بہاولپور کا علیحدہ تشخص اور حکومتی رویہ

478

پاکستان ویسے تو دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا لیکن اسے سول بیوروکریسی، فیوڈل لارڈز اور سرمایہ داروں کے اشتراک سے نظریہ ضرورت کے تحت چلایا گیا۔ ون یونٹ کا تجربہ جب ناکام ہوا تو پنجاب، سندھ، سرحد بشمول بلوچستان جن کی حیثیت صوبائی نہیں تھی، انہیں صوبوں میں تبدیل کردیا گیا۔ لیکن اس معاملے پر سب سے زیادہ استحقاق رکھنے والے بہاولپور کو اس کے عوام کی خواہش کے برعکس پنجاب میں ضم کیاگیا۔ پنجاب پاکستان کی 60% آبادی کا صوبہ بنا جبکہ اس کی اتنی بڑی آبادی باقی تینوں صوبوں کیلئے قابل قبول نہ تھی۔ اس وقت جتنی آبادی پنجاب کی ہے کرہ ارض پر کئی ایسے ممالک موجود ہیں جن کی مجموعی آبادی اس سے کم ہے۔ اس لیے مرکز کی ہر سیاسی حکومت کو جب بھی پنجاب کے حکمرانوں نے چاہا ناکام بنا دیا۔ آبادی کے اسی تناسب کی وجہ سے صوبہ کے جنوبی حصہ اور بہاولپور کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

ماضی میں ایک موڑ ایسا آیا کہ بہاولپوری عوام الگ صوبہ کے مطالبہ کے ساتھ سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی۔ احتجاجی جلسے  جلوس روزانہ کا معمول بن گئے بالآخر ایک دن حکمرانوں کے ایما پہ پرامن شہریوں پر گولی چلوا کر دو معصصوم کارکنوں کو شہید اوردرجنوں کو زخمی کر دیاگیا جبکہ  100 سے زیادہ راہنماؤں اور کارکنوں کو پسِ دیوار زنداں دھکیلا گیا۔ نہ تو اس معاہدے کا لحاظ رکھا گیا جو قائد اعظم اور نواب آف بہاولپور کے مابین ہوا، نہ گورنمنٹ آف پاکستان کے 3 اپریل 1951 کے قانون کا احترام کیا گیا جس کے تحت بہاولپور کو صوبائی حیثیت ملی تھی اور نہ ہی ون یونٹ میں شمولیت کے معاہدہ کا احترام کیا گیا۔ بہاولپور صوبہ ون یونٹ میں شامل ہوا تھا،نہ کہ پنجاب میں۔ اس لئے یہ تحریک چلانے والے لوگ حق بجانب تھے اور ان کا موقف سچائی پر مبنی تھا۔ 1970ء کے نتائج ریفرنڈم ثابت ہوئے تھے جس میں بہاولپوری عوام نے 85% فیصد ووٹ بہاولپور صوبہ بحالی کے امید واروں کے حق میں دیئے۔ 1973ء کے آئین پر احتجاجاً دو ایم این ایز میاں نظام الدین حیدر اور مخدوم نور محمد ہاشمی نے دستخط نہیں کیے تھے۔ بہاول پورکے عوام کی امنگوں اور کوششوں کے باوجود حکومتوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

بہاولپور کو ترقی یافتہ ظاہر کرکے میڈیکل کالج، یونیورسٹی اور انجیننئرنگ کالج کا قیام تو عمل میں لایا گیا لیکن بہاولپور کے نوجوانوں کا کوٹہ ختم کرکے ان کا مستقبل تاریک کردیا گیا

تقریباً نصف صدی سے بہاولپوری عوام کا استحصال جاری ہے۔  یہ بھی افسوسناک بات ہے کہ بہاولپور کو ترقی یافتہ ظاہر کرکے میڈیکل کالج، یونیورسٹی اور انجیننئرنگ کالج کا قیام تو عمل میں لایا گیا لیکن بہاولپور کے نوجوانوں کا کوٹہ ختم کرکے ان کا مستقبل تاریک کردیا گیا۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی اس امر کے پیش نظر بھی ضروری ہے کہ بہاولپور کا بجٹ پنجاب کی آبادی کے لحاظ سے 13% ہے، لیکن ان گزرے سالوں میں اوسطاً حصہ اڑھائی فیصد ملا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ بجٹ  میں بہاولپوری عوام کا حصہ انہیں مستحقین زکواۃ سمجھ کر دیا جاتا ہے۔ جہاں تک نوکریوں کا تعلق ہے تو یہ  13% کے بجائے 1% سے بھی کم دی جا رہی ہیں۔ حیرت ہے کہ آج کے جدید دور میں بہاولپور شہر کی واٹر سپلائی صرف 15% فیصد عوام کیلئے میسر ہے۔ بہاولپور کے 51% عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ باقی ملک میں یہ شرح 26% سے 29% ہے۔ پنجاب کا خواندگی تناسب  52% جبکہ بہاولپور کا 34% ہے۔ پانچ سال تک کے بچوں کی شرح اموات پنجاب بھر کی نسبت بہاولپور میں سب سے زیادہ ہے۔ اگر اٹھارویں ترمیم کے ذریعے تیسری بار وزیراعظم بننے کے خلاف شرط ختم کی جاسکتی ہے، عدالتی فیصلہ کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی پارٹی صدارت کی اہلیت کیلئے ترامیم لائی جاسکتی ہیں، انتظامی بنیادوں پر گلگت بلتستان کو صوبائی خود مختاری دی جاسکتی ہے، تو بہاولپور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب کو علیحدہ شناخت دینے میں کیا قباحت ہے، جبکہ بہاولپور صوبہ تو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بحال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جس ایل ایف او کے تحت بہاولپور کی صوبائی خود مختاری کو ختم کیا گیا تھا اس ایل ایف کے خاتمے سے صوبہ بہاولپور بحال ہوسکتا ہے۔ جو استحصال بہاولپور کے ساتھ ہورہا ہے وہی جنوبی پنجاب کے دیگر عوام کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے علیحدہ تشخص کی بھی یہی کہانی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن ) نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے علیحدہ تشخص کی بحالی پر ووٹ لینے کا سلسلہ تو جاری رکھا ہوا ہے لیکن عملاًیہ دونوں پارٹیاں مخلص نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی 2012 میں بہاولپور آمد سے ایک روز قبل ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے اجلاس میں وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنرل کونسل کے اجلاس میں متفقہ قرارداد پاس ہوئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کی جائے۔ وزیراعظم کی آمد پر بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی نے بھی احتجاجی جلوس نکالا اور سیاہ جھنڈیوں سے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وزیراعظم صوبہ کی مخالفت میں دیے گئے بیانات پر نظرثانی کریں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے جاتے ہوئے کہاتھا کہ ہمیں سرائیکی صوبہ کا نام بہاول پور رکھنے اور ہیڈ کوارٹر بھی بہاولپور کو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں، اگر مسلم لیگ ن بہاولپور صوبہ کی حمایت کرتی ہے تو وہ پنجاب اسمبلی میں قرارداد لائے،  لیکن ن لیگ ایسا نہ کرسکی وہ سرائیکی صوبے اور بہاولپور صوبہ کے حامیوں کو لڑانے کی کوشش کرتی رہی۔ یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان محض بیان ہی رہا، اس سے جنوبی پنجاب اور بہاول پور کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ایئر مارشل اصغرخان نے تحریک استقلال کے منشور میں زیادہ صوبوں کی بات کی تھی، جبکہ مشرف کے ضلعی نظام میں بھی عوام کو اپنے ضلع کے محصولات سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا۔ جتنے زیادہ صوبے ہونگے وفاق اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ تحریک انصاف کو بھی ایئر مارشل اصغر خان کے منشور کے تحت زیادہ صوبوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ پاکستان کی دیگر دو بڑی پارٹیاں  توجنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کو  محض الیکشن میں ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتی رہیں جس پر وہ عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...