بقا کے خطروں سے دوچاروادیِ کیلاش کے باسی

شاہ میر بلوچ مترجم: شوذب عسکری

201

شاہ میر بلوچ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اور محقق ہیں ،اور مختلف ملکی و غیر ملکی انگریزی خبارات و جرائد میں متعدد موضوعات پرتحقیقی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ وہ یونی ورسٹی آف ہیمبرگ، جرمنی کے انسٹی ٹیوٹ فار پیس ریسرچ اینڈ سکیورٹی پالیسی کے وزٹنگ فیلو ہیں۔ان کا زیرِ نظر مضمون وادیِِ کیلاش کے باسیوں کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ کیلاش قبائل کو سکندرِ اعطم کی نسل سے بتایا جاتا ہے، ایک وقت میں یہ قبیلہ اس خطے پر راج کرتا رہا ہے لیکن اب نہ صرف ان قبائل کی منفرد رسوم و رواج ، ثقافتی روایات اور اقدار کو خطرات لاحق ہیں، بلکہ ان کا اپنا وجود معدومیت کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ قبائل افغان سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی خطرات میں گھرے ہوئے ہیں، پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کیلاش قبیلے کا کوئی فرد صوبائی اسمبلی میں پہنچا ہے۔ ان حالات میں ریاست اور سماج پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف طبقات کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے ان میں احساسِ محرومی کو ہوا دینے کی بجائے بالخصوص ایسے طبقات اور قبائل جو سماجی تنوع کا خوبصورت مظہر اور دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت ہیں، ان کو درپیش مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان مسائل کے حل کی جانب توجہ دے۔ شاہ میر بلوچ کا ’ڈان‘‘ میں شائع ہونے والا یہ مضمون ایک محروم و مجبور طبقے کی آواز ہے ، جس کا اردو ترجمہ قارئینِِ تجزیات کے مطالعے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

ڈھول کی تھاپ اور بانسری کی تان والی موسیقی کے درمیان کیلاش کے باسی رات بھر ناچتے رہے حتیٰ کہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے پر سورج کی کرنیں بکھرنے لگیں۔ یہ تقریب اُچھا کے میلے کی تھی مگر یہ میلہ پہلے کے میلوں سے مختلف تھاکیونکہ اب کی بار یہ کلاشنکوف بردار محافظوں کی بندوقوں کے سائے تلے منعقد ہورہاتھا۔ میلے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کیلاشی لوگوں میں اب کی بار خوف کی جھلک بھی بہت واضح تھی۔
میلے میں تقریباََ 600کیلاشی موجود تھے۔ کوئی 30 یا 40 لوگ غیر ملکی بھی تھے جن کی اکثریت کا تعلق یونان سے تھا۔ مقامی سیاحوں کی تعداد بھی کوئی 300 کے لگ بھگ تھی۔ یہ ماحول اگرچہ بہت جذباتی ہو چکا تھا تاہم اس میں پیار کے رنگ بھی محسوس کیے جاسکتے تھے۔ مرد و زن ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں اوراپنی اپنی زندگیوں کے ساتھی چن رہے ہیں۔ اگر ایک عورت اس میلے میں کوئی نیا محبوب پسند کر لیتی ہے تو وہ بہت آسانی سے اپنے خاوندسے الگ ہوجاتی ہے اور اس پر کوئی آنکھ بھی نکتہ چیں نہیں ہوتی۔
پاکستان کے دیگر علاقوں کے برعکس کیلاش کی وادی میں والدین کی پسندسے شادی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ یہ میلہ لڑکوں اور لڑکیوں کو بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ایک ساتھ کھائیں پئیں اور اپنے جیون ساتھی منتخب کرلیں۔
کیلاشیوں کا اس قدر فراخ عمومی رویہ انتہا پسندوں کو غیض و غضب میں مبتلا کرسکتا ہے ۔کیونکہ ایسا اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے،3 برس پہلے سال 2016 میں مبینہ طور پر طالبانجنگجوؤں نے وادیِ کیلاش سے متصل افغانستان کے نورستان صوبے میں ان 2 کیلاشی چرواہوں کو ذبح کردیا جو اپنی 300 بھیڑ بکریوں کے ہمراہ وہاں چراگاہ میں موجودتھے۔ اس سے پہلے 2 فروری 2014 کو طالبان نے ایک 50 منٹ کی ویڈیو جاری کی اوراہلِ سنت مسلمانوں کو ابھارا کہ وہ کیلاشیوں کے خلاف مسلح تحریک میں ان کا ساتھ دیں۔اسی طرح سال 2011 میں ایک رات اراندو کے علاقے کے قریب ایک خطرناک دہشت گرد حملے میں 35 مسلح فوجی و پولیس اہلکار مارے گئے۔
اس سب کے باوجود بھی کیلاشی لوگ زندہ ہیں اور زندگی کا جشن منا رہے ہیں۔
ایک مدت تک ان مقامی لوگوں نے اس خطے پر راج کیا ہے مگر اب کیلاش کے باسیوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے۔ یہ نہ صرف بقا کی جنگ کا معاملہ ہے بلکہ ایک پورے خطے کی مقامی ثقافت معدومی کاشکار ہے۔
کیلاش برادری سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا اسمبلی کے پہلے ممبر وزیر زادہ بھی اس میلے میں شریک ہیں۔ اس وقت ایک ہزار لوگوں کی حفاظت پر تقریباََ چار سو لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جب وزیر زادہ ناچ کے حلقے میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو ان کا مسلح محافظ بھی ان کے پیچھے پیچھے آتا ہے۔ جونہی وہ ناچنے لگتے ہیں تو ان کے محافظ کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس کی آنکھ سے اوجھل نہ ہو جائیں، سو وہ بھی جلدی سے اس حلقے میں شامل ہوجاتا ہے۔
وزیر زادہ، جن کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان ہوگی ، انہوں نے ہی کیلاشیوں کو علیحدہ نسلی اور مذہبی گروہ کے طور پر رجسٹرڈ کروانے کی تحریک شروع کی تھی۔ یہ ان کی ہی کوشش کا نتیجہ تھا کہ سال 2018 میں ہونے والی مردم شماری کے نتیجے میں کیلاشی برادری کو علیحدہ شناخت کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا ۔ مگر وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفریمحض ان کی حفاظت کے لیے موجود نہیں تھی بلکہ وہاں موجود غیرملکیوں کی بڑی تعداد کے سبب انہیں تعینات کیا گیا تھا۔
انسداد دہشگردی فورس کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا ،’’میں یہاں غیر ملکی مہمانوں کے تحفظ کے لیے تعینات ہوں۔‘‘ میلے کے پرلطف ماحول کے برعکس یہ شخص کلاشنکوف اپنے کندھے سے لٹکائے ہوئے تھا۔ اس کی نگاہیں کسی بھی خطرے کو بروقت بھانپ لینے کے لیے عقاب کی مانند ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔
2018 کی مردم شماری کے مطابق کیلاش برادری کی تعداد 3800 ہے۔
کیلاشیوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ سکندر اعظم کی نسل میں سے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی وادی میں کیلاشیوں اور غیرملکیوں پر حملے ہوچکے ہیں ۔چونکہ وادیِ کیلاش کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے تو کبھی کبھار طالبا ن بھی یہاں حملہ کرتے ہیں۔میلے کے جوش و خروش اور خوشیوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ کیلاشی لوگوں کے لیے اب بندوقوں کی گولیاں چلنے کی آوازیں اجنبی نہیں ہیں۔ کسی کو بھی اس پر کوئی حیرت نہیں ہے کہ میلے کے آس پاس مسلح محافظ تعینات ہیں۔کیلاش کی وادی کے اطراف پھیلتے ہوئے خوف کے باوجود زندگی جاری ہے ۔
کیلاشی تاریخی طور پر قدیم آبادی ہے جو سماجی طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ اپنے رسوم و رواج میں رہ رہی ہے۔
فطرت سے ہم آہنگ کو ہِ ہندو کش کی تین مختلف وادیوں میں آباداس قدیم قبیلے نے اپنے ثقافتی رسم و رواج کو بیرونی دنیا سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔افغانستان سے ملحق سرحد کے ساتھ کیلاشی لوگ تین وادیوں میں رہتے ہیں ،جن کے نام بمبورت، بریر اور رمبور ہیں۔ ان کی اکثریت بمبورت میں رہتی ہے۔ کیلاشی لوگوں کی اکثریت گلہ بانی اور زراعت جبکہ چند لوگ کاروبار اور تجارت سے وابستہ ہیں ۔ کچھ کیلاشی سرکاری ملازمت بھی کرتے ہیں۔ ان کی معیشت کا انحصار ان کے مویشیوں اور زراعت پر ہے اور ان کے تمام تہوار بھی انہی دو پیشوں پر انحصارکرتے ہیں۔
کیلاش کی وادیوں میں ایک سال میں تین تہوار منائے جاتے ہیں جن میں چاموس، جوشی اور اُچھا شامل ہیں۔
چاموس کا تہوار سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے جسے دسمبر میں سال کے اختتام کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ کیلاشی لوگ گاتے ہیں اور بلاؤمین دیوتا کو بکریاں قربان کرکے بھینٹ دیتے ہیں جو ان کے نزدیک اس تہوار کے دوران اس میں شریک ہوتا ہے۔ایک نوجوان کیلاشی لڑکی، جس کا نام شمیم ہے نے متذبذب سے لہجے میں بتایا کہ پچھلے سال میلے کے دوران دو زلزلے آئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ پہلازلزلہ اس وقت آیا جب بلاؤمین دیوتا آیا ہوگا اور دوسرا اس وقت جب وہ وادی سے رخصت ہوا ہوگا۔
جوشی کا میلہ بہار کے آغاز پر منایاجاتا ہے۔ یہ ہر سال مئی کے پہلے ہفتے کے دوران منعقد ہوتا ہے۔ رسم کے مطابق ہر ایک فردنئے کپڑے پہنتا ہے جبکہ خواتین اپنے آپ کو زیورات سے آراستہ کر کے خوب سنوارتی ہیں۔ وہ پہاڑوں کی جانب ناچنے اور گانے کے لیے جاتی ہیں اور اپنے گھروں کو بھی سجاتی ہیں۔
وادی میں اُچھا یا اُچھل کا تہوار فصلوں کی کاشت سے پہلے منایا جاتا ہے۔اس تہوار پر بھی دیگر تہواروں کی مانند ناچ گانا ہوتا ہے اور قدرت ماتا کی خدمت میں عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وہ ان کی جواور گندم کی فصل میں برکت ڈالے۔پہلے اُچھا کا تہوار ہر سال یکم جولائی سے لے کر 22 اگست تک منایا جاتا تھا، مگر اب حالات بدل گئے ہیں اوروادی میں حفاظت کے پیش نظر اب صرف 21 اور 22 اگست کو اُچھا کا تہوار منایا جاتا ہے۔اس مختصر سی مدت کے دوران بھی مہمانوں کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ وادی میں ایک مہمان خانے کے مالک مقامی کیلاشی شہزادہ جان بتاتے ہیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ہر غیر ملکی مہمان کووادی میں داخل ہونے پرکم از کم ایک سکیورٹی اہلکار ضرور مہیا کیا جاتا ہے۔
ایک ناہموار، پتھریلی اور مشکل سڑک کیلاش کی سرسبز وادی تک جاتی ہے۔دور کھیتوں میں عورتوں اور مردوں کو ایک ساتھ کام کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ کیلاشیوں میں سماجی حوالے سے عورت مرد کی تفریق نہیں کی جاتی۔ معاشرے میں دونوں ہی کو ایک جیسا مقام اور اختیار حاصل ہے۔ شراب پینے کا حق دونوں کو ہے اور دونوں ہی مل کر ایک ساتھ کام کاج کرتے ہیں۔ اس طرح کا ماحول پاکستان کے دیگر علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔
لگ بھگ 50 سال عمر کی ایک کیلاشی عورت، جس کا نام باہبی ہے، وہ ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھی ہے اور کوئی مقامی دستکاری تیار کررہی ہے۔ وہ کچھ گھنٹے کھیت میں کام کرتی ہے اور پھر تھوڑی دیر آرام کے بعد، کوپیسی بنانے لگتی ہے۔ یہ کیلاشیوں کی لمبی سی ایک روایتی رنگین ٹوپی ہے۔ باہبی بتاتی ہیں کہ ’’اب دستکاری کے کام کی زیادہ مانگ نہیں ہے۔‘‘ان کے مطابق وہ زمانہ اب گزر گیا، جب سیاحوں کو وادی میں آنے کی کھلی اجازت تھی اور ہم ان دستکاریوں سے کافی پیسے کما لیتے تھے۔ اب انہیں یہاں آنے کے لیے بہت سی پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔
سال 2011 سے جس طرح کے تشدد کا کیلاشیوں کو سامنا ہے اس کے سبب مقامی معیشت بہت سکڑ کے رہ گئی ہے۔
کیلاشی ایک مسلسل خوف کی کیفیت میں ہیں۔ وہ باہر کے لوگوں کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کرتے ۔ خاص طور پر مذہب اور تبدیلیِ مذہب کے موضوع پر کوئی بھی کُھل کر بات نہیں کرنا چاہتا۔ باہبی بتاتی ہیں کہ آج کل کے زمانے کی نسبت پہلے بہت سے غیر ملکی سیاح یہاں آیا کرتے تھے۔انہیں یہاں گھومنے پھرنے کی آزادی تھی اور وہ ہم سے بہت سی دستکاریاں خریدتے تھے۔ اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ سیاحت میں کمی کی وجہ سے ہماری آمدن بہت کم ہوکر رہ گئی ہے۔
امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر اب غیر ملکی سیاحوں کو صرف قصبے میں ہی گھومنے پھرنے کی آزادی ہے۔ ہر ایک سیاح کے ساتھ ایکسکیورٹی اہلکار کی موجودگی سے بھی لوگوں کو مہمانوں کی حفاظت کا یقین نہیں ہے۔مقامی مہمان خانے کے مالک شہزادہ جان کہتے ہیں کہ غیر ملکی سیاحوں کوسکیورٹی اہلکار کے رہنے اور کھانے پینے کا خرچ خود ادا کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ تمام سیاحوں کی استطاعت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ اس سے ہمارے کاروبار پر فرق پڑتا ہے۔ میں وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وادیِ کیلاش میں سیاحت پر خصوصی توجہ دیں اور سیاحوں کی آمد و رفت کو آسان بنائیں۔
سال 2010میں ایک امریکی شخص، جس کا نام گرے بروکس فالکر تھا ،جس نے اپنے آپ کو ماہرِ تعمیرات کے طور پر متعارف کروایاتھا، اسے وادی میں موجود پولیس اہلکاروں نے اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ وادیِ کیلاش سے ملحقہ افغانستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کے پاس سے ایک پستول، ایک تلوار اور اندھیرے میں دیکھنے والی عینک برآمد ہوئی۔ مقامی لوگوں میں شہرت ہوگئی کہ فالکر نے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کے مشن پر تھا۔ مگر ا ن الزامات کے متعلق ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں نے توجہ نہیں دی۔
کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد غیر ملکی سیاحوں کو جاسوس سمجھا جانے لگا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وادی میں غیر ملکی لوگوں کی آمد و رفت کے متعلق زیادہ مشکوک ہوگئے ۔ آہستہ آہستہ وادی کیلاش صحافیوں کے لیے بھی ممنوعہ علاقے میں تبدیل ہونے لگی اور اب صحافیوں کے لیے کیلاشیوں کے متعلق رپورٹنگ کرنا مشکل کردیا گیاہے۔ اس سے کسی کا فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں وہ لوگ جو وادیِ کیلاش میں سیاحت کے اضافے کیلیے کوششیں کررہے ہیں انہیں کنارے پر لگا دیا گیا ہے۔
چیئرمین نیشنل کمیشن آن ہیومین رائٹس جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان بتاتے ہیں کہ آپ جونہی اس علاقے میں پہنچتے ہیں، آپ کو لگتا ہے کہ کوئی مسلسل آپ کی نگرانی کررہا ہے۔ ایک حوالدار آئے گا اور آپ سے پوچھ گچھ کرے گا۔ مجھے یہ پوچھ گچھ بری لگی، کیونکہ میں نے یہاں آنے کے لیے تحریری اجازت لی ہے۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ ہمیں اپنے ہی ملک میں سفر کرنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
16 جون 2015 کو 15 سالہ رینا نے اسلام قبول کرلیا۔ اسے اس کے استاد نے تبلیغ کی کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤ گی تو تم ایک اچھی انسان بن جاؤگی۔
اس کی ایک عزیز ہ بتاتی ہے کہ وہ مسلسل چلا رہی تھی اور رو رہی تھی کہ وہ مسلمان نہیں ہے ۔ وہ اپنے کیلاشی لوگوں کو چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی تھی۔ وہ چیخ رہی تھی کہ مجھے بچا لو۔جب وہ رینا کو اپنے گھر لے کر آگئی تو ایک ہجوم اکٹھا ہو کر اس کے گھر کے باہر جمع ہوگیا۔ وہ سب کے سب مسلمان تھے اور اس کے گھر پر پتھراؤ کررہے تھے۔اس نے مجھے بتایاکہ ان لوگوں نے پولیس سے مدد مانگی اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر سے بھی درخواست کی، مگر انہوں نے ہماری مدد نہیں کی۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ آپ اس کم سن لڑکی کا مذہب تبدیل کرسکتے نہ ہی اسے اپنی ثقافت چھوڑنے پرمجبور کرسکتے ہیں۔
جب قریب موجود فوجیوں کی پوسٹ سے فائرنگ کی گئی تو ہجوم منتشر ہوگیا۔ مگر کچھ دیر بعد مقامی مذہبی رہنما اکٹھے ہو کر آئے اور وہ رینا کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ انہوں نے اسے کلمہ پڑھایا اور مسلمان بنادیا۔ اس کے بعد رینا کی شادی ایک مسلمان سے کردی گئی اور اب وہ اپنے خاوند اور ایک بچے کے ساتھ پشاور میں رہتی ہے۔اس حادثے نے رینا کی اس رشتہ دار پر گہرے اثرات چھوڑے اور وہ نفسیاتی مرض (پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر)میں مبتلا ہوگئی۔وہ ابھی بھی ایک نفسیاتی معالج کے پاس علاج کی غرض سے جاتی ہے۔ دوسری جانب اس کے گھر کے قریب ہی ،جہاں ہجوم اکٹھا ہوا تھا وہاں ایک خوبصورت مسجد تعمیر ہورہی ہے۔
مگر سیاحت کے ساتھ اپنی طرح کے مسائل اور معاملات ہیں ،کیونکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے سیاح بھی کیلاشی لوگوں کے رسم و رواج کو نظر انداز کردیتے ہیں۔
جواں سال رومی نامی لڑکی کو اس سال اُچھا کے میلے میں شرکت نہیں کرنے دی گئی کیونکہ وہ اور کچھ دیگر لڑکیاں بشالی گھر میں ٹھہری ہوئی تھیں جبکہ ہر کوئی میلے میں ناچ رہا تھا۔ 24 سالہ رومی بتاتی ہیں کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں بھی اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ میلے میں جاؤں اور ناچوں مگر مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ یہ قدیم کیلاشی رسم ہے کہ کچھ عورتوں کا گھومنا پھرنا چند خاص دنوں کے لیے محدود کردیا جاتا ہے۔ بشالی گھر وہ جگہ ہے جہاں لڑکیوں کو ماہواری کے دنوں میں ٹھہرنا پڑتا ہے۔ کیلاش کی ثقافت ’’پاکیزگی‘‘ پر بہت زور دیتی ہے۔ ان کے رواج کے مطابق ان خاص دنوں میں خواتین گھر پر رہنے کے لیے لازمی پاکیزگی سے محروم ہوتی ہیں۔ اگر ہم انہیں وہاں نہ بھیجیں تو خدا ناراض ہوجائے گا اور ہم پر سیلاب اور زلزلے جیسی آفات نازل کرے گا۔ مگر صرف یہی نہیں بلکہ حاملہ خواتین کو بھی بچے کی پیدائش تک ان بشالی گھروں میں رہنا پڑتا ہے۔ یہ روایتی مکانات بہت پرانے ہیں اور یہاں زندگی کی بہت محدود سہولیات میسر ہیں۔ ان گھروں میں مردوں اور لڑکوں کا داخلہ ممنوع ہے، حتیٰ کہ انہیں بشالی کی دیواروں تک کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔
دیوار پہ ایک انتباہی پیغام درج ہے،’’بشالی کی دیواروں کو چھونا منع ہے‘‘۔ تاہم پاکستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے سیاح بشالی کی دیواروں کو چھوتے ہیں اور کسی طرح کی بہادری کا مظاہرہ کرنے کیلییاس کی دیوار کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں۔ میں اس کیلاشی مرد کی جانب دوڑا، جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی سیاحوں کے ساتھ جھگڑا کیا تھا کیونکہ وہ بشالی کی دیواروں کو چھو رہے تھے۔ اس کیلاشی نے بہت دفعہ سیاحوں کو بتایا کہ اس دیوار کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ان کی تعلیمات میں حرام ہے۔ تاہم پھر بھی وہ لوگ اس کی بات پر توجہ نہیں دے رہے تھے ،انہو ں نے مزید تصاویر بنائیں اور پھر وہاں سے رخصت ہوئے۔
ایک زمانہ تھا جب کیلاشی لوگ مرنے والی خواتین کی میت کے ساتھ ان کے قیمتی زیورات اورَ مردوں کی میت کے ساتھ ان کے ہتھیار اور تلواریں چھوڑ آتے تھے۔ وہ اپنے مردے کبھی دفن نہیں کرتے۔ وہ انہیں ایک تابوت میں رکھتے ہیں اور قبرستان میں چھوڑ آتے ہیں۔ مگر جب سیان کے قریب آباد غیر کیلاشی لوگو ں نے ان تابوتوں سے یہ زیورات اور تلواریں چوری کرنی شروع کردیں تو اب وہ اپنے فوت شدگان کو دفن کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اب وہ مرنیوالے کو دفن کردیتے ہیں اور اس کی قبر کے پاس ایک چارپائی رکھ آتے ہیں۔
بہت سی کیلاشی عورتیں مسلمان مردوں کے ہاتھوں بہتر مستقبل اور شاندار زندگی کے وعدے پہ دھوکے کھا کر اپنا مذہب اور ثقافت چھوڑ چکی ہیں۔
جسٹس چوہان بتاتے ہیں کہ بہت سی لڑکیوں نے اچھے مستقبل کیلیے اپنا مذہب چھوڑ کر مسلم مردوں سے شادیاں کرلی ہیں۔
یونیسکو نے کیلاشی تہذیب و ثقافت کو انمول اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس میں تبدیلی اور تحریف پر پابندی عائد کررکھی ہے۔
موریشئس میں ہونے والے یونیسکو کے تیرہویں بین الحکومتی اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا۔خاص طور پر یونیسکو نے کیلاشی ثقافت کی ایک رسم ’’سوری جاگیک ‘‘کو بطور ناقابلِ تحریف ثقافتی رواج اپنی خاص فہرست میں شامل کیا ہے۔سوری جاگیک کی رسم بظاہر سورج کی حرکت کا ملاحظہ کرنا ہے۔یہ برسوں پرانی کیلاشا روایت ہے جس سے سورج، چاند اور ستاروں سے نہ صرف آنے والے دنوں میں موسم کے اثرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے بلکہ مذہبی تقریبات اور رسومات کا بھی وقت مختص کرلیا جاتا ہے۔اسی مقصد کے لیے سوُری جاگ کِین، یعنی سورج دیکھنے کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔یہ مقامات کیلاش میں موجود تین وادیوں میں سے کسی بھی گاؤں میں ہوسکتے ہیں ،جہاں تین سے چار افراد اکٹھے ہوکر پہلے سورج کے نکلنے کا، اور پھر وہ کس مقام پر کتنا وقت ٹھہرتا ہے ،اس کا اندازہ لگاتے ہیں۔
وادی میں بہت زیادہ تعمیرات کے سبب اب وہ جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں جہاں مقامی لوگ بیٹھ کر سورج کی نقل و حرکت کا ملاحظہ کیا کرتے تھے۔ مقامی کارکن بتاتے ہیں کہ کیلاشیوں کی بہت سی روایات اور رسومات کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا سارا ثقافتی ورثہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔
چاہے ان کے مقامی میلے ہوں یا ان کی زبان، ان کے سوری جاگیک کی رسم ہو یا ان کی بنائی ہوئی شراب، ان کے قبرستان ہوں یا ان کا روایتی ناچ، یہ قبیلہ ہر طرح سے نایاب روایات کا حامل ہے۔
بہت سے لوگ مرنے کے والے کے غم میں بین کرتے ہیں۔ کیلاشی لوگ موت کو بھی عید کی طرح لیتے ہیں۔ وہ اپنے جنازوں کے دوران ناچتے اور جشن مناتے ہیں۔ جیسا کہ ایک کیلاشی نے بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک خدا کی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور اس دنیا سے خدا کی مرضی سے ہی رخصت ہوتا ہے، تو اس میں رونے اور بین کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تاہم اگر کیلاشیوں کے طرز حیات کی موت ہوگئی تو شاید یہ ایک قسم کا قومی سانحہ ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...