سامراجیت اور عربی اسلام جیسی اصطلاحات کے منفی تأثرات کوزائل کیا جائے ۔ عربی زبان فہم کا ایک ذریعہ ہے لیکن مفہوم پر عربیت کی اجارہ داری نہیں(12)۔
فہمی جدعان مزید کہتے ہیں: قرآن کی تمام تر فضیلت اور اعجاز کو صرف عربی لغت سے منسلک کرنے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ برآمدہوا کہ اسلام کو عربیت کے ساتھ جوڑ دیاگیا اور یہ یہودیت کی طرح قومی دین بن کررہ گیا۔جبکہ قران کریم صراحت کے ساتھ اس نسبت کا انکار کرتا ہے ،اس اعتراف کے ساتھ کہ اس کا نزول لسان عربی مبین میں ہوا133.اسلام قبول کرنے کا مطلب اگر یہ لیاجاتا ہے کہ اس کے بعد عجمی مسلمان عربی قیادت کے آگے جھکیں یا اس دین کوعربی دین کہیں تو قطعاً غلط ہے(13)۔
پاکستان میں دین کے نام پر عربی سامراجیت کا اثرورسوخ انتہائی زیادہ ہے۔ہمارے عوام نہ صرف اسے قبول کرتے ہیں بلکہ اس کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔روایت پرست طبقہ مقامی عجمی شناخت کوتو اسلام کی روح کے خلاف سمجھتا ہے لیکن عربیت کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہوئے مشکلات میں ان کا دفاع کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس تصور کی حوصلہ شکنی کی جائے اور یہ بات اجاگر کی جائے کہ:
۔ دین وعربیت کے درمیان لازم وملزوم کا رشتہ نہیں ہے۔
۔ مذہب کافہم ایک زبان سے وابستہ ضرور ہے لیکن اس کے مفہوم پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور نہ ہی اسے استحصال کا ذریعہ بنایا جاسکتاہے۔
۔ ہماری مقامی عجمی قومی شناختیں محترم ہیں۔
۔ ہماری مقامی تاریخی تہذیبی روایات بھی توجہ کی مستحق ہیں۔
۔ جدید تہذیبی مظاہر خلاف دین نہیں ہیں۔
۔ ہم بطور قوم مستقل بالذات اپنا وجود رکھتے ہیں(نہ کہ کسی اور قوم کا پرتو)۔ہمارے مفادات اسی طرح اہم ہیں جیسے کسی بھی آزاد اور خودمختار قوم کے ہوتے ہیں۔
سول سوسائٹی اور ریاست
سماج کی تعمیر اور ترقی کے لیے فعال شہریت(active citizenship)کا وجود ناگزیرہوتاہے۔ملک کے ہرفرد کو حقوق وواجبات کا احساس ہونا اور اس کے لیے کردار اداکرنا ازحدضروری ہے۔فعال شہریت کا تصور ایک انتہائی بنیادی اور ابتدائی قسم کا تصور ہے جس پر ترقی یافتہ ممالک میں سماجی نظم کی بنا رکھی جاتی ہے۔
فعال شہریت کی تین اساسی خصوصیات ہیں:
(1) ریاست سے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے اجتماعی شعوری کوشش کرنا۔ایسی کوشش، جس میں لیڈر کی پرستش ہو نہ اس کے نام کانعرہ،اور جو سرتاپا مثبت وعلمی اصولوں پر کاربند ہو۔
(2) ذاتی طور پر معاشرے کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا حصہ ڈالنا۔جیسے رفاہی کام انجام دینا، جس میں تعلیم، صحت اور صفائی سرفہرست ہوں۔
(3) جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے کوشش کرنا۔
فعال شہریت خودبخود ظہور نہیں کرتی بلکہ ریاست سے اس کے حصول کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ریاست اپنی ماہیت اور اصل میں سخت گیر، مطلق العنان اور آزادی کی مخالف ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے بالمقابل حقیقی فعال سول سوسائٹی آزاد اور بااختیار ہوتی ہے۔ ملک میں تعلیم کے فروغ اور قانون کی بالا دستی کے ذریعے دونوں کے درمیان ہم آہنگی، مطابقت اور توازن کو پیدا کیا جاتا ہے تاکہ ریاست مقدس بن کر آزادی کو کچل سکے نہ ہی مطلق العنان بن سکے ،اور اسی طرح سول سوسائٹی بھی لا قانونیت کی تمثیل بن کر نہ ابھر سکے۔
سترہویں صدی کے بعد سے عصرِ حاضر تک سول سوسائٹی اور ریاست کے درمیان تعلق تین مراحل سے گزرا ہے:
1۔ مکیاولی سے انقلابِ فرانس تک پہلا مرحلہ ہے، جب چرچ کوسماجی امور سے بے دخل کرنے کے لیے معاشرے کو جدید سیاسی اقدار سے جوڑا گیا۔یہ سماج کی آزادی کا پہلاقدم تھا۔
2۔ دوسرے مرحلے میں انقلابِ فرانس کے بعد سول سوسائٹی کوریاست سے الگ اور اس پر مقدم قرار دیا گیا۔
3۔ جبکہ بیسویں صدی میں دونوں کے مابین مطابقت اور توازن پیدا کرنے کی سعی شروع ہوئی اور اس کا مقصد اور نعرہ’’صرف انسانیت کی بھلائی‘‘ تھا(14)۔
ایک طویل جدوجہد کے بعد انسان اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جمہوری اور فلاحی ملک وہ کہلاتا ہے جہاں ریاست اپنی حدود سے تجاوز کرے نہ ہی سول سوسائٹی اپنی حدودومتعین کردار سے آگے قدم بڑھائے۔انارکی اور آمریت دونوں غیر جمہوری و غیر فلاحی رویے ہیں جن کی عملاً حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔
ہمارے ملک اور بالعموم ساری مسلم دنیا میں ریاست ایک مقدس دیو کی طرح مخصوص گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں تخت پر براجمان ہے اورفعال سول سوسائٹی کلیتاً معدوم ہے۔عوام کو اپنی ذات کے وجود اور اس کے حقوق و ذمہ داریوں کا احساس بھی نہیں ہے۔لیڈر ہیں اور نظریات اہم تر ہیں، اور وہ اس لیے اہم تر ہیں کیونکہ تاثر یہ دیا گیا ہے کہ اگر یہ نہ ہوئے تو ملک جو بڑی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے، اس کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ ریاستی ادارے عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں، اگر ریاست اپنا وجود رکھتی ہے مگر وہ عام آدمی کے کندھوں پر اپنا بھاری بھر کم بوجھ لادے ہوئے ہے ،تو یہ انعام نہیں عذاب ہے۔عام آدمی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اگرملک کے وجود کے لیے اتنا حساس ہے تو وہ اس کے توانا وجود کی فکر کرے۔ اپنی حیثیت کو پہچانے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔’’ریاستی مفاد کی سیاست‘‘ کے پیچھے پوشیدہ غیر جمہوری اور تباہ کن رویوں کو مسترد کرے اور’’صرف انسانیت کی سیاست‘‘ کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہو اور عملاً میدان میں اترے۔
اگر دیکھا جائے تو ریاستی استبداد تقریباً تمام مسلم ممالک میں موجود ہے اور اس کے خلاف کہیں شعوری مزاحمت بھی نہیں پائی جاتی۔اس کی وجہ وہ نفسیات ہے جوتیس سالہ عہدِخلافت کے بعد سے ملوکیت نے پروان چڑھائی۔یہ نفسیات اتنی پختہ ہے کہ فعال سول سوسائٹی کی تشکیل کی بات کرنا اور ریاست کے جبر کی مخالفت کرنا غداری تصور کی جاتی ہے۔ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان ہم آہنگی اور قرب مفقودہے۔دونوں کے مابین وہی تعلق ہے جو ایک مشرقی باپ اور اس کی اولاد کے درمیان ہوتاہے(15)۔مسلم دنیا کی سیاسی فقہ اور سلطانی ادب میں ریاست کی جو تصویرکشی کی گئی ،وہ بالکل وہی ہے جیسی ایک مستبداور مطلق العنان والد کی ہوتی ہے کہ ان دونوں میں بھی ہم آہنگی اور قربت نقصان دہ اور خلاف ادب سمجھی جاتی ہے۔بے ادبی کا یہ عُقدہ بے اعتمادی کو جنم دیتاہے جس کا نتیجہ آخرکار بغاوت کی صورت میں نکلتاہے۔پھرہمارے ہاں بغاوت کے بعدریاست کا ردِعمل بھی وہی ہوتاہے جو مستبدباپ کا ہوتا ہے کہ میں نے تمہیں پالاتھا اور میں تمہارا محسن تھا۔ فرعون بھی حضرت موسیٰؑ کے حق بات کہنے پر اسی طرح معترض ہواتھا کہ میں نے تمہیں پالا اور میں تمہارا محسن ہوں، تم میرے خلاف کھڑے نہیں ہوسکتے۔اس رویے کی وجہ سے ریاست اور شہریت کے مابین تعلق کا توازن باقی نہیں رہتا۔ریاست اصل اور بالادست بن جاتی ہے جبکہ شہری اس کے مفادات پورا کرنے کا محض ایک آلہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
لہٰذا جمہوریت،آزادی اور فلاح وتعمیر کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ریاست کا مزاج بدلنے اور فعال شہریت کے تصور کو عملًا مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے والدین،اہلِ دانش،اساتذہ اور نصابِ تعلیم کواپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہونگی۔
مصادو مأخذ:
(1) المسئلۃ الثقافیہ، عابد الجابری، ص9، مرکز دراسات الوحدۃ العربیہ
(2) القلم والسیف،ترجمہ توفیق الاسدی،دارکنعان،ص62.
(3) الھویات القاتلہ، امین معلوف، ص31، دارالفارابی بیروت
(4) دارالساقی۔طباعت سوم
(5) انجیل مرقس27:2
(6) ابو حیان التوحیدی، الامتاع و المؤانسۃ، ص134
(7) فصل المقال فیما بین الشریعۃ والحکمۃ من الاتصال
(8) کیف نضفی القداسۃ علی حیاتنا، عبدالنور بیدار،ترجمہ نورالدین ثنیو،کتاب: تمہیدلدراسۃ فلسفہ الدین، عبدالجبار رفاعی، مرکز دراسات الوحدہ،ص455
(9) تمہید لدراسۃ فلسفہ الدین، ص453
(10) جریان ھا و سازمان ھای مذہبی۔ سیاسی ایران۔ رسول جعفریان، ص81۔75، طبع6قم
(11) انقاذالنزعۃالانسانیۃ فی الدین، عبدالجبار الرفاعی، ص102، مرکزدراسات الوحدہ العربیہ2013
(12) تحریرالاسلام،فہمی جدعان،ص 84، الشبکۃ العربیۃ للابحاث والنشر بیروت، 2014ء
(13) ص64
(14) لیکچر: قضایافی العلوم الاجتماعیہ وا لانسانیہ، عبدالعزیر لبیب، معہد الدوحۃ قطر، ستمبر2016
(15) خلافت کے احیا کی صورت میں بھی ہمیں دراصل اس برترمشرقی والد کے دست شفقت کی تلاشی ہے جو گرم سرد موسموں میں اپنے بچوں کو آسرا دیتا ہے اور انہیں ہر گرداب سے باہر نکالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قانون سے زیادہ قائد کو ترجیح دیتے ہیں، مصلح سے زیادہ انقلابی کی عزت کرتے ہیں۔جب خلافت عثمانیہ کے سقوط کی بات کی جاتی ہے تو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ اس کا نظام، قانون اور عدل اجتماعی کے لیے اس کی کیا کوششیں تھیں بلکہ اس پر کلام کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک والد اور سربراہ کی طرح گھر کو ٹکڑے ہونے سے بچا رکھا تھا اور مغرب کی یلغار کے آگے بند باندھ رکھا تھا۔ اس کو مشرقی روایت کے جوائنٹ فیملی سسٹم کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک گھر میں کسی بھائی کے علیحدہ ہونے کو سخت معیوب اور بے برکتی کا باعث سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ اگر الگ ہوجانے کے بعد کسی کو مشکلات پیش آجائیں تو سب سے پہلے یہی کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ صرف فیملی سے الگ ہوجانا ہے۔لہٰذا جب ہم خلافت کا ذکر باربار اس لیے کرتے ہیں اور اس کے احیا کے لیے صرف اس لیے کوشاں ہیں کہ اس نے ہمیں دشمن کی یلغار سے پناہ دے رکھی تھی تو اس مرحلے میں دراصل ہم عصر حاضر کے واقعاتی مشکلات اور مسائل کی بابت سنجیدہ ہیں نہ ہی ان کی خاطر کسی منصوبہ بندی پر آمادہ ہیں۔ معلوم ہوا کہ خلافت کے حوالے سے ہمارا رویہ اور سلوک خالصتاً مشرقی نفسیاتی معاملہ ہے، ہمیں صرف برتر پدرانہ دست شفقت کی خواہش ہے جو عدم تحفظ کے احساس سے چھٹکارا دلا سکے۔ خلافت کے احیاکا فائدہ اگر اس بات میں منحصر ہے کہ وہ ہمیں عدمِ تحفظ کے احساس سے چھٹکارا دے دے گا تو یہ منزل ہماری مشرقی نفسیاتی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر مذہبی یا انسانی سماجی ضرورت نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...