مسلح تنظیمیں اور مسلم معاشرے

297

خورشید احمد ندیم کا شمار دورِ حاضر کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے۔کالم نگار اور اینکر ہونے کے ناطے آپ کے ابلاغ کا دائرہِ کار وسیع تر ہے۔وہ ادارہ تعلیم و تحقیق کے سربراہ ہیں اور متعدد علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ حال ہی میں سماجی موضوعات پر لکھے گئے ان کے کالموں کا مجموعہ ’’متبادل بیانیہ‘‘ اہلِ فکر و نظر سے دادِ تحسین وصول کر چکا ہے۔ان کا زیرِ نظر مضمون مسلم سماج کو درپیش مسلح شدت پسندی اور عسکریت پسندی، بالخصوص اپنی ہی حکومتوں کے خلاف برسرِ پیکار بغاوتی تحاریک کے فکری پسِ منظراور ان تعبیراتِ دین میں موجود مغالطے سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ خورشید احمد ندیم کی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے ممکنہ مواقع کی نشاندی کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔وہ اس مضمون میں بھی اس ذمہ داری سے عہدہ بر آہوتے نظر آتے ہیں۔ (مدیر)

ریاست مدینہ کے قیام سے لے کرسقوطِ بغداد تک،مسلم تاریخ میں کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں آیا جب اہلِ اسلام نے کسی نظمِ اجتماعی کے بغیر زندگی گزاری ہو۔اس دوران اقتدار کی کشمکش جاری رہی اور مسلح تصادم بھی ہوئے۔تاہم یہ کشمکش کسی ملی مقصد کے لیے نہیں،اقتدار کے لیے یا صاحبانِ اقتدار کی اہلیت کے باب میں ہوئی۔کسی گروہ کو یہ مسئلہ پیش نہیں آیا کہ نظمِ اجتماعی کو خارج سے کوئی بڑا چیلنج درپیش ہو اور اجتماعی مفاد کا تقاضا ہو کہ اس مفاد کے تحفظ کے لیے تلوار اٹھائی جائے ،لیکن نظمِ اجتماعی اس پر آمادہ نہ ہو اور ریاستی نظم سے بغاوت کرتے ہوئے یہ فریضہ مسلمانوں کے کسی گروہ کو ادا کرنا پڑا ہو۔یاپھر حکومت کے خلاف، اس وجہ سے بغاوت کو روا رکھا گیا ہو۔
مسلح بغاوتوں کا آغازخلافتِ راشدہ ہی میں ہو گیا تھا۔اس سے پہلے اگر اقتدار کے معاملے میں کوئی اختلاف ہوا بھی تو وہ نجی سطح پراظہارِ ناراضی ہی تک محدود رہا۔پہلی مسلح بغاوت حضرت عثمانؓ کے خلاف ہوئی جس کا انجام ان کی شہادت پر ہوا۔تاریخی آثار سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ بغاوت ابتدائی مرحلے میں سیاسی تھی لیکن اس میں انتہا پسندی مو جود تھی۔ کوفہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کا مرکز تھا،جہاں سے یزید بن قیس پہلی بار ایک گروہ کے ساتھ مدینے کی طرف روانہ ہواتاکہ حضرت عثمانؓ سے دستبرداری کا مطالبہ کرے۔ یزید کو قعقاع بن عمرو نے گرفتار کر لیا۔گرفتاری پر اس کا موقف تھا کہ وہ تو صرف والی ء کوفہ سعید بن العاصؓ کی تبدیلی چاہتا ہے۔اس پر اسے آزادکر دیا گیا۔اس نے خط لکھ کر اشتر نخعی کو کوفے سے بلا لیا جسے اس تحریک کا سرغنہ سمجھا جا تا تھا۔
وہ جب کو فہ پہنچاتو ایک ہنگامہ اور فساد برپا ہو گیا۔اشتر نخعی نے سعید بن العاصؓ کے ایک غلام کو قتل کر دیا۔ اندازہ ہو تا ہے کہ یہ ایک منظم سیاسی تحریک کے پس منظر میں پہلا پُر تشدد واقعہ تھا۔اس کا انجام اس وقت سامنے آیا جب خلیفہِ وقت کو شہید کر دیا گیا۔گویاحضرت عثمانؓ کی شہادت ایک سیاسی تحریک کا نتیجہ تھی جس نے تشدد کا راستہ اپنایا۔یہ واقعہ مسلم معاشرے کے داخلی بحران کا شاخسانہ تھا۔دورِ جدید میں بھی ایسے واقعات کا ہونا عجوبہ شمار نہیں ہوتا کہ حکومت کے خلاف کسی سیاسی تحریک میں لوگ تشدد کا راستہ اپنالیں اور انسانی جانیں اس کی نذر ہو جائیں۔
سقوطِ بغداد پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کوایک بڑا خارجی چیلنج درپیش ہوااورمسلمانوں کا سیاسی نظم اس قابل نہیں تھا کہ اس کا سامنا کر سکے۔اس موقع پر عام مسلمانوں کو مسلح اقدام پر ابھارا گیا۔امام ابن تیمیہ کا کردار اس میں بہت بنیادی تھا۔اسی وجہ سے ایک رائے یہ قائم کی گئی کہ مسلمانوں میں جن لوگوں نے تشدد کو متعارف کرایا ،ا ن میں ابن تیمیہ کی حیثیت امام کی ہے۔یہ رائے قائم کرتے وقت،اس بات کو نظرا نداز کیاجا تاہے کہ ایک فعال نظمِ اجتماعی کی موجو دگی میں،امام ابن تیمیہ نے مسلمانوں کو یہ درس نہیں دیا کہ وہ ریاست سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، اپنے طور پرمسلح اقدام کریں۔
جہاں تک مسلمانوں کے داخلی اختلافات کا تعلق ہے تو انہوں نے ناپسندیدہ حکومت کے خلاف بھی اقدام سے روکا کیونکہ ان کے نزدیک یہ مسلم معاشرے میں فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ ’’منہاج السنہ‘‘ میں انہوں نے لکھا:’’حضرت محمد ﷺ کی بعثت مسلمانوں کی معاش و معاد کی اصلاح و فلاح کے لیے ہوئی تھی۔آپ نے ہر اس بات کا حکم دیا جس میں صلاح (بھلائی) ہے۔اور ہر اس بات سے منع فر مایا جس میں فساد(بگاڑ اوربرائی) ہے۔پس ایسا کوئی کام ،اگر سامنے آتا ہے جس میں صلاح و فساددونوں پہلو پائے جاتے ہوں تو اہلِ سنت یہ دیکھتے ہیں کہ فساد کا پہلو غالب ہے یا فلاح کا۔اور پھر جو پہلو غالب نظر آتا ہے،اسی کے مطابق اس کام پر حکم لگاتے ہیں۔۔۔۔۔پس ایک یزید یا عبدالملک یا منصور جیسا کوئی شخص خلافت کے منصب پر فائز ہو جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس سے قتال کر کے کسی بہتر شخص کو اس کی جگہ لانے کی کوشش کی جائے؟اہلِ سنت اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں کیونکہ ایسے فعل سے بنسبت بھلائی اور مصلحت کے، بگاڑ اور فساد کے امکانات زیادہ ہیں۔‘‘
آج مسلم ریاستوں میں جو مسلح تحریکیں پائی جا تی ہیں،ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ مسلمان حکمران غیر مسلموں،جنہیں وہ کفار قرار دیتے ہیں، کے باب میں اپنی دینی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔یہی نہیں،وہ مسلمانوں کے مجموعی مفاد سے چشم پوشی کرتے ہوئے،اپنے فرائضِ منصبی سے غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یوں اعلانیہ یا در پردہ اسلام دشمن قوتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دورِ جدید کے بعض اہلِ علم نے قرآن مجید کی اصطلاح ’طاغوت‘ کے مفہوم کو وسعت دیتے ہوئے،اس میں مسلمان حکمرانوں کو بھی شامل کیا ہے۔چونکہ دین میں طاغوت کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا ضروری ہے،اس لیے ان تحریکوں اور تنظیموں نے مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کے خلاف بھی اعلانِ جنگ کو دین کاتقاضا قرار دیا ہے۔ان تنظیموں نے بالفعل خود کو نظمِ اجتماعی کا متبادل سمجھتے ہوئے،وہ ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں جو دینی احکام کے تحت ایک ریاست کی ذمہ داریاں تھیں۔جیسے قتال یا حدود کا نفاذ۔افریقا اورمشرقِ وسطیٰ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں الشباب،بوکو حرام اور داعش جیسی تنظیمیں یہ کام کر رہی ہیں۔
مسلم ریاستوں نے بھی بعض اوقات یہ گمان کیاکہ ان تنظیموں سے ’قومی مفاد‘ میں کام لیا جا سکتا ہے۔یا اگر یہ نظمِ اجتماعی کو چیلنج نہ کریں اوران ریاستی مقاصد میں معاون ہوں ،جن کی آبیاری کے لیے،یہ ریاستیں اپنی بین الاقوامی مجبوریوں کے تحت،اعلانیہ کوئی قدم نہیں اٹھا سکتیں،تو انہیں گوارا کیا جائے۔مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان سمیت،کئی مقامات پر ہمیں اس کی مثالیں مل جا تی ہیں۔
ان تجربات کے دو نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ایک تو یہ کہ کسی ریاست کے لیے بالآخر یہ ممکن نہیں رہا کہ یہ تنظیمیں کسی خاص حد کی پابند رہیں اورنظمِ اجتماعی کو چیلنج نہ کریں۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ مرحلہ ضرور آیا کہ ان کا وجود خود اس نظمِ اجتماعی کے لیے چیلنج بن گیا۔دوسرا یہ کہ بین الاقوامی حالات ان تنظیموں کے لیے سازگار نہیں رہے اور کوئی ریاست ان کی سرپرستی کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتی۔
آج مسلم ریاستوں میں اس مسئلے پر بطورِ خاص غور کرنے کی ضرورت ہے۔لازم ہے کہ دینی تعلیمات ، تاریخ اور معروضی حالات کی روشنی میں مسلح تنظیموں کی افادیت یا عدم افادیت پر سنجیدہ مکالمہ ہو۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی وجہ سے صرف مسلم قومی ریاستوں ہی کو نہیں، دینِ اسلام کو بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔ چونکہ یہ مسلح تنظیمیں اپنے وجود کی تائید میں دینی دلائل پیش کر تی ہیں،اس لیے،ان کے اقدمات کو دینی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیا جا تا ہے۔
اس کے ساتھ یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ تاریخ میں ان تنظیموں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے یا فائدہ؟اس کے شواہد موجود ہیں کہ کسی ریاست میں جب تشدد پر ریاست کی اجارہ داری ختم ہو جا تی ہے توپھر معاشرے کو انتشار اور فساد سے بچانا ممکن نہیں رہتا۔ ماضی میں یہی ہوا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ یہ نتیجہ اتنا واضح ہے کہ جس ریاست میں یہ تنظیمیں موجود ہوں،اس کے دشمن انہیں اپنا اثا ثہ سمجھنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں ریاستی سطح پر اس بات کے آثار ہیں کہ اس مسئلے پر سنجیدہ غور وفکر کا آغاز ہو گیا ہے۔اہلِ دانش کا ایک حلقہ تو برسوں سے یہ مقدمہ پیش کر رہاتھا، اب اندازہ ہوتاہے کہ ریاست نے بھی معاملے کی حساسیت کو جان لیا ہے۔تاہم اس وقت سول سوسائٹی،میڈیا اور ریاست کے مابین اعتماد کا وہ رشتہ مستحکم نہیں ہو سکتا جو انہیں کسی اجتماعی کوشش کے لیے یکسو کر سکے اورباہمی شکوک و شبہات کا ازالہ کر سکے۔آج ضرورت ہے کہ اس معاملے میں کامل فکری و عملی یک سوئی سامنے آئے تاکہ پاکستانی معاشرہ اس کیفیت سے نکل سکے جس نے چار دہائیوں سے اسے فساد میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ضرورت ہے کہ دیگر مسلم معاشروں میں بھی ان ہی خطوط پر کام ہو اورمسلم ممالک آفاقی اقدار پر اتفاق کی بنیاد پرعالمی معاشرت کا فعال حصہ بنیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...