سفیدفام دہشت گردی عالمی خطرہ بن سکتی ہے!

مقتدر خان

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر جمعہ کی نماز کے وقت ہونے والے حالیہ حملوں  نےعالمی دنیا کی توجہ سفید فام قوم پرستانہ دہشت گردی کی جانب مبذول کروائی ہے، ان حملوں میں 50 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ سفید فام قوم پرستانہ تشدد کا یہ عمل نہ صرف اسلامی دہشت گردی سے مماثل اورعالمی دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ یہ سلامتی سے متعلق مسائل کو مہمیز دینے اور القاعدہ و داعش سے کہیں زیادہ مذہبی تنازعات کو تقویت دینے کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔

سفید فام بالادستی کے تصور کی بنیادیں اس یقین پر قائم ہیں کہ سفید فام نسل بالاتر اور برتر ہے اور اسی سبب اس کا یہ حق ہے کہ وہ باقی ماندہ قوموں پر حکمرانی کرے۔۔۔ دو طرح کے خوف اس تصور کی آبیاری میں ممد ومعاون ثابت ہو رہے ہیں، اولاً یہ کہ دیگر نسلی قومیتیں سفید فاموں سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں، جس سے اس بات کے قومی امکانات ہیں کہ سفید فاموں کو میسر مواقع سکڑنا شروع ہو جائیں،اور ثانیاً یہ کہ سفید فام نسل آبادیاتی اعداد و شمار کے مطابق عددی تنزلی کی جانب مائل ہے۔ سفید فام قوم پرست اپنےاقتدار اور آبادی، جو ان کی نظر میں سفید فام قومیت ہے، میں کمی کو’’سفید فام نسل کشی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کی وجہ عالمی سطح پر ہونے والی کثیر نقل مکانی، جمہوریت اور نسائی تصورات کو قرار دیتے ہیں۔ یہ تما م خطرات و اندیشے بالآخر ایمان کی صورت ایک ایسے بیانیے میں ڈھلتے ہیں جو اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ سفید فاموں کو اپنے استثنائی اختیارات کی حفاظت، سفید فام اکثریت کی بقا اور سفید فام قوم پرست ریاستوں کی تشکیل کے لیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھانے چاہییں۔

جہادیوں کی طرح  سفید فام قوم پرست بھی ایسے خطرات سے لڑ رہے ہیں جنہیں وہ اپنی تہذیبی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ذیل میں سفید فام قوم پرستی کے عنصر کو ایک مہلک عالمی خطرے کے طور پر پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے چار اہم عوامل  کو زیرِ بحث لایا جارہاہے؛

ایک بین العلاقائی رجحان

کرائسٹ چرچ سانحہ کےمجرم برینٹن ٹیرنٹ کی ہی مثال لیجیے، یہ ایک آسٹریلوی باشندہ تھا جویورپ میں انتہا پسندی کی جانب مائل ہوا۔اگر اس کے نظریات اور ارادوں کی خبر پہلے ہی لگا لی گئی ہوتی، تب بھی اس کی نگرانی اور اس کو روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی کی ایک بین الاقوامی وعلاقائی کارروائی درکار ہوتی۔ برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو یورپ کی شاخیں سمجھتا ہے اور اس کے نزدیک یورپ کے لیے موجود کوئی بھی خطرہ دراصل سفید فاموں کے لیے خطرہ ہے۔ اس کا یہ تصور عالمی ہے اور اس کے نظریات کا اندازہ حملے سے قبل اس کی جانب سے لگائے گئے نعروں سے لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔

القاعدہ اور داعش کے خلاف کارروائی کرنا آسان ہے کیوں کہ یہ تنظیموں یا اداروں کی صورت میں موجو ہیں، لیکن سفید فام قوم پرستانہ رجحانات کے حامل افراد سماج بھر میں بکھرے ہوئے ہیں، ایسے غیر منظم اور منتشر افراد کے خلاف معلومات اکٹھی کرنا، سماج میں ان کی سرایت پذیری کے آگے بند باندھنا، ان کی جانب سے پیدا شدہ  خطرے کے حجم کا اندازہ لگانا یا ان کی کسی بھی قسم کی کارروائی کو روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جان جوکھوں کا کام ہے۔ ایسے میں یہ سوال ضرور اہم ہو جاتا ہے کہ کیا دنیا انسداد دہشت گردی کی ایک اورعالمی مہم کے لیے تیار ہے؟

طاقتور اتحادیوں کا ساتھ

اسلام پسند دہشت گردوں کی طرف سے پیدا شدہ خطرات کے خلاف جنگ پر جہاں مغربی حکومتیں، ذرائع ابلاغ، سلامتی کے ادارے اور سیاسی اشرافیہ یکسو اور باہم متفق ہیں، وہاں لیکن وہ سفید فام قوم پرستی کے حوالے سے منقسم نظر آتے ہیں۔ یہ عنصر بذاتِ خود سفید فام تشدد کے اس خطرے کو پروان چڑھانے اور بلاخوف آگے بڑھانے کا موجب بنے گا۔ فاکس نیوز کے ممتاز نمائندگان سمیت سابق سی آئی اے چیف اور موجودہ سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو، سابق صدارتی مشیر اسٹیو بینن اور ریپبلکن رکن کانگریس اسٹیو کنگ جیسے امریکی حکومت کے موجودہ و سابقہ اراکین سمیت کئی مقتدر اور طاقتور شخصیات انتہا پسند جذبات کا پرچار کرتی نظر آئی ہیں۔

کرائسٹ چرچ حملہ آور کا رویہ جاتی رجحان، بین الاقوامی اسفار اور انٹرنیٹ استعمال کسی بھی طور ایک روایتی جہادی فرد سے مختلف نہیں ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ نے جس طرح حملے کا ارتکا ب کیا ہے، یہ ان یورپی جہادی افراد سے کہیں زیادہ ہولناک ہے جو داعش میں شمولیت کے لیے استبول جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئے اور جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ اس کے باوجود اس حملہ آوار کا نام مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل  نہیں تھا، پانچ انگریز ممالک (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ) کی جانب سےبڑے اہتمام سے بنائے گئے Five Eyes نامی انٹیلی جنس اتحاد نے بھی اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں لگایا۔ نیوزی لینڈ پولیس، جس نے اس سے اسلحہ لائسنس دینے سے پہلےاس کی سابقہ زندگی کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی، اسے بھی اس فرد کو اسلحہ لائسنس دینے میں تأمل نہیں ہوا۔

کرائسٹ چرچ حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفید فام قوم پرستی کے کسی بھی  خطرناک عنصر کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کچھ پریشان حال مسائل کا شکار  لوگوں کی کارستانی ہے۔ گویا سفیدفام قوم پرستی دہشت گردی کا باعث بننے والی کوئی خطرناک آیئڈیالوجی نہیں بلکہ ایک دماغی بیماری ہے۔ ایک آسٹریلوی سینیٹر نے نیوزی لینڈ حملوں کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی ٹھہرایا، اس کے علاوہ ایک مشہور قدامت پسند ٹی وی پروگرام کے میزبان رش لمباگ نے کہاکہ اس حملے کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اس طرح کی ابلاغی وسیاسی چھتریاں اس خطرے کی مزید نمو کا باعث بنیں گی۔

 سست رو جوابی طرزِ عمل

20مارچ کو یونیو رسٹی آف ڈیلیوئیر کے بائڈن انسٹی ٹیوٹ میں ایک پبلک فورم پر میں نے سابق قائم مقام سی آئی اے سربراہ مائیکل مورل سے سوال کیا کہ کرائسٹ چرچ مجرم کا حملے سے پیشتر پتہ لگانے میں انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کو جانب داری یا پھر سفید فام قوم پرستی سے ہمدردی قرار دیا جاسکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا سی آئی اے کے اراکین ’’غیر متعصب ترین لوگ ہیں، جنہیں میں جانتا ہوں‘‘ کرائسٹ چرچ حملہ آور اس لیے نہیں پکڑا جا سکا کیوں کہ سفید فام دہشت گردی ایک نیا رجحان ہے۔ یہ جواب تسلی بخش ہرگز نہیں تھا، سفید فام قوم پرستوں کے مقبول ہیرو اینڈرس بریویک نے جب اوسلو میں جولائی 2011 کو ایک حملے کے دوران 77 افراد کو ہلاک کردیا تھا، اس حملے سے لے کر آج تک بالخصوص یورپ میں ذرائع ابلاغ اور تحقیقی و تدریسی ادارے اکثر و بیشترسفید فام قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

2010میں دہشت گردی کے حوالے سے میری میزبانی میں منعقدہ ایک مباحثے میں ہم نے ابھرتے ہوئےاس رجحان کی نشاندہی کی تھی۔ Anti-Defamation League کی جانب سے جاری کردہ حقائق آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، جن کے مطابق 2018 کے دوران امریکہ میں مقامی دہشت گردوں کے حملوں میں 50 افراد کو قتل کیا گیا، ان حملوں میں ملوث ہر ایک حملہ آورکا تعلق دائیں بازو کے ایک گروہ سے تھا۔ سفید فام قوم پرستی کو دہشت گردانہ خطرہ سمجھنے میں شش و پنج کی کیفیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفیدفام قوم پرست ہنوز حکومتی نگرانیوں میں نہیں رکھے جائیں گے اور یہ چیز انہیں آزادانہ منصوبہ بندی اور اپنے منصوبوں پرعمل پیرا ہونے کی کھلی چھوٹ دیے رکھے گی۔

اسی طرح منتخب حکومتی نمائندوں کی جانب سے سفید فام قوم پرستانہ حملوں کو دہشت گردی سے تعبیر نہ کیے جانے کے باوصف مغرب کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی افسران پر اس بات کا دباؤ ہے کہ وہ سفید فام قوم پرستی کو اس طرح سختی سے زیرِ تفتیش نہ لائیں جیسے وہ دیگر انتہا پسندانہ رجحانات کو لاتے ہیں۔ ان اداروں کے لیے یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ان میں سفید فام قوم پرست عناصر سرایت نہ کرجائیں۔ گذشتہ ماہ میری لینڈ کے ایک پولیس افسر کو دائیں بازو کے ایک انتہا پسند گروہ کے لیے بھرتیاں کرتے پایا گیا۔ اسی ماہ میں ہی کوسٹ گارڈ کے ایک لیفٹننٹ کو ایک بڑے اسلحہ خانے اور کئی سیاسی کارکنان اور ابلاغِ عامہ کے نمائندگان کے ناموں پر مشتمل فہرست کے ساتھ پکڑا گیا۔ اس فہرست میں شامل افراد کو قتل کیا جانا تھا۔ یعنی، شراروں کو نشیمن کا نگہبان کر لیا میں نے! خوش قسمتی مگر یہ ہے کہ ایف بی آئی کو اس خطرے کا ادارک ہے اور وہ اس سلسلے میں تفتیش و تحقیق شروع کیے ہوئے ہے۔

دو پُرتشدد انتہاؤں کے مابین تصادم

مجھے ڈر ہے کہ اگر اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تشدد سفید فام قوم پرستی کی مغرب میں بڑھتی ہوئی وبا کی بنیادی وجوہات ہیں تو ہم دو انتہاؤں کے مابین تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کرائسٹ چرچ حملے کے بعد ترک نژاد باشندے کے ہاتھوں نیدرلینڈ کے شہر اتریخت میں ریل کے اندر تین افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردوں کے ترک مخالف نعروں کی بابت سننے کو ملا، تحقیقات کے دوران ابھی تک اس حملے کا کرائسٹ چرچ سانحے سے اگرچہ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم ممکنہ طور پرسفید فام دہشت گردی کے واقعات کی بنیاد پر سفید فام قوم پرستوں سے اسلام اور مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کی غرض سے مسلمانوں میں انفرادی نوعیت کے مزاحمتی حملوں کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ دونوں طرف کے انتہا پسند افراد ایک دوسرے کو بھڑکانے اور اشتعال دلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

سفید فام قوم پرستی اور اس سے متصل دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے عالمگیر رجحانات کے پیشِ نظر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو جنگی بنیادوں پرزیرِغورلائیں۔ ہمیں اس مسئلے پر اتنی ہی توجہ اور وسائل بروئے کار لانے چاہئیں جس قدر توجہ و وسائل ہم دیگر عالمی خطرات کے سدباب پر خرچ کررہے ہیں۔ اہلِ سیاست کو اپنی وابستگیاں اور ہمدردیاں پسِ پشت ڈالتے ہوئے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے ان نئے رجحانات پر توجہ مرکوز رکھنی  چاہیے۔ یہ رجحانات مغربی جمہوریتوں میں امن و امان، سماجی ہم آہنگی و رواداری اور قانون کی عملداری پر تباہ کن اثرات کا موجب بن سکتے ہیں۔

(ڈاکٹرمقتدر خان یونی ورسٹی آف ڈیلیویئر کے شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات میں پروفیسراور سنٹر فار گلوبل پالیسی کے سینئر فیلو ہیں،’تجزیات آن لائن‘ کے لیےان کی اس انگریزی تحریر کا اردو ترجمہ حذیفہ مسعود نے کیا ہے۔)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...