ایک وعدہ خلافی اور سہی

198

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے اسلام نے اس ہفتے یکے یعد دیگرے یہ اعلان کیا کہ حکومت ملک میں بہتری لانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ہماری جماعتوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس لیے اب اسے گھر جانا ہوگا۔ وزیراعظم اور حکومتی وزراء اس پر یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن احتساب سے بھاگنا چاہتی ہے، اس کے قائدین این آر او چاہتے  ہیں۔ وہ کامیاب نہیں ہونگے۔

اپوزیشن سے مولانا فضل الرحمان الیکشن کے بعد سے حکومت کے خلاف تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شروع سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی ساتھ شامل کرنے اور سڑکوں پر لانے کی کوشش کی لیکن ان دونوں جماعتوں نے پس وپیش کا اظہار کیا اور تحریک کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔ لیکن اب یہ مولانا فضل الرحمان کے موقف کی حمایتی نظر آتی ہیں۔ حکومتی احتساب کی شفافیت پر تحفظات کے باوجود اپوزیشن کا حکومت گرانے یا وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی بات کرنا کسی طور درست نہیں ہوسکتا۔ حکومت گرانے کی کوئی بھی تحریک پارلیمانی سیاسی نظم کوعوام کی نظر میں مزید غیر محترم بنادے گی اور متبادل صدارتی نظام کے لیے راستہ زیادہ آسان ہوجائے گا۔ یہ درست ہے کہ اپوزیشن کا یہ اقدام مہنگائی اور معاشی ابتری کے سبب نہیں ہے بلکہ نیب کے احتساب کی وجہ سے ہے جس پر اسے اعتماد نہیں۔ وہ اس حوالے سے پہلے پارلیمنٹ میں قوانین وضع کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے بات چیت کی دعوت ملے تو اس کا رویہ تبدیل ہوجائے گا۔ لیکن دوسری طرف وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ معاملات حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ابھی تک بات چیت کے امکان کا کوئی عندیہ نہیں دیاہے۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان ایسا کرنے کو عوام کے ساتھ وعدہ خلافی سمجھتے ہوں۔ چونکہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے باربار دہرا چکے ہیں کہ سیاستدانوں نے کرپشن کرکے ملک کا جو پیسہ لوٹا ہے وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسے واپس قومی خزانے میں لائیں گے۔ اس لیے انہوں نے عہد نبھانے کے لیے احتساب کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ابھی تک مسروقہ دولت واپس ملنے کی امید  بنتی نظر نہیں آتی بلکہ الٹا پارلیمانی جماعتوں کے باہم متصادم ہونے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام دن بدن شدید ہوتا چلا جا رہا ہے جو معیشت سمیت دیگرشعبوں پر بری طرح اثرانداز ہو رہا ہے۔ خطرے کی بات یہ ہے کہ حکومتی وزراء کسی بحران کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ وزیراعظم کے رومانوی نیشنل ازم کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ہم ایک عظیم ملک بننے جا رہے ہیں۔

ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ احتساب ضروری ہے لیکن اس ضمانت کے ساتھ کہ نتائج ثمرآور ہوں گے، ریاست کی تمام صلاحیتیں اس میں ضائع نہیں ہوجائیں گی اور کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ اس کے طریق کار اور شفافیت بارے پارلیمنٹ میں پہلے کچھ اصول و ضوابط بھی وضع کر لینے چاہییں تاکہ انصاف کا پراسس ایک منظم اور مرتب طریقے سے آگے بڑھے، چاہے اس کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر وزیراعظم یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے فوری، غير منضبط اور غیر لچکدار احتساب کا وعدہ کیا تھا، تو جہاں اور کئی وعدے وفا نہیں ہوئے ملک کے داخلی سیاسی استحکام کی خاطر ایک وعدہ خلافی اور سہی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...