سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیوں کیا؟ تاریخی دستاویزات ٹرمپ کو کیا سبق دے رہی ہیں

اکتوبر 1979ء میں ایک دن،ایک امریکی سفارتکار جس کا نام آرچر کےبلڈ تھا، افغانستان کی حکومت کے مرکزی دفتر پہنچا جسے نئے افغان صدر نے بلوایا تھا۔ اس صدر کے پیش رو کے متعلق مشہور تھا کہ انہیں منہ پر سرہانہ رکھ کر قتل کروادیا گیا ہے۔ کابل حکومت کے تخت پہ براجمان  نئے صدر حفیظ اللہ امین، جن کی ریاست بظاہر سوویت یونین کی طفیلی ریاست تھی، مگر وہ کچھ اور سوچ رہے تھے۔

”میرا خیال ہے کہ وہ امریکہ افغان تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں ”

مسٹر بلڈ نےاپنے پیغام میں واشنگٹن کو یہ اطلاع بھجوائی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ صدرامین سوویت یونین پر افغانستان کے طویل مدت انحصار کو کم کرنا چاہتے ہوں۔ تاہم اس امریکی سفارت کار کی افغان صدر سے ملاقات کے بعد محض دو مہینو ں کی مدت میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ مسٹر بلڈ کے حالیہ شائع ہوئے پیغام سے وہ وجہ واضح ہوجاتی ہے  جس کی بناء پر سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کی وجہ دہشتگردی نہیں تھی جیسا کہ اس مہینے امیریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا، ”سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ درست مقصد کے لئے کیا تھا ”۔

مسٹربلڈ کے اس پیغام اور دیگر دستاویزات سے  جنہیں حال ہی میں پبلک کیا گیا ہے، یہ لگتا ہے کہ اصل وجہ یہ تھی کہ افغانستان روس سے ہٹ کر مغرب کے ساتھ اپنی وفاداریاں جوڑ لے گا۔ یہ ایک اہم لمحہ تھا جس نے سوویت یونین میں خطرے کے امکان کی گھنٹی بجا دی تھی۔ یہ انکشاف ٹامس ایس بلینٹن جو کہ ڈائرایکٹر آف نیشنل سیکورٹی آرکائیو (جارج واشنگٹن یونیورسٹی کا ایک تحقیقی ادارہ) کے عہدے پر فائز ہیں، انہوں نے اسے حال ہی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت آن لائن شائع کیاہے۔

یہ عالمی تعلقات کی ایک دلچسپ کیس اسٹڈی  ہے کہ کیسے آپ دوسروں کی جگہ پہ خود رکھ کر سوچ سکتے ہیں اور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیا عناصر تھے جن کی بنیاد پہ کوئی ایک خاص قدم اٹھایا گیا۔ سوویت یونین کی جانب سے افغان سرزمین پر حملے کی وجوہات کی  تاریخ کو چیلنج کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے لئے یہ تاریخی سبق ہے جوکہ اب اس سترہ سالہ افغان جنگ کو ختم  کرنے کی بات چیت کررہے ہیں۔ ایک امریکی مذاکراتکار  نے بتایا  ہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ امن کے لئے مذاکرات کا ایک مسودہ تیار کرلیا ہے۔

افغانستان کی بنجر اور پتھریلی سرزمین جس کی خوبصورتی دیکھیں تو شائد سانس رک جائے اور اگر اس میں چھُپی ہوئی بربریت پہ غور کریں تو جھرجھری آجائے۔ اس سرزمین کو مذہبی، نسلی اور قبائلی تعصب نےعہد وسطیٰ کے تبا ہ کن دور میں جکڑ رکھا ہےاور یہ اپنی  خاص علاقائی اہمیت کے سبب ایک مدت سےعالمی طاقتوں کے مابین میدان جنگ بناہوا ہے۔ یہ ملک امریکی خارجہ پالیسی کا اس وقت سے اہم نکتہ ہے جب سے سوویت یونین نے اس پر قبضہ جمایا تھا ۔

سوویت یونین کی جانب سے اس دراندازی نے دو عالمی طاقتوں کے مابین تعلقات کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسی سبب امریکی صدر جمی کارٹر نے سوویت یونین کو گندم کی فراہمی معطل کردی تھی اور 1980ء میں ماسکو میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ انہوں نے فوجی مداخلت کو بھی اس مقصد کے لئے تیار کیا جسے بعد ازاں صدر ریگن نےعروج دیا، اس دوران امریکیوں نے مجاہدین کو مکمل امداد مہیا کی اور یوں 1989 میں زخم خوردہ سوویت فوجوں کو انخلاء پہ مجبور کردیا گیا ۔

اس جنگ میں بعض امریکی اتحادیوں نے بعد ازاں اپنی ہمدردیاں تبدیل کرلیں اور افغانستان اسامہ بن لادن کی القاعدہ کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔

9/11 کے روز واشنگٹن، نیویارک اور پینسیلوانیا پر ہوئے حملوں کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لئے فوجی کاروائی کا حکم دیا۔ ان کے بعد آنے والے صدر اوبامہ نے عارضی طور پر وہاں اپنی فوجوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا۔ تاہم مسٹر ٹرمپ آج یہ کہتے ہیں کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ہماری افواج واپس آجائیں۔ رواں سال جنوری میں ہوئی کیبنٹ میٹنگ کے دوران جب مسٹر ٹرمپ وہاں موجود 14 ہزار فوجیوں میں سے نصف کو واپس بلانے پر غور کررہے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ اب دیگر ممالک بشمول روس کو وہاں ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ ”1979 میں روسی وہاں اس لئے گئے کہ انہیں وہاں سے دہشتگردوں کے حملے کا خطرہ تھا۔ ان کا فیصلہ درست تھا ۔ مسئلہ یہ ہوا کہ وہ ایک مشکل جنگ تھی۔”

ٹرمپ کےعلاوہ کسی بھی دوسرے امریکی صدر نے افغان سرزمین پر سوویت جارحیت کی کبھی حمایت نہیں کی۔ مسٹر ٹرمپ کا گھڑا ہوا یہ تاریخی مفروضہ دنیا بھر میں ان کے لئے مذاق کا باعث بنا ہے۔ مسٹر بلینٹن جنہوں نے تجزیہ کارسیٹلانا ساورنسکایا کے ساتھ مل کر اس معاملے پر تحقیق کی ہے، وہ کہتے ہیں افغانستان پر سوویت قبضے کی جو وجوہات امریکی تاریخ کا حصہ ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں ۔

صدر کارٹر کے مشیر قومی سلامتی برژنیف برزنسکی نے افغانستان پر سوویت حملے کے دودن بعد جو مراسلہ ارسال کیا اس میں درج تھا کہ ” ان کے خیال میں یہ ماسکو کا دیرینہ خواب ہے کہ وہ بحرہند تک براہ راست رسائی حاصل کرے”۔ حالانکہ اس کے لئے ماسکو کو لینڈ لاکڈ افغانستان سے آگے بھی مزید علاقوں پر قبضہ کرنا پڑتا۔ ایک عمومی وضاحت جو ہمارے سامنے کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کریملن کا یہ اقدام ساتھی کیمونسٹ ریاست کا دفاع تھا ۔

مائیکل ڈوبس جو کہ سوویت انہدام پر ایک کتاب ” ڈاؤن ود بگ برادرز” کے مصنف ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ” اپنی سرحد پہ واقع افغانستان جیسے ہمسایہ ملک کو مغربی ممالک کے ہاتھوں ہار جانا سوویت یونین کے لئے محض ایک دوست ملک کی ہار سے کہیں زیادہ تھا۔” وہ اس امر سے آگاہ تھے کہ تاریخ میں اگر ایک باب درج ہو تو آسانی سے دہرایا جا سکتا ہے اور یہ پوری سوویت یونین کے انہدام کا باعث بن سکتا ہے۔

مسٹر بلڈ کا مراسلہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ حفیظ اللہ امین مغرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتے تھے اور ماسکو کو یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں افغانستان بھی مصر کے رستے پہ نہ چل نکلے جو پہلے ہی 1972 میں سوویت یونین کے اثرورسوخ سے باہرنکل گیا تھا۔

27 اکتوبر 1979 کو ایک 40 منٹ پر مشتمل میٹنگ ہوئی جس میں حفیظ اللہ امین انگریزی میں بات کرتے رہے انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ سےزیاد ہ قریبی تعلقات چاہتے ہیں جہاں ایک وقت میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ مسٹر بلڈ لکھتے ہیں کہ امین نے مزید کہا کہ امریکہ سے تعلقات کی مضبوطی ان کی ذاتی خواہش ہے اور امریکہ سے محبت کی خواہش ان کے وہاں قیام کے دوران پیدا ہوئی ۔

مسٹر بلڈ کے مراسلے میں یہ بھی درج تھا کہ صدرامین نے انکار کیا کہ افغان خارجہ پالیسی کے فیصلے سوویت یونین کرتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کے فیصلوں کی آزاد ی میں  کسی بھی غیرملکی طاقت بشمول سوویت یونین کے محتاج نہیں ہیں ۔

میٹنگ میں شریک امریکی سفارتکارصدر امین کے متعلق مثبت رائے لے کر لوٹے۔ مسٹر بلڈ لکھتے ہیں کہ ” یہ آدمی متاثر کن ہے۔ اس آدمی کا اب تک بچے رہنا بھی متاثر کن ہے۔ وہ بہت پر اعتماد ہے۔” وہ واضح طور پر اپنے سے پہلے آنے والے افغان حکمرانوں کی اموات سے بخوبی واقف ہے اسی لئے تو وہ بار بار کہتا ہے کہ چاہے مجھے کل ہی کیوں نہ قتل کردیا جائے۔ وہ کمال نرمی سے اپنے سفاک اور آہنی اعصاب کو چھپائے رکھتا ہے ۔”

تاحال مسٹر بلڈ محتاط تھے اور انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو کوئی بھی فوری اقدام تجویز نہیں کیا جو ابھی اس امر کا مشاہدہ کررہا تھا کہ کیا مسٹر امین طاقت کے ایوان میں  باقی رہیں گے یا نہیں۔ ہاں، البتہ ماسکو میں اس ملاقات کے سبب خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔

”ہم امین کی خفیہ سیاسی ملاقاتوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی نئی جہت قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔” یہ پیغام  دسمبر 1979 میں کے  بی کے سربراہ یوری وی۔ ایندروپوف  نے سوویت یونین کے سربراہ لیونارڈ برژنیف کو ہاتھ سے لکھے ہوئے مراسلے کے ذریعے بھجوایا ۔ ” وہ امریکی سفیر سے ہوئی اپنی ملاقاتیں ہم سے چھپاتا ہے۔”

مجاہدین کا ایک دستہ ہرات میں سوویت فوجیوں پر حملے کے لیے گھات لگائے کھڑا ہے

ایندروپوف کا یہ تحریر شدہ  مراسلہ 1995 میں منظر عام پہ آیا جب اینوتولی ایف ڈوبرینن جو کہ امریکہ میں طویل مدت تک روسی سفیر رہے ہیں نے نارویجئن نوبل انسٹی ٹیوٹ کے لئے روسی دستاویزات کوعام کیا  تھا۔ مسٹر ڈوبرینن اس ملاقات کا احوال بھی بیان کرتے ہیں جو کہ 8 دسمبر 1979 کو ایندروپوف اور وزیر دفاع دیمتری یوستینوف کے مابین ہوئی جس میں انہوں نے افغانستان میں امریکی میزائلوں کی ممکنہ تنصیب کے خطرات پر غور کیا۔ مسٹر ایندروپوف جس طرح کی تصویر کشی کررہے تھے اس میں یہ لگتا تھا کہ اگر امین نے اپنی ہمدردیاں تبدیل کردیں تو جنوبی ایشیاء کے خطے میں زمینی وسیاسی توازن تہہ بالا ہوجائے گا۔ مسٹر بلیٹن لکھتے ہیں کہ ”اگر کبھی میکسیکو روسی میزائیلوں کا ایک اڈا بن جائے تو ہم کیسا محسوس کریں گے”؟

مسٹر بلڈ کے مراسلے کو پہلے منظر عام پہ لایا گیا۔ ہنری ایس بریڈشر جو کہ طویل مدت تک نیویارک ٹائمز کےغیرملکی نمائندے رہے ہیں انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ” افغانستان اینڈ دی سوویت یونین ” تھا اور یہ1983 میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا ایک نسخہ انہوں نے تہران میں موجود امریکی سفارتخانے کو بھی بھجوایا تھا جسے 1983 میں ہونے والے امریکی سفارتخانے کے قبضے کے دوران تلف کردیا گیا تھا اسے بعد ازاں دوبارہ سے جوڑ کر شائع کیا گیا۔

تاہم امریکی حکومت نے اس کا  ایک سرکاری نسخہ قومی سلامتی کے آرکائیوز اور نئی لکھی گئی تاریخ میں پچھلے مہینے شائع کیا ہے۔  ایک ریڈیو شو کے دوران 1989 کی لفظی تاریخ بیان کرتے ہوئے مسٹر بلڈ نے افغان حکومت کے مغرب کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی تبدیلی کے بارے میں خاموشی اختیار کئے رکھی تھی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی گفتگو کا موضوع سال 1989میں کابل میں اغواء ہوئے امریکی سفیر ایڈولف سپائک ڈبز کی ذات کو بنائے رکھا جو اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی رہائی کی کوشش کے لئے ایک کاروائی کی جارہی تھی ۔ وہ بتارہے تھے کہ واشنگٹن کی جانب نے مجھے کہا گیا کہ میں حفیظ اللہ امین سے ملاقات کا وقت مانگوں جو کہ اس وقت ملک سے صدر اور رہنما  تھے۔

وہ اس ملاقات میں امین پہ یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ انہیں کسی  بھی طرح کی امداد اسی صورت میسر ہوسکے گی اگر وہ اس امر کی وضاحت کریں کہ سپائک کی موت میں ان کا کیا کردار تھا۔

روڑرک بریتھوائٹ جو کہ سوویت یونین میں برطانیہ کے آخری سفیر تھے اور انہوں نے ایک کتاب بعنوان” افغانسٹے : دی رشینز  ان افغانستان 1979-89لکھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ سوویت رہنماؤں کو یہ خطرہ تو بہت عرصے سے تھا کہ صدر  امین، اپنی ہمدردیاں امریکہ کی جانب موڑ لیں گے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات تھیں ۔

یہ مشکل ہے کہ ہم کسی ایک وجہ کو ہی اہمیت دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ روسی یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی حساس جنوبی سرحد پر ایک ایسا ملک جس میں انہوں نے سالہال سال تک سرمایہ کاری کی ہو وہ ایک دوست ملک کی بجائے ایک دشمن ملک کی صورت اختیار کرلے۔ کریملن کو یہ بھی غصہ تھا کہ امین نے نہ صرف ان کے دوست نور محمد ترکئی کی حکومت کا تختہ الٹا ہے بلکہ انہیں قتل بھی کروایا ہے۔12 دسمبر 1979 کو پولٹ بیورو کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر برزنیف کی قیادت میں اعلیٰ حکام نے بغیر کسی مباحثے کے  فوجی مداخلت کا فیصلہ  ہاتھ سے تحریر کیا اور اس پر دستخط کئے۔ اس مراسلے کا عنوان تھا ” اے،کی صورتحال پر”

اس صورتحال میں کے جی بی نے امین نے سے جان چھڑوانے کا فیصلہ کیا اور اس کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ کے جی بی نے امین کی کوکاکولا بوتل میں زہر ملانے کی ترکیب کی مگر کاربونیٹڈ مشروب میں زہر گھل کر اپنا اثر کھو بیٹھا۔ بعد ازاں امین کے کھانے میں زہر ملوایا گیا لیکن کابل میں روسی سفارتخانے کو اس منصوبے کا علم نہیں تھا تو انہوں نے ہی اس کی جان بچانے کو ڈاکٹر زبھجوائے۔  افغانستان میں ہزاروں روسی بھجوانے کا فیصلہ تبھی کیا گیا جب فائرنگ کے ایک تبادلے میں صدر امین سے جان چھڑوا لی گئی۔

افغانستان پر قبضے کی منصوبہ بندی اسی طرح کی فوری کاروائی جیسا تھا جیسا کہ 1956میں ہنگری اور 1968 میں چیکوسلواکیہ میں کیا گیا تھا۔ لیکن روسیوں کو یہاں غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ مسٹر بلڈ بتاتے ہیں کہ افغان امریکہ تعلقات میں نئی جہت اس صورتحال کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی اور امریکہ نے افغان مجاہدین کی امداد کا فیصلہ کیا ۔ تاہم تعلقات بحالی کی یہ نئی جہت دیرپا نہیں تھی ۔

(پیٹر بارکرکی یہ تحریر نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی جسے تجزیات آن لائن کے لئے شوذب عسکری نے ترجمہ کیا )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...