مولانا مفتی محمود کے سیاسی و معاشی افکار معاصر تاریخ کا ایک گم شدہ ورق

566

ڈاکٹر قبلہ ایاز پاکستان نظریاتی کونسل کے سربراہ ہیں۔وہ ملک کی معروف علمی شخصیت اور مذہبی اسکالر ہیں۔سیاست، مذہب،سماج اورتاریخ ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ وہ جدید مذہبی ، سماجی اور سیاسی افکار و نظریات سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ ان کے کئی تحقیقی مقالہ جات معروف تحقیقی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں اور متنوع سماجی و مذہبی موضوعات پر ملک و بیرون ملک منعقدہ کانفرنسز اور سیمینارز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔انہوں نے پشاور یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔ان کا حالیہ مضمون جمعیت علماے اسلام کے رہنما مولانا مفتی محمود، جو صوبہ سرحد(موجودہ خیبرپختونخوا) کے وزیرِ اعلیٰ بھی رہے، کے سیاسی ومعاشی افکار وخیالات کا احاطہ کرتا ہے۔مذہبی حلقوں میں امڈ آنے والی مذہبی شدت پسندی ، سیاسی افراتفری اور بعض انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں غیر آئینی اقدامات کی کوشش کے اس ماحول میں ماضی کے معروف مذہبی سیاسی رہنما کے معتدل افکارو نظریات کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ڈاکٹر قبلہ ایاز کا یہ مضمون’ تجزیات‘ میں شامل کیا جارہا ہے۔

مولانامفتی محمود مرحوم پاکستان کے ماضی قریب کی ایک انتہائی اہم سیاسی اور دینی شخصیت کے طورپر متعارف ہیں۔ آپ کے سیاسی، معاشی اور دینی افکار پاکستان کے علما، طلبہ اور ملک کے دیگر طبقوں کے ایک بڑے حصے کے فہم اسلام کے حوالے سے ان کے قلوب و اذہان پر گہرے نقوش مرتب کر چکے ہیں، جس کے اثرات پاکستانی سیاست میں بھی منعکس ہوتے رہے ہیں۔
مفتی محمود مرحوم1919ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قصبہ پنیالہ میں ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ میں داخلہ لیا اور 1934ء میں دسویں جماعت کا امتحان اسی سکول سے پاس کیا۔ اس کے بعد دینی علوم کی تحصیل کی خاطر دیوبند، سہارنپور اور مراد آباد میں اپنے وقت کے مشہور ومعروف دینی مدارس میں جید علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ درس نظامی کے نصاب کے مطابق حصول علم کے مجوزہ مراحل کی تکمیل کے بعد آپ 1941ء میں وطن واپس لوٹے۔
تقسیم ہند سے قبل کا وہ زمانہ جس میں مولانا مفتی محمود پیدا ہوئے اور ان کی ذہنی وفکری تشکیل ہوئی برصغیر ہندوستان کا ایک فیصلہ کن سیاسی دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہندوستان کے اوپر فرنگی تغلب کی مضبوط گرفت کمزور ہونے لگی تھی تاآنکہ یہ صورت حال ہندوستان کے بٹوارے پر منتج ہوئی اور اگست 1947ء میں بھارت اور پاکستان دونئے ملکوں کے طورپر دنیاکے نقشے پر ابھرآئے۔
1947ء میں پاکستان بننے کے بعد اس نوزائیدہ ملک کے آئینی، سیاسی، انتظامی اور اقتصادی معاملات تسلسل کے ساتھ عدم استحکام کا شکار رہے۔ پاکستان کے حوالے سے یہ بات یادرکھنے لائق ہے کہ اس کے قیام کا اصل جذبہ محرکہ جو بھی ہولیکن عوامی سطح پر مسلمانان ہند کے لیے ہندوستان کی تقسیم میں سب سے اہم کردار’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ‘‘ کے شدید جذباتی نعرے کا رہا۔ جب پاکستان وجود میں آیا توکچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ ملک میں اسلامی قانون ونظام کی کیا شکل ہوگی اور اسے کیسے نافذ کیا جائے گا؟ اس حوالے سے کئی ایک مکاتب فکر سامنے آئے۔ مختلف مکاتب فکر فکری حوالے سے پاکستان کے نظم مملکت کی جہت کے تعین کے لیے اپنے اپنے مؤقف قوم کے سامنے پیش کرتے رہے اور ان کی تنظیمیں اپنے اپنے افکار کی نشرواشاعت کے لیے بھرپور فعالیت کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ مذہبی حوالے سے ان میں تین جماعتیں زیادہ نمایاں رہیں یعنی، جمعیۃ علما پاکستان، جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی ۔ ہمارا یہ مضمون، تاہم فکری رجحانات کی حامل جماعتوں کے عمومی جائزے سے متعلق نہیں بلکہ اس کے صرف اس پہلو تک محدود ہے جس کا تعلق مولانا مفتی محمود مرحوم کے افکار ونظریات سے ہے۔
مولانا مفتی محمود پاکستان کے قیام سے قبل ہی سے سیاسی امور میں دلچسپی لیتے رہے اور1937ء میں جمعیۃ علماہند کی رکن سازی کی مہم میں شریک رہے۔ جمعیۃ علما ہند تقسیم ہند کے مطالبے کے ساتھ متفق نہ تھی۔پاکستان بننے کے بعد بھی مولانا مفتی محمود کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، جس کے لیے آپ نے دیوبندی فکر کی حامل جماعت جمعیۃ علمااسلام کا انتخاب کیا۔ 1952ء میں آپ جمعیۃ علما اسلام کے تنظیمی اجتماع میں شریک ہوئے اور 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں سرگرم حصہ لینے کی پاداشمیں جیل گئے۔1962ء میں انفرادی حیثیت میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ یہ جنرل ایوب خان کی صدارت کادورتھا۔ اسمبلی میں قانون سازی کے دوران آپ نے عائلی قوانین اور دیگر خلاف اسلام آئینی بلوں پر بحث مباحثے کے دوران زوردار انداز میں اسلامی موقف پیش کیا۔ ان مباحث کی بدولت مولانا مفتی محمود مرحوم کی عزت وحترام میں اضافہ ہوتا گیا۔
مولانا صاحب کی بھرپور سیاسی فعالیت کا عہد تاہم 1968ء سے شروع ہوتا ہے۔ جب آپ اسی سال مئی کے مہینے میں جمعیۃ علما اسلام کے ناظم عمومی منتخب ہوئے۔ دراصل اس کے بعد آپ کے سیاسی ومعاشی افکار زیادہ تفصیلی صورت میں سامنے آئے اور جماعت کی سمت اور جہت کا زیادہ واضح انداز میں تعین ہوا۔ اس دوران لاہور میں جمعیۃ علما اسلام کے زیر اہتمام جماعت کے ایک کل پاکستان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی محمود صاحب نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں امریکی سفیر فارلینڈ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدرکر دیا جائے۔یہ وہ دورتھا جب دنیا کے اکثر ممالک یاان کے اندر جماعتیں واضح طورپر دوعالمی طاقتوں (امریکہ اور روس) میں کسی ایک کے زیر اثر تھے۔ مفتی صاحب کے اس اعلان سے عالمی سیاست میں مولانا مفتی محمود اور ان کی جماعت کے رجحانات زیادہ نمایاں صورت میں قوم کے سامنے آئے۔ اس سے قبل بھی عالمی امور کے حوالے سے مفتی صاحب اور ان کی جماعت کے طرز عمل کا کوئی گوشہ غیر واضح نہیں تھا۔ اس وقت مصرکے صدر جمال ناصر اور لیبیا کے قائد کرنل قذافی کے لیے آپ اور آپ کی جماعت کی واضح حمایت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دونوں عالمی رہنما اپنے خطے میں امریکی استعمار کے اثرورسوخ کے مخالفین کے طورپر سرفہرست تھے۔ مفتی صاحب اور ان کی جماعت کا یہ مؤقف عام مذہبی حلقوں سے مختلف تھا جن کے نزدیک صدر ناصر اور کرنل قذافی قوم پرستی کے علمبردار تھے، جوان حلقوں کے مطابق اسلامی طرز سیاست کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھی۔
ملک کے اندرونی معاملات کے حوالے سے بھی مولانا مرحوم اور ان کی جماعت کے سیاسی ومعاشی افکار اسلام کے نام پر کام کرنے والی دوسری جماعتوں سے مختلف تھے۔ اسلام کے بارے میں ایک عرصے سے یہ تأثر پھیلایا جاتا رہا کہ یہ استحصالی طبقے، یعنی زمینداروں اور سرمایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے والا مذہب ہے اور یہ کہ مولوی لوگ اسی طبقے کے مفادات کے محافظ ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض مذہبی افراد کے کردار نے اس قسم کے تأثر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، لیکن وہ اسلام کی اصل تعلیمات کے نمائندے نہیں تھے۔ مولانا مفتی محمود نے اپنے افکار اور کردار کے ذریعے اس قسم کے تأثر کو زائل کرنے کی بھرپورکوشش کی اور اسلام کی حقیقی تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش کرکے ان کو یہ باور کرایا کہ اسلام استحصال نہیں بلکہ عدل اجتماعی کا علمبردار ہے۔
مفتی صاحب کی ان کوششوں کا نتیجہ تھا کہ معاشرے کے مزدور اورمحروم طبقات کی ایک معتد بہ تعداد نے �آپ کی قیادت کو تسلیم کیا۔ مزدوروں کے حقوق کی علمبردار جماعت لیبرپارٹی کے ساتھ1969ء میں مفتی صاحب کی جماعت کا باقاعدہ معاہدہ آپ کے معاشی افکار اور رجحانات کا واضح مظہر تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ لیبرپارٹی کو اس وقت کی سیاسیات میں بائیں بازو کی جماعت سمجھا جاتا تھا اور مفتی صاحب کی جماعت کے علاوہ دیگر قابل ذکر مذہبی جماعتیں بائیں بازو کی جماعتوں کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی تھیں۔ مفتی صاحب کے اس معاہدے کی وجہ سے ان کی جماعت کا یہ فکری پہلو عملی صورت میں سامنے آیا کہ وہ عوام کے معاشی حقوق کی بازیافت کی کوششوں میں محروم طبقات کے ساتھ شریک کار ہیں۔اگر آج سے نصف صدی پہلے کے ملکی حالات کو ذہن میں لایا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس وقت محنت کشوں اور غریب طبقات کی ایک بڑی تعداد اشتراکی نظام کو اپنے مسائل کا حل سمجھتی تھی اور مذہبی طبقے کے بعض سیاسی گروہوں کے رویے سے شاکی تھی۔ لیکن مفتی صاحب اور ان کی جماعت نے اپنے عمل سے ان کو اشتراکیت کی گود میں جانے سے بچانے کے لیے اپنا مقدور بھر کردار ادا کیا۔ اگر تاریخی تناظر کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسیحی دنیامیں مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے رجحان کے فروغ میں اہم ترین عوامل میں ایک بڑا عامل ان کے مذہبی زعماکا وہ رویہ تھا جس کے مطابق انہوں نے عوامی امنگوں کے برعکس اشرافیہ کی حمایت کی۔مفتی صاحب کو ان تاریخی حقائق کا بخوبی ادراک تھا جس کی وجہ سے انہوں نے شناخت سے محروم طبقات کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا اور ان کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں ابہام سے بچایا۔
مولانا مفتی محمود آزادی تحریر وتقریر، طبقاتی عدل، معاشی انصاف اور اس کے علاوہ دیگر بشری و جمہوری حقوق کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاء الحق تک کے مختلف ادوار میں آپ نے ان کے آمرانہ طرز حکومت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی اور ایوان نمائندگان کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کے لیے زبردست آواز اٹھائی۔ایوب خانی دورآمریت میں جمہوری مجلس عمل اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومی اتحاد میں�آپ کا کردار انہی مقاصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل تحریک بحالی جمہوریت (ایم آرڈی) کے قیام کے لیے آپ کی سرگرمیاں بھی بشری و جمہوری حقوق کے ساتھ آپ کی وابستگی کے اظہار کا مظہر ہیں۔
سیاست اور معیشت کے حوالے سے مفتی صاحب کے افکار کے بارے میں اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے نظریات تاریخی تسلسل کی حامل ایک مربوط فکری زنجیر کا حصہ تھے۔مفتی صاحب کی فکری تشکیل کے مراحل کا جائزہ لیتے وقت اس ماحول کا مطالعہ خاصی اہمیت کا حامل ہے جس میں آپ نے تعلیم حاصل کی اور تربیت پائی۔ آپ کی پیدائش ایک ایسے اعلیٰ علمی گھرانے میں ہوئی جس کا اوڑھنا بچھونا درس وتدریس اور تعلیم وتعلم تھا۔ انہی خاندانی اثرات کے تحت آپ کو15 سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند اور س کے زیر اثر دینی مدارس میں حصول تعلیم کے لیے بھیجا گیا۔ ان اداروں کے مقاصد میں یہ بات شامل تھی کہ ایسے افراد پیدا کیے جائیں جو اسلامی علمی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ برطانوی استعمار سے استخلاص وطن کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں۔ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد1867ء میں مولانا محمد قاسم نانوتوی(متوفی1879ء)اور مولانا رشید احمد گنگوھی (متوفی1905ء) نے چند دیگر حریت پسند علما کے ساتھ مل کررکھی تھی۔ یہ وہ علما تھے جنہوں نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (متوفی1899) کی قیادت میں فرنگی سامراج کے خلاف 1857ء کی عظیم قومی مقادمت میں عملی حصہ لیا تھا اور ضلع مظفرنگر کے شاملی نامی مقام پر اپنی آزاد حکومت قائم کی تھی۔
اس دارالعلوم کے پہلے طالب علم مولانا محمود حسن(متوفی1920ء) تھے جو بعد میں اسی مدرسہ میں بطور مدرس تعینات ہوئے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی میں انہوں نے خاصا اہم کردار ادا کیا۔ یاغستانی یعنی افغان سرحدات کے ساتھ متصل قبائلی ہندوستانی علاقوں بالخصوص سمست اور چمرکنڈ میں مصروف عمل مسلح سرگرمیوں کے لیے آپ ہی چند دیگر قومی رہنماؤں کے ساتھ مل کر رقوم اور سامان حرب و ضرب کی بہم رسانی کا انتظام کیا کرتے تھے۔آپ ہی نے اپنے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی (متوفی1944ء) کو 1915ء میں افغانستان بھیجا جبکہ خود اسی سال حجاز منتقل ہوگئے، تاکہ ترکی کی خلافت عثمانیہ اور افغان امیر کا تعاون حاصل کرکے ہندوستان کو بدیسی استعمار سے آزاد کرایا جائے۔ ان کی یہی جدوجہد بعد میں تحریک ریشمی رومال کی صورت سامنے آئی جس کی اطلاع برطانوی حکومت کو ملی اور یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ مولانا محمود حسن گرفتار کرلیے گئے۔ انہیں فروری 1917ء میں جزیرہ مالٹا میں پابندسلاسل کردیا گیا جہاں وہ جون1920ء تک قیدرہے۔ اسی سال وطن واپسی پر آ پ کو استخلاص وطن کے لیے بھرپور جدوجہد کرنے کے اعتراف کے طورپر شیخ الہند کا خطاب دیا گیا۔
1920ء میں شیخ الہند کی وفات کے بعد دیوبندی فکرکی ترجمانی جمعیۃ العلما ہند کے جید علما کرتے رہے، جن میں مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اور مولانا احمد سعید دہلوی جیسے بزرگ شامل تھے۔ تاہم ان میں مولانا مدنی سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ شیخ الہند کے انتہائی قریبی ساتھی تھے اور مالٹا میں ان کے ساتھ قید وبند ی کی صعوبتیں برداشت کرچکے تھے۔ آپ کی حریت پسندی کی وجہ سے انگریزوں نے آپ کو 1921ء میں ایک تقریر کی پاداش میں دو سال تک کراچی جیل میں رکھا،کیونکہ آپ نے فتویٰ دیا تھا کہ فرنگی حکومت کی پولیس اور فوج میں ملازمت حرام ہے اور یہ کہ انگریزوں کے ساتھ ترک موالات کیا جائے۔
مولانا مفتی محمود جوانی میں انہی آزادی خواہ علما کے ہم عصر رہے اور حریت اور استخلاص وطن کے لیے ان کی جدوجہد اور قربانیوں سے متاثر ہوئے۔ بعد میں اس قسم کے اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔
عالمی معاملات اور معیشت واقتصاد کے حوالے سے دیوبندی فکر کی جہت کے تعین میں مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی (متوفی1962ء) کے نام بہت معروف ہیں۔1917ء میں ریشمی رومال منصوبے کی راز افشا ئی کے بعد مولانا عبید اللہ سندھی نے بھی بالآخر 1922ء میں کابل چھوڑا اور روس اور پھر ترکی کی راہ لی۔ وہاں کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالات اس وقت زبردست شکست وریخت کے عمل سے گزر رہے تھے۔ روس میں پرانے سماج اور افکار کی جگہ اشتراکی افکار کو بالادستی حاصل ہوچکی تھی جبکہ ترکی میں1924ء میں عثمانی خلافت کے زوال کے بعد اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کو عروج حاصل ہوا تھا۔ترکی میں مذہب اور ریاستی معاملات کو دو الگ الگ حقیقتیں قرار دیا گیا تھا۔ ان حالات کا بچشم خود مطالعہ کرنے کے بعد مولانا سندھی نے حجاز کو اپنا مستقل مستقر بنایا ،جہاں آپ 1926ء سے لیکر1939ء تک مقیم رہے۔
روس، ترکی اور حجاز میں مسلسل غوروفکر کے بعد مولانا سندھی نے ہندوستان کے مستقبل کے نظام کے بارے میں ایک خاکہ ترتیب دیا۔ اس خاکہ میں اقتصاد ومعیشت کے حوالے سے مولانا سندھی کی سوچ خصوصی تجزیہ کی مستحق ہے۔ آپ نے نجی ملکیت کی تحدید کی حمایت کی اور نظام زمینداری کو مکمل طورپر کالعدم قرار دینا ضروری قرار دیا اور یہ کہ زمینوں کو ان افراد میں تقسیم کیا جانا چاہیے جو انہیں کاشت کرتے ہوں۔ کارخانوں کے نظام و آمدن میں مزدورں کو حصہ دار بنانے کی تجویز پیش کی۔ آپ نے پورپی اقوام سے مسلسل محنت کا سبق سیکھنے کی تلقین کی اور بتایا کہ جب تک ملک کی عام آبادی معاشی ترقی حاصل نہ کرے، سیاسی ترقی ناممکن ہے۔
مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اپنے وقت کے عظیم فقیہ تھے۔ اقتصادیات کا موضوع ان کی خصوصی دلچسپی کا میدان تھا۔ ان کی کتاب، اسلام کا اقتصادی نظام کو اس موضوع پر انتہائی وقیع علمی کاوش سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں مولانا سیوہاروی نے اپنے معاشی افکار کو قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور رسول اللہ ﷺ اور خلفاے راشدین کے تعامل کی روشنی میں انتہائی شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا ہے، جس کا ملخص یہ ہے کہ اسلام میں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہرشخص کی معاشی کفالت کے اصول کو عملی جامہ پہنائے اور ریاست کا کوئی شہری محروم المعیشت نہ ہو۔ نیز یہ کہ خلیفہ اورعمال حکومت، اور شہریوں کے اقتصادی حقوق میں یکسانیت ومساوات کے اصول پر کاربند رہنا لازم ہے۔
اسلام کے حوالے سے اس قسم کے معاشی افکار بالکل منفرد تھے کیونکہ عام طورپر مذہبی فکر سے منسلک لوگ اسلامی نظام کی تشریح وتوضیح کرتے وقت اس پہلو کا ذکر کرنے سے احتراز کرتے تھے، اس لیے کہ لاشعوری طورپر وہ اس معذرت خواہانہ احساس کا شکار ہوتے تھے کہ گویا یہ کہہ کر وہ اشتراکی فلسفے کی حمایت کے مرتکب ٹھہرائے جائیں گے۔
پیغمبرانہ تعلیمات وتعامل کی روشنی میں معاشی واقتصادی مسائل کے حوالے سے اس نوع کے ترقی پسندانہ افکارکے مجدد دراصل18ویں صدی کے نامور ہندوستانی ماہر عمرانیات اور سیاسی مفکر شاہ ولی اللہ دھلوی (1703تا1763) ہیں، جنہوں نے اپنی حیات کے دوران مغلیہ سلاطین کا زمانہ پایا اور اس دوران ہندوستانی سماج کی اتھل پتھل کا بچشم خود مشاہدہ کیا۔ آپ نے اپنے دور کے پس منظر کے حوالے سے نظام کو ازسرنو ایک متبادل دور رس اقتصادی خاکے کی اساس پر ترتیب دینے کی تجویز پیش کی، جس میں بنیادی انسانی ضروریات مثلاً روٹی، لباس، رہائشی بندوبست، علاج اور تعلیم کو بلاتفریق مذہب، رنگ ونسل ہر فرد کا بنیادی حق قرار دیا ۔ نیز یہ کہ دولت کی اصل بنیاد محنت ہے۔ مزدور اور کاشت کار قوت کا سرچشمہ ہیں۔ جب تک کوئی ملک اور قوم کے لیے کام نہ کرے، ملک کی دولت میں وہ کسی حصے کا حقدار نہیں۔
شاہ ولی اللہ دھلوی کی فکر کی تفہیم و تشریح میں آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند شاہ عبدالعزیز دہلوی (1745تا1823) نے اہم کردار ادا کیا، جن کے ہم عصر مولانا رشید الدین دہلوی کے ذریعے یہ نظریات مولانا مملوک علی (متوفی1850) کو منتقل ہوگئے۔ مولانا مملوک علی کی خوشہ چینی کرنے والوں میں مولانا محمد قاسم نانوتوی (متوفی1879)، مولانا محمد یعقوب(متوفی1884) اور مولانا رشید احمد گنگوہی (متوفی1908) جیسے بزرگوں کے اسما ے گرامی نمایاں ہیں۔ انہی بزرگوں کی وساطت سے یہ فکری ورثہ مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا محمد میاں اور مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی جیسے نوابغ علما تک پہنچا۔ بعد میں دارالعلوم دیوبند اور اس کے ہم فکر دینی مدارس کے ذریعے اس فکر سے اہل علم کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی جن میں مولانا مفتی محمود مرحوم بھی شامل ہیں۔
سیاسی افکار کے حوالے سے یہاں پر ایک نکتے کا اضافہ کرنا مناسب ہوگا، اور وہ یہ کہ ریشمی رومال کے انقلابی منصوبے کے ذریعے استخلاص وطن کی کوشش کی ناکامی کے بعد شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا عبید اللہ سندھی نے مسلح جدوجہدکے بجائے دستوری، جمہوری اور پرامن تحریکات کے ذریعے وطن کی آزادی کا عَلم اٹھایا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے اسی سلسلے کو جاری رکھا اور فرنگی غلبے سے ہندوستان کی آزادی کی عدم تشدد پر مبنی تحریک کا حصہ رہے۔ مولانا مفتی محمود اسی روایت کے امین رہے اور پاکستان کے قیام کے بعد دستوری اور آئینی طریقِ جہد اپنایا۔ انتخابات اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول کا طریقہ جاری رکھا۔1971ء میں پاکستان دولخت ہوا اور باقی ماندہ پاکستان کے ایک وفاقی یونٹ (اس وقت صوبہ سرحد، اب خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ بلوچستان اور سرحد کے گورنروں کو برطرف کیا اور بلوچستان کی حکومت توڑ دی تو آپ نے احتجاجاً وزارت علیا سے استعفیٰ دے دیا۔ ناراض بلوچ عناصر نے ردعمل میں پہاڑوں کا رخ کیا، لیکن حضرت مفتی صاحب نے پرامن اور دستوری عمل کے ذریعے بھٹو کے خلاف تحریک کا راستہ اختیار کیا اور اپنے پیروکاروں کو اسلحہ اٹھانے اور تشدد کی راہ پر چلنے سے روکا۔ موجودہ وقت میں اگر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیاسی و معاشی حالات اور ترقی کی صورت حال کا تقابل کیا جائے تو انہیں 1973 کے بعدکے حالات سے الگ رکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔مولانا مفتی محمود نے اُس وقت کے صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں مزاحمت کے لیے عدم تشدّد اور پر امن و جمہوری راہوں کا انتخاب کیا، جبکہ بلوچ قائدین نے مسلح مزاحمت کو ترجیح دی۔
مولانا مفتی محمود مرحوم کی سیاسی فعالیت کا دور خاصا ہنگامہ خیز رہا اور معاصر دینی سیاست میں ان کے افکار و تعامل کا توجہ کے ساتھ مطالعہ روز افزوں اہمیت حاصل کر رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...