کیا پشتو زبان رفتہ رفتہ مر رہی ہے؟

558

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 45 تا 55 ملین افراد پشتو یا پختو بولتے ہیں۔ یہ زبان بولنے والوں کی بڑی تعداد پاکستان اور افغانستان میں بستی ہے۔ افغانستان میں یہ 40 تا 55 فیصد افراد کی مادری زبان ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس کا تناسب 15 فیصد ہے۔ اس زبان کے بولنے والے اگرچہ کثیر تعداد میں ہیں لیکن اسے کبھی مکمل طور پہ ادارہ جاتی زبان نہیں بنایا جاسکا۔ 1936 میں اسے افغانستان کی سرکاری زبان قرار دیا گیاتھا، سوات میں بھی یہ کوشش کی گئی لیکن عملا دونوں جگہ اس کی حیثیت ثانوی ہی رہی۔ افغانستان کے شہروں و سرکاری دفاتر میں فارسی اور دری زبانیں غالب ہیں۔ وہاں 80 فی صد تک خط وکتابت دری زبان میں ہوتی ہے۔ یہ وہاں کے دفاتر،عدلیہ اور پرنٹ میڈیا کی زبان ہے۔ پختونخوا کے شہری و دفتری ماحول میں بھی پشتو خط وکتابت نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ شہروں سے باہر دیہات کی غالب اکثریت اسی زبان میں گفتگو کرتی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ عام بول چال کی بہ نسبت خط  و کتابت میں پشتون دیگر زبانوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے میڈیا میں بھی اس کا حصہ انتہائی قلیل ہے۔ پشتون سماج زیادہ ترغیرپشتون میڈیا سے استفادہ کرتا ہے۔ اس لئے بہت کم اخبارات و رسائل اس زبان میں شائع ہوتے ہیں۔

گلوبلائزیشن سے بظاہر پشتو کو کوئی خاص خطرہ نہیں۔ اس کے پھیلاؤ میں رکاوٹ یا پسماندگی کی وجہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ تاریخی لحاظ سے پشتو بہت کم ہی پختون حکمرانوں کی زبان رہی۔ ان کےدرباروں میں زیادہ تر فارسی کا راج رہا۔ ڈاکٹرطارق رحمان کہتے ہیں کہ انگریزوں نے صوبہ سرحد کےپشتونوں کو افغانوں سے کاٹ کر انڈین بنانے کی کوشش کی۔ اس پالیسی کے تحت اردو کو فوقیت ملی۔  پشتو کو محض پرائمری سطح تک برداشت کیاگیا۔ اسکولوں میں یہ غیرسرکاری زبان کے طور پر ذریعہ تعلیم رہی۔ یہ وہ پالیسی ہے جس پرپاکستان بننے کے بھی عملدرآمد رہا۔ لیکن اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ پختو زبان کی پسماندگی کے لیے ہم محض غیرپشتونوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ قوم پرست کہلانے والی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔ 1972 میں جب نیپ اور جے یو آئی کی مشترکہ حکومت قائم تھی تو نیپ نے پشتوکے بجائے اردو کو صوبائی زبان کے درجے پرفائزکیا۔ ولی خان نے پختونخوا کیلئے اردوکے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ پنجاب کے چیف منسٹرملک معراج خالد نے نیپ کے اس فیصلہ کوناپسندیدگی کی نظرسے دیکھا۔ 2008 تا 2013 اے این پی حکومت میں رہی لیکن اس دوران بھی ٹیکسٹ بک میں ترامیم کو زیادہ فوقیت دی گئی۔ پشتوکو صوبہ کی سرکاری زبان بنانے کیلئے مطالبہ کو 18 ویں ترمیم کاحصہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

یہ ہمیشہ دیہات کی زبان رہی اور دیہی علاقوں کی تحریکوں نے اسے فروغ دیا۔ پیر روشان سے لے کر خدائی خدمتگار اور ہشت نگرکسان تحریکوں کے عہد میں اس نے ترقی کی۔ یا جب کبھی سماجی و سیاسی انقلاب اٹھے تو اس دوران بھی خوش قسمتی سے اس کو وسیلہ اظہار بنایا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس میں تروتازگی عود کرآئی

1970تک خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں میں پشتو سے زیادہ ہند کوغالب تھی، جو پنجابی اورپشتوکے ملاپ سے وجود میں آئی تھی۔ یہ دراصل تاجروں اور کاروباریوں کی زبان تھی۔ اس کے علاوہ ایک سبب یہ بھی تھا کہ بڑے شہروں میں فوجی چھاؤنیاں قائم تھیں جن میں ہندکو بولنے والے افراد بہت زیادہ تھے۔ گویا خیبرپختونخوا میں موجودہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا کوچھوڑ کر باقی علاقے کے شہروں میں پہلے فارسی اوربعدازاں ہندکو رائج رہی۔ لیکن 1980 میں دوعوامل نے پختو کوعام بول چال میں غالب کردیا۔ ایک تودیہات سے شہروں کی طرف لوگوں کی بڑی سطح پر نقل مکانی، اوردوسرا افغان تنازعہ کے بعد افغانوں کی بڑی تعدادمیں ہجرت۔ پشاور شہرکا تو پورا کلچر ہی تبدیل ہوگیا۔ لیکن پشتو نے اگرچہ بول چال میں ہندکو کی جگہ لے لی مگرادارہ جاتی سطح پر پھر بھی اس کامقابلہ اردو اور انگریزی سے تھا جو ابھی تک جاری ہے۔ اشرافیہ اور مڈل کلاس کے تعلیمی اداروں کی زبان انگریزی ہوچکی ہے۔ چھوٹے درجہ کے پرائیوٹ اسکولوں میں ذریعہ تعلیم بظاہر پشتو ہے مگر کہا جاتا ہے کہ محض دس فی صد پرائیوٹ اسکولوں میں پشتوپڑھائی جاتی ہے۔ پشتونوں کی سب سے زیادہ تعداد کراچی میں ہے۔ یہاں اب گھروں کی حد تک اردو اور پشتو دونوں میں تبادلہ خیال ہوتاہے۔ لکھنے پڑھنے میں پشتو کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

پختو زبان اپنی سرزمین پر سرکاری سرپرستی سے محروم رہی ہے اور آج بھی ہے۔ یہ ہمیشہ دیہات کی زبان رہی اور دیہی علاقوں کی تحریکوں نے اسے فروغ دیا۔ پیر روشان سے لے کر خدائی خدمتگار اور ہشت نگرکسان تحریکوں کے عہد میں اس نے ترقی کی۔ یا جب کبھی سماجی و سیاسی انقلاب اٹھے تو اس دوران بھی خوش قسمتی سے اس کو وسیلہ اظہار بنایا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس میں تروتازگی عود کر آئی۔ مثال کے طور پہ 1917 کے روسی انقلاب کا تمام برصغیر کی زبانوں پر اثر پڑا۔ پشتو بھی اس سے متأثر ہوئی۔ تب جدید پشتو ادبی تحریک کی بنیاد رکھی گی جو ترقی پسند مصنفین کی ادبی تحریک کاحصہ بنی۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ سماج میں اس کا وجود مضمحل ہوتا جا رہا ہے۔ پختونخوا کے دینی مدارس واحد جگہ ہیں جہاں ذریعہ تعلیم مکمل طور پہ پشتو ہے لیکن ان کے بھی امتحانی بورڈز میں پرچے اس زبان میں حل نہیں کیے جاسکتے، بلکہ اردو یا عربی میں کرنے ہوتے ہیں۔ یوں یہ زبان سرکاری دفاتر اور میڈیا کے بعد جدید تعلیمی اداروں اور مدارس میں بھی اپنی حیثیت کھوتی جارہی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...