جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام نے آزادی کی تحریکوں کو نیا رُخ دیا

351

13اپریل کو جلیانوالہ باغ، امرتسر کے قتل عام کے سوسال مکمل ہوگئے ہیں۔ 13 اپریل 1919 کواس دن انگریز آفسر جنرل ڈائر کے حکم پر سپاہیوں نے ایک پرامن جلسہ عام کو گولیوں کانشانہ بنایا تھا۔ یہ مظاہرین دو قوم پرست رہنماؤں، سیتا پال اور ڈاکٹرسیف الدین کچیلو کی گرفتاری پراحتجاج کررہے تھے۔ ایک ڈاکٹر کے مطابق اس واقعہ میں گولیوں کانشانہ بننے والوں کی تعداد 1526 تھی۔ برطانوی سرکار کے بقول وہ 400 سے بھی کم تھے جبکہ اکثر تاریخ دان کہتے ہیں کہ اس میں 1500 افراد مارے گئے اور 2000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعہ اورقتل عام  کے سوسال مکمل ہونے پر موجودہ برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘برطانوی ہند کی تاریخ پر ایک شرمناک دھبہ’ کہا۔ اس نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے جلیانوالہ والا باغ کے دورہ 1997 کے الفاظ بھی دہرائے۔ ملکہ برطانیہ نے اس موقع پرکہا تھا کہ یہ ہمارے انڈیا کے ساتھ ماضی کے تعلق کی ایک تکلیف دہ مثال ہے۔ جبکہ حزب اختلاف کی جماعت لیبرپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی حکومت واضح معافی مانگے۔ بدھ کو 80 اراکین پارلیمان نے خارجہ امور کے سیکریٹری جیرمے ہنٹ کو برطانیہ کی طرف سے معافی مانگنے کے لیے خط بھی لکھا۔ اراکین پارلیمان کا موقف ہے کہ قتل ہونے والے اور متأثرہ خاندانوں سے معافی مانگنے سے انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا ہوگی۔ لیکن برطانوی حکومت ایک محتاط موقف اپنانا چاہتی ہے۔ معافی کامطب اعتراف جرم ہے اور برطانیہ اس اعتراف سے بچنا چاہتاہے۔ پرامن عوامی اجتماع پرگولیاں برسانا اورقتل عام کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ لیکن برطانوی حکومت اس کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ یہ ایک جرم کے بجائے ‘محض ایک قابل افسوس واقعہ’ ہے۔ یہ دراصل الفاظ کی ہیرا پھیری سے استعمار و نوآبادیاتی تسلط اور ظلم و جبر کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن ہے۔ بہرحال برطانیہ کا اسے تاریخ پر’ایک شرمناک دھبہ’ قراردینے کامطلب یہ بھی ہے کہ اس ایک واقعہ نے برطانوی ہند کی سنہری تاریخ کو بھی داغدار بنایاہے۔ جلیانوالہ باغ کا واقعہ دراصل برطانوی ہند کا ایک سیاہ باب ہے جس سے برطانوی استعمارکے مظالم کا پتہ چلتا ہے۔

ڈائرنے 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا اور بغیر خبردار کئے گولی چلانے کاحکم دیدیا۔ وہ سپاہیوں کو اس وقت تک نہتی عوام پہ گولیاں برسانے کا حکم دیتا رہا جب تک ان کے پاس بارود ختم نہ ہوگیا

اس قتل عام کے پس منظر میں پہلی جنگ عظیم اور روسی انقلاب 1917 جیسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی تھیں۔ یہ برطانیہ کے لیے مشکل وقت تھا۔ پنجاب میں غدر پارٹی پہلے ہی اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھی۔ پنجاب اوربنگال کے انقلابی برطانوی ہند کیلئے مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ البتہ کانگریس نے جنگ عظیم اول کے موقع پر برطانوی ہند کے ساتھ تعاون کیا۔ ان ہندوستانی سیاستدانوں کوامید تھی کہ جنگ کے بعد اصلاحات کی جائیں گی اوراقتدارمیں ان کو حصہ دیا جائے گا۔ لیکن انقلابیوں کو انگریز استعمار سے کچھ زیادہ نہ مل سکا۔ انگریز سرکار نے انڈیا میں عوامی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے دوران جنگ کئی ایمرجنسی قوانین نافذ کئے تھے جس کا اولین مقصد دورانِ جنگ برطانوی ہند کے خلاف عوامی بغاوت اور آزادی کی جدوجہد کی کوششوں کی روک تھام تھی۔ تاہم اختتام جنگ پر 1918 میں ہندوستانی سیاستدانوں کی سیاسی معاملات پرمونٹیگوچمسفورڈ رپورٹ برطانوی پارلیمان میں پیش کی گئی۔ جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیاگیا تھاکہ ہندوستانیوں کو انتظامی امورکے ہرشعبہ میں حصہ دیا جائے تاکہ ہندوستانیوں میں اپنی ذمہ داریوں سے نبردآزما ہونے کااحساس پیداہو۔ رپورٹ کاسب سے اہم نکتہ کچھ صوبائی اختیارات کوہندوستانی وزراء کے حوالے کرنے کی سفارش تھی۔ لیکن دوسری طرف برطانوی ہند روسی انقلاب کے بعد مقامی انقلابیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے زیادہ خوفزدہ تھا۔ لہذا اس نے الٹا فروری 1919 میں ایمپریل لیجسلیٹیو کونسل سے ایک قانون پاس کیا جورولٹ ایکٹ کہلایا۔ اس قانون کے تحت سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی مقدمہ کے اور محض شبہ کی بنیاد پرجیل میں ڈالا جاسکتا تھا۔ یہ قانون  جنگ کے ڈیفنس ایکٹ 1915 کی طرح تھا۔ یہ اس لیے کیا گیا کیونکہ جنگ کے بعد انقلابی سرگرمیوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آرہاتھا۔ ایمپریل کونسل میں تمام غیرسرکاری ہندوستانی اراکین نے اس ایکٹ  کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس سے برطانوی ہند کے خلاف عوامی جذبات کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔

10 اپریل کو امرتسر کے ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پراحتجاج ہوا۔ یہ مظاہرین آزادی ہند کے دو رہنماؤں کی رہائی کامطالبہ کررہے تھے جو احتجاج  کرنے پر گرفتار کئے گئے تھے۔ مسلسل جبر اور زور زبردستی نے پورے پنجاب کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امرتسرمیں سرکاری دفاتر اورا ملاک پرحملے کرکے انہیں  نذراتش کردیا گیا۔ اس دوران انگریزوں سمیت کئی ہندوستانی مارے گئے۔ اگلے دودن حالات مزید بگڑ ے  توبرطانوی ہند نے پنجاب کے کئی حصوں میں مارشل لاء لگا دیا جس کے تحت عوامی اجتماع پرپابندی لگ گئی۔

13اپریل کو بیساکھی کے موقع پر بڑا عوامی اجتماع منعقد ہوا۔ یہ سکھوں کے سال کا پہلا دن بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس گراونڈ میں پندرہ ہزارکے لگ بھگ افراد موجود تھے۔ عوامی انقلاب سے گھبرایا ہوا برطانوی ہند پہلے ہی خوفزدہ تھا۔ ان حالات میں ڈائرنے سپاہیوں کوعوامی اجتماع پرگولیاں چلانے کا حکم دیدیا۔ کہاجاتاہے کہ مرنے والوں میں اکثریت قوم پرستوں کی تھی جوبرطانوی حکومت کے زبردستی سپاہیوں کوجنگ میں جھونکنے اورعوام پر بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ کچھ دن قبل ہی جب مارشل لاء لگا تھا تو شہر کو ایک برطانوی فوجی آفیسر کے حوالے کیا گیا تھا جس نے شہر میں ہرقسم کے اجتماع کوممنوع قراردیا۔ ڈائرنے 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا اور بغیر خبردار کئے گولی چلانے کاحکم دیدیا۔ وہ سپاہیوں کو اس وقت تک نہتی عوام پہ گولیاں برسانے کا حکم دیتا رہا جب تک ان کے پاس بارود ختم نہ ہوگیا۔

جلیانوالہ باغ کے قتل عام سے ایک اور بغاوت پھوٹ پڑی۔ جنگ کے دوران برطانوی ہند کے ساتھ تعاون کرنے والے مہاتما گاندھی پراتنا باؤ  پڑا کہ اس نے مکمل آزادی کی مانگ کرڈالی۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر کانگریس کو سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑی۔ اس قتل عام نے ہندوستانی سیاست اور نوجوان انقلابیوں پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ اس نے آزادی کے لیے پرامن  جدوجہد کرنے والوں پر برطانوی استعمار کاخونی چہرہ عیاں کردیا۔ اس وقت بھگت سنگھ کی عمر12 سال تھی۔ اس پر اس واقعے کا گہرا اثر پڑا۔ اس سانحہ کے بعد ہندوستان میں سیاست اور تحریکوں کا جو رُخ متعین ہوا اس نے انگریز سرکار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...