پروفیسروارث میر: دانش اور مزاحمت کی آواز

1,473

ڈاکٹر سید جعفر احمد سماجیات کے ممتاز اسکالر ہیں، اورجامعہ کراچی سے طویل عرصہ تک وابستہ رہے ، اس دوران سترہ برس تک وہ پاکستان اسٹڈی سنٹر جامعہ کراچی کے صدر نشین رہے۔ وہ پچیس کے قریب کتب کے مصنف ہیں۔ ان کے تدریسی موضوعات پاکستانی سیاست، وفاقیت، آئینی ارتقا، انسانی حقوق اور تعلیمی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ ایک متحرک سماجی رہنما ہیں اور ان کا زیرِ نظر مضمون بھی پاکستانی سماج کی آزادیوں پر قدغنون اور اہلِ حکم کی چیرہ دستیوں سے بیزاری کا اظہار ہے جس میں انہوں نے ماضی کے معروف صحافی پروفیسر وارث میر کی زندگی کے چند گوشوں کو بیان کیا ہے۔ اس مضمون میں ضیا الحق کے آمرانہ دورِ حکومت میں جمہوریت،انسانی آزادیوں اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد اور انسانی سما ج اور ریاستی ڈھانچے کی ایک خاص طرح کی رجعت پسندانہ صورت گری کے خلاف پروفیسر مرحوم کی مزاحمتی جدو جہد اور ان کی قربانیوں کے لیے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیاہے۔ غیر محسوس سول مارشل لا کے اس دور میں ان کا یہ مضمون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پروفیسر وارث میر ہمارے ملک کے ایک روشن خیال اور جراَت مند دانشور تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستگی میں گزارا۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات میں کالم نویسی بھی کرتے رہے۔ملکی سطح پر وہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئے جب ملک میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا دور دورہ تھا، اظہارِ رائے پر سخت پابندیاں عائد تھیں، لکھنے والوں کو بچ بچا کر اپنا مدعا بیان کرنا پڑتا تھا۔اس کے باوجود بہت سے اخبارات اور رسائل بند کیے گئے، صحافیوں کو عقوبت خانوں کی نذر کیا گیا ،یہاں تک کہ بعض صحافیوں کو کوڑوں تک کی سزائیں دی گئیں۔ یہی نہیں بلکہ دیگر جمہوری آزادیاں بھی ملک میں مفقود تھیں۔ مارشل لا کے ضابطے سکّہ رائج الوقت تھے ،سیاسی عمل پر پابندیاں عائد تھیں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جیلوں میں پڑی تھی یا جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھی۔ ایسے میں لکھنے لکھانے کی اگر کوئی تھوڑی بہت گنجائش موجود تھی تو اس سے استفادہ وہی لوگ کرسکتے تھے جن کو زبان و بیان پر قدرت حاصل تھی۔ جو اشاروں کنایوں میں گفتگو کرنے پر قادر تھے اور قطرے میں دجلہ دکھانے کا ہنر جن کو آتا تھا ۔ایسے باکمال لوگ ملک میں خال خال ہی تھے۔ پروفیسر وارث میر بھی ان میں شامل تھے۔
پروفیسر وارث میر صاحب کلاس روم میں طالبعلموں کے سامنے جو تجزیے پیش کرتے تھے، ان پر ان کی جامعہ کی طرف سے صرف حرفِ شکایت ہی بلند نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کو بعض انتہا پسند اساتذہ اور طلبہ کی طرف سے دھمکی آمیز رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اخبارات میں وہ جو کچھ لکھتے تھے وہ ہر چند کہ بہت بچ بچا کر لکھا جاتا تھا لیکن اس پر بھی ان کے گرد دائرہ تنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی تھی۔ سیمیناروں اور کانفرنسوں میں وہ نسبتاً زیادہ کھل کر اظہارِ خیال کا موقع تلاش کرلیتے تھے سو ان کی تقریریں اور تجزیے جو ایسے اجلاسوں میں پیش کیے جاتے تھے، بہت مقبول رہے۔ اس زمانے میں انہوں نے فوجی آمریت کے نظریاتی بیانیے کو منطقی استدلال کے ساتھ نشانہ بنایا اور اس کی فکری اساس کی کمزوری واضح کر کے دکھادی۔ ان کی اُس عہد کی تحریریں جو کئی کتابوں کی شکل میں مدون ہوچکی ہیں پاکستان کی سیاسی اور فکری تاریخ کا ایک قابلِ ذکر اثاثہ ہیں۔
پروفیسر وارث میر کچھ زیادہ نہیں جیے تھے۔ صرف 49سال کی عمر میں انہوں نے رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ لیکن وہ جتنا عرصہ بھی زندہ رہے اپنی موجودگی کا بھرپور مظاہرہ کرتے رہے۔ اُن کی عملی زندگی کا سارا دورانیہ ہی علم کی جستجو اور عملی جدوجہد سے عبارت تھا۔ تاہم ان دونوں میدانوں میں سرگرمی اور جوش وجنون کا جو عالم اُن کے آخری چند برسوں میں دیکھنے میں آیا وہ اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ 9جولائی1987کو جب اُن کا انتقال ہوا اُس وقت جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کا سورج نصف النہار پر تھا۔ وارث میر نے جنرل ضیا کے پورے دورِ اقتدار میں اپنے لیے جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کو مقصدِ اولین بنائے رکھا اور آخری وقت تک وہ اس پُرخار راستے پر دلجمعی کے ساتھ گامزن رہے۔ اپنے قلم سے اور اپنی تقریروں کے ذریعے انہوں نے اُس وقت کے غالب سرکاری نظریاتی بیانیے کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ تاریخ اور منطق کے ہتھیاروں سے اس بیانیے کے چیتھڑے بکھیر کر رکھ دیے۔ جنرل موصوف اور ان کے نظریاتی حواریوں نے آمریت کی پشت بانی کے لیے اسلامی تاریخ اور عہد وسطیٰ کے مسلمان فقہا کے خیالات کی من پسند تاویلات کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔ پاکستان میں تو روایتی علما اور سیاسی مذہبیت کی جَو یا جماعتیں اس مشن کی تکمیل کے لیے اپنی جملہ خدمات پیش کر ہی چکی تھیں، دوسرے ممالک سے بھی اس نوع کے دانشوروں کی درآمد کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ سو کبھی ڈاکٹر احمد توتنجی تشریف لاتے تو کبھی ڈاکٹر معروف دوالیبی مملکت خداداد میں قدم رنجہ فرماتے۔ کوشش سب کی یہی تھی کہ اسلامی نظام کے کسی ایسے ماڈل کی تشکیل کر دیں کہ جو اُس وقت کے آمرانہ نظام پر منطبق بھی ہو جائے اور اُس نظام کو مذہبی اور اخلاقی جواز سے بھی ہمکنار کر دے۔ چنانچہ پہلے قوانین کی اسلامائزیشن کی مشق ہوئی اور اُن کو مارشل لا کی چھتری کے تحت متعارف کرایا گیا، پھر آئین پر شب خون مارتے ہوئے اس کے اندر اسلام کے نام پر من پسند شقیں شامل کی گئیں، اس کے بعد معاشرے کو مشرف بہ اسلام کرنے کا عندیہ ظاہر کر کے ذرایع ابلاغ کے ذریعے آزادیوں کی حدود وقیود طے کی گئیں۔ پھر علوم وفنون کی باری آئی۔ فنونِ لطیفہ تو بڑی حد تک ناقابلِ قبول ہی قرار پائے۔ علوم کی البتہ اسلامائزیشن کا سلسلہ زور شور سے شروع ہوا۔ تب ’اسلامی سائنس‘ اور’ اسلامی ریاضی‘ کے انکشافات سے پُر مضامین معرض وجود میں آنے شروع ہوئے جن کو دیکھ کر سائنس اور ریاضی کے پیشہ ور ماہرین دم بخود رہ گئے۔ پاکستان کو بدقسمتی سے علم دشمنی اور جدید معاشرت کے تصورات سے دور لے جایا جا رہا تھا، تمدن کی نشوونما جن افکار اور اداروں کی مرہون منت ہوتی ہے، ان کے لیے مملکت کے دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ جمہور کے حقِ حکمرانی اور عوام کے جذبۂ خود شناسی کے تصورات کو ’مغرب کی بے راہ رو تہذیب‘ کا شاخسانہ قرار دیا جارہا تھا۔ ایسے ماحول میں جرأتِ انکار اور حرفِ حق کہنے کا حوصلہ جن لوگوں کا طرۂ امتیاز بنا، پروفیسر وارث میر اُن میں سر فہرست تھے۔ روزنامہ ’جنگ‘ نے انہی دنوں، لاہور سے اپنی اشاعت شروع کی تھی۔ وارث میر صاحب کے کالم اخبار میں ’نوید فکر‘ کے مستقل عنوان سے شائع ہونے شروع ہوئے۔اس سے پہلے اُن کے رشحاتِ فکر ’نوائے وقت‘ میں جگہ پاتے تھے، ان کے کالم دراصل اہم موضوعات پر فکر انگیز مضامین کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان مضامین میں پروفیسر صاحب کا عمیق مطالعہ، تجزیاتی ذہن اور معروضی زاویۂ نظر بآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ انہوں نے حکومتِ وقت کی سیاسی موشگافیوں ہی کی علمی سطح پر گرفت نہیں کی بلکہ مذہبی سیاست سے وابستہ حلقوں کے اٹھائے ہوئے نکات کا بھی مُسکت جواب دیا۔ وارث میر صاحب ان حلقوں کے نقطۂ نظر کے اندر موجود تضاد کی نشاندہی بھی کرتے اور دور جدید کی علمی ومادی بنیادوں کے مقابل ان حلقوں کی رجعت پسندانہ فکر کو بے نقاب کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے۔
ضیاء الحق کے ایما پر جب بعض علماے مذہب اور شرعی عدالت و سپریم کورٹ کے شریعت بینچ کے کچھ فاضل جج صاحبان نے قانون شہادت کے نام پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کو قانونی سند فراہم کرنا چاہی اور دورِ وسطیٰ کے تعزیراتی نظام کو اسلام کے احیا کا نام دے کر ملک پر نافذ کرنے کی شروعات کیں تو پر وفیسر وارث میر نے اس کی پرزور مزاحمت کی۔ جب عورت کی گواہی کو نصف قرار دینے کی بات چلی تو پروفیسر صاحب پورے علمی سازو سامان کے ساتھ میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تحقیق کے بعد کئی مضامین تحریر کیے جو بعد میں ’کیاعورت آدھی ہے؟‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ پروفیسر وارث میر کی ایک اور کتاب ’حرّیتِ فکر کے مجاہد‘ کے نام سے شائع ہوئی جس میں عالم عرب اور برصغیر میں خرد افروزی کی تحریک اور روشن خیال اہلِ فکر کی خدمات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان افکار اور تحریکوں سے ہم عصر پاکستان میں کس طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
پروفیسر وارث میر کے مرغوب موضوعات میں روایت اور جدیدیت کی کشمکش، تھیوکریسی اور سیکولرازم کی آویزش، تجدیدواحیاے دین کی تحریکوں کا نظریاتی وسماجی حدود اربعہ، مسلم معاشروں میں عقلی اور سائنسی فکر کے امکانات، پاکستان میں حقِ حکمرانی اور سلطانیِ جمہور کا مسئلہ، اور ایسے ہی دیگر فکر انگیز موضوعات شامل تھے۔ ان موضوعات پر اُن کے کالم مبسوط مضامین بلکہ مقالات کی حیثیت رکھتے تھے۔ حیرت بھی ہوتی تھی کہ وہ ہفتہ دس دن میں اچھے خاصے دقیق موضوعات پر تحقیقی نوعیت کے مضامین کس طرح قلم بند کر لیتے تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا موضوعات پر پروفیسر وارث میر کا نقطہ نظر روایتی اندازِ فکر رکھنے والوں سے یکسر مختلف ہونے کے باوجود دوقومی نظریہ کے حوالے سے اُن کی سوچ کا انداز ہمارے روایتی تاریخ نویسوں اور سرکاری نقطہ نظر سے بالکل جدا نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا موضوع تھا جس پر انہوں نے اپنی آزادانہ اور اجتہادی رائے قائم نہیں کی،یا ہوسکتا ہے کہ روایتی نقطہ نظر کی تائید انہوں نے آزادانہ سوچ بچار کے بعد ہی کی ہو۔ بہر حال دو قومی نظریے کے بارے میں ایک مختلف انداز فکر پروفیسر صاحب کے زمانے میں قدرے کم کم مگر بعد ازاں زیادہ باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ تاریخ دانوں کے حلقے میں قابلِ لحاظ قبولیت حاصل کرتا رہاہے۔ اس نقطہ نظر کی رو سے دو قومی نظریہ کوئی مستقل بالذات حقیقت نہیں، بلکہ ہندوستان کے ثقافتی تنوع کے حامل معاشرے میں مسلم اقلیت کے سیاسی تحفظ کے لیے وضع کردہ ایک نظریہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد قائد اعظم نے اپنی 11اگست1947کی دستور ساز اسمبلی کی تقریر میں ایک یکسر مختلف تصور پیش کیا جو نئی مملکت میں ایک واحد پاکستانی قوم کی تشکیل کا تصور تھا۔ پاکستانی قوم کے تصور کی نشاندہی کا مطلب یہی تھا کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی دو قومی نظریے کی سیاسی افادیت جو متحدہ ہندوستان کے تناظر میں اجاگر ہوئی تھی پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔
پروفیسر وارث میر نے ایک طویل عرصہ صحافت کے میدان میں گزارا۔ اس دوران وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ ان جیسی علمی قامت رکھنے والی شخصیت سے ہر طالب علم متاثر ہوتا اور ان سے تعلق پیدا کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے راقم السطور کو بھی اُن کی زندگی کے آخری زمانے میں اُن سے نیاز حاصل رہا۔ 1987میں کراچی یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈی سنٹر نے علامہ اقبال کے مشہورِ زمانہ خطبات پر ،جن کا ترجمہ سید نذیر نیازی مرحوم نے ’تشکیل جدید الہیاتِ اسلامیہ‘ کے عنوان سے کیا تھا، ایک تین روزہ کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں لاہور سے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر محمد عثمان اور ڈاکٹر مرزا محمد منور کے علاوہ، پروفیسر وارث میر بھی تشریف لائے جنہوں نے ’عصر حاضر کے تقاضے، اقبال اور اجتہاد‘ کے موضوع پر ایک پرمغز مقالہ پیش کیا۔ اس کانفرنس کے مقالات بعد ازاں سنٹر کی طرف سے کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے۔’اقبال: فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید‘ کے عنوان سے چھپنے والی اس کتاب کا ایک پائیریٹڈ ایڈیشن ہندوستان سے بھی شائع ہوا۔
ٍ یہ کانفرنس ذاتی طور پر میر ے لیے اس لحاظ سے بڑی فیض رساں ثابت ہوئی کہ اس میں تشریف لانے والے کئی اسکالرز کے ساتھ میرا رابطہ استوار ہو گیا۔ وارث میر صاحب ان میں اس لحاظ سے خاص طور پر قابلِ ذکر تھے کہ خود وہ بھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے اور ان کے ساتھ جلد ہی گھل مل جاتے تھے۔ میرا دو تین سال قبل ہی اپنے سنٹر میں لیکچرار کی حیثیت سے تقرر ہوا تھا۔ باہر سے آنے والے مہمانوں کی آمدورفت اور ان کے قیام سے متعلق ذمہ داریاں میرے ہی سپرد تھیں۔ یوں وارث میر صاحب کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کا موقع مل گیا، کانفرنس کے چند روز بعد وہ ایک مرتبہ پھر کراچی آئے تو خود فون کر کے مجھے اپنے پاس بلالیا۔ہم پورا دن کراچی میں کتابوں کی دوکانوں میں گھومتے پھرتے رہے۔ انہوں نے کچھ کتابیں خریدیں بھی۔ بہت سی کتابوں پر وہ دوکان میں کھڑے کھڑے ورق گردانی کے دوران اظہارِ خیال بھی کرتے رہے۔ صدر میں پاک امریکن کے نام سے ایک بڑی کتابوں کی دوکان اُس زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ وہاں سے نکلنے لگے تو دیکھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کا ایک جلوس ہندوستان میں مسلم کش واقعات پر احتجاج کرتے ہوئے چلا آرہا تھا۔ جلوس کو دیکھتے ہی جیسے وارث میر صاحب کے بدن میں بجلی سی کوند گئی۔ وہ تیزی سے دوکان کی سیڑھیاں اتر کر اور فٹ پاتھ کے پاس کھڑی ہوئی گاڑیوں میں سے بچتے بچاتے عین سڑک پر پہنچ گئے۔ اُن کی خوشی دیدنی تھی۔ کہنے لگے کہ ان لوگوں نے ایسا جلوس تو لاہور میں بھی نہیں نکالا۔ میرے لیے اُن کا یہ ردّعمل قدر ے خلافِ توقع تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا اور خود وہ بھی کئی بار اس بات کا تذکرہ کر چکے تھے کہ پنجاب یونیورسٹی میں انہیں جمعیت کی طرف سے بڑی پریشانیوں کا سامنا رہا تھا۔ لیکن ہندوستانی حکومت کے مسلم کش اقدامات کے خلاف جلوس دیکھ کر وہ جمعیت کے حوالے سے اپنی سب رنجشوں کو بھول چکے تھے۔
ہمارے سنٹر کی کانفرنس سے واپس جا کر وارث میر صاحب نے 20اور23اپریل 1987کے ’جنگ‘ میں دو قسطوں میں اس کانفرنس کا احوال تحریر کیا۔ کانفرنس کا موضوع اور اس میں جگہ پانے والے مباحث اُن کے لیے علمی و فکری تحرّک کا ذریعہ بنے تھے اور اس پر وہ خوش بھی بہت تھے۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے اپنا آخری مقالہ لکھا۔ جو 14اور15جولائی کو شایع ہوا۔ کچھ ہی روز پہلے جنرل ضیا ء الحق نے لاہور کی ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ پاکستان کی زمین سے سیم وتھور کو ختم کرنے پر پوری توجہ دے رہے ہیں۔ جنرل موصوف کا اشارہ ملک میں پائی جانے والی ترقی پسند فکر کی طرف تھا جس کو وہ حرف غلط کی طرح مٹا دینا چاہتے تھے۔ اپنے آخری مضمون کا عنوان وارث میر صاحب نے ’کیا ترقی پسند فکر سیم وتھور ہے؟‘ رکھا۔ یہ ایک فاضلانہ مقالہ تھا جس میں انہوں نے ترقی پسندی معاشرے کے ارتقا کا ضامن اور زندگی کے تحرک کی علامت قرار دیتے ہوئے اس کی پرزور مدافعت کی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ:
’’ہمارے درمیان شاہ ولی اللہ، سر سید اور اقبال بھی تو پیدا ہوئے ہیں۔ جن کے ترقی پسند افکار کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں پر صدیوں سے بند اجتہاد کے دروازے کھلے۔ خدا نہ کرے کہ ان بزرگوں کی فکری جرأتوں کو بھی کوئی سر زمینِ پاکستان کے لیے سیم وتھور قرار دے دے۔‘‘
اور پھر آخر میں انہوں نے لکھا:
’’اور یہ کہ مفکر پاکستان حضرت اقبال اور بابا ئے پاکستان حضرت قائد اعظم کے ترقی پسندانہ اور روشن نظریات کی سرزمین پاکستان میں آبیاری کرنے کے بجائے ان کی قوتِ نمو کو رجعت پسندانہ پالیسیوں کی سیم وتھور کے سپرد کر دینے والوں کو موؤخ کس نام سے یاد کرے گا؟‘‘
پروفیسر صاحب کی یہ آخری تحریر تھی اور درج بالا آخری فقروں میں اُن کا ایک اہم سوال محفوظ ہو گیا تھا۔ شاید اس سوال کا جواب آنے میں دیر نہیں لگی۔ آج کے پاکستان میں نسلی ومذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی جو تعفن زدہ فصل پک رہی ہے وہ زبانِ حال سے بتا رہی ہے کہ ہماری پاک سر زمین میں سیم وتھور ترقی پسندوں نے پیدا کیا تھا یا جنرل ضیا ء الحق اور اُن کے صالح رفقاے کارنے اس کی بنیاد رکھی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...