قومیت ایک مذہب

251

کارلٹن جے ایچ ہیز ((Carlton J H Hayes, 1882-1964 ایک امریکی مورخ تھے۔ وہ قومیت کے حامی تھے مگر پھر ان کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں ان کے سامنے تھیں۔ انہوں نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ انہوں نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ زیرِ نظر مضمون کارلٹن ہیز کے مضمونNationalism as a Religion کے تصورات اور بیانات کا ایک خلاصہ ہے جسے ڈاکٹر عرفان شہزادنے اپنے الفاظ، ترتیب اور کچھ معمولی اضافہ جات کے ساتھ قارئینِ تجزیات کے لیے لکھا ہے۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی میں شعبہ علومِ اسلامیہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سرانجام دے رہے ہیں،اور’تجزیات آن لائن ‘ کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ان کے مضامین مختلف قومی جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس مضمون کو کارلٹن ہیز کے مضمون کی شرح کہا جا سکتا ہے جس میں ڈاکٹر عرفان شہزاد کے اپنے تاثرات بھی شامل ہیں۔
اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق اور عصبیت کا احساس قدیم اور فطری احساس ہے۔ لیکن یہ تصور کہ حقِ حکمرانی قوم کو حاصل ہونا چاہیے ایک مقدس تصور ہے، جس کی خاطر جان سمیت کوئی بھی قربانی دی اور لی جا سکتی ہے۔یہ قومیت اور قومی ریاست کا عقیدہ ہے جس پر ایمان لانا ہروفادار شہری کے لیے لازم ہے اور مغرب سے آنے والا قومیت کا سیاسی تصور ہے۔
انسان مذہب چھوڑ سکتا ہے لیکن مذہبی رویہ اس کو نہیں چھوڑتا۔ یہ مذہبی رویہ اعتقادات اور مقدسات پر قائم ہوتا ہے جن کے لیے آدمی اپنی جان اور مال قربان کر سکے۔ مذہبی اعتقادات نہ ملیں توا نسانوں کے وضع کردہ نظریات اور فلسفوں کے ساتھ یہ رویہ اور جذباتیت وابستہ ہوجاتے ہیں۔ مسیحیت نے یورپ میں آ کر قدیم مذہب تو بدلا لیکن قدیم مذہبی تصورات، اعتقادات اور ان سے متعلق مقدس رسوم و رواج کو اس نے اپنے اندر سمو لیا۔ اگلے مرحلے میں کیتھولزم پر پروٹسٹین ازم کے ذریعے سے اعتراضات اور اصلاحات کا دروازہ کھلا، لیکن فرد کا مذہبی رویہ تبدیل نہ ہوا، جو اب پروٹسٹینزم میں منتقل ہو چکاہے اور وہی جذباتی وابستگیوں کے مظاہریہاں بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
اٹھارہویں صدی کے یورپ میں تشکیک کا دروازہ کھلا۔ لوگوں نے مذہب کو چیلنج کر دیا۔وہ مسیحی عقائد کو عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر رد کرنے لگے۔مذہب کے ساتھ وابستہ اعتقادات اور عقیدتیں ماند پڑنے لگیں، لیکن فرد ان کی جذباتیت اور رویے سے چھٹکارا نہ پاسکا، متبادل کے طور پر وہ فطرت، سائنس، عقل اور انسانیت سے متعلق انسانی فلسفوں کا پجاری اور فدائی بن گیا۔ مذہب کا تو رنگ ہلکا ہو رہا تھا مگر مذہبی رویوں کی چھاپ اب بھی گہری تھی جس نے اپنی تسکین کے لیے اب انسان کے خودساختہ فلسفیانہ خداؤں کے ساتھ وابستگی پیدا کر لی تھی اوران کی تبلیغ اور دفاع میں بھی وہی جذباتیت پائی گئی جو مذہب کے لیے پائی جاتی تھی۔
یہی وہ دور تھا جب فرد کا یہ رویہ سیاسی ریاست کے ساتھ بھی وابستہ ہوگیا۔ مذہبی رویوں اور عقیدتوں کا مذہب سے منتقل ہو کر انسان کے وضع کردہ فلسفوں کے ساتھ وابستہ ہو جانے کا رجحان اس صدی کی خصوصیت ہے۔ اب انسان کے خود ساختہ خدا حسی اور نظر آنے والے ہیں، جن کی پوجا کرنے اور ان کی خاطر قربانیاں دینے کا نقد اور مادی فائدہ ملتا نظر آتا ہے۔
انقلابِ فرانس نے قومیت کو مذہب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایبے رینل (Abbe Raynal) نے کہا کہ ریاست مذہب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مذہب ریاست کے لیے ہے۔ (غور کیجیے تو یہ ڈاکٹرائین مولانا مودودی کے فلسفہ سیاست و حکومت کا ہے۔ ان کے نزدیک دین کا مطمح نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ گویا ان کے ہاں بھی دین ریاست کے قیام کے لیے ہے۔ انیسویں صدی میں قومیت کا جو صور پھونکا گیا مولانا مودودی کے ہاں وہ مذہب کے اسلوب میں پیش کیا گیا) فرانس میں کیتھولزم اور نیشلزم کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔سول کانسٹیٹیوشن آف کلرجی (1790) پاس ہوا جس کے مطابق وہی پادری گرجا میں اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکتا تھا جو ریاست کے آئین کو تسلیم کرے۔ اس کا انکار کرنے والوں پر جبر کیا گیا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیاگیا۔ قومیت کے نام پر جبر نے قومیت کو ایک مکمل مذہبی رُوپ دے دیا جہاں ایک فرد کو اس تصور کی بنا پر دوسرے انسان پر جبر اور اس کی جان لینے کا حق حاصل ہو گیا۔ 1791 میں فرانس کا آئین منظور ہوا، جس نے اسے نہیں مانا اسے آئین کا کافر قرار دیاگیا۔ آئین کے منظور ہونے کے بعد آئین کے صحیفے کو ہاتھ میں پکڑ کر سر اور سینے پر رکھ کر ایک جلوس نکلا جو آئین کی تقدیس میں سرجھکائے، ادب و احترام سے آہستہ آہستہ سے چل رہا تھا جب کہ راستے میں کھڑے دیگر افسران نے آئین کے احترام میں اپنے سروں سے ٹوپیاں اتار لیں۔
یہ مسیحی مذہبی رسوم تھیں جو اَب آئین کی تقدیس کے ساتھ وابستہ کر دی گئی تھیں۔ مذہب کے ساتھ وابستہ دیگر مذہبی مظاہر، جیسے بپتسمہ دینا یا اسلام میں کلمہ شہادت ادا کرنے کی طرح قومیت سے وفادار رہنے کاحلف لیا گیا۔ اسی بنا پر کسی بھی قومیت میں داخل کرنے سے پہلے وفاداری کا حلف لیا جاتاہے، پھر مذہب ہی کی طرح قومیت سے انحراف بھی ارتداد کی طرز پر غداری قرار دیا گیا، جس کی سزا، ارتداد کی سزا کی طرح موت مقرر کی گئی۔
بچے کے پیدا ہوتے ہی جیسے اس کے مذہب کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ اندراج کرایا جاتا ہے، اسی طرح اس کی قومیت کا فیصلہ بھی پیدائش کے ساتھ ہی کر دیا جاتا ہے اور اس کا بھی اندراج کرایا جاتا ہے۔ چرچ اور مسجد کی طرح قومی عمارتوں کی یادگاریں وجود میں لائی گئیں، مذہبی مظاہر کی طرح قومیت کے اظہار کے بھی شعائر مقرر کیے گئے،مثال کے طور پر قومی جھنڈا اور قومی دن اس کی علامات ہیں۔ قومی مظاہر کی تقدیس کے اظہار کے لیے مذہب کی طرز پر مخصوص آداب اور اوقات بھی وضع کیے گئے، مثلاً قومی ترانہ بجتے وقت یا جھنڈا بلند ہوتے وقت باادب کھڑا ہونا، سلیوٹ کرنا۔ مذہبی تہواروں کی طرح قومی دن منانے کی رسم ڈالی گئی۔ مذہب کی مقدس ہستیوں، رسولوں ،انبیا اور مذہبی بزرگوں کے ساتھ قومی ہیرو بھی فرد کی تقدیس میں حصہ دار بن گئے۔ خدا کی حمد کی جگہ قومی ترانے اور حج جیسی مرکزی مذہبی رسم کی طرز پر قومی اجتماعات مقرر کیے گئے۔ مذہبی شعائر کی بے حرمتی کے تصور کی بنیاد پر قومی شعائر کی بے حرمتی بھی کفر کی طرح کا سخت قابل سزا جرم قرار پایا۔ مذہبی خطبات کی جگہ قومی خطبات نے لے لی، جو سیاسی اور فوجی زعما دیتے اور مذہبی خطبا کی طرح ہی عقل و منطق سے ہٹ کر محض جذبات کی اپیل سے لوگوں کا خون گرماتے ہیں۔ یوں قومیت اپنے تمام تر اعتقادات اور رسوم کے ساتھ ایک مکمل مذہب بن گئی۔
پوری ریاست قومیت کے خدا کی عبادت گاہ ہے۔یہ ایسی مسجد ہے جس میں غیر قوم کے لوگ اس کی اجازت کے بنا داخل نہیں ہو سکتے۔ دوسری ریاست کے لوگ دوسرے قومی خدا کے پیروکار ہیں۔ یہ وہ غیر ہیں جن کو اپنے والے قومی خدا کے چرنوں میں قربان کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ قومیت کا مذہب نہ صرف عقیدت اور ایمان ،بلکہ عقل و خیالات کو بھی اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ عقلِ عیار اس کے لیے تاویلات گھڑتی ہے، ایسے ہی جیسے مذہبی متکلمین مذہب کا دفاع کرنے کے لیے عقلی دلائل تلاشتے اور تراشتے ہیں۔
قومیت کے خدا کے ساتھ لوگ ایک اُنس محسوس کرتے ہیں، سرشاری محسوس کرتے ہیں، اسے اپنا محافظ سمجھتے ہیں، اس کو داتا، رحم کرنے والا سمجھتے ہیں، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہمارے ہاں دھرتی ماں اور” ریاست ہو گی ماں کے جیسی” جیسے تصورات اسی ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ یہاں خدا کے تصور میں دیویوں کا تصور قدیم تاریخ سے موجود رہا ہے۔ قومی ریاست کی ابدیت کا تصور بھی اسی کا ایک خاصہ ہے۔
مذہبی کتاب کی جگہ آئین نے لے لی۔ تقدیس میں اس کا درجہ وہی ہے جو قرآن یا بائبل کا ہے۔ اس میں قومیت کی تعریف درج کر دی جاتی ہے اور اس کے معیار پر افراد کو ریاست کا کافر یا مؤمن تصور کیا جاتا ہے۔ آئین کی تفہیم میں باہم اختلاف بھی ہو جاتا ہے،ایسے ہی جیسے قران مجید یا بائبل کے متن کے فہم میں ہو جاتا ہے، لیکن اس کی تقدیس اٹل اور متفقہ سمجھی جاتی ہے۔قومت کی خاطر جان دینا اتنا ہی مقدس فرض باور کرایا جاتاہے جتنا مذہب کی خاطر ،اور مرنے والے کو شہید کا نام بھی مذہبی تعبیر سے لے کر دیا گیا ہے۔
قومیت کے بت کی تقدیس کو قائم رکھنے کے لیے قوم کی تاریخ کو بھی تقدس کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔ قومی کوتاہیوں کو منہا کر کے تاریخ ایسے انداز میں پڑھائی جاتی ہے کہ وہ معصوم ہستیو ں کی تاریخ کی طرح خطا سے پاک و مقدس تاریخ ہے ،جس پر ایمان لانا لازم ہوتا ہے اور اس پر سوال اٹھانا کفر کی طرح غداری سمجھا جاتا ہے۔ نیز، عوامی شہرت رکھنے والی غیر مستند مذہبی روایات کی طرح ہی غیر مستند قومی روحانی روایات بھی گھڑی جاتی ہیں، جنھیں عوام میں باقاعدہ پھیلایا جاتا ہے۔گویا خواب و مکاشفات کی پوری دیو مالا مرتب کی جاتی ہے۔
سکولوں کالجوں کی نصاب سازی اسی نقطہ نظر سے کی جاتی ہے کہ کوئی ایسی حقیقت اس میں شامل نہ ہو جو قومیت کے مذہب یا اپنی قومیت کی تقدیس پر ان کے ایمان کو متزلزل کر دے۔ قومی حقِ حکمرانی کے قیام اور اس کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے، اس کی بنیاد پر اپنی جان دینے اور دوسروں کی جان لینے کو قومی بیانیہ کے طور پر بچپن سے ہی بچوں کے اذہان میں ڈالا جاتا ہے اور اس طرح ان کیذہن سازی کی جاتی ہے۔ میڈیا اور صحافت کو اس کا پابند بنایاجاتا ہے کہ وہ قومیت کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتے ورنہ سزا اور جرمانہ کا سامنا کر پڑتا ہے۔
قومیت کے مذہب کا یہ کارنامہ ہے کہ بغیر کسی ما بعد الطبیعیاتی تصور اور آخرت میں ابدی انعامات کے حصول کی کوشش کے یہ فرد کو اپنی جان محض قومی تفاخر کے اظہار کے لیے قربان کر دینے پر راضی کر لیتاہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺسے منسوب ایک روایت کا نقل کرنا برمحل ہوگا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ ایک شخص حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ کوئی مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے،کوئی شہرت اور ناموری کے لیے لڑتا ہے،کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، فرمائیے کہ ان میں سے کس کی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے؟ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ کی راہ میں لڑائی تو صرف اس کی ہے جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں اترے۔ (بخاری،رقم 2810)
سینکڑوں سالوں سے لوگ میدان جنگ میں قومیت کے بت پر قربان ہو رہے ہیں اور دوسرے انسانوں کومحض اس وجہ سے نفرت یا حقارت سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے ہم قوم نہیں ہیں۔ محض اس بنا پر اپنے ملک کی کم معیاری یا غیر معیاری اشیا اور ادویات خرید لیتے ہیں کہ اس سے ان کی قومیت کا اظہار ہوتا ہے۔قومیت ایک ایسا مذہب ہے کہ مختلف الہامی مذاہب کو ماننے والوںیا ایک الہامی مذہب کے فرقوں کے درمیان اگر نفرت اور چپقلش بھی ہو تو قومیت کے مذہب میں آ کر وہ سب متحد ہو جاتے ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ قومیت اپنی نہایت میں اپنے اندر آفاقیت نہیں رکھتی۔ یہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور انسانوں کے درمیان، تفاخر، نفرت اور حقارت کا بیانیہ ہے۔
قومیت بطور مذہب کشادہ دلی یا عدل کا کوئی تصور پیدا نہیں کرتی۔ یہ مغرورہے، متواضع نہیں۔ یہ انسانی اہداف کو عالم گیر نہیں ہونے دیتی۔ یہ کہتی ہے کہ دنیا میں یہود یا یونانی ہونے چاہییں، بس فرق یہ ہے کہ یہ مختلف قسم کے یہودی اور یونانی اب ہرجگہ ہیں۔ قومی ریاست قبائلی عصبیت کا دوسرا نام ہے جس میں خود غرضی، خاص طرح کی جہالت اور جابر قسم کا عدمِ برداشت اور جنگی رجحان پایا جاتا ہے۔ قومیت امن نہیں، جنگ کی خوگر ہے اور ہم اس سے آگے دیکھنے کی تجویز آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...