کراچی میں تشدد کے نئے رحجانات

212
ضیاء الرحمن پاکستان کے معروف تجزیہ کار اور ’دی نیوز‘ کے سینئر رپورٹر ہیں، ان کے مضامین ’نیو یارک ٹائمز‘ اور ’فرائیڈے ٹائمز‘ میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ پاکستان کا شہر کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں کے حالات کا بالواسطہ اثر ملک کے تمام تر علاقوں میں ہوتا ہے۔ کراچی میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال طویل عرصہ سے ریاست و عوام کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ دوسال کے دوران حکومت اور سکیورٹی اداروں کے اقدامات کی بدولت روشنیوں کے شہر کا امن وامان کسی حد تک بحال ہوا ہے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن رواں سال کے آغاز سے کراچی میں ایک بار پھر بدامنی کے واقعات میں اضافہ نظر آیا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔زیر نظر مضمون تشدد کی حالیہ لہر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
کراچی میں امن بحالی کے لیے قانون نافذکرنے والے اداروں کا سکیورٹی آپریشن اب چھٹے سال میں داخل ہوچکاہے۔ یوں توکراچی گزشتہ کئی دہائیوں سے لسانی، فرقہ وارانہ تشدد اورمجرمانہ گروہوں کی سرگرمیوں کا محور رہاہے مگر 2007 سے 2013 کا عرصہ شہر میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے ابتررہا۔
شہرمیں لسانی سیاسی جماعتوں کے مسلح گروہوں، فرقہ وارانہ مذہبی جماعتوں اورلیاری کے مجرم گینگوں کی فعالیت کے ساتھ ساتھ ملک کے قبائلی علاقہ جات اورخیبرپختونخواہ سے آپریشن کے سبب طالبان گروہوں کی شہرآمد سے نہ صرف تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا بلکہ قانون نافذکرنے والے اداروں کے لیے بھی ڈھائی کروڑ (سرکاری اعدادوشمارکے مطابق تقریباًڈیڑھ کروڑ)کی آبادی کے شہر میں مختلف نوعیت کے پرتشدد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرنا خود ایک بڑا چیلنج تھا۔ان گروہوں میں لسانی سیاسی جماعتیں، جیسے متحدہ قومی موومنٹ، فرقہ وارانہ تنظیمیں، لیاری کے مجرمانہ گینگز اورتحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑے شامل تھے۔ البتہ قانون نافذکرنے والے اداروں، خصوصا سندھ رینجرز اورسندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررز ڈیپارٹمنٹ نے کامیابی سے ان گروہوں کے سرکردہ شدت پسندوں کوگرفتار یا ہلاک کرکے انہیں کمزورکیا، جس سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگرجرائم میں کافی کمی آئی ہے۔
مگرگذشتہ چند ماہ میں رونما ہونے والے سیاسی اورفرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تحقیق سے شہرمیں تشدد کے نئے مگرخطرناک رحجانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایک جانب گزشتہ دو مہینوں میں مہاجرسیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اورپاک سرزمین پارٹی دہشت گردی کانشانہ بنی جن میں قانون نافذکرنے والے اداروں کاکہنا ہے کہ ایم کیوایم لندن سے وابستہ جنوبی افریقا نیٹ ورک کے شدت پسند اپنے مخالفین کوماررہے ہیں، جبکہ کچھ واقعات میں ’کرائے کے قاتلوں‘ کابھی استعمال ہواہے۔ دوسری جانب فرقہ وانہ بنیادوں پرٹارگٹ کلنگ اورحملوں کے واقعات دوسال کے وقفے کے بعد دوبارہ رونما ہورہے ہیں۔ اس حوالے سے کہاجارہاہے کہ عدالتوں سے رہاہونے والے شدت پسند یا ان گروہوں کے سلیپر سیل کے باقی اراکین ان حملوں میں ملوث ہیں۔
کراچی میں مہاجرسیاسی جماعتوں پرحملوں میں حالیہ واقعہ نیوکراچی کے علاقے میں قائم متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے علاقائی دفتر پر11 فروری کو جدید اسلحہ(ایس ایم جی رائفلوں) سے لیس مسلح افراد کے حملے کی صورت ہوا ہے جس میں پارٹی کا ایک کارکن ہلاک اورایک زخمی ہوا۔ یہ دفتر پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری کے زیرِاستعمال تھا جس نے حملے سے چند روزقبل ایک بیان دیاتھا کہ جنوبی افریقا نیٹ ورک کے شدت پسند انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جنوبی افریقا نیٹ ورک کامطلب افریقی ملک کے شہروں جوہانسبرگ اورڈربن میں مقیم ایم کیوایم کے شدت پسندوں کا ایک گروہ ہے جو کراچی میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہے۔
اس سے قبل 25 دسمبر کومتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کا ڈی ایچ اے کے علاقے میں قتل ہوا تھا۔ اس سے دو روزقبل رضویہ کے علاقے میں پاک سرزمین پارٹی کے دفترپرحملے میں پارٹی کے دوکارکنان ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی طرح 9 دسمبر کو گلستان جوہر میں ایم کیوایم پاکستان کے تحت عیدمیلادالنبی کے حوالے سے منعقد پروگرام پردستی حملوں سے حملہ کیا گیا تھا جس میں پارٹی کے کنوینیر اوروفاقی وزیرخالد مقبول صدیقی مہمان خصوصی تھے۔
ان واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے مختلف اداروں کو اپنے انٹیلی جنس ونگز کوفعال کرنا پڑا۔ سندھ رینجرز کی جانب سے اس حوالے سے 25 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں ایم کیوایم پاکستان اورپاک سرزمین پارٹی کے دفاترپرحملوں میں ملوث ایک آٹھ رکنی گروہ کوپکڑنے کا دعویٰ کیاگیا اورکہا گیاکہ لندن میں مقیم ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی ایما پر جنوبی افریقامیں سلیم عرف بلجیم نامی ایک شخص نے گذشتہ برس ٹارگٹ کلرز کا ایک گروہ تشکیل دیاہے جس کامقصد ایم کیوایم لندن کے مخالفین کو مارنے کے ساتھ ساتھ شہر میں امن وامان کی صورت حال کوخراب کرنا ہے۔
اس سے قبل قانون نافذکرنے والے اداروں نے سابق ایم این اے علی رضا عابدی کے قتل میں ملوث کچھ سہولت کاروں کو شناخت کرنے کا دعویٰ کیاتھا۔ ان کے خیال میں عابدی قتل کیس میں ’کرائے کے قاتلوں‘ کواستعمال کیاگیاہے جس سے قتل کے اصل ماسٹرمائنڈ کی شناخت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررز ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ راجہ عمرخطاب کاکہناہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی تحقیق سے ایک نیا رحجان دیکھنے میں آیاہے کہ شہرمیں ’انڈرورلڈ‘ یا زیرِزمین گرو ہ ازسرِ نوع فعال ہوگئے ہیں جن میں ماضی قریب کے لیاری گینگ یا لسانی جماعتوں کے مسلح گروہوں سے وابستہ افراد نے شمولیت اختیارکرکے ٹارگٹ کلنگ کے لیے’کرائے‘ پراپنی خدمات پیش کرنا شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب شہر میں قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی کامیاب کارروائیوں کے بعد گذشتہ دو سال سے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تھم گئے تھے ،تاہم رواں سال کے آغاز سے ہی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک بار پھر رونما ہوئے ہیں۔ان واقعات میں 2جنوری کو کورنگی کے علاقے میں دکاندار فدا حسین کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کی واردات میں قتل کیا گیا ،جوامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ایک رہنما کے والد تھے۔ اسی طرح 10جنوری کو کورنگی میں کالعدم اہلِ سنت والجماعت کے کارکن محمد عمر کو قتل کردیا گیا،18جنوری کو سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر پر اہلِ سنت والجماعت کے عہدیداراورایک کارکن عبد المومن اور عبدالواحد پرفائرنگ کی گئی، جس میں دونوں شدید زخمی ہوگئے، 22جنوری کو پی ای سی ایچ ایس میں شیعہ علما کونسل کے نائب امیر اور سرکاری افسر سید محمد علی شاہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں قتل کردیا گیا۔ 3فروری کو صدر پارکنگ پلازہ کے قریب اہلِ سنت والجماعت لیاقت آباد کے ذمہ دار ندیم قادری کو بھی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
راجہ عمر خطاب کے مطابق کراچی میں دو سال کے وقفے کے بعد فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ دوبارہ شروع ہوئی ہے ، سی ٹی ڈی اور دیگر ادارے اس پر کام کر رہے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ان واقعات میں حال ہی میں عدالتوں سے ضمانت پررہاہونے والے شدت پسند یا ان گروہوں کے سلیپرسیل سے وابستہ شدت پسند ملوث ہو سکتے ہیں، جو ازسرِ نوفعال ہوچکے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...