اسلامی قانون سازی کے تصور میں توسیع کے امکانات

2,271

علامہ ثاقب اکبر جامعہ قم سے فارغ التحصیل ہیں اور علمی وفکری ادارے البصیرہ کے صدر نشین ہیں۔ وہ مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور ملی یکجہتی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔زیرِنظر مضمون میں انہوں نے اسلامی قانون سازی کے تصور میں توسیع کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔یہ موضوع اس لیے اہم ہے کہ مسلم دنیا کو درپیش مشکلات کا حل فقہ سے تلاش کیا جاتا ہے لیکن روایتی فقہ ان سوالات کا تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہے، جس کا مطالبہ عصر حاضر کی جدیدیت اور اس کے مظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے ایک طویل عرصہ سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ اسلامی قانون میں ایسے نئے اصول وضع کیے جائیں جن کی اساس پر ہم موجودہ دور کے مسائل کا حل تلاش کرسکیں۔ مضمون نگار نے اہل علم کو متوجہ کرنے کے لیے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔

’’اسلامی قانون سازی کے تصور میں توسیع کے امکانات‘‘ یہ عنوان کچھ فرق کے ساتھ کچھ یوں بھی ہو سکتا ہے’’قانون سازی کے اسلامی تصور میں توسیع کے امکانات‘‘۔ یہ موضوع نہایت اہمیت رکھتا ہے اور ایک اسلامی ملک، جو اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ بھی کہلاتا ہو اور جس کے آئین میں یہ لکھا ہو کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہ موضوع اپنے اندر کئی ایک پہلو رکھتا ہے اور قانون سازی کے اسلامی تصور یا اسلامی قانون سازی کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی قانون سازی کے ماہرین کی آرا مختلف رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ ان آرا میں افراط و تفریط بھی پائی جاتی ہے اور بعض آرا کو معتدل بھی کہ سکتے ہیں، تاہم تینوں صورتوں میں کئی ایک شیڈز موجود ہیں۔ مختلف ماہرین کا تصور قانون سازی ایک فکری پس منظر رکھتا ہے۔ ہم ذیل میں بعض نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
بعض علما کی رائے یہ ہے کہ فقہ اورشریعت کی حدود سے کوئی چیز باہر نہیں جاسکتی۔ ہر قانون اور ہر فکر پر اسلام یا دین ایک رائے رکھتا ہے۔ ہر عمل کے بارے میں شریعت کا ایک نقطہ نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احکام کو پانچ عناوین کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے:
۱۔ واجب یا فرض
یعنی ایسا کام جسے شریعت کی نظر میں بجا لانا ضروری ہے اور اسے بجا نہ لایا جائے تو مکلف گناہ گار ہوگا اور ممکن ہے اسلامی قانون کے نقطہ نظر سے وہ کسی سزا کا بھی مستوجب ہو۔
۲۔ حرام
یعنی ایسا کام جس کا نہ کرنا ضروری ہے اور جو شخص اسے بجا لائے گا وہ گناہ گار قرار پائے گا اور ممکن ہے ایسا کرنے سے اسلامی قانون کے تحت اسے سزا بھی دی جا سکے۔
۳۔ مستحب
یعنی ایسا کام جس کا کرنا بہتر ہے اور نہ کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں، ایسا عمل کرنے والا لائق تحسین و ستائش قرار پاتا ہے۔
۴۔ مکروہ
یعنی ایسا کام جس کا نہ کرنا بہتر ہے، کرنے والے کو کوئی سزا تو نہیں دی جاسکتی البتہ دین دار لوگوں کی نظر میں ایسا کرنے والا لائق تحسین قرار نہیں پاتا۔
۵۔ مباح
یعنی ایسا کام جس کا کرنا یا نہ کرنا شریعت کی نظر میں مساوی ہو اور مکلف چاہے تو اسے انجام دے، چاہے تو نہ انجام دے۔ اس تقسیم کی رو سے دیکھا جائے تو شریعت یافقہ ہر عمل پر ایک رائے رکھتی ہے اور ایک حکم لگاتی ہے اور انسانی زندگی کا کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس پر شریعت اپنی کوئی رائے نہ رکھتی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ مباحات کی تعداد گنی نہیں جاسکتی لیکن بہرحال اس تصور اور عمل کی اس تقسیم کے مطابق شریعت ہر عمل پر اپنی رائے رکھتی ہے۔
بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ احکام فقہی اور قانون کے عمومی تصور میں فرق ہے اور فقہی یا شرعی احکام طے شدہ اور محدود ہیں جب کہ قانون کا مدنی اور عصری تصور بہت وسیع ہے اور شریعت اس میں کوئی مداخلت نہیں کرتی۔
اسلامی قانون سازی کے حوالے سے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ عمومی فقہا کے نزدیک دو علوم ایسے ہیں جو اس پر محیط ہیں، ایک کو علم اصول فقہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو علم فقہ۔ اصول فقہ دراصل ان اصول و قواعد سے بحث کرتا ہے جو مذہبی مصادر سے قانون اخذ کرنے یا حکم اخذ کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
اس کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ اصول فقہ ایک ایسا علم ہے جس میں ان قواعد کے بارے میں بحث کی جاتی ہے جن کا نتیجہ مجتہد حکم شرعی کے استنباط میں استعمال کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ علم ایک ایسا وسیلہ ہے کہ فقیہ جس کے ذریعے شریعت کے فرعی احکام اس کے منابع سے اخذ کرتا ہے۔
یہ علم دراصل دوسرے علم میں داخل ہونے کا دروازہ ہے،اصل مقصد استنباط احکام ہے اور وہ علم جو احکام شرعی بیان کرتا ہے اسے علم فقہ کہا جاتا ہے۔
اسلامی قانون سازی کے تصور میں جن اصول یا قواعد سے بحث کی جاتی ہے وہ مختلف مکاتب فکر میں قدرے مختلف ہیں۔ مثلاً احناف کے نزدیک قرآن، سنت، اجماع اور قیاس منابع کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ جعفریوں کے نزدیک قرآن، سنت، اجماع اور عقل منابع شریعت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض مکاتب فکر میں سدذرائع، مصالح مرسلہ وغیرہ کو ان منابع میں شامل کیا جاتا ہے۔ بہرحال قرآن و سنت میں اصولاً تو کسی کا اختلاف نہیں لیکن سنت کے تصور میں اختلاف موجود ہے۔ اجماع کی تعریفیں بھی مختلف فقہا کے نزدیک مختلف ہیں۔ قیاس پر خود اہل سنت کے مختلف مکاتب فکر میں بہت تنقید کی گئی ہے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اجتہاد کے ان منابع کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں پیشرفت جاری رہی ہے۔ اس وقت اصول فقہ کی جو شکل مختلف مکاتب فکر کے ہاں موجود ہے، یہ ہمیشہ سے ایسی نہ تھی۔ ہم یہاں پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اس میں ارتقا کا عمل ماضی میں جاری رہا ہے تو آج بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی طرح فقہ کے جن ابواب پر ماضی میں کام ہوتا رہا ہے ان میں نئے ابواب کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ جب ہم اجتہاد کی اس شکل کو درست تسلیم کرلیں۔
اسلامی قانون سازی کے اس فریم ورک میں توسیع کے حوالے سے ہم ایران کے ایک معاصر فقیہ استاد علی رضا اعرافی کی چند باتیں پیش کرتے ہیں۔ وہ گذشتہ ماہ (فروری 2019)پاکستان تشریف لائے۔ انھوں نے 8فروری کو اسلامی نظریاتی کونسل میں علمااور دانشوروں کی ایک خصوصی نشست سے پیش نظر موضوع کے حوالے سے چند مفید باتیں کیں جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
’’افسوس ہے ریناسینس(Renaissance) کے بعد علمی مدارس عوام اور معاشرے سے لا تعلق ہو گئے، ہمارے معاشرے مغربی قانون کے زیراثر آ گئے۔ فقہ اور شریعت سے دوری کا یہاں سے آغاز ہوا، ہمارے معاشرے قانون اسلامی سے دور ہو گئے۔ ایک طرف دین ہے تو دوسری طرف قانون، اگر ہم نے ٹھیک کام کیا ہوتا تو شریعت کے متن سے حکومتی قوانین استخراج کرتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اب جب اسلامی ممالک نے اسلام کی طرف بازگشت کی ہے تو وہ مجبور ہوئے ہیں کہ اسلامی متون کا رخ کریں۔قانون اور فقہ کے مابین عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔[یعنی دونوں میں کچھ چیزیں مشترک ہیں اور کچھ غیر مشترک]۔
مثلاً عبادات قانون کی جدید اصطلاحات سے باہر ہیں، فقہ اور قانون میں آج کی اصطلاح میں ایک مادہ افتراق ہے تو ایک مادہ اجتماع۔
مدنی جزائی قوانین عیناً فقہ اسلامی میں آتے ہیں۔ رائج قانون جو زمان و مکان میں محدود ہوتے ہیں شریعت میں ان کا ذکر نہیں۔ عناوین فقہ تین طرح کے ہیں:
۱۔ عناوین اولیہ: یہ وہ عناوین ہیں جن کا متن آیات و روایات میں آیا ہے اور حکم مشخص ہے مثلاً قتل عمد اورشبہ قتل عمد وغیرہ۔
۲۔ عناوین ثانویہ: یہ قواعد عامہ کے تحت آتے ہیں، ان کی مثال، ضرر اور حرج کے قواعد ہیں۔
۳۔ عناوین ولائی یا عناوین سلطانیہ:ان سے مدنی قوانین مراد ہیں۔ حکومتیں اپنی رعایا کی مصلحت یا مفسدہ دیکھ کر اس سلسلے میں قانون سازی کرتی ہیں۔
پہلی قسم کے قوانین میں سے مدنی جزائی قوانین متون آیات و روایات سے استخراج کرتے ہیں۔ ان قوانین کو قانون کی زبان میں بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں فقہی معیارات کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔
عناوین ثانویہ کے لیے قوانین بناتے ہوئے پوری توجہ رکھنا چاہیے کہ جس کا مصداق متعین نہیں اس کا درست مصداق متعین ہو۔
تیسری قسم کے قوانین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے ہوں جو شریعت کی نظر میں قابل قبول ہوں اور شریعت کے دائرے کے اندر اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ شریعت ہمارے ملک میں نافذ ہو تو فقہ میں توسیع ضروری ہے۔ اس وقت تک فقہ کے پچاس ابواب ہیں، اس میں ہمارے ہاں کام ہورہا ہے اور بیس نئے ابواب کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں تعلیم و تربیت، طبابت، ماحولیات، سماجی نظام وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرا کام قواعد عامہ میں توسیع کا پیدا کرنا ہے۔ عمومی قواعد مثلاً ضرر، حرج وغیرہ کے ساتھ نئے قواعد کی ضرورت پیش آئی ہے۔ قبل ازیں اس پر شہید باقر الصدر نے کام کیا تھا۔ ان کی کتاب اقتصادنا کی مثال دی جاسکتی ہے۔
فقہ و قانون کی فلاسفی پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر ہمارے ہاں تحقیق جاری ہے۔
اجتماعی زندگی اور سوشل سائنسز کے حوالے سے جو نئے مسائل پیش آ رہے ہیں ان میں بھی فقہ و قانون کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ایسے فقہا موجود ہیں جو رائج فقہی فریم ورک میں توسیع پر نہ فقط سوچتے ہیں بلکہ کام بھی کررہے ہیں۔ تاہم بعض ایسے عناوین ہیں جن پر اگر اس سے بھی پہلے زیادہ غوروفکر کر لیا جائے تو نئے آفاق روشن ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور فہم شریعت میں توسیع پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں فطرت، عرف، مصلحت، وغیرہ، جیسے عناوین سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر اصول فقہ کے تصور اور قواعد میں توسیع پر کچھ اذہان قائل ہو چکے ہیں تو انھیں ان عناوین پر غوروفکر ضرور کرنا چاہیے۔ تاہم یہ ہماری طرف سے کوئی نئی بات نہیں بلکہ ان میں سے بعض موضوعات پر بعض علما خاصا غوروفکر کر چکے ہیں۔ بعض نے اس حوالے سے کتابیں بھی لکھی ہیں۔
استاد جعفر سبحانی جو عصر حاضر کے ایک بڑے فقیہ ہیں انھوں نے ’’نقش زمان و مکان در استنباط‘‘ کے زیر عنوان ایک فکر انگیز مقالہ سپرد قلم کیا ہے۔ اس میں انھوں نے انیس ایسی احادیث نقل کی ہیں جو حکم کو زمان و مکان اور دیگر شرائط سے مربوط قرار دیتی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری بحث فقط عقلی نہیں بلکہ نقلی تائیدات بھی رکھتی ہے۔ ان احادیث کا نتیجہ وہ چار نکات کی صورت میں پیش کرتے ہیں:
۱۔ اگر حکم کا تعلق حکومت سے اور رسول اللہؐ کی معاشرے پر ولایت سے ہو اور مقصد معاشرے کے نظم کوچلانا اور اس کے مصالح کی حفاظت کرنا ہو تو ایسا حکم اس حکم شرعی سے مختلف ہے جو اللہ کی طرف سے جبریل لائے ہوں، بلکہ ایسا حکم وقتی ہو گا جسے معاشرے کے مصالح و مفاسد کے پیش نظر بنایا گیا ہو۔
۲۔ بعض اوقات حکم میں تبدیلی اس حکم کے معیار اور پیمانے کے بدل جانے اور نئے معیار اور پیمانے کے وجود میں آجانے سے ہوتی ہے۔
۳۔ بعض اوقات ایک ایسا عنوان پیدا ہو جاتا ہے جو حرمت رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے حکم میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔
۴۔ بعض اوقات معیارِ حکم وسیع ہوتا ہے، یعنی کسی ایک زمانے میں حکم کا معیار ایک چیز ہوتی ہے اور پھر کوئی دوسری چیز بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
فکری وسعت کا سراغ ہمیں گذشتہ ادوار میں بھی بہت سے علما کے ہاں دکھائی دیتا ہے چند مثالیں ہم ذیل میں استاد سبحانی ہی کے مذکورہ مقالے سے نقل کرتے ہیں:
ابن قیم جوزی(م۷۵۱ھ):انھوں نے اپنی ایک کتاب میں ایک عنوان قائم کیا ہے: ’’زمان، مکان، اموال، محرک اور منافع کی تبدیلی سے فتویٰ کی تبدیلی‘‘۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ اس فصل کے بہت سے فائدے ہیں اور اس سے لاعلمی شریعت کے بارے میں بہت سے شبہات کا باعث بنتی ہے جس کا نتیجہ حرج مشقت اور ناقابل برداشت فرائض یا ذمہ داریوں کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ درخشاں شریعت کہ جس نے بلند ترین درجہ کی مصلحتوں کو ملحوظ رکھا ہے، اس پر راضی نہیں کیونکہ شریعت اسلام کی بنیاد بندوں کی دنیا و آخرت میں مصلحت پر استوار ہے،وہ شریعت کہ جو سراسر عدالت، رحمت، مصلحت اور حکمت ہے، لہٰذا ہر وہ مسئلہ ، جو عدالت، رحمت، مصلحت اور حکمت سے خارج ہو اور ظلم، پسماندگی، فساد اور بیہودگی کا رنگ اختیار کر لے شریعت کا حصہ نہیں ہے۔
ابو اسحاق شاطبی(م۷۹۰ھ):وہ اپنی معروف کتاب الموافقات میں کہتے ہیں:’’شریعت کے احکام سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شارع نے بندوں کی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا ہے اور احکام کا دارومدار ان کی مصلحت پر ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چیز جو کسی زمانے میں مصلحت رکھتی تھی، جائز ہو گئی اور دوسرے زمانے میں جب اس کی مصلحت ختم ہو گئی تو ممنوع ہو گئی۔‘‘
ابن عابدین(م۱۸۳۶ء):علامہ محمد امین افندی جو ابن عابدین کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب مجموعہ رسائل میں لکھتے ہیں:
فقہی مسائل نص صریح کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں یا نوعی اجتہاد کے ذریعے۔ بسا اوقات مجتہد جو کچھ بیان کرتا ہے وہ اس کے اپنے زمانے کے عرف کے مطابق ہوتا ہے، اس طرح سے کہ اگر نیا عرف پیدا ہو جائے تو وہ اس کے خلاف بات کرے گا جو وہ پہلے کر چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے علما نے اجتہاد کی شرائط کے بارے میں کہا ہے کہ ضروری ہے کہ مجتہد لوگوں کی عادات و عرف سے آشنا ہو۔ اس لیے بہت سے شرعی احکام زمانے کے بدلنے سے اور لوگوں کے عرف کے بدل جانے سے یا کسی ضرورت کے پیدا ہو جانے سے یا لوگوں کے فاسد ہو جانے سے بدل جاتے ہیں۔ اس طرح سے کہ اگر حکم سابق اپنی قوت کے ساتھ باقی رہے تو لوگوں کے لیے مشقت اور نقصان کا باعث بنے گا اور ایسا ہونا ان شرعی قواعد کے خلاف ہے جو تخفیف اور آسانی پر مبنی ہیں نیزضرر و فساد کو دور کرنے پر استوار ہیں تاکہ معاشرے کا نظم بہترین شکل اور برترین قانون کے ساتھ چلایا جاسکے۔ یہی سبب ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکابر مذہب بہت سے مواقع پر کسی مجتہد کے ایسے حکم کی مخالفت کرتے ہیں جو اس نے اپنے زمانے کی شرائط کے ساتھ تصریح کرتے ہوئے بیان کیا ہو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ مجتہد بھی ان کے زمانے میں رہ رہا ہوتا تو وہ اپنے مذہب کے قواعد کی روشنی میں ان ہی کی طرح سے بات کرتا۔
ایسے اقوال ہم بہت سے اکابر مذہب اور علما و فقہا کی کتب سے نقل کر سکتے ہیں۔ یہاں چند اقوال نمونے کے طور پر ذکر کیے گئے ہیں۔ ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بہت سے علما و فقہا کے نزدیک زمان و مکان کے تبدیل ہو نے سے، عرف کے بدل جانے سے اور لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر نئے مصالح و مفاسد سامنے آنے کی وجہ سے حکم کی تبدیلی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ ہماری رائے میں اگر ان عناوین کو بہتر طور پر زیر بحث لایا جائے تو اسلامی قانون سازی کے تصور میں عصری اور زمینی تقاضوں کی روشنی میں وسعت کے بہت سے امکانات سامنے آجاتے ہیں۔
قرآن و سنت کے فہم کے حوالے سے بھی رائج اصولوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اور دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کوئی حکم زمانی اور زمینی قید سے مربوط تو نہیں۔ مولانا مودودی اس حوالے سے لکھتے ہیں:
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی(م۱۹۷۹ء)
’’انسانی زندگی کے معاملات میں سے ایک قسم کے معاملات وہ ہیں جن میں قرآن اور سنت نے کوئی واضح اور قطعی حکم دیا ہے، یا کوئی خاص قاعدہ مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کوئی فقیہ، کوئی قاضی، کوئی قانون ساز ادارہ شریعت کے دیے ہوئے حکم یا اس کے مقرر کیے ہوئے قاعدے نہیں بدل سکتا لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان میں قانون سازی کے لیے کوئی مجالِ کار ہے ہی نہیں۔ انسانی قانون سازی کا دائرہ عمل ان معاملات میں یہ ہے کہ سب سے پہلے ٹھیک ٹھیک معلوم کیا جائے کہ حکم فی الواقع ہے کیا؟ پھر اس کا منشا اور مفہوم متعین کیا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ یہ حکم کن حالات اور واقعات کے لیے ہے۔ پھر عملاً پیش آنے والے مسائل پر ان کے انطباق کی صورتیں اور مجمل احکام کی جزئی تفصیلات طے کی جائیں اور ان سب امور کے ساتھ یہ بھی مشخص کیا جائے کہ استثنائی حالات و واقعات میں ان احکام و قواعد سے ہٹ کر کام کرنے کی گنجائش کہاں کس حد تک ہے ۔ ‘ ‘
( مودودی ، ابوالاعلیٰ: تفہیمات حصہ سوم(لاہور،اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ،ستمبر۱۹۶۹)ص۹و۱۰)
نصوص و ظروف کا باہمی تعلق
سطور بالا سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ عموماً علماے کرام نصوص کی تعبیر کرتے ہوئے ظروف اور حالات و شرائط کو ملحوظ رکھنے کے قائل ہیں۔ اگرچہ بعض افراط پسند افراد کے نزدیک نصوص پر غوروفکر بھی اجتہاد بمقابلہ نص قرار دیا جاتا ہے تاہم اس سلسلے میں غوروفکر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ راقم نے اس حوالے سے اپنے رسالے ’’ترکی میں احادیث کی جدید موضوعی تدوین‘‘ میں چند نکات غوروفکر کے لیے پیش کیے ہیں یہاں انھیں موضوع کی مناسبت سے دہرانا مفید رہے گا:
(۱) ہر مخاطِب کو بات کرتے ہوئے اپنے مخاطبین اوّلین جن سے وہ بلا واسطہ خطاب کررہا ہوتا ہے، کے درجہ فہم و علم کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ لہٰذا کسی کی بات، قول یا حدیث سمجھنے کے لیے مخاطبین اوّلین کے درجہِ فہم و علم کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(۲) ہرزبان ایک خاص دور میں، ایک خاص مرحلے میں ہوتی ہے۔ زبانیں بدلتی رہتی ہیں۔ زبانوں کو بھی زمان و مکان کے تقاضوں سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
(۳) بعض اوقات ایک بات کا مخاطب ایک شخص ہوتاہے،بعض اوقات متعدد افراد، بعض اوقات ایک دور کے تمام افراد اور بعض اوقات ہر دور کے افراد۔ نصوص کو سمجھنے کے لیے اُن کے مخاطبین کا تعین ضروری ہے۔
(۴) گاہے حکم مشروط ہوتا ہے۔ شرط کے ختم ہونے سے حکم ختم ہوجاتا ہے۔
(۵) گاہے کسی حکم میں ایک دور سے آگے بڑھنے کی داخلی صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔
(۶) مختلف سطح کے فہم و علم کے مخاطبین کو بعض اوقات ایک ہی سوال کا مختلف جواب دیا جاتا ہے۔
(۷) معاشرے کے ارتقا کا کام مرحلہ بہ مرحلہ ہوتا ہے۔ سماج کو پہلے سے دوسرے مرحلے میں لے جانے کے لیے جو قانون تجویز کیا جاتا ہے ضروری نہیں کہ دوسرے سے تیسرے مرحلے میں لے جانے کے لیے بھی وہی قانون تجویز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے روحِ قانون یا مقصدِ قانون کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(۸) انسانی معاشرے میں بدل جانے والے اور نہ بدلنے والے دونوں طرح کے امور ہوتے ہیں۔ تغیروتبدل کے ساتھ قانون کا جمود ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔
ایسے تمام نکات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’نصوص‘‘ میں زمان و مکان کا کوئی تقاضہ ملحوظ نہیں رکھا گیا؟ گویا نصوص تاثیرِ ظروف سے مبرا ہیں؟ جبکہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح نصوص میں ایسے دائمی اورآفاقی عناصر موجود ہوتے ہیں جو روحِ دین کی حیثیت رکھتے ہیں، ہمیں اپنے سماج کو ان کی روشنی میں آگے بڑھانا چاہیے۔ انبیا کرامؐ کی الٰہی تعلیمات انسانی معاشرے کے لیے کمال و فضیلت کی راہ متعین کرتی ہیں۔ قرآن و سنت انہی تعلیمات کے امین ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے ظروف کو انہی تعلیمات کے دائمی و سرمدی عناصر کی روشنی میں سنوارنے اور نکھارنے کی ضرورت ہے۔
جو فقہا بابِ اجتہاد کے کھلا ہونے کی وکالت کرتے ہیں وہ ایسے ہی دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ اجتہاد کو زندہ اورمتحرک رکھنے کے لیے ان نکات کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ نص پر ہر پہلو سے غور وفکر کرکے اپنے لیے اوراپنے دور یا علاقے کے لیے پیغام اخذ کرنا اجتہاد بمقابلہ نص نہیں بلکہ اجتہاد لفہم النص ہے۔ نص کو سمجھنے کی کوشش عین منشا ے اجتہاد ہے۔
اس وقت تک ہماری تمام بحث رائج طریق استنباط کی حدود کے اندر ہے لیکن اگر اس سلسلے میں بات مقاصد بعثت انبیا سے شروع کی جائے تویقیناً بات کے نئے زاویے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عملاً قانون سازی کی حدود کو دیکھا جائے تو منصوص احکام کا دائرہ خاصا محدود دکھائی دیتا ہے۔ پھر ممکن ہے کہ جسے ایک فقیہ نص کہتا ہو دوسرا اسے ظاہر کہے، اس طرح بحث کے نئے زاویے پیدا ہو جاتے ہیں۔
اس بحث کو ایک نئے زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔عموماً فقہا یہ کہتے ہیں کہ تمام ادیان و مذاہب میں نکاح و طلاق کے جو قوانین رائج ہیں ان کے نتیجے میں ہونے والا نکاح جائز ہے اور طلاق بھی اسی طرح سے جائز قرار پائے گی۔ دنیا بھر میں نکاح کے مختلف رسم ورواج اور قوانین کے مطابق بننے والے جوڑوں کی اولاد کو حلال ہی شمار کیا جائے گا۔کیا اس نظریے کو رسم و رواج اور قوانین کے دیگر پہلوؤں تک بھی سرایت دی جاسکتی ہے؟ایسے فقہابھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کو وہاں کے قوانین کی پابندی کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان ممالک کی عدالتوں کے فیصلے بھی انھیں قبول کرنا ہوں گے۔ اس فتوے کی بازگشت کہاں تک ہے، اس پر گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔دنیا میں 180کے قریب ممالک کے اپنے اپنے قانونی ڈھانچے موجود ہیں۔ عالمی قوانین اور معاہدے اس کے علاوہ ہیں۔ ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں پیش نظر موضوع پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔
آخر میں ہم معاصر دانشور جناب عمار خان ناصر کی ایک تحریر سے ایک اقتباس نقل کرکے اجازت چاہتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ نے انبیا کی شریعتوں کے مختلف ہونے کا ایک بنیادی اصول یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کی مالوف عادات اور اخلاقی تصورات سے بالکل ہٹے ہوئے احکام و قوانین کا پابند نہیں بناتا جنھیں قبول کرنا لوگوں کے لیے ذہنی طورپر ممکن نہ ہو۔ اس لیے ہر پیغمبر اپنی قوم کے رسوم و روایات اور عادات و مالوفات کو ہی مادہ تشریع بناتے ہوئے ان میں صرف ضروری اصلاحات کرتا اور رسوم وقوانین کے پہلے سے موجود ڈھانچے کو ہی اپنی تائید اور مناسب اضافوں کے ساتھ بطور شریعت جاری کر دیتا ہے۔‘‘

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...