سہ ماہی تجزیات کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا ہے

280

سہ ماہی تجزیات کا شمار پاکستان کے معتبر مجلات میں ہوتا ہے۔ اسے ملک کے سنجیدہ فکر و نظر کے حامل طبقات کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تجزیات کا پرنٹ ایڈیشن ہر تین ماہ بعد شائع کیا جاتا ہے۔ وقیع اردو مضامین کے ساتھ انگریزی کے اہم مضامین کے تراجم بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ مجلہ کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں کرتا بلکہ متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اس کا حصہ ہیں۔

رواں سال کا دوسرا شمارہ چھپ کر آچکا ہے۔ اس کا اداریہ کالعدم جماعتوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے ممکنہ مواقع سے متعلق مدیر تجزیات محمد عامر رانا نے لکھا ہے۔ جبکہ باقی مضامین کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے:

فکر ونظر کے حصہ میں تین موضوعات شامل ہیں۔ سید ثاقب اکبر نے اسلامی قانون سازی کے تصور میں وسیع امکانات پر کلام کیا ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے مفتی محمود کے سیاسی ومعاشی افکار پر جامع تبصرہ لکھا ہے جبکہ تیسرا مضمون ڈاکٹر سید جعفر احمد کا ہے جس کا عنوان ہے ’’ پروفیسر وارث میر: دانش اور مزاحمت کی آواز‘‘۔

سماجیات کے باب میں ایک کالم معروف دانشور خورشید ندیم کا ہے جس میں مسلم معاشروں میں مسلح تنظیموں کی اٹھان کے اسباب واثرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے مضمون میں شاہ راگ کے قصبہ میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال اور لوگوں کی بے حسی پر بات کی گی ہے جو اکبر نوتے زئی نے لکھا ہے،اور تیسرا آرٹیکل جلال الدین مغل کا ہے جو آزاد جموں وکشمیر کی اقلیتوں کے حالات پر روشنی ڈالتا ہے۔

شناخت کے حصہ میں مسلم سماج اور بالخصوص پاکستان میں شناخت کے حوالے سے درپیش مسائل پر تبصرہ کیا گیا ہےجو شفیق منصور نے لکھا ہے۔ اور اسی حصہ میں ادارے کی ایک اہم رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے جس میں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے پشاور، لاہور اور کراچی میں متنوع شناختوں پر ہونے والی مکالماتی نشستوں کا احوال ہے۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ پاکستان کا نوجوان کیا سوچ رہا ہے اور وہ کس شناخت کو اولیت دیتا ہے۔

مجلہ کے تہذیب وثقافت کے حصہ میں ڈاکٹرعرفان شہزاد کا مضمون ہے جس میں امریکی مؤرخ کارلٹن جے ایچ ہیز کی قومیت کے جدیدتصور پر رائے کی شرح کی گئی ہے۔ اس کے بعد شاہ میر بلوچ کا کالم ہے جس کا موضوع ہے ’’بقا کے خطروں سے دوچار وادی کیلاش‘‘۔

قومی منظرنامہ کے باب میں پانچ مضامین ہیں جن کے عنوانات یہ ہیں: ’’پاکستان میں جامعات کا نظام‘‘ یعقوب بنگش، ’’پاک بھارت تنازعہ :دروغ گوئی کا ایک مظاہرہ‘‘ فرہاد منجو، ’’بلوچستان کے قدرتی وسائل، بلوچ عوام کی حساسیت اور موجودہ صوبائی حکومت کا عزم‘‘ شہزادہ ذوالفقار، ’’کراچی میں تشدد کے نئے رجحانات‘‘ ضیاءالرحمان، ’’سعودیہ پاکستان تعلقات کی موجودہ صورتحال‘‘ اعزاز سید۔

سائنس میں کارل ساگان کے مضمون ’’مطالعہ کائنات‘‘ کا ترجمہ ہے۔ ادب کے حصہ میں ’’میں ہوں نجود‘‘ کے اردو ترجمہ کی دوسری قسط شامل ہے۔ تبصرہ کتب میں دو کتابوں پر تبصرہ شامل ہے۔ ایک کا نام ہے ’’پاکستان: ایک نظریہ،ایک حقیقت‘‘ اس پر حذیفہ مسعود نے تبصرہ کیا ہے۔ دوسری کتاب افتخار بھٹہ کی ’’انسان،سماج اور معاش ‘‘ہے جس پر شوذب عسکری کا تبصرہ ہے۔ تجزیات کےآخر میں عابد سیال اور علی بابا تاج کی غزل اور نظم شامل ہے۔

تجزیات کا شمارہ منگوانے کے لیے ہمیں ای میل کریں:editor@tajziat.com

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...