یادیں، جن میں چاشنی ہے

444

موسیقی جسے روح کی غذا کہا جاتا ہے کسی زمانے میں اس سے لطف اندوز ہونے کے ذرائع ٹیپ، کیسٹ اور ریڈیو ہوتے تھے۔ یہ اکیسویں صدی کے سورج چڑھنے سے پہلے کی بات ہے کہ سونی، سانیو، مٹسوبشی، پیناسونک کمپنیوں کے ٹیپ لوگوں کی زبانوں پر ازبر تھے۔ کیسٹ کمپنیاں ہیر، سونی، سٹیوریو مارکیٹ میں پیش پیش ہوا کرتی تھیں۔ ٹیلی وژن بھی اگرچہ آچکے تھے لیکن وہ زیادہ تر شہر کے بڑے گھروں میں تھے۔ دیہی علاقوں میں کیسٹ اور ٹیپ ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھے۔ اکیسویں صدی نے جہاں اور کئی چیزوں کو تاریخ کا حصہ بنادیا ان میں کیسٹ بھی شامل ہے جو مختصر سفر میں اپنا نام تاریخ کے اوراق میں درج کراکے رخصت ہو گیا۔

پہلا کیسٹ فلپس کمپنی نے 1962ء متعارف کرایا تھا۔ چار دہائیوں تک لوگوں کو سُر سنگیت سے جوڑے رکھنے والے واحد ذریعہ کا سامنا جب ایم پی تھری سے ہوا تو شاید اسے یقین کرنے میں مشکل تو ہوئی ہوگی کہ وہ اپنی زندگی جی چکا ہے۔ اس کے ساتھ جڑی یادیں بھی  کتنی دلچسپ ہیں۔ دس گانوں پر مشتمل ایک کیسٹ 60 منٹ کا ہوا کرتا تھا۔ ایک طرف کا گانا ختم ہونے کے بعد دوسری طرف سننے کے لیے کیسٹ کو الٹنا پڑتا تھا۔ کیسٹ کارڈ پر گانے، شاعر، گلوکار اور میوزک سینٹر کا تعارف جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا۔  ٹیپ پر  ریوائنڈ، فارورڈ، اسٹاپ، پاز اور پلے بٹن ہوتے تھے جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے تھے۔ کبھی فارورڈ اور ریوائنڈ کا بٹن کام کرنا چھوڑ دیتا تو کیسٹ کا پہیہ گھمانے کے لیے پینسل اور قلم تلاش کیے جاتے۔

کیسٹ کسی زمانے میں خط و کتابت کا کام بھی دیتا تھا۔ بیرون ملک اپنے پیاروں کو خیریت کی اطلاع دینے اور ان تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے کیسٹ کا سہارا لیاجاتا تھا۔  ٹیپ ریکارڈر کا ریکارڈنگ بٹن دبا کر سب عزیز و اقارب باری باری اپنی آواز ریکارڑ کرواتے جاتے۔ 60 منٹ کا کیسٹ مختلف آوازوں سے بھر کر خط کی صورت ارسال کردیا جاتا۔ یہ وصول کنندہ کے پاس بطور یاداشت محفوظ ہوا کرتا تھا۔ جب اپنوں کی یاد آئی آواز سن کر دل بہلالیا۔ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی نے رابطے کا کام آسان کیا توآدھی ملاقات  کا یہ ذریعہ بھی  ماضی کا قصہ بن کر رہ گیا۔

چائے سے زیادہ گانوں کی چاشنی گاہکوں کو کھینچ لاتی تھی، لوگ اس وقت تک ہوٹل سے نہیں اٹھتے تھے جب تک ان کےفرمائشی گانے چلا نہ دیے جاتے، یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا

گانوں کی بات کرتے ہیں۔ بلدیہ پلازہ کوئٹہ کی دوسری منزل پر واقع میوزک کی جتنی دوکانیں تھیں وہ اب  گوداموں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان کے ساتھ کیسٹ کا روحانی رشتہ ختم ہو گیا ہے مگر زرغون میوزک سینٹر کیسٹ کی ختم ہوتی ہوئی نسل کو بچانے کے لیے کمان کے آخری تیر کی طرح مزاحمت کر رہا ہے۔ دوکان میں سجے پشتو، بلوچ، براہوئی، فارسی اور اردو کیسٹ ایک مدت سے گاہکوں کی آمد کے منتظر ہیں لیکن گاہک ان سے نظریں چراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیسٹ کا اختتامی سفر یاد کرتے ہوئے میوزک سینٹر کے مالک عبداللہ زہیر افسردہ ہوجاتے ہیں’’ پچھلے زمانے میں کیسٹوں کا بہت بڑا کاروبار ہوا کرتا تھا۔ بلدیہ پلازہ میں پروانہ، لتا، کابل، یادگار، ورائٹی، عباسی، محبوب، وطن نامی بڑے میوزک سینٹرز ہوا کرتے تھے۔ سب ایک ایک کرکے بند ہوتے چلے گئے۔ کاروبار ٹھپ ہوا تو وہی کیسٹ جو 50 روپے میں بکتا تھا، دوکاندار اسے 2 روپے میں بیچنے پر مجبور ہوگئے‘‘۔

میوزک سینٹر کے اندر واقع اسٹوڈیو جو کسی زمانے میں فنکاروں کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا اب وہاں خاموشی سراپا احتجاج ہے، اسٹوڈیو سے گلوکاروں کا ناطہ ٹوٹ چکا ہے ’’ اچھے وقتوں میں ایک کیسٹ کی 50 ہزار کاپیاں مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی تھیں جن سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ گلوکاروں کو جاتا تھا۔ جب یہ کام ختم ہوا تو اس سے نہ صرف میوزک سینٹرز خسارے میں چلے گئے بلکہ گلوکاروں کا ذریعہ معاش بھی ان سے چھن گیا‘‘۔

کسی زمانے میں ہنرمندوں کی کثیر تعداد کیسٹ کی صنعت سے وابسطہ تھی۔ ایک کیسٹ کی تیاری پر بہت سارے لوگ مامور ہوتے تھے۔ کوئی نٹ لگا رہا ہے، کوئی فیتہ ٹھیک کر رہا ہے، کوئی کور بنا رہا ہے تو کوئی کارڈ، اور کچھ اس پر پلاسٹک چڑھا نے میں مصرف ہوتے تھے۔ جب کیسٹ تیار ہوتی تو اسے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے طول و عرض کے علاوہ ایران اور افغانستان بھی سپلائی کیا جاتا۔ نئی ٹیکنالوجی کی دریافت سے دیکھتے ہی دیکھتے کیسٹ کی دوکانیں موبائل اور کمپیوٹر کی دوکانوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اس صنعت سے وابستہ ہنرمند بے روزگار ہوگئے اور انہوں نے ذریعہ معاش کے حصول کے لیے اورشعبوں میں ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیا۔ الہ دین سمیت کتنی ہی بڑی بڑی کمپنیوں پر تالے لگ گئے۔ وہ مکینک جن کی دوکان کے آگے لائن لگا کر لوگ کھڑے ہوتے تھے ٹیکنالوجی کی لپیٹ میں آگئے۔ اب بھی بلدیہ پلازہ کی پہلی منزل پر گاہکوں کی چہل قدمی جاری ہے لیکن فرق یہ ہے کہ جگہ جگہ  کمپیوٹر اسکرینیں نظر آتی ہیں۔ گانوں کا شور چاروں طرف سنائی دیتا ہے۔ الایاز موبائل سینٹر گانے ڈاؤن لوڈنگ کا کام کرتا ہے۔آس پاس اور بھی بے شمار دوکاندار ہیں جو یہی کام کر رہے ہیں۔ میوزک کا یہ دور پہلے سے کتنا مختلف ہے؟ یہ سوال میں نے الایاز سینٹر کے مالک ذیشان کے سامنے رکھا۔ ’’ پہلے کام مشکل ہوتا تھا اب انٹرنیٹ نے آسان کردیا ہے۔ یوٹیوب سے گانا آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے‘‘۔

کیسٹوں میں محفوظ پرانے گانے اب ایم پی تھری میں محفوظ کیے جا رہے ہیں ۔ بلدیہ پلازہ پر واقع عادل آڈیو ریکارڈنگ یہ کام گزشتہ آٹھ سال سے کر رہا ہے۔ یہ ان کا ذریعہ معاش ہے۔ تو کیا اس کام سے گزر بسر ہوجاتا ہے؟ ’’گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا ہے، ہنر یہی آتا ہے  تو بس اسی سے کام چلانا پڑتا ہے‘‘۔ صالح محمد ناخواندہ ہونے کے باوجود کمپیوٹر چلا لیتے ہیں، کہتے ہیں انگلیاں کی بورڈ پہ کام کرنا سیکھ گئی ہیں۔ یہ کام انہوں نے اپنے استاد کی انگلیوں کو دیکھ کر سیکھا ہے۔ جب تک کی بورڑ کا دور زندہ ہے صالح محمد کی انگلیاں بھی حرکت کرتی رہیں گی۔

کسی زمانے میں کیسٹ اور ٹیپ کوئٹہ کے ہوٹلوں کے مخصوص جزو ہوا کرتے تھے۔ لوگ چائے کے ساتھ ساتھ گانوں کا مزہ لوٹتے تھے۔ لتا، رفیع، کشور کمار، سادھنا سرگم، سنیدھی چوہان،ایس پی بالا سبرامنیم، کویتا کرشنا مورتی اور جگجیت سنگھ کی آوازیں ہوٹلوں کے اندر گونجتی سنائی دیتی تھیں۔ چائے سے زیادہ گانوں کی چاشنی گاہکوں کو کھینچ لاتی تھی۔ جنکشن چوک پر واقع مٹھا ہوٹل، مشن روڑ کا کیفے سعید فرمائشی گانوں کے لیے مشہور ہوا کرتے تھے۔ لوگ اس وقت تک ہوٹل سے نہیں اٹھتے تھے جب تک ان کےفرمائشی گانے چلا نہ دیے جاتے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا۔ اب نہ وہ ہوٹل رہے اور نہ ہی ٹیپ کیسٹ کا زمانہ۔ اب فقط یادیں ہیں جن میں چاشنی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...