”بیٹیاں سب کی سانجھی، اور لڑکے! ان کی خیر ہے”

488

14مارچ 2019 ء کی ایک شام تھی، خبر آئی کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بٹگرام میں ایک نوعمر لڑکے نے خود کشی کرلی۔ اس انتہائی اقدام کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔ خبر آئی اور گزر گئی۔ جس صوبے کے ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں محض 8 مہینوں میں 300 سے زائد واقعات خودکشی کے ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں ایسے کسی معاملے پہ زیادہ توجہ کوئی بھلا کیوں دے گا۔

آج اہل علاقہ، متوفی کے خاندان اور مقامی پولیس نے ذرائع ابلاغ کے سامنے بات چیت کی ہے۔ جو شواہد سامنے آئے ہیں وہ ہمارے اردگرد کے سماج کا ایسا کھُلا اور بھیانک سچ ہیں کہ ہم اس سےواقف ہوکر بھی اس سے انجان بن جاتے ہیں۔ بیان کیا گیا کہ کوئی 5 مہینے پہلے  اس نوعمر لڑکے ساتھ اسی علاقے کے دو مردوں نے جنسی زیادتی کی اور اس کی ویڈیو فلم بنائی۔ بعد ازاں وہ اسے بلیک میل کرتے رہے سو اس نوجوان نے ذلت کے کے خوف کی بِنا پر چھت کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ چونکہ ایسے واقعات میں متأثرہ شخص نہ صرف مسلسل ذہنی اذیت سے گزرتا ہے بلکہ وہ اس خوف سے کہ مجرم اس کی ویڈیو فلم وائرل کرکے ذلت ورسوائی کا سبب بنائیں گے، مزید ظلم سہتا رہتا ہے۔ بالآخر نتیجہ اسی طرح خودکشی کی کسی صورت میں یا قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ویڈیوز اسکینڈل کی صورت میں نکلتا ہے یا ایسے ہی جوانی کی دہلیز پارکرکے متاثرہ شخص خود دیگر نوعمر لڑکوں اور بچوں کے لئے درندگی کا باعث بن جاتا ہے۔ چونکہ اس واقعے کی ویڈیو فلم موجود تھی جسے پولیس نے برآمد کرلیا۔ یہ واقعہ قومی میڈیا پہ آگیا لہذا کیس میں مجرم  پکڑے جائیں گے اور ممکنہ طور پر انہیں سزا بھی ہوگی۔

انگریزی اخبار کے ایک صحافی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے 14 دفاتر بغیر کوئی وجہ بتائے بند کردیئے ہیں

مجھے یاد ہے کہ جب ”می ٹو” تحریک کا آغاز ہوا تھا اور تمام ایسے افراد جو سوشل میڈیا کے صارفین تھے انہوں نے اپنی وال پہ اس کے متعلق لکھنا شروع کیا تھا۔ سماجی میڈیا پہ موجود میرے تقریبا تمام دوستوں نے بلاتفریق جنس ”می ٹو” لکھ کر پوسٹ کیا تھا۔ یہ تحریک بھی دیگر سوشل میڈیا مہموں کی طرح محض ہمارے دماغوں پہ ایک ہلکی سی دستک دے کر رخصت ہوگئی۔ اس ضمن میں کچھ ہولناک اعداد و شمار جو ہرسال ہمارے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پر نگاہ رکھنے والے ادارے ترتیب دیتے ہیں۔ وہ بھی کچھ ایسا خاص تاثر چھوڑے بغیر گزر جاتے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کے ایک معتبر صحافی نے آج بتایا کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے 14 دفاتر بغیر کوئی وجہ بتائے بند کردیئے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ حکومت کی سطح پہ کوئی اقدام اٹھایا نہیں جارہا۔ ظلم کی بنیادی وجہ ہمارے سماج کا وہ عمومی رویہ ہے جس نے بچوں خاص طور پر  لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد زیادتی اور ہراسیت کو رواج کا نام دے کر اس پہ آنکھیں بند کررکھی ہیں یا اس کی موجودگی سے یکسر انکار کردیا ہے۔ بچہ بازی اور لونڈے بازی وہ عام لفظ ہیں جس سے تقریباََ وہ ہر وہ بچہ جو اسکول، سڑک، مدرسہ، مسجد، گراؤنڈ، پارک، گلی، محلے، دکان، تھڑے، لاری اڈے اور بیٹھک جیسے مقامات پر جاتا ہے واقف ہے۔

اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے جرائم بہت زیادہ ہیں تاہم میں ایک مرد ہونے کے سبب اپنے مشاہدے پر مبنی اس رائے کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ملک میں نوعمر لڑکیاں ہمارے نوعمر لڑکو ں کی نسبت زیادہ محفوظ ہیں۔ لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو یا تو ٹال دیا جاتا ہے اوریا ان پر توجہ نہیں دی جاتی یا انہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ ایک وباء کی صورت عام ہے۔ اسی المیے پر میرے آبائی علاقے میں ہماری مقامی زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے

” بیٹیاں اور بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں  اور لڑکے ! ان کی خیر ہے”

نفسیاتی ماہرین بتاتے ہیں جنسی تشدد کا شکار فرد تاعمر اس تکلیف اور گھٹن میں رہتا ہے۔ جنسی تشدد سے گزرنے کے بعد جو کرب  وجود پہ گزرتا ہے اس کا ازالہ باقاعدہ علاج کے بغیر ممکن نہیں جبکہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ماہر نفسیات کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ دنیا بھر میں مانے جانے والے معیار کے مطابق ہر دس ہزار کی آبادی کے لیے ایک ماہر نفسیات ہونا چاہیے لیکن ہمارے ملک میں محتاط اندازے کے مطابق ہر پانچ لاکھ افراد کے لیے ایک ماہر نفسیات ہے۔

اس ضمن میں ایک اہل علم دوست کی زبانی سنا گیا ایک واقعہ عرض کرنا لازم ہے۔ وہ بتارہے تھے کہ ان کا لڑکپن پاکستان میں گزرا اور نوجوانی کے عہد انہیں بغرض تعلیم  مشرقی یورپ جانا ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں وہاں کے ممالک سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نئے نئے آزاد ہوئے تھے۔ جوان لوگوں میں ذہنی امراض عام تھے۔ سالہاسال کے جبر کے بعد آزادی نصیب ہوئی تھی۔ وہ ایک ریسرچ کے دوران ایک ایسے بحالی مرکز میں گئے جسے غصے اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا جوان مریضوں کی ذہنی آسودگی اور سکون کی مشقوں کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ وہاں ایک ماہر نفسیات خاتون نے انہیں بتایا کہ جب وہ یہاں آنے والے ذہنی مریضوں سے اس سوال کی مشق کرواتی ہیں کہ  اگر انہیں اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کو لازمی قتل کرنا ہوتو کس کی جان لیں گے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم لوگوں کو جواب دینے پہ مجبور کرتے ہیں تو اکثر لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہیں کسی ایک اس شخص کو قتل کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ اس شخص کو قتل کردیں  گے جس نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

وہاں ایک ماہر نفسیات خاتون نے انہیں بتایا کہ جب وہ یہاں آنے والے ذہنی مریضوں سے اس سوال کی مشق کرواتی ہیں کہ اگر انہیں اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کو لازمی قتل کرنا ہو تو کس کی جان لیں گے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم لوگوں کو جواب دینے پہ مجبور کرتے ہیں تو اکثر لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہیں کسی ایک اس شخص کو قتل کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ اس شخص کو قتل کردیں  گے جس نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی

ایک ایسا حادثہ جس سے گزرنے والا شخص اس قدر تکلیف میں آئے کہ وہ یہ تکلیف دینے والے شخص کی جان لینے پہ آمادہ ہو تو ایسے جرم کو ریاست کے خلاف جرم تصور ہونا چاہیئے لیکن اسلام آباد میں واقع ”ساحل” نامی ادارہ جو کہ بچوں کے جنسی استحصال کے اعدادو شمار ترتیب دیتا ہے۔ اس کی سال 2018 میں شائع  شدہ رپورٹ کا جائزہ لیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اس جرم کی بابت تاحال ہماری قومی حساسیت بیدار نہیں ہوئی۔ اس رپورٹ میں سال 2017 کے اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں جن کے مطابق 2017 میں 3445 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ان میں 2077 بچیاں اور 1368 بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد ان تمام واقعات کے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ ایسے واقعات کی تعداد  بہت زیادہ ہے جو اخبارات میں رپورٹ نہیں ہوتے۔

اس رپورٹ میں  درج مزید تفصیلات کے مطابق 467 واقعات میں بچوں کا ریپ کیا گیا۔ 366 واقعات میں بچوں کو جنسی ہراسیت کا نشانہ بنایا گیا۔ 158 واقعات میں بچوں کا گینگ ریپ ہوا۔  180 واقعات میں بچوں کو ایک سے زائد افراد نے جنسی ہراسیت کا نشانہ بنایا جبکہ 206 واقعات ایسے تھے جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ 29 بچوں  اور 36 بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ جنسی جرائم سے متاثرہ 961 بچے ایسے تھے جن کی عمریں 11 تا 15 سال کے درمیان تھیں۔ 640  واقعات میں بچوں کی عمریں 6 سال سے 10 سال کے درمیان تھیں۔16 سال تا 18 سال کی عمر کے 351 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق 60 فیصد واقعات  میں بچے کو ہراساں کرنے والے قریبی لوگ یا خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔ 76 فیصد واقعات دیہی علاقوں میں جبکہ 24 فیصد شہروں میں پیش آئے۔

ساحل کے ترجمان کے مطابق یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو اخبارات میں بیان ہوئے اور انہیں پولیس کے پاس درج کروایا گیا۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی  اصل تعداد دس ہزار تک بھی ہو سکتی ہے۔
پاکستان پارلیمان نے نوعمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سزا دینے کی جانب تو ایک اہم قدم اس وقت اٹھا لیا جب ایک بااثر پارلیمانی کمیٹی نے موجودہ قوانین میں ایسی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد جنسی حملے کرنے والوں کو عمر قید یا پھر موت کی بھی سزا دی جا سکے گی لیکن اس ترمیم میں چَودہ سال سے کم عمر کی لڑکیوں پر جنسی حملے کرنے والوں کو سزا دینے کی بات کی گئی ہے تاہم اس عمر کے لڑکوں کے حوالے سے یہ بات نہیں کی گئی ہے۔

طے شدہ بات یہ ہے کہ جب تک ہم سماج کی سطح پہ اس معاملے پر شعور اور آگہی کے لئے کوئی مشترکہ کوشش نہیں کریں گے تو ہم بچوں پر جنسی تشدد جیسے جرائم کی روک تھا م میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...