جسٹس فائز عیسیٰ کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے؟

4,509

زیادہ پرانی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میمو کمشن کی سربراہی کرتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سب کو اچھے لگتے تھے۔ انہوں نے میمو کمشن رپورٹ دی جس میں کہا گیا تھا کہ اُس وقت امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی ملک کے وفادار نہیں۔ تب اس رپورٹ پر مسلم لیگ (ن) اور کچھ دیگر حلقوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ تاہم معزز جج پیپلز پارٹی کو ضرور کھٹکنے لگے۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے یہ کیس ختم کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے آخری دورحکومت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کے بعد قائم کیے گئےکمشن میں اس وقت کے طاقتور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دہشتگردی کے تدارک کے لیے کردار پر سوالات اٹھائے۔ ان کی کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں پر بھی نکتہ چینی کی۔ اُس دور میں چوہدری نثار کو چیلنج کرنا وزیراعظم کو چیلنج کرنے سے زیادہ مشکل کام تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے طاقتور وزیر کی پروا کیے بغیر اپنی رپورٹ میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے چوہدری نثار جیسے طاقتور وزیر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ چوہدری نثار علی خان طبعیت کو ناگوار گذرنے والی ہربات پر تردید کرنے کے عارضے میں مبتلا ہیں، کوئٹہ کمشن رپورٹ آئی تو وہ بہت تلملائے۔  وزیرداخلہ نے سرکاری خرچ پر رپورٹ کوچیلنج کرنے کا اعلان کیا اور بعد میں سارا معاملہ دب گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت البتہ قاضی فائز عیسیٰ سے ناخوش تھی۔

تاریخی طور پر حکومتوں کے زوال کا آغاز عدلیہ یا ججز سے لڑائی کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دو، نوازشریف کےتین ادوار اور ان کے اقتدار سے نکلنے کی کہانیوں میں عدلیہ سے لڑائی ایک اہم ترین پہلو رہی ہے

مسلم لیگ (ن) کے دورحکومت کے آخری حصے میں جب فیض آباد کے مقام پر ایک مذہبی گروہ نے احتجاجی دھرنا دیا تو ابتدا میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس وقت کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا اور مذاکرات کے نتیجے میں دھرنے کے اختتام پر کیے گئے معاہد ے پر سوالات بھی اٹھائے۔ بعد میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار سے خطاب کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران راولپنڈی بار سے خطاب کے متنازع متن کے باعث جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بحثیت جج ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کی اور صدر نے انہیں برطرف کردیا۔ آجکل سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

معاملہ یہیں نہیں رکا۔ فیض آباد کا دھرنا سپریم کورٹ کی نظر میں بھی آگیا۔ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس کی سماعت کرکے اس پر ایک جامع اور تاریخی فیصلہ دیا جس میں لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ  کے بعض رہنماؤں سمیت پڑھے لکھے افراد نے اس عدالتی فیصلے کی خوب پذیرائی کی۔ خیال یہ تھا کہ معاملہ یہیں پہ رک جائے گا۔ مگر گذشتہ رات جیو نیوز اسلام آبادکے نیوز روم میں ہمارے پیارے دوست آصف بشیر چوہدری نے تہلکہ خیز خبر سنائی کہ حکومت فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی ایک ایسی اپیل داخل کروا رہی جس میں عدالت عظمیٰ کے معزز جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام لے کر ان پر تنقید کی گئی ہے۔ کچھ دیر میں آصف بشیر چوہدری کی خبر جیو نیوز کی شہہ سرخی تھی جسے باقی ٹی وی چینلز فالو کررہے تھے۔ حکومت کی طرف سے نظر ثانی اپیل داخل کرنے کے فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ فیصلہ تحریک انصاف یا اس کی کسی شخصیت کےخلاف نہ تھا مگر حیران کن طور پر حکومت نے ایک معزز جج کا نام لے کر اسے اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس  بارے میں شیخ رشید اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہیں۔ شیخ رشید اس فیصلے میں اپنے بارے میں آبزرویشنز پر معترض ہیں تو ایم کیو ایم بارہ مئی کے ذکر پر ناراض۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کوئی عام جج نہیں ہیں۔ خدا نخواستہ اگرکوئی انہونی نہ ہوئی تو وہ سال 2023\24 میں ایک سال کے لیے ملک کے چیف جسٹس تعینات ہوں گے۔ یہ سپریم کورٹ میں روایت سے ہٹ کر بات کرنے والے جج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ وہی جج ہیں جنہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے دور میں بھری عدالت میں پانامہ فیصلے سمیت ان کے متعدد اقدامات پر تنقید بھی کی تھی۔ مگر یہ سوال ابھی باقی ہے کہ دھرنا کیس کا فیصلہ حکومتی جماعت کے خلاف نہیں تو حکومت کو اس معاملے پر مستقبل کے چیف جسٹس کو اس تنازعے میں گھسیٹنے کی ضرورت کیا تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کاروائی مستقبل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سابق جسٹس شوکت عزیز صد یقی کی طرح کی ایک مثال بنانے کے عمل کا حصہ ہو؟ اگر ایسا ہے تو یہ بہت خطرناک ہوگا۔

تاریخی طور پر حکومتوں کے زوال کا آغاز عدلیہ یا ججز سے لڑائی کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دو، نوازشریف کےتین ادوار اور ان کے اقتدار سے نکلنے کی کہانیوں میں عدلیہ سے لڑائی ایک اہم ترین پہلو رہی ہے۔ 8 مارچ 2007 تک سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بھی ملک میں کوئی چیلنج کرنے والا نہ تھا مگر اگلے روز اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری سے راولپنڈی میں ان کی ایک ملاقات اور معزولی کے اعلان نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو جوڑ دیا اور سوئے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آنے والا ہے۔ اگر وزیراعظم کی طرف سے گرتی معیشت کو سہارا نہ دیا گیا تو بڑھتی مہنگائی اورسرپر کھڑی گرمیوں کی شدت کے دوران ہونے والی لوڈ شیڈنگ آئندہ چند دن میں عوام کا کباڑہ کردے گی۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مختلف سیاسی اور مفاداتی وجوہات کی بنا پر فی الحال تو حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے سے گریزاں ہیں۔ مگر اس سارے ماحول میں کوئی ایک چنگاری سارے ماحول کو آگ لگا دینے کی مکمل صلاحیت کی حامل ہوگی۔ اگر ایسا ہوا تو اصل کردار پھر بچ نکلیں گے مگر یہ عمل عمران خان کی حکومت کے لیے تباہی ضرور ثابت ہوگا۔ اسی ماحول میں میری اسلام آباد میں تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو پوچھا کیا آپ کی جماعت 5 سال پورے کرے گی؟ جواب آیا، ہرگز نہیں۔ نئے انتخابات ہونگے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...