18 اپریل: امریکی سی آئی اے کی تاریخ میں سیاہ دن

لبنانی خانہ جنگی کے دوران 1982ء میں عالمی طاقتوں کی حمایت سے ایک کثیر الملکی فوجی اتحاد تشکیل دیا گیا جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ لبنانی سرزمین سے فلسطینی حریت پسندوں کی پرامن واپسی کو یقینی بنائے اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرکے لبنان کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی رٹ کا نفاذ یقینی بنائے۔ لبنان جو کہ سن 70 کی دہائی کے وسط میں اپنے جغرافیے کے سبب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کا شکار ہوا تھا کیونکہ اس کی سرحدیں شام، اسرائیل اور فلسطین سے ملتی ہیں جو کہ اسرائیل کے قیام کے وقت سے ہی بہت بڑے تنازعہ کا مرکز ہیں۔

لبنان کے لیے قائم کیے لیے قائم کثیرالملکی افواج کا علامتی نشان

اس کثیر المکی فوجی اتحاد میں 1800 امریکی فوجی بھی تھے، جو اطالوی اور فرانسیسی افواج کے ہمراہ بیروت  پہنچے۔ امریکی فوجوں کی لبنان میں تعیناتی صدر ریگن کے صدرارتی حکمنامے کا نتیجہ تھی کیونکہ امریکی کانگرس اس فیصلے کے لئے رضامند نہیں تھی۔  لبنان میں اس وقت ایرانی حمایت سے حزب اللہ کا قیام عمل میں لایا جاچکا تھا اور یہ تنظیم لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے لئے جنگی کاروائیوں کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ لبنان میں تحریک آزادی فلسطین کے بینر تلے فلسطینی حریت پسندوں کی تنظیمیں بھی اپنا وجود رکھتی تھیں۔ لبنان میں آباد مسیحی آبادی کے تحفظ اور سیاسی مفادات کے لئے ایک مسیحی جنگجو تنظیم بھی مضبوط اثرورسوخ کی حامل تھی۔ اس پیچیدہ سکیورٹی صورتحال میں کثیر الملکی فوجی اتحاد کی تشکیل لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی اور اس کا مقصد بیروت سے تمام عسکری تنظیموں کا انخلا اور وہاں ریاستی رٹ کا نفاذ تھا۔

امریکی اور لبنانی فوجی بیروت کی ایک سڑک پہ بنائی حفاظتی چیک پوسٹ پر کھڑے ہیں

امریکی فوجیو ں نے 10 ستمبر 1982ء کو بیروت سے واپسی اختیار کی، تاہم جب اگلے چند دنوں میں مسیحی ملیشیا نے فلسطینی مہاجر کیمپ میں قتل عام کیا تو وہ 29 ستمبر کو دوبارہ لوٹ آئے۔ 30 ستمبر کو ہی لبنان کی سرزمین پہ امریکی میرین فورس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کا پہلا  فوجی ہلاک ہوا جب وہ بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں موجود ہیں

لبنان میں موجود شیعہ تنظیم حزب اللہ جو کہ بیروت پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کے لئے قائم کی گئی تھی، نے لبنان کی سرزمین پر امریکی موجودگی کو اسرائیلی قبضے کی حمایت کے طور پر دیکھا اور اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی موجودگی کو غاصبانہ اقدام تصور کیا۔ اگرچہ بین الاقوامی افواج کی لبنان میں موجودگی وہاں کی حکومت کی درخواست پر تھی تاہم لبنان میں برسرپیکار عسکری تنظیمیں اس تعیناتی کے خلاف تھیں۔

اطالوی فوجی ایک بکتر بند گاڑی میں بیروت کی سڑک پہ گشت کررہے ہیں

لبنانی خانہ جنگی میں فیصلہ کن موڑ آج ہی کی تاریخ یعنی 18 اپریل کو آیا۔ 1983ء کے اپریل کی 18 تاریخ کے دن بیروت میں امریکی سفارتخانے کے اندر اور باہر روز کی طرح گہماگہمی تھی۔ سفارتخانے کے ایک حصے کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔ چند درجن امریکی فوجی بھی سفارتخانے میں سفارتی عملے کے ساتھ موجود تھے۔

لبنان میں تعینات امریکی سفیر رابرٹ ایس۔ ڈلن جو امریکی سفارتخانے پر ہوئے بم حملے میں بال بال بچ گئے

جس وقت امریکہ میں صبح کے 5 اور بیروت میں دوپہر کا 1 بجا تھا۔ ایک سفید شیورلیٹ ٹرک جو کہ امریکی ساختہ تھا، تیزی سے  امریکی سفارتخانے کا گیٹ توڑتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوا۔ اس سے پہلے کہ گیٹ پر تعینات امریکی حفاظتی عملہ سنبھلتا وہ ٹرک سیدھا لابی میں جا گھسا اور ایک زوردار دھماکے کی آوازسے مغربی بیروت کا سارا شہر لرز اٹھا۔ دھماکے کی لہر ڈیڑھ میل تک محسوس کی گئی اور عمارتوں کے شیشے کرچی ہوگئے۔ 2000 پاونڈز وزنی بارود دھماکے سے پھٹا اور امریکی سفارتخانے کی عمارت کا سامنے کا حصہ زمین بوس ہوگیا۔

امریکی سفارتخانے پر بم حملے کے بعد کی ایک تصویر

چند ہی لمحوں میں یہ خبر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ پر پھیل گئی۔ یہ لبنان کی طاقتور عسکری تنظیم حزب اللہ کا پہلا منظم فدائی حملہ تھا۔ اس وقت لبنان میں تعینات امریکی سفیررابرٹ ایس۔ ڈلن جوکہ عمارت کے اندر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : ” میں کرسی پر بیٹھا تھا کہ اچانک دھماکے کی آوازسے میرا کان بند ہوگیا۔ کھڑکی کے شیشے دھماکے سے پورے کمرے میں بکھر گئے۔ خوش قسمتی سے میں اس وقت کلائی سے بندھی گھڑی پہ وقت دیکھ رہا تھا۔ میرے بازو کی آڑ سے میرا چہرہ شیشے کی کرچیاں لگنے سے محفوظ رہا۔ میں سر کے عقبی جانب فرش پہ گر گیا۔ میرے دفتر کے سامنے کی دیوار دھڑام سے گر چکی تھی۔ آگ اور دھواں میرے سامنے فضا میں اٹھ رہا تھا۔ مٹی اور گرد سے ہر چیز اٹ گئی۔ بارود اور گوشت کی بو پھیلنے لگی۔ میں زیادہ زخمی نہیں تھا۔ میں اٹھا اور عقبی جانب کی سیڑھیوں سے نیچے کی جانب بھاگا۔ پہلی دو منزلیں قتل گاہ بن چکی تھیں۔ بچ جانے والے چِلا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سب لوگ مجھے بھوت دکھائی دیئے۔”

سی آئی اے کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتیں تابوت میں ۔ صدر ریگن اور ان کی اہلیہ بھی ائیرپورٹ پہ موجود ہیں

جنگ عظیم دوم کے بعد یہ امریکی سی آئی اے پر ہوا سب سے بڑا حملہ تھا۔ لبنان میں تعینات سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کینیتھ ہاس  سمیت مشرق وسطیٰ کے لئے سی آئی اے کے ایک سینئر آفیشل  رابرٹ امیس بھی ہلاک ہوئے۔ اس روز سی آئی اے کے 8 اہلکاروں سمیت 17 امریکی ایک حملے میں جان سے گئے۔ یہ پہلی بار تھا کہ سی آئی اے  کے دفتر کی اس دیوار میں جہاں  کسی کاروائی کے دوران جان  سے جانے والے اہلکار کی یاد میں دیوار کے اندر ایک ستارا کھود دیا جاتا ہے، ایک ہی بار 8 ستارے کھودے گئے۔

امریکی سی آئی اے کی وہ دیوار جہاں مرنے والے اہلکاروں کی یاد میں ستارے کھودے گئے ہیں

اس حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی کل تعداد 63 تھی۔ 120 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دنیا بھرسے ممالک نے اس حملے کی مذمت کی۔ اگلے ہی روز امریکی حکومت نے اپنا سفارتخانہ نے بیروت کے قدرے محفوظ علاقے میں منتقل کردیا۔ لیکن یہ اقدام بھی امریکی عملے اور فوج کی حفاظت کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ہوا کیونکہ اکتوبر کے مہینے میں بارود سے بھرا ایک اور ٹرک امریکی و فرانسیسی فوجوں کی بیرک سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں 241 امریکی اور 58 فرانسیسی فوجی  ہلاک ہوگئے اور اس حملے کے چند دن بعد ہی عالمی فوجیں لبنان چھوڑ کر چلی گئیں۔

امریکی طیارہ برادر بحری جہاز لبنان کے ساحل سے روانہ ہورہا ہے

سال 2000ء میں اسرائیلی افواج اور 2005ء میں شامی افواج بھی لبنان سے چلی گئیں۔ لبنان تاحال ہمسایہ ملک شام کی خانہ جنگی کے سبب سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے، جہاں 2011ء سے تاحال جاری خانہ جنگی کے سبب 4 لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...