میں ہوں نجود دس سال عمر اور مطلقہ (قسط دوم)

مصنف:نجود علی،ڈلفن مینوئے

198

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس کو شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم و جبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui)نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کااب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشددایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمرلڑکی کی آپ بیتی یقیناًہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات نے اس کتاب کے اردو ترجمے کو قسط وار شائع کرنے کاسلسلہ شروع کیاہے، اس سلسلے کیدوسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ (مدیر)

جج کے در پر
جسٹس عبدو کی حیرت چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
تم طلاق لینا چاہتی ہو؟
جی ہاں!
لیکن۔۔۔ تمہارا مطلب ہے کہ تم شادی شدہ ہو؟
جی ہاں!
جج صاحب کے چہرے کے نقوش بہت پیچیدہ تھے، انہوں نے سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کی چمک ان کی خشک جلد پر بھی پڑ رہی تھی، لیکن میرا جواب سننے کے بعد ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا، ایسا محسوس ہوتاہے کہ انہیں میری بات پر یقین ہی نہیں آ رہا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ تم نے اس عمر میں شادی کر لی ہو؟
مجھے طلاق چاہیے! میں نے ان کے سوال پر توجہ دیے بغیر فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
مجھے وجہ تو معلوم نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان سے بات کرتے ہوئے میں ایک مرتبہ بھی نہیں روئی، شاید میرے آنسوؤں کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا، میں جذبات میں آگئی تھی لیکن مجھے ادراک تھا کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ جی ہاں! میں اس جہنم سے خلاصی چاہتی ہوں۔ میں نے خاموشی سے درد بھری آہ پراکتفا کیا۔
لیکن تم تو بہت چھوٹی اور انتہائی نازک ہو۔۔۔
میں نے سر ہلاتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ وہ نروس ہو کر مونچھوں پر خارش کرنے لگے۔ میرے لیے یہی کافی ہے کہ وہ میری مدد کرنے پر راضی ہو جائیں،کیونکہ وہ تو جج ہیں، اور یہ بات یقینی ہے کہ ان کے پاس بہت سے اختیارات ہیں۔
تم کیوں طلاق لینا چاہتی ہو؟ انہوں نے ضرورت سے زیادہ فطری انداز میں اگلا سوال کر دیا، جیسے وہ اپنی حیرت چھپانا چاہتے ہوں۔
میں نے فوراً ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
اس لیے کہ میرا شوہر مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔
یہ جواب ان کے لیے ایسا تھا گویا میں نے ان کے منہ پر زور کا تھپڑ رسید کر دیا ہو، ان کا چہرہ پھر سے جامد ہو گیا، وہ سمجھ گئے کہ میرے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے اور میرے پاس ان کے ساتھ جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے گھماپھرا کر بات کرنے کی بجائے مجھ سے سیدھے لفظوں میں ایک اہم سوال پوچھ لیا:
کیا تم ابھی تک کنواری ہو؟
یہ سوال سن کر میں نے حلق سے تھوک نگلا کیونکہ مجھے اس قسم کی باتیں کرتے ہوئے شرم آتی ہے، اس لیے کہ میرے ملک میں عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مردوں سے فاصلہ رکھیں جنہیں وہ نہیں جانتیں، اور پھر ان جج صاحب کو تو میں پہلی مرتبہ دیکھ رہی ہوں، لیکن مجھے اسی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کہ اگر مجھے اس پریشانی سے نکلنا ہے تو مجھے کھل کر بات کرنا ہو گی۔
بالکل نہیں! میرا کنوارہ پن زائل ہو چکا ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ انہیں صدمہ پہنچا ہے، ایک دم سے ان کی اعصاب پر قابو پانے کی طاقت جواب دے گئی، جس سے ان کی حیرت عیاں ہو گئی اور میں نے صاف دیکھ لیا کہ وہ اپنی یہ حالت چھپانا چاہتے ہیں، انہوں نے اگلی بات کہنے سے پہلے گہرا سانس لیا اور بولے:
میں ضرور تمہاری مدد کروں گا۔
کسی کو بالآخراپنی مدد کے لیے آمادہ دیکھ کر مجھے اپنی طبیعت میں ایک عجیب طرح کا انبساط محسوس ہوا، میرے کندھوں سے بہت بڑا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ نروس ہاتھوں سے موبائل پر کسی سے بات کر نے لگے، ان کی باتوں سے یوں لگ رہا تھا کہ وہ ان کا کوئی ہم پیشہ ہے۔ ان سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے ہاتھوں کو ہر طرف حرکت دے رہے تھے اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے خوفناک زندگی سے نکالنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں کوئی حتمی حل ملے،اور وہ اللہ کرے بہت جلدی کام کریں تاکہ میں آج شام اپنے گھر لوٹوں تو اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوبارہ سے کھیلوں۔ چند ہی گھنٹوں میں مجھے طلاق مل جائے گی اور میں پھر سے آزاد ہو جاؤں گی، میرا کوئی شوہر ہو گا نہ مجھے کسی کا ڈر،رات کو میں اس کے ساتھ نہیں ہوں گی اور مجھے وہی تکلیف اب نہیں اٹھانا پڑے گی۔
میں ضرورت سے زیادہ جلدی میں خوش ہونے لگی۔
میری بچی! تمہیں معلوم ہے کہ اس کے لیے تمہاری سوچ سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے؟ معاملہ بڑا پُرپیچ ہے، اور میں تمہیں یہ بھی ضمانت نہیں دے سکتا کہ تم یہ کیس جیت جاؤ گی۔
برآمدے میں ہمارے ساتھ شریک ہونے والے دوسرے جسٹس نے میری امید کی عمارت دھڑام سے گرا دی۔ ان کا نام محمد الغازی ہے ، جوبدحواس لگ رہے تھے۔جسٹس عبدو نے بتایا کہ وہ چیف جسٹس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں میرے جیسا کیس نہیں دیکھا۔ ان دونوں نے مجھے وضاحت سے بتایا کہ یمن میں پندرہ سال کی عمر سے قبل بچیوں کی شادی کروا دی جاتی ہے اور یہ ایک قدیم روایت ہے۔
جسٹس عبدو نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس سب کے باوجود ان کے علم میں نہیں ہے کہ کم عمری کی ان تمام شادیوں میں کسی نے کبھی طلاق کا لفظ بھی اپنی زبان پر لایا ہو، کیونکہ اب تک کوئی بھی چھوٹی بچی عدالت میں پیش نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ کیس ایک منفرد اور استثنائی کیس ہے اور بڑا ہی پیچیدہ ہے۔
جلدی سے وکیل کا بندوبست کرنا ہو گا، جسٹس عبدو نے کوئی حل نہ پا کر تجویز دی۔
وکیل! لیکن کیوں؟ اس عدالت کا کیا فائدہ جو فوری طور پر طلاق کا اعلان تک نہ کر سکے؟ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ استثنائی کیس ہے، کیونکہ قوانین لوگوں کی مدد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ یہ دونوں جج صاحبان بڑے نرم دل نظر آتے ہیں ،لیکن کیا انہیں اس بات کی بھی خبر ہے کہ اگر میں ضمانت کے بغیر گھر چلی گئی تو میرا شوہر مجھے لینے آ جائے گا اور اس طرح میری تکلیفیں از سرنو شروع ہو جائیں گی؟ ہرگز نہیں! مجھے گھر واپس نہیں جانا۔
میں بھنویں چڑھا ئے اپنی بات پر مصر تھی، اور اپنی ہی آواز کی بازگشت نے مجھے ڈرا دیا، یقیناًمیری آواز ضرورت سے زیادہ اونچی ہو گئی تھی یا پھر بڑی بڑی سفید دیواروں کا آواز اونچی کرنے میں کوئی عمل دخل تھا۔
ہم کوئی حل ڈھونڈ لیں گے، ہم مسئلہ حل کر لیں گے۔ محمد الغازی اپنی پگڑی درست کرتے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑبڑائے۔
لیکن انہیں ایک اور فکر لاحق ہو گئی، کیونکہ اسی وقت گھڑی نے دو بجنے پر گھنٹہ بجایا، جو دفاتر بند کرنے کا وقت ہے۔آج بدھ کا دن ہے اور مسلمانوں کے ہاں ہفتہ وار چھٹی شروع ہونے والی ہے، اب تو ہفتے کے دن ہی عدالت لگے گی۔ میں سمجھ گئی کہ میری باتیں سننے کے بعد وہ میرے گھر واپس جانے کی وجہ سے بھی پریشان ہیں۔جسٹس محمد الغازی نے مزید کہا:
اس کے واپس گھر جانے کی تو بالکل گنجائش ہی نہیں ہے، اور کیا معلوم یہ اکیلی سڑکوں پر پھرتی رہے تو اس کے ساتھ کیا ہوجائے۔
جسٹس عبدو کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ مجھے اپنی چھت تلے ہی پناہ دے دیں؟ میری کہانی سننے کے بعد وہ مجھے میرے شوہر کے پنجے سے نکالنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ لیکن جب انہیں یاد آیا کہ ان کی اہلیہ اور بچے چند دنوں کے لیے گاؤں گئے ہوئے ہیں اور وہ گھر پر اکیلے ہیں تو فوراً ہی انہوں نے اپنی بات واپس لے لی۔ کیونکہ اسلامی روایت کے مطابق کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی غیرمحرم کے ساتھ، جس سے اس کا براہ راست کوئی قریبی تعلق نہ ہو، علیحدگی میں وقت گزارے۔
اب کیا ہو گا؟
بات تیسرے جج تک پہنچ گئی۔ ان کا نام عبدالواحد ہے، انہوں نے اپنا گھر پیش کر دیا، کیونکہ ان کی فیملی گھر پر ہی ہے اور گھر بھی کشادہ ہے جہاں وہ میری میزبانی کر سکتے ہیں۔کم از کم اس وقت تو مجھے نجات مل گئی تھی۔ ان جج صاحب کی بھی مونچھیں تھیں لیکن وہ کم ازکم جسٹس عبدو کی طرح ڈراؤنی نہیں تھیں۔ اور ان کے چہرے پر آہنی عینک ان کے مظہر کو سنجیدہ بنارہی تھی۔ ان کا لباس بھی پرہیبت تھا، میں ان سے زیادہ بات کرنے کی ہمت نہ کر سکی، میں نے خود پر قابو پایا کیونکہ میں اپنے گھر لوٹنے کے بجائے اپنی زندگی داؤ پر لگانے کو ترجیح دیتی تھی۔ اور پھر مجھے یہ چیز بھی اطمینان دلا رہی تھی کہ وہ ایک حقیقی والد نظر آ رہے تھے جو اپنے بچوں کا خیال رکھتے تھے، وہ میرے ابو کی طرح نہیں تھے۔
ان کے پاس ایک بڑی اور آرام دہ گاڑی تھی،بالکل صاف ستھری، اور اس کے اندر سے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے ٹھنڈی ہوا بھی آ رہی تھی، یہ ہوا میرے چہرے سے ٹکراتی تو مجھے بہت لطف آتا۔ سفر کے دوران شاید ہی میں نے کوئی بات کی ہو، ایسا یا تو شرم کی وجہ سے تھا یا اس لیے کہ میں خود کو میرا خیال رکھنے والے ان بڑے لوگوں کے درمیان دیکھ کر محفوظ و مطمئن محسوس کر رہی تھی۔
جسٹس عبدالواحد نے سکوت توڑتے ہوئے کہا:
تم بہت بہادر بچی ہو! شاباش! تم بالکل بھی پریشان مت ہونا، طلاق مانگنا تمہارا حق ہے، تم سے پہلے تم جیسی بہت سی بچیوں نے تمہاری طرح کی ہی تکالیف برداشت کیں لیکن افسوس کہ وہ یہ ہمت نہ دکھا سکیں۔ ہم تمہاری حفاظت کے لیے سب کچھ کر گزریں گے، ہم ہر طرح کی کوشش کریں گے، اور تمہیں ہرگز تمہارے شوہر کے پاس واپس نہیں جانے دیں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے۔
یہ سن کر میرے ہونٹ پہلی کے چاند کی صورت پیش کرنے لگے، اور بڑے عرصہ کے بعد میرے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
وہ پھر گویا ہوئے:
تمہیں شاید ابھی اندازہ نہیں ہے، لیکن تم ایک منفرد بچی ہو۔
یہ سن کر شرم سے میرا منہ سرخ ہو گیا۔
گھر پہنچ کر جسٹس عبدالواحد نے اپنی اہلیہ سبا اور اپنے بچوں سے میرا تعارف کروایا۔ ان کی بیٹی شیما مجھ سے کوئی تین چار برس چھوٹی ہو گی، اس کے کمرے میں بہت سی پیاری پیاری گڑیاں ہیں، اور یہ امریکی باربی کا مشرقی نمونہہے، جس کے بال سنہرے ہیں اور یمن کی بچیوں کے خواب کی مانند ہیں۔
کتنے افسوس کی بات ہے!
شیما کو جب سے اس کی ماں نے بتایا کہ مجھے ایک ظالم آدمی نے مارا ہے تو اس کا رد عمل فطری تھا، اس نے اپنی بھنویں چڑھا لیں جیسے کسی پر غصہ کر رہی ہو، اور میری طرف ہمدردرانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہوئے اشارہ کرتی ہے کہ میں اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے چلوں، اور پھر میرا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔
باقی چار بچے کارٹون دیکھ رہے تھے، ان کے گھر میں دو ٹی وی ہیں، کیا کہنے امیری کے!
تم اسے اپنا گھر ہی سمجھو، سبا آنٹی نے مجھے پیار بھرے لہجے میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا۔
اس کا مطلب ہے ،یہ ہوتی ہے عائلی زندگی۔۔۔ انہوں نے تو مجھے فوراً ہی اپنی بیٹی بنا لیا حالانکہ میں سمجھتی تھی کہ یہاں میری کون پرواہ کرے گا؟ مجھے راحت اور اطمینان نصیب ہوا۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ میرے لیے ان کو اپنے متعلق سب کچھ بتانا آسان ہو گیا کہ میں بغیر کسی کے کہے یا مطالبہ کیے انہیں اپنی کہانی سناوں۔
اس رات زنانہ لباس پہن کر صحن میں بیٹھے ہوئے مجھے پہلی مرتبہ یہ لگا کہ میں انہیں اپنا دکھڑا سنا سکتی ہوں۔
(جاری ہے)
مترجم:عاطف ہاشمی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...