بلوچستان کے قدرتی وسائل،بلوچ عوام کی حساسیت اور موجودہ صوبائی حکومت کا عزم

مترجم: حذیفہ مسعود

شہزادہ ذوالفقار ایک معروف قلم کار ہیں، اور انسانی حقوق اور سماجیات جیسے موضوعات سے خاص شغف رکھتے ہیں۔بلوچستان میں احساسِِ محرومی ایک حقیقت ہے اور بدقسمتی سے اس احساس کے خاتمے کی کوئی قابلِ عمل اور قابلِ قبول تدبیر ریاستی سطح پر ہوتی نظر نہیں آرہی، جس کے سبب یہ احساسِ محرومی مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچ عام آدمی اور سیاستدان اکثر و بیشتر ان خدشات کا اظہا ر کرتے رہتے ہیں کہ ان کے وسائل ان کی فلاح کے لیے خرچ نہیں ہو رہے، بلکہ انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت محروم رکھا جا رہا ہے، لیکن ایک تبدیلی یہ نظر آئی ہے کہ 2018ء کے حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچ حقوق کے لیے اٹھائے گئے اقدماتا کے باوصف بلوچستان کے عوام اس پراعتماد کرتے نظر آتے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

گذشتہ حکومتوں کے برعکس بلوچستان کی موجودہ مخلوط حکومت کے سربراہ جام میر کمال علیانی وفاقی اور چینی حکومتوں کے دباؤ کے باوجود صوبے کے قدرتی وسائل اور عوامی حقوق کے معاملے پر مضبوطی سے ڈٹے رہے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس اراضی کو چینی حکومت کے ہاتھ فروخت کرنے سے انکار کردیا جو چینی حکومت گوادر میں 330 میگا واٹ کے بجلی گھر کی تعمیر کے لیے خریدنا چاہ رہی تھی۔نہ صرف یہ بلکہ بلوچستان حکومت نے مساویانہ حقوق یا پھر لیز کی شرط کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی حکومت یا ادارے کو اپنے وسائل اور زمین پر مالکانہ حقوق نہیں دیے جائیں گے۔ بلوچستان کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’’ہم ان وسائل اور اپنی زمین کے محافظ ہیں، یہ ہماری ضرورت ہیں اور یہ بلوچستان کی اگلی نسلوں کی امانت ہیں۔‘‘
یہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کا پسندیدہ اور مقبول نعرہ ہے اور وہ عوامی جذبات کا ادراک کرتے ہوئے اسی بنیاد پر سیاست کرتے رہے ہیں۔اسی احساس کا ثمر ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنی آواز پارلیمان میں پہنچانے اور بلوچستان پر حکمرانی کے لیے انہی جماعتوں کو منتخب کرتے ہیں۔دوسری طرف موجودہ مزاحمتی تحریک سمیت گذشتہ ستر برسوں میں بپا ہونے والی پانچوں مزاحمتوں میں اسی نعرے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
بلوچستان کے زیادہ ترالیکٹیبلز(بالخصوص سردار، نواب وغیرہ) ہوا کا رخ دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں،تاہم یہ سیاسی جماعتیں صوبائیت یا قومیت کی بنیاد پر استوار نہیں ہوتیں،بلکہ یہ قومی دھارے کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ضرورت محسوس کی ہے کہ عوامی جذبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قومیتی بنیاد پر ایک جماعت کی تشکیل کی جائے تاکہ بلوچستان کے عوام کی خاطر خواہ توجہ حاصل کی جا سکے۔ کئی آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بار قومیتی بنیادوں پر ایک سیاسی جماعت کو سامنے لانے کا مقصددرحقیقت ان قوم پرست قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو کسی نہ کسی طرح بغاوت یاشورش کی حمایت کرتی ہیں۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی اور بزرگ سیاستدان سعید احمد ہاشمی کہتے ہیں کہ ’’مجھ جیسے لوگوں کا یہ خیال غلط تھا کہ قومی دھارے کی سیاست سے بلوچستان اور اس کے عوام کو فائدہ ہوسکتا ہے، اسی لیے ہم نے سوچا کہ ہم ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھیں جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کے حقوق اور ان کے وسائل پر ان کے اختیار کو تسلیم کروانے کی جدوجہد ہونا چاہیے۔‘‘ وہ امید رکھتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں بلوچستان عوامی پارٹی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی اوریہ جماعت بغیر کسی اتحاد یا شراکت داری کے تنِ تنہا صوبے میں حکومت بنانے کے قابل ہو جائے گی۔
بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کا قیام 2018 کے عام انتخابات سے دو ماہ قبل عمل میں آیا تھا، جسے اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی حاصل تھی،اور تمام تر ’’الیکٹیبلز‘‘ اس میں شامل ہو گئے۔ اس جماعت نے عام انتخابات میں 16 نشستیں حاصل کیں، تین آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت، 04 خواتین اور اقلیتی نشست کے ساتھ65کے صوبائی ایوان میں مجموعی طور پر 24 نشستیں ان کے حصے میں آئیں۔باپ کے سربراہ اور بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ جام کمال اول روز سے ہی گوادر میں 330 میگاواٹ کے بجلی گھر کی تعمیر کے لیے چینی حکومت کو مطلوبہ زمین کی فروخت میں مزاحم رہے ہیں۔ پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤجنگ بلوچستان آئے، وزیرِ اعلیٰ سے ملے اور انہیں زمین کی فراہمی میں تاخیر پر چینی حکومت کی خفگی و تشویش سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے باضابطہ طور پر کسی بھی غیر ملکی کمپنی یا مقامی سرمایہ کار کو ایک انچ زمین بھی فروخت کرنے سے انکار کردیا۔اسی طرح میر جام کمال نے واضح طور پر کہا کہ اگر بلوچستانی عوام اور صوبے کو اعتماد میں لیے بغیر گوادر میں سعودیہ کی جانب سے آئل سٹی کے قیام کا آغاز کیا گیا تو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے وا لے اس معاہدے کو ہم تسلیم نہیں کریں گے۔
جام کمال کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کا خواب گوادر بندرگاہ کے بغیر تشنہ تعبیر رہے گا، اور اگر سعودیہ آئل سٹی کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں بلوچستان کے مفادات کو پیشِ نظر نہ رکھا گیا تو اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت کس طرح دی جا سکتی ہے۔سننے میں آرہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی رائے کو مانتے ہوئے اس معاہدے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومتِ بلوچستان کے الفاظ بھی شامل کر دیے ہیں۔
صوبے میں احساسِ محرومی اورقدرتی وسائل پر قبضے کے خدشات تاریخ کی طویل ترین موجودہ مزاحمتی تحریک(جو2000 سے اب تک جاری ہے) سمیت تمام تر تحریکوں میں بنیادی عنصر کے طور پر موجود رہے ہیں۔ ہمیشہ بلوچستان کی قوم پرست اور سیاسی تنظیموں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے جانے کے نعرے کو مقدم رکھا ہے اور بلوچستانی عوام میں قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی ہے،یہ نعرہ بلوچستانی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قوم پرستانہ سیاست کو صوبے کے عوام میں کافی پذیرائی میسر رہتی ہے۔
بلوچ قوم پرست قوتوں نے اپنی نوجوان نسل کے سامنے ایک مضبوط مقدمہ رکھا ہے کہ سوئی میں گیس کے ذخائر کی دریافت 1952 میں ہوئی تھی، اور یہاں سے 1953 سے گیس فراہمی کا آغاز کیا گیا اور ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں ملک کے طول و عرض کو گیس فراہم کر دی گئی لیکن ایک خطہ جو ابھی تک اس سہولت سے محروم ہے،وہ بلوچستان ہے۔ چند ایک نوکریوں کے سوا، محصولات ہوں یا گیس کمپنیوں کے ترقیاتی منصوبے، بلوچستان اور اس کے عوام کو اس منصوبے سے کوئی مفاد حاصل نہیں ہوا۔ سوئی گیس پلانٹ کے ارد گر د 5 کلو میٹر دائرے میں مقیم بلوچستانی باشندے ابھی بھی لکڑیوں اور اپلوں سے چولہے جلاتے ہیں جبکہ صوبے کے 34 اضلاع میں سے محض 8 اضلاع کو گیس کی جزوی سہولت میسر ہے۔ اسی طرح سیندک قدرتی ذخائر منصوبے میں بلوچستان کے لیے مختص کیے گئے صوبائی حصے کے 15 ارب روپے دو دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی واجب الادا ہیں۔
یہ وہ وجوہات ہیں جن کے سبب یہاں کی سیاسی جماعتیں اور عوام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ انہیں یا صوبے کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔کوہلو کے علاقے جندران، جہاں مری قبائل آباد ہیں اور جو کئی عشروں سے ریاست کے خلاف برسرِپیکار ہیں، وہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے تومارکسی نظریات کے پرچارک رہنما مرحوم نواب خیر بخش مری کی قیادت میں ان ذخائر پر مزید کام کرنے کے خلاف سخت مزاحمت کی گئی۔ مشرف دورِ حکومت میں جب گوادر بندرگا ہ کا انتظام و انصرام40سال کے لیے سنگا پور کی ایک کمپنی کے سپرد کیا گیا تو حکومت نے مقامی آبادی کو آئندہ کے لیے بندرگاہ کا انتظام چلانے کی تربیت دینے کا اعلان کیا مگر ابھی تک محض چند ایک درجن نوجوانوں کو اس ضمن میں تربیت دی گئی ہے۔
یہاں کی مقامی بلوچ آبادی کو اس بات کا خدشہ ہے کہ جب گوادر بندرگاہ پر کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو گا اور یہاں مختلف لوگ اپنے کاروباری و تجارتی مقاصد کے لیے سکونت اختیار کریں گے تو بتدریج یہاں کی مقامی اکثریتی آبادی اقلیت بننا شروع ہو جائے گی، جیسا کہ کراچی میں سندھی اور بلوچ آبادیوں کے ساتھ ہوا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ، رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستا ن سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ ’’ہم کسی بھی طور ترقی کے خلاف نہیں ہے، کوئی پاگل ہی ترقی کا مخالف ہوگا لیکن ہمیں ایسی ترقی نہیں چاہیے جس سے ہمیں اپنی ہی بقا کے لالے پڑے ہوں، ہم اپنی ہی ماں دھرتی میں اقلیت بن جائیں، یا ہمارے قدرتی وسائل پر سے ہمارا حق ختم کردیا جائے۔‘‘
ایک عا م بلوچی نوجوان گذشتہ تاریخ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہی سمجھتا ہے کہ یہ تمام ترقیاتی منصوبے میرے اور میرے قومی یا صوبائی بھائیوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان سے دوسروں، بالخصوص پنجاب کے مفادات وابستہ ہیں۔یہاں کے عوام گوادر بندرگاہ اور دیگر قدرتی وسائل کو اپنی شناخت کی اساس بتاتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ اگر یہ وسائل ان کے ہاتھ میں نہ رہے تو ان کی شناخت ختم ہو جائے گی۔گوادر کے مقامی ماہی گیر گذشتہ کئی ماہ سے سراپا احتجاج ہیں کیوں کہ مشرقی ایکسپریس وے کی تعمیر کے سبب انہیں مشرقی ساحل پر ماہی گیری کی اجازت نہیں دی جا رہی۔صوبائی حکومت ان کو ان کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کروا چکی ہے لیکن چینی کمپنی مشرقی ایکسپریس وے کو اس جگہ سے از سرِ نو تعمیر کرنے پر مصر ہے جہاں سینکڑوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر مچھلی کا شکار کرنے جاتے ہیں۔اس مسئلے کو بھی مقامی افراد، سیاسی جماعتیں اور بالخصوص علیحدگی پسند تحریکیں بہت زیادہ اچھال رہی ہیں،ا ن کا دعویٰ ہے کہ بجائے ہمیں نوکریاں فراہم کرنے کے یہاں کے بلوچ ماہی گیروں سے ان کا دانہ پانی تک چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انتظامی و حکومتی امور میں اثرو رسوخ کی حامل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اب یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ قوم پرست قوتوں کو چپ کروانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بلوچ عوام کے حقوق کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانا نا گزیر ہیں اور صوبے میں قانون کی عملداری میں بہتری ان اقدامات کے بغیر ہر گز ممکن نہیں ہے۔سابق کور کماندار بلوچستان لفٹیننٹ جنرل عاصم ریاض کا کہنا ہے کہ ’’ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن یہاں کی منتخب حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ایسی آئینی ترمیم کے لیے قرار داد پیش کرے جس میں دبئی طرز پر بلوچستان میں مقامی افراد کی شراکت کے بغیر غیر علاقائی یا غیر ملکی افراد کے کاروبار چلانے پر پابندی عائد کردی جائے۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ اس طرح بلوچستان کے عوام میں اقلیت بن جانے کا خوف ختم ہو جائے گا کیوں کہ باہر سے آنے والے افراد اور کمپنیوں کے لیے یہاں اپنے تئیں کاروبار چلانا، ووٹ کا حق استعما ل کرنااور سیاسی عمل میں حصہ لینا ممکن نہیں ہوگا۔
علیحدگی پسند قوم پرست جماعتیں اور کالعدم گروہ بھی ان ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کررہے ہیں اور وہ ان منصوبوں کو بلوچستان کے استحکام کی بجائے اس کی تباہی سے تعبیر کررہے ہیں۔اگرچہ فوجی کارروائیوں اور اقدامات کے باعث گذشتہ تین چار سالوں میں یہاں کی علیحدگی پسند اور عسکریت پسند تنظیمیں کافی حد تک کمزور ہو ئی ہیں تاہم وہ اب بھی کبھی کبھار مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی اداروں کے خلاف اپنی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ گلبندین میں چینی بس اور کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملوں نے نہ صرف پاکستان کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پریشانی میں مبتلا کیا ہے بلکہ اس سے چینی حکومت کو بھی کافی دھچکا پہنچا ہے۔ان حملوں کا سرغنہ اسلم اچھو اپنے چار ساتھیوں سمیت افغانستان کے شہر قندھار میں ایک خود کش حملے میں مارا جا چکا ہے۔ان کمانڈروں کی ہلاکت سے جہاں پاکستانی حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے وہاں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں میں بھی اطمینان کی لہر دوڑی ہے۔
اگر حکومت نے بلوچ نوجوانوں اور وہاں کے عوام کے لیے نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ نجی کمپنیوں میں بھی نوکریوں کے مواقع اور قدرتی وسائل پر بلوچستان کی صوبائی حکومت کے اختیار کے حوالے سے کوئی لائحہِ عمل مرتب کیا ہے تو ا س کا جلد ازجلد اطلاق ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی انتہائی اہم ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے بلوچ عوام میں بڑھتی ہوئی تشویش کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ میر جام کمال علیانی صوبے اور عوام کے حقوق کے لیے توانا آواز اٹھانے کے باعث عوامی توجہ حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ محض فریبِ نظر ہے یا واقعتاً یہ ایک حقیقی اور مستقل طرزِ عمل ہے جس کی وساطت سے طویل المدتی مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...