پانی کی قلت کا شکار سرائیکی خطہ

249

پانی کا مسئلہ آنے والے دنوں میں جس طرح وطن عزیز کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے گا اس کا اندازہ اور ادراک ہمارے حکمرانوں کوابھی تک نہیں ہوپایا ہے۔ اس قضیے پر توجہ نہ دی گئی تو ہمارے کھیت مستقبل میں جس طرح کا منظر پیش کریں گے، اس کے تصور سے ہی خوف آتا ہے۔ بھارت سے آنے والا پانی جس پر ہمارا اولین حق ہے مودی کی پاکستان دشمنی کی نظر ہورہا ہے۔ راوی، ستلج اور بیاس کا پانی عرصہ ہوا بند ہے لیکن افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ حکومتی اداروں اور ہمارے حکمرانوں نے آنکھیں موندرکھی ہیں۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی طرف سے سرائیکی وسیب کے حصے کے پانی میں کمی کرنے سے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے نہری سلسلے کی چار بڑی نہروں میں ساڑھے دس ہزار کیوسک تک پانی کی کمی ہو گئی ہے۔ امسال پانی کی قلت سے جہاں گندم کی فصل متاثر ہوئی، وہاں سبزیوں اور آم کے باغات سمیت دیگر فصلوں پر پانی کی کمی کا شدید اثر پڑا ہے۔ پانی کی کمی سے ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں پینے کا پانی بھی نایاب ہو گیا، ڈیرہ غازی خان کینال کیلئے ارسا کی طرف سے پانی کی فراہمی میں کمی سے گندم کے علاقوں میں نہروں کا وارہ بندی شیڈول بھی درہم برہم ہو گیا۔

محکمہ انہار ڈیرہ غازی خان زون کے زیر انتظام ڈیرہ غازی خان کینال میں پانی کی کمی 7300 کیوسک تک ہو چکی ہے۔ اس کینال کو 9000 کیوسک ڈیمانڈ کے بدلے صرف 1300 کیوسک پانی دیا جارہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے درجنوں دیہاتوں میں انسانوں اور جانوروں کے  لیے پینے کے پانی کا بھی واحد ذریعہ یہی نہر ہے، ان علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے کڑوا ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ نہر کے پانی سے  پیاس بجھاتے ہیں۔ اسی طرح مظفر گڑھ کینال میں پانی کی کمی 7300 کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، اس کینال کے لیے پانی کی ڈیمانڈ 9000 کیوسک ہے جبکہ اس کو صرف 1300 کیوسک پانی دیا جارہا ہے۔ مظفر گڑھ میں آم اور انار کے باغات پانی نہ ملنے سے متأثر ہورہے ہیں، سبزیات اور چارہ جات کی فصلیں بھی سوکھنے لگی ہیں، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند ہیں۔ محکمہ انہار ملتان کے زیر انتظام شجاع آباد شاخ کی ششماہی نہر مکمل سوکھ چکی ہے اور ملتان برانچ بند کر دی گئی ہے۔ قریب ہی واقع  ضلع لیہ کے لیے پانی کی ضرورت 9000 کیوسک سے زیادہ ہے مگر محض 4000 کیوسک پانی دستیاب ہوپاتا ہے۔ صوبائی زراعت وآبپاشی کے ذرائع کے مطابق ارسا کی طرف سے پانی کی کمی خطر ناک صورت حال اختیار کر گئی ہے اور نہروں کو وارہ بندی شیڈول کے تحت چلانا بھی مشکل ہو گیاہے۔

بالائی پنجاب میں دھان کی کاشت کو ابھی دیر ہے لیکن منگلا کمانڈ کی نہریں لبالب چلتی ہیں اور پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر منگلا کمانڈ کا فالتو پانی ہیڈ تریموں بھیج دیا جائے تو کم از کم ملتان پٹی کی نہریں چل سکتی ہیں اور یہ علاقہ جو نصف سرائیکی وسیب پر مشتمل ہے میں آمدہ فصل کاشت ہو جائے تو اس کا ملک و قوم کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے

ماضی میں وزارت آب پاشی کے مشیر ایم ایچ صدیقی کی طرف سے حویلی کینال سرکل کے سینئر ایگزیکٹو ریاض مجید کو خصوصی تار بھیجی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ارسا ( انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) کی طرف سے پنجاب کے حصے میں پانی کی کٹوتی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے نہروں میں پانی کی کمی ہے۔ پینے کے پانی کے لیے سرائیکی وسیب کے بہت سے علاقوں کا انحصار نہری پانی پر ہے اور نہریں خشک ہونے سے جہاں یہ علاقے کربلا کا نقشہ پیش کرتے ہیں وہیں اس کے ساتھ طرف سرائیکی وسیب کی معیشت کا واحد سہارا گندم کی کاشت بھی بہت زیادہ متأثر ہورہی ہے۔ محکمہ زراعت کے ماہرین گندم کی کاشت کو اتنا حساس قرار دیتے ہیں کہ اگر کاشت میں ایک دن کی تاخیرہو جائے تو اس کی فی ایکڑ کے حساب سے پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس سے صرف سرائیکی وسیب کا کاشتکار ہی نہیں ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ پچھیتی کاشت سے آنے والی فصل کو بھی نقصان ہوتا ہے لیکن حکمران ان تمام باتوں کا علم ہونے کے باوجود وسیب کو مسلسل نظرانداز کرتے چلے جا رہے ہیں۔

بالائی پنجاب میں دھان کی کاشت کو ابھی دیر ہے لیکن منگلا کمانڈ کی نہریں لبالب چلتی ہیں اور پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر منگلا کمانڈ کا فالتو پانی ہیڈ تریموں بھیج دیا جائے تو کم از کم ملتان پٹی کی نہریں چل سکتی ہیں اور یہ علاقہ جو نصف سرائیکی وسیب پر مشتمل ہے میں آمدہ فصل کاشت ہو جائے تو اس کا ملک و قوم کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ مگر ارسا میں موجود کچھ ناعاقبت اندیش ہر سال منگلا کا پانی ضائع تو کر دیتے ہیں لیکن سرائیکی وسیب کی طرف نہیں آنے دیتے۔ 1991ء میں میاں نواز شریف نے پانی کا جو معاہدہ کیا اس میں اُنہوں نے بالائی پنجاب کا پانی کم کیا نہ کسی اور صوبے کا، لیکن سرائیکی وسیب کی گردن پر چھری چلا کر سندھ کو خوش کر دیا۔ اب پنجاب کے افسران کہتے ہیں کہ تمہارا حق سندھ کھا رہا ہے اس سے لڑو، حالانکہ یہ لڑانے کی سازش ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ملتان بہاول پور کوباہم لڑایا جارہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے مسئلے پر اس وقت تک ظلم ہوتا رہے گا جب تک سرائیکی وسیب کو الگ شناخت نہیں دی جاتی اور ارسا میں سرائیکی وسیب کا نمائندہ شامل نہیں کیا جاتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...