کشمیر میں بڑھتا ہوا آبی تنازعہ پاک بھارت تعلقات کے لئے کیا معنی رکھتا ہے؟

264

پاک بھارت تعلقات میں تنازعے کی بنیاد ریاست جموں کشمیر ہے۔ اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنانے میں دریائے سندھ  کے جھگڑے نے اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ پاکستان کی تین تہائی آبادی کا انحصار اسی دریا پر ہے جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ دریا بھارت کے زیر قبضہ علاقے سے ہوکر گزرتا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے مختلف معاون دریاؤں کے تنازعے کو 1960 میں عالمی بنک کی ثالثی میں طے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کا نام سندھ طاس معاہدہ ہے جس پر دونوں ممالک نے دستخط کئے۔ تاہم پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ تعمیر ہونے والے ہائیڈرو الیکٹرک پیداوار کے منصوبہ جات اس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ اس معاملے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے نیشنل بیورو فار ایشین ریسرچ نے کرسٹوفر سنیڈن سے گفتگو کی ہے۔ کرسٹوفر سنیڈن ایک امریکی ادارہ براے سیکورٹی اسٹڈیز میں شعبہ تاریخ کے استاد ہیں۔ انہیں جنوب ایشیائی سیاسیات پڑھنانے کا 40 سالہ تجربہ ہے۔ اس موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ وہ آج کل آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔

کشمیر کا آبی بحران کیا ہے؟

کشمیر کا آبی بحران بھارت اور پاکستان کے مابین تین دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم  کے پانیوں پر ہونے والا حالیہ تنازعہ ہے۔ یہ دریا بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے گزر کر پنجاب میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ خطہ شمالی بھارت اور پاکستان کے مشرق میں واقع ایک زرخیز ثقافتی مرکز ہے۔ پنجاب کا نام فارسی زبان کے دو لفظوں ‘پنج ‘ اور ‘آب’ کا مجموعہ ہے۔ اسے پنجاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا جہلم، چناب، ستلج اور بیاس گزرتے ہیں۔ یہ تمام دریا اکٹھے ہوکر سندھ کے پانی کہلاتے ہیں۔ 1960 میں پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی ثالثی میں ایک معاہدہ کیا جسے سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے۔ بہت زیادہ غورو فکر کئے بغیریہاں بہنے والے مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا، جبکہ مغربی دریاؤں جہلم ، چناب اور سندھ پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیاگیا۔

اس معاہدے کے باوجود پاکستان اپنی حیثیت کو اس لئے کمزور تصور کرتا ہے کہ جو تین دریا پاکستان کے حصے میں آئے، وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے گزرتے ہیں۔ پاکستان نے ان دریاؤں پر جاری بھارتی سرگرمیوں پر اعتراض کیا ہے جس میں ان دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے ان کے پانیوں کو ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان کا اعتراض ہے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے اس کے جنوب میں واقع زمینوں کی زرخیزی متاثر ہوگی۔ چونکہ پاکستانی علاقے ان دریاؤں کی اترائی کے رستے پہ واقع ہیں لہذا پاکستان کو یہ خدشہ ہے کہ لڑائی کی صورت میں بھارت ان دریاؤں کے پانیوں کا بہاؤ روک دے گا جیساکہ اس نے 1948 اور 1949 میں کیا تھا، یا ان دریاؤں میں یکلخت زیادہ پانی چھوڑ کر پاکستان کے علاقوں میں سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

تنازعے کی سیاسی وجہ

جموں و کشمیر اور اس کے دریاؤں پر پاک بھارت تنازعے کی بنیاد 1947 میں رکھی گئی جب برطانوی سلطنت کا شیرازہ بکھرا۔ برطانیہ اس سلطنت کے دوتہائی خطے کا مالک تھا اور اس نے اس علاقے کو دو ریاستوں پاکستان اور بھارت میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا تھا۔ باقی کا ایک تہائی رقبہ لگ بھگ 565 شاہی ریاستوں پر مشتمل تھا جس میں 120 کے قریب ایسی ریاستیں تھیں جو طاقتور اور اپنے طور پر خود کفیل تھیں۔ ان ریاستوں کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ جموں و کشمیر کے راجہ نے اپنی ریاست کے الحاق کو اس خیال سے مؤخر کیے رکھا کہ وہ اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھے گا۔ یہ سابقہ شاہی ریاست آج بھی  پاکستان  اور بھارت کے مابین متنازعہ ہے۔ جس کے نتیجے میں ان تین دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ پر بھی کشیدہ صورتحال ہے جو کہ پاکستان کے زرخیز خطے پنجاب کو سیراب کرتے ہیں۔ یہ دریا، جو کہ بالائی علاقوں میں بھارت کے زیر انتظام خطے میں ہیں، نیچے موجود متنازعہ علاقے سے بہتے ہیں۔

مفادات کیا ہیں؟

سب سے بڑا مسئلہ بھارت اور پاکستان میں پانیوں کا تحفظ ہے۔ پاکستان کے لگ بھگ 65 فیصد علاقے میں زندگی کا دارومدار اس پانی پر ہے جو دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے ذریعے آتا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر بنایا گیا نہری سلسلہ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے جس کے تحت 21 اعشاریہ 2 ملین ایکٹر رقبہ سیراب ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پانی کی شدید کمی ہے جہاں فی آدمی کے لیے سالانہ محض 1000 کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔ بھارت کو بھی پانی کی قلت کا سامنا ہے جہاں فی آدمی کے لیے سالانہ 1700 کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔ لہذا دونوں ممالک کو پانی کے مسائل ہیں۔ تاہم بھارت کے پاس پانی کی کمی سے نمٹنے کے لئے بہت سے مواقع ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے اس کے پاس بہت سے دریا ہیں۔ اس کےشمال مشرق میں ایسے علاقے ہیں جن کا شمار دنیا کے چند سب سے زیادہ پانیوں والے علاقوں میں ہوتا ہے۔ لہذا یہ اپنے خشک علاقوں کو نہری نظام کے ذریعے سیراب کرسکتا ہے۔  جبکہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے جس کے پاس پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے متبادل نظام موجود نہیں۔

تنازعہ کن منصوبوں پر ہے؟

پانی سے بجلی پیدا کرنے والے کشن گنگا ڈیم اور بگلیہار ڈیم وہ بڑے منصوبے ہیں جن پر پاکستان کواعتراض ہے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ وہ کشن گنگا دریا کا رخ پاکستان کے زیر انتطام آزاد کشمیر کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے موڑ لے گا۔ پانی کو ایک بڑی سرنگ میں 20 میل تک بہایا جائے اور پھر اسے دریائے جہلم میں ڈال دیا جائے۔ اس بہاؤ کے دوران اس سے بجلی پیدا کی جائے۔ اس تنازعے پر ثالثی عدالت نے اپنا فیصلہ بھارت کے حق میں سنایا کیونکہ وہ پانی کے بہاؤ کو روک نہیں رہا تھا محض اس کا رستہ بدل رہا تھا۔

اصل میں پاکستان نے بھی نیچے کے علاقے میں بالکل ایسا ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ بھارت کی جانب سے پانی کا بہاؤ موڑنے کی وجہ سے اس میں تیزی نہیں رہی۔ پاکستان نے دریائے سندھ پر بھی ایک ڈیم(بھاشا)  تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنا اور اس سے بجلی پیدا کرنا ہے۔ پاکستان نے یہ منصوبہ اس ہوشیاری سے بنایا ہے کہ ہیڈ ورکس تو خیبر پختونخواہ میں تعمیر کیاجائے گا جبکہ پانی کا ذخیرہ گلگت بلتستان میں کیا جائے گا۔ خیبر پختونخواہ پاکستانی سرزمین ہے جبکہ گلگت بلتستان کا علاقہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تنازعے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو پانی کے ذخیرے اور بہاؤ، دونوں کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔

دونوں میں بڑا کھلاڑی کون ہے؟

دونوں ممالک کے مابین آبی تنازعے کو مزید پیچیدہ بنانے میں ان دہشتگرد گروہوں کا بھی ہاتھ ہے جو کشمیر کی وادی میں سرگرم عمل ہیں۔ ان میں سے تین گروہ بڑے ہیں جن کے نام لشکر طیبہ، حزب المجاہدین اور جیش محمد ہیں۔ حزب المجاہدین کو مقامی گروہ کہا جاتا ہے۔ مقامی اس لئے کہ اس کے بہت سے ارکان کا تعلق وادی کشمیر سے ہے جبکہ جیش محمد اور لشکر طیبہ پاکستان سے ہیں۔ ان تنظیموں کو پاکستان بھارت کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ 1971 میں ہوئی دونوں ممالک کی جنگ کے بعد پاکستان نے کہا تھا کہ وہ بھارت کے جسم میں ہزار زخم لگائے گا، مطلب یہ کہ پاکستان بھارت کو ہر ممکن  صورت میں کمزور کرے گا۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند یا تو لائن آف کنڑول پار کرکے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں لڑنے جائیں گے یا وہ افغانستان تربیت لینے چلے جائیں گے۔

ان عسکریت پسندوں کو جو افغانستان چلے گئے تھے، پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی  کی جانب سے تربیت، مالی معاونت اور رہنمائی  حاصل تھی، انہیں اسی ادارے نے کشمیر کی وادی میں بھی لڑائی کے لئے معاونت  فراہم کی۔ جیش محمد کے عسکریت پسندوں کا اکتوبر 2001 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں واقع پارلیمنٹ پہ حملہ نائن الیون کے بعد پہلا بڑا دہشتگرد حملہ تھا۔ یہ عسکریت پسند اب بھی بھارت کے زیر اتنظام جموں و کشمیر میں سرگرم ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر بھارت نے یہ دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ماننے سے انکار کردے گا یا اس کے مندرجات میں تبدیلی کرے گا، دراصل بھارت اس کے ذریعہ سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ وہ وادی میں موجود عسکریت پسندوں کی حمایت ترک دے۔ نومبر 2016 میں لشکر طیبہ اور اس سے وابستہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے بیان دیا تھا کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں درج پاکستانی دریاؤں کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو” ان دریاؤں میں خون بہے گا”۔ حافظ سعید کے بیان کو وزیراعظم مودی کے بیان کے جواب میں دیکھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”۔ اس طرح کی زبان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ دونوں ممالک کے لئے کس قدر حساس ہے۔

حل کیا ہے؟

دونوں ممالک کی آبادیوں میں تیزی سے اضافے نے اس مسئلہ کو ریاضیاتی نوعیت میں بدل  ہے۔ بھارت کی موجودہ آبادی 1 اعشاریہ 3 ارب ہے جبکہ پاکستان کی آبادی 200 ملین سےزائد ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی سال 2050 میں 350 ملین سے زائد ہوجائے گی جبکہ پانی کی مقدار اتنی ہی رہے گی۔ لہذا آبادی میں اس قدر زیادہ اضافہ بذات خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔  پاکستان کو خود ہی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ وہ پانی کا درست استعمال کس طرح کرسکتا ہے۔ اس ساری صورتحال کے نتیجے میں ایک اور پیچیدہ مسئلہ زراعت کا بھی سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے کچھ علاقوں میں زراعت کی پیداواری شرح کم ہورہی ہے۔ ایک امریکی ماہر رابرٹ ورسنگ نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں اناج کی فصلوں کو دستیاب پانی کی مقدار بھارت کے مقابلے میں ایک تہائی کم ہے جبکہ امریکہ کے مقابلے میں یہ مقدار بارہواں حصہ بنتی ہے۔ گندم کی فصل کے معاملے میں پاکستان بھارت کی نسبت نصف  پیدا کرتا ہے جبکہ فرانس کے مقابلے پاکستانی گندم کی پیداوار تین تہائی کم ہے۔ لہذا پاکستان کو اپنی فصلوں کی پیداوار بڑھانی ہوگی۔

اگر بھارت اور پاکستان زراعت کے جدید طریقے اپنا لیں تو ممکن ہے کہ ان کے پاس موجود پانی ان کی ضرور ت کے لئےکافی ہو۔ پانی کے لئے نالیوں کا استعمال ایک عمدہ طریقہ ہے جس کے ذریعے پانی کو بخارات بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کے لئے کھیتوں کی لیزر کے ذریعے ہمواری، آبپاشی کے لئے چھڑکاؤ کا طریقہ اور پانی کی قیمتوں میں اضافے کرکے زرعی اور  نجی شعبے میں پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں عام لوگ بجلی اور پانی کے بل ذمہ داری سے ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے پانی کے ذخائر خشک ہورہے ہیں۔ پانی کے استعمال میں نظم اور ذمہ داری کی سخت ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور رابطے بھی اہم ہیں جو کہ موجودہ حالات میں ممکن ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں مستقبل قریب میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں ہمسایہ جوہری ریاستوں کے درمیان جموں کشمیر، پانی کے تنازعے اور اس معاملے پر تعلقات خراب رہیں گے کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے۔

(یہ انٹرویو میری ہیملٹن نے یوایس سینٹ فار انڈیا کاکس کے لیے لیا اور نیشنل بیورو آف ایشین ریسرچ نے شائع کیا۔ اسے تجزیات آن لائن کے لیے شوذب عسکری نے ترجمہ کیا ہے )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...