ہزارہ شیعہ کو کون مارتا ہے؟

849

ہزارہ وہ بدقسمت قوم ہیں جنہوں نے لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل امن کا خواب لے کر کوئٹہ کی جانب ہجرت کی تھی۔ لیکن اس خواب کی تعبیر اس قدر بھیانک نکلے گی انہوں نے یقینا نہیں سوچا ہوگا۔ 1880 میں افغانستان کے فرمانروا امیر عبدالرحمان نے بامیان میں بسنے والی اس برادری کے خلاف علما سے کفر کا فتوی حاصل کیا اور اپنے ہی شہریوں پر دھاوا بول دیا۔ ان کا قتل عام کیا، املاک ضبط کیں اور ایک بڑی تعداد کو قید میں ڈال دیا۔ ہزارہ کی نسل کشی اتنی منظم اور تکلیف دہ تھی کہ ایران کے بادشاہ ناصرالدین کو برطانیہ سے التجا کرنی پڑی کہ وہ مداخلت کرے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، برطانوی مداخلت کے بعد امیرعبدالرحمان نے اپنی فوج واپس بلائی۔ اُس وقت بامیان سے ہزارہ کے کئی خاندانوں نے پہلی بار کوئٹہ کی طرف ہجرت کی تھی تاکہ انہیں اور ان کے بچوں کو کہیں دوبارہ ایسے ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک صدی تک پاکستان اور افغانستان کے ہزارہ محفوظ  رہے۔ لیکن نوے کی دہائی سے اب تک، دونوں ممالک میں انہیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر منظم نسل کشی کی مہم کا سامنا ہے۔ روس کی شکست کے بعد پہلے عبدالرب سیاف نے سنیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ان کے خلاف بلاوجہ کارووائیاں کیں تاکہ سنی اسے اقتدار کے لیے چُن لیں۔ اس کے بعد طالبان نے ان کو نشانے پر رکھ لیا۔ وہ ہزارہ کو غیرمسلم کہتے تھے۔ انہوں نے ان کا بے دریغ قتل کیا۔ 1998 میں صرف مزار شریف کے علاقہ پر حملہ کے نتیجہ مارے جانے والے ہزارہ کی تعداد 2000 تھی۔ اس حملے میں پاکستان کی موجودہ کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے جہادی کارکن بھی شامل تھے۔ اس وقت  بھی افغانستان سے کئی ہزارہ خاندان پناہ کی تلاش میں کوئٹہ آئے تھے۔ طالبان کے دور ہی میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری کے قتل کے چند واقعات سامنے آئے تھے جن کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔ لیکن اس کو ملک میں تشیع کے خلاف قتل کی اس عمومی تحریک کا حصہ سمجھا گیا تھا جس کی لشکرجھنگوی ذمہ دار تھی۔ درست ہے کہ یہ اس تحریک کا تسلسل تھا لیکن بالخصوص ہزارہ  شیعہ کو نشانہ بنائے جانے میں طالبان کی مرضی اور انگیخت بھی شامل تھی۔

پاکستان کی کالعدم تنظیمیں خصوصا لشکر جھنگوی العالمی اورجنداللہ بلوچستان میں زیادہ مضبوط ہیں اور یہ دونوں جماعتیں اب داعش کی مقامی ذیلی شاخیں سمجھی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں ان کا وجود وطاقت معنی خیز اس لیے ہے کہ اس کو ایران اور افغانستان کی حدودلگتی ہیں، جو داعش کے لیے زرخیز اور سودمند محل وقوع ہے

2001 میں جب امریکہ اور نیٹو کی فوجیں افغانستان میں اتریں تو Bonn Agreement کے نام سے نئے سیاسی نظم کو متعارف کرایاگیا۔ جس کے تحت افغانستان کی چھوٹی شناختوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا گیا۔ تب ہزارہ قوم کو فوج اور پولیس کے محکمے کے ساتھ بیوروکریسی اور وزارتوں میں بھی نمائندگی ملی اور ان کی حالت میں بہتری کے آثار نمودار ہوئے۔ طالبان کو یہ ناگوار گزرا۔ وہ نئی حکومت کو امریکی کل پرزے اور دین دشمن خیال کرتے تھے جس کا ہزارہ بھی حصہ تھے۔ وہ انہیں اب افغانستان میں بڑے پیمانے پر نشانہ نہیں بنا سکتے تھے تو پاکستان میں موجود اپنے فکری اتحادیوں کے ذریعے یہاں ان کے قتل کا سلسلہ شروع کیا۔ لشکر جھنگوی 2016  تک کوئٹہ ہزارہ قتل کے کئی واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے اور کھلے عام دھمکی آمیز خط بھی لکھتی رہی۔ اس کے باوجود بلوچستان سے ان عناصر کا صفایا نہیں ہوسکا، نہ ان کی طاقت میں زیادہ کمی لائی جاسکی۔ اس کی ایک وجہ پاکستان سے باہر متشدد مسلح قوتوں کی ان کو پشت پناہی بھی ہے جن میں اب داعش کا نام بھی شامل ہوچکا ہے۔

پاکستانی کالعدم تنظیمیں جوکہ ایران  مخالف ہیں، ان کے لیے کوئٹہ ہزارہ پر حملے اس لیے بھی جواز رکھتے تھے اور اب بھی ہیں کیونکہ افغانستان میں ہزارہ کو ایران کی پراکسی خیال کیا جاتا ہے۔ ایک قوم اور آسان ہدف ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ان پر حملے کرکے ایران کو پیغام دیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ایران نے عراق وشام میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے سینکڑوں افغان ہزارہ نوجوانوں کو بھرتی کیا تھا، لہذا جب داعش کو شکست ہوئی اور اس کے خلیے افغانستان منتقل ہوئے تو طالبان کے بعد اس نے بھی بطور خاص ہزارہ کو نشانہ بنانا شروع کیا، وہ ادھر اس برادری کے بہت سارے افراد کو قتل کر چکی ہے اور کئیوں کو لاپتہ، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ افغانستان میں ان کی بازیابی کے لیے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں داعش کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی مسلح جماعتیں بھی وہی ہیں جو پہلے سے ہزارہ کے قتل میں ملوث ہیں۔

کوئٹہ ہزارہ کی نسل کشی کو افغانستان کے تناظر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ دونوں ممالک میں اس برادری کا قتل نوے کی دہائی میں شروع ہوا جو ابھی تک دونوں جگہ جاری ہے۔ کابل میں 7 مارچ کو ہزارہ کے ایک اجتماع پر دھماکہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ کوئٹہ کے حالیہ دھماکے کی ذمہ داری بھی داعش نے لی ہے۔ پاکستان کی کالعدم تنظیمیں خصوصا لشکر جھنگوی العالمی اورجنداللہ بلوچستان میں زیادہ مضبوط ہیں اور یہ دونوں جماعتیں اب داعش کی مقامی ذیلی شاخیں سمجھی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں ان کا وجود وطاقت معنی خیز اس لیے ہے کہ اس کو ایران اور افغانستان کی حدودلگتی ہیں، جو داعش کے لیے زرخیز اور سودمند محل وقوع ہے۔ لہذا یہاں بدامنی کا رُخ پہلے کی طرح صرف یک جہت بھی نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان کے حالیہ اورآنے والے وسیع معاشی تناظر میں اسے صرف تشیع دشمنی یا مخصوص روایتی بیانیےکی حد تک رکھنا مشکل ہے۔ پاکستانی ریاست کے لیے اس خطرے سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہے اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب بلاتفریق ہر متشدد  خلیے کو بدامنی مانا جائے، چاہے وہ جس نام سے بھی ہو۔ کیونکہ متشدد خلیے وفاداری نہیں، مفاد اور فساد کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...