پاک بھارت حالیہ تنازعہ: دروغ گوئی کا ایک مظاہرہ

فرہاد منجو, مترجم: حذیفہ مسعود

فرہاد منجو شہرہ آفاق ساؤتھ افریقی نژاد امریکی کالم نگار ہیں۔ان کا خاندان بھارت سے تعلق رکھتا ہے۔’وال اسٹریٹ جرنل‘ سمیت معروف امریکی جرائد کا حصہ رہ چکے ہیں۔’نیو یارک ٹائمز ‘میں جدید سائنسی موضوعات پرکالم لکھتے ہیں۔ ان کا حالیہ مضمون پاک بھارت حالیہ تنازعے کے ابلاغیاتی پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ذرائع ابلاغ کا سماجی نفسیات اور امن وامان کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ عصرِ حاضر میں خبر کی دنیا جس قدر وسیع ہوئی ہے ،اس کے وسائل میں تنوع اور نشریات میں سرعت درآئی ہے،لیکن حادثہ یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیزکرنا اسی قدر محال ہو گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ تنازعے میں سماجی و قومی ذارئع ابلاغ میں جس طرح بلا سوچے سمجھے جنگی ہیجان کے فروغ کی کوشش کی گئی اور طرفین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی و بہتان طرازی اور دروغ گوئی کا مظاہرہ کیا گیا، زیرِ نظر مضمون میں فرہاد منجو انہی حقائق سے پردہ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔یہ مضمون انگریزی جریدے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں شائع ہوا، جس کا اردو ترجمہ قارئین کی خد مت میں پیش کیا جارہا ہے۔

انٹرنیٹ حقیقتاً ناقابلِ اعتماد ہے، اور یہ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کی اثر پذیری اور تیز ترین ترسیل کی مہربانی ہے کہ ڈیجیٹل جھوٹ انتہائی تیزی سے پھیلتا اور دیگر طبعی ذرائع سے پھیلے ہوئے جھوٹ سے زیادہ تباہ کن اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ہم سب یہ بات جانتے ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ کو دوش دینے کی یہ روایت اب بے سود ہو چکی ہے کیوں کہ اب انٹرنیٹ ہردیگر شے کا جزوِ لازم بن چکا ہے۔سماجی سلسلے(social networks) عالمی ثقافت میں اس قدر گھر کر چکے ہیں کہ انہیں بیرونی قوت قراردینا دراصل لاپروائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔علاوہ ازیں جہاں تک غیر مستند یا غلط معلومات کی بات ہے تو انٹرنیٹ کی حیثیت دروغ بیانی کی بڑی مشینری کے محض ایک چھوٹے پرزے کی سی ہے۔اس کے علاوہ سیاستدان اورفلمی ستارے، ابلاغِ عامہ کے ذرائع(بالخصوص برقی چینلز،خبروں کے لیے جن پر ابھی بھی لوگ اعتماد کرتے ہیں)، حکومت، فریب کارافراد اور ادارے اور بین الاقوامی کمپنیوں جیسے ترغیبی عناصر بھی اس مشینری کے اہم پرزے ہیں۔
چونکہ ان کھلاڑیوں نے ڈیجیٹل سیاست سے موافقت پیدا کر لی ہے، اسی لیے یہ غلط معلومات کو متاثر کرنے یا ان سے متاثر ہونے کے نت نئے امکانات کی زد پررہتے ہیں۔ ان تمام عناصر کے یکجا ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ سب ایک ڈراؤنے خواب کی سی کیفیت میں ہیں؛ ایک ایسے سماج کا منظرجس کے ہر ایک مباحثے میں ہر ایک ذریعے سے چھوٹے یا بڑے جھوٹ سرایت کیے ہوئے ہیں،جہاں دروغ گوئی شعار ٹھہرا ہے، جہاں اعتماد بھولپن کا نام ہے، اور حقیقت کا متفقہ زاویہِ نگاہ ہم میں زمانی اشتباہ کے دہشت زدہ احساسات پیدا کرنے کا موجب ہے۔اس خواب کو دیکھنے کے لیے آپ کو زیادہ لمبا سفر کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔ لیکن فاصلہ تصویر کو مزید واضح کرنے میں ممد و معاون ہو تا ہے؛باہر سے دیکھ کر کھولتے پیالے کی تحسین کرنا آسان عمل ہے، اس سے کہیں زیادہ آسان کہ آپ اس پیالے میں پڑے ابل رہے ہوں۔میں نے بھی گذشتہ ہفتہ دنیا کے دوسرے کونے میں ابلتے ہوئے ایک پیالے کو دیکھتے گزارا ہے۔
گذشتہ ماہ پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کی پاداش میں بھارت نے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ کیا۔ان کے بارے میں جاننے کے بعد میں نے جنگ کے دہانے پر پہنچی دو جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم کی شروعات میں غیر مستند معلومات کے بہاؤ کو دیکھنے کا آغاز کیا۔اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ خطرناک تھا، یہ نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ دنیا کو خوف زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ آپ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کے ابلاغی ذرائع سے خبر لیتے رہے ہوں، یہ عین ممکن ہے کہ آپ جھوٹ کے پلندوں سے سچ جاننے کی کوشش کرتے رہے ہوں۔یہ جھوٹ تمام تر ذرائع ابلاغ پر حاوی رہے، فیس بک، ٹوٹر، وہاٹس ایپ جیسی سماجی ویب سائیٹس پر ہمہ قسم رطب ویابس موجود تھا، ٹی وی چینلز پر دروغ گوئی کا مظاہرہ جاری رہا، سیاست دان اور عوام بھی جھوٹ ہی بولتے رہے۔
کھلے اور واضح جھوٹوں کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کئی صحافیوں سمیت تمام تر طبقات حقیقت سے بھی کھلواڑ کرتے رہے۔ بیش تر مباحث محض قیاس آرائیوں او رچہ مگوئیوں پر مبنی تھے۔ تصاویر بدلی گئیں، بدلی گئیں تصاویر کو مشتہر کیا اور پھیلایا جاتا رہا، اور اصل تصاویر کو غیر متعلق اور غیر مستند قرار دیا جاتا رہا۔ان میں سے بیشتر جھوٹ جان بوجھ کر پھیلائے گئے جوجنگی ماحول سے متاثرہ معصوم جذبات پر بنیاد نہیں رکھتے تھے بلکہ دشمن کو نیچا دکھانے کی کوشش کا حصہ تھے اورقومی وقار کے پرچار اور جنگی پنجہ آزمائی میں ناکامی پر شرم دلانے کے لیے گھڑے گئے تھے۔یہ تمام کے تما م جھوٹ جنگی جنون جیسے سانچے میں پورے آتے تھے اور طرفین میں ان جھوٹوں نے ایسی سماجی بنت کی کوشش کی جو معقولیت کے دائرے سے باہر نکل کر مکمل طور پر مابعد حقیقت (post۔fact)نظم میں شامل ہو چکا ہو۔
دروغ بیانی کا یہ سلسلہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں قائم دہشت گردوں کے مبینہ مرکز پر بھارتی فوج کے فضائی حملے کے دعوے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔بھارتی حکومت اپنے اس حملے کی افادیت اور کامیابی کی کوئی بھی تصویری شہادت پیش نہیں کر سکی اور ہنوز بھارتی سیاستدانوں کے مابین اس حملے سے متعلق بحث جاری ہے کہ آیا اس حملے میں کس چیز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری طرف پاکستانی فوج نے فوری طور پر بالاکوٹ کے اس مقام کی تصاویر جاری کر دیں جہاں حملہ کیا گیا تھا،ان تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ اس حملے میں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ تاہم بھارتی ذرائع ابلاغ اپنے حکومتی بیانیے کی حمایت کے لیے بے تاب رہے ۔ حقائق کی چھان بین کرنے والی بھارتی ویب سائیٹ Alt News کے مطابق بھارت کے بڑے ٹی وی چینلز سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے ایک ویڈیو نشر کی جسے بالا کوٹ پر بھارتی حملے کی براہِ راست تصویری شہادت سے تعبیر کیا گیا۔ تاہم ایسا کچھ نہیں تھا۔ Alt Newsکے مطابق بمباری کرتے ان طیاروں کی ویڈیو اس سے بیشتر 2017 میں پہلی بار پوسٹ کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو گذشتہ دنوں سماجی ویب سائیٹس پر دوبارہ پھیلائی گئی جسے بڑے ٹی وی چینلز نے حملے کے ثبوت کے طور پر نشر کرنا شروع کردیا۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ بھی کسی طور پیچھے نہیں رہے۔ پاکستانی فضائی فوج کی جانب سے گرائے گئے بھارتی لڑاکا طیارے کے گرائے جانے اور ایک پائلٹ، جسے بعد ازاں رہا کردیا گیا، کی گرفتاری کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ نے گرائے گئے جہاز کی تصاویر نشر کرنا شروع کردیں جبکہ حقائق کی چھان پھٹک کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق یہ تصویریں کسی حادثے میں پہلے سے تباہ شدہ ایک طیارے کے ملبے کی تھیں۔آپ سوچتے ہوں گے کہ حقائق کی تحقیق سے ان افواہوں اور جھوٹوں کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔ اس کے برعکس جو کچھ ہوا، وہ یہ تھا کہ حقائق سے پردہ اٹھ جانے کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعما ل کیا گیا اور جھوٹ پھیلانے میں ملوث ٹی وی چینلز اس قبیح فعل میں اپنے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسرے ملک کے ذرائع ابلاغ پر حقائق کو مسخ کرنے کی بنا پرنشتر زنی کرتے رہے۔
کچھ ایسے بھارتی ٹی وی چینلز، جو غلط اور غیر مصدقہ تصاویر پھیلانے میں پیش پیش رہے، ان میں سے ایک چینل Times Nowنے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو حقائق مسخ کرنے کے لیے استہزا کا نشانہ بنایا اور ٹویٹ کیا کہ پاکستانی میڈیا جودھ پور میں گرنے والے MiG کی تصاویر حملے کے ثبوت کے طور پر پیش کررہاہے۔ اس چینل نے اس ٹویٹ کے ساتھ #PakFakeClaimکا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔یہ محض ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اگر آپ خطے میں معلومات کی چھان پھٹک اور ان کی تحقیق کرنے والی ویب سائیٹس پر اس معاملے کے بارے میں مزید کھوج لگائیں تو آپ حملے کے بعد کے ہفتے میں ایسی افواہوں اور دروغ بیانیوں کی کثیر تعداد دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو طرفین کی جانب سے اڑائی گئیں اور کچھ اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کے بارے میں وضاحت دینا جان جوکھوں کا کام ہے اور آپ مایوسی کے احساس تلے دبے جاتے ہیں۔
بھارتی حکومت نے حال ہی میں غلط اور جھوٹی معلومات پر قابو پانے کے لیے سخت ڈیجیٹل پابندیاں متعارف کروائی ہیں۔تاہم جب کذب و بطلان ابلاغِ عامہ کے تمام ذرائع اور سماجی اداراتی بندوبست کا جزوِ لازم بن جائے اورجب یہ ثقافت سے نتھی ہو چکا ہو تو صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز رکھنا مسئلے کے حل کی جانب بڑھنے کا صحیح راستہ نہیں ہوسکتا۔ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام خطوں میں ڈیجیٹل کذب و بطلان پر بند باندھنے کے لیے ہمیں اپنے سماجی ڈھانچے اور معاشرتی نفسیات پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ حقائق کی چھان بین کرنے والی بھارتی ویب سائیٹBoomکے منتظم اور صحافی گووندراج ایتھیراج نے مجھ سے کہا کہ ’’ایک طویل جنگ ہے جو ہمیں درپیش ہے۔‘‘معلومات کی یہ جنگ ہمیشہ کی جنگ ہے جو ہمیں لڑتے رہنی ہے ،اور یہ تو فقط شروعات ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...