پختونخوا کا نیا پانچ جماعتی اتحاد

91

بالآخر پانچ مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر پختون عوام کو درپیش سیاسی، سماجی، معاشی، انتظامی، ثقافتی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے پختونخوا جمہوری اتحاد کے نام سے ایک نیا اتحاد تشکیل دیدیا ہے۔ بالکل اِسی نعرے کی بنیاد پر لگ بھگ 14 مہینوں کے دوران یہ  دوسری سیاسی تحریک ہے۔ جنوری 2018 کے اواخر میں کراچی میں پولیس کے جعلی مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل پراحتجاجی مظاہروں کے دوران پختون تحفظ تحریک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اِس تحریک کا نہ صرف ملک بھر کے پختونوں  نےبلکہ پاکستان سے باہر افغانوں نے بھی خیرمقدم کیاتھا۔ یہ تحریک ابھی زندہ ہے اگرچہ اس کے بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں لیکن اس کی مقبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پی ٹی ایم و دیگر قوم پرست جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف موقف رکھنے کی وجہ سے جولائی 2018 کے عام انتحابات میں تین سیاسی جماعتوں،عوامی نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور قومی وطن پارٹی کو شدید نقصان  بھی پہنچا ہے۔

آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت، قومی وطن پارٹی نہ صرف پانچ جماعتی اتحاد میں شامل ہے بلکہ اس اتحاد میں سب سے مؤثر قوت کے طور پر بھی سامنے آئی ہے۔ اگرچہ فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن دکھائی یوں دیتا ہے کہ ماضی قریب کی طرح آفتاب احمد خان شیرپاؤ اتحاد میں شامل دیگر چار جماعتوں کے تعاون سے اپنی پارٹی کو اے این پی اور پی ایم اے  کے متبادل ایک بڑی قوم پرست جماعت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔ اِس اتحاد میں قومی وطن پارٹی کےعلاوہ میرحاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی، یوسف مستی خان کی پاکستان ورکرز پارٹی، افضل خاموش کی پاکستان مزدور کسان پارٹی اور پی ٹی ایم کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر سید عالم محسود کی اولسی تحریک شامل ہیں۔ ان میں نیشنل پارٹی اور پاکستان ورکزر پارٹی تو ایسی جماعتیں ہیں جن کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے کئی لوگ بڑی سیاسی جماعتوں بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی میں موجود ہیں۔ گو کہ نرم گوشہ رکھنے کے باوجود بقول سکندر حیات خان شیرپاؤ کے یہ لوگ اپنی جماعتوں سے وابستگی ترک کرنے کے لیے بہرحال تیار نہیں ہیں۔

نئےپختونخوا جموری اتحاد نے جن نکات پر اتفاق کیا ہے وہ یہ ہیں: سماجی ، فلاحی ، جمہوری اور رضاکارانہ وفاق کے قیام کیلئے نیا عمرانی معاہدہ۔تاریخی، سماجی، ثقافتی اور لسانی بنیادو ں پر صوبوں کی ازسرنو تشکیل۔ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جامع و شفاف اقدامات۔ قوموں، قبیلوں اور افراد کے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے شفاف طریقہ کار کا قیام۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو آئین اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا۔ افغانستان میں قیام ِامن کےلیے تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کی حمایت کرنا اور افغانستان و سنٹرل ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے جامع  پالیسی اختیار کرنا۔ پختونخوا کیلئے ایک مکمل معاشی منصوبے کا مطالبہ جس کے نتیجے میں ماضی کی ناانصافیوں کا ازالہ ہوسکے، صوبہ کو اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے کیلئے معاشی خودمختاری ملے اور پختونوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کے خاتمے کیلئے اقدامات ممکن بنائے جاسکیں۔ مزدورں، کسانوں، خواتین اورطلباء کے حقوق کےلیے جدوجہد۔ پختونخوا کی تمام ثقافتوں اور زبانوں کی تریج و ترقی کیلئے کوشش۔ اور پختونوں کے اِن  سیاسی اور معاشی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی  تمام تحریکوں وپارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ پانچ جماعتی اتحاد کے ان اغراض و مقاصد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ 90 کے اواخر میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت میں بنائے جانے والے قوم پرست جماعتوں کے اتحاد ’’پونم‘‘ سے مختلف نہیں ہے۔ پونم کے مطالبات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ جیسے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قوم پرست اور ترقی پسند نظریات کے حامل سیاسی رہنما اور کارکن ملک میں ایک نئے آئین کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اُس وقت بھی عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پونم میں جانے سے انکار کیا تھا اور اب جب اٹھارویں ترمیم کے پاس ہونے  کے بعد چھوٹے صوبوں کے دیرینہ مطالبے پورے ہونے کی امید بنی ہے تواے این پی کےلیے پانچ جماعتی اتحاد کا چھٹا ممبر بننا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ 1973 کے آئین میں بھی اٹھارویں ترمیم سے چھوٹے صوبوں کے مسائل حل ہونے کی پوری امید وتوقع تھی مگر بدقسمتی سے ریاست کے بعض اداروں کی ہٹ دھرمی کے باعث اس ترمیم پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ اے این پی کے قائدین کہتے ہیں کہ ملک کسی طور بھی  نئے آئین کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ نئے آئین کی آڑ میں جمہوریت دشمن قوتیں رہے سہے سیاسی نظام کو سبوتاژ کرسکتی ہیں۔

قوم پرست جماعتوں کے حوالے سے یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ افغانستان ہی رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ریاست نے پختونوں کو مختلف طریقوں سے افغانستان سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے مگر ان تمام تر کاوشوں کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ یہ افغان حکومتوں کے ساتھ ربط رکھتے ہیں۔ صرف 1996 سے 2001 تک کی مختصر مدت کے دوران پاکستانی قوم پرستوں نے کابل حکومت سے  فاصلہ رکھا تھا بلکہ اس مرحلہ میں بھی طالبان کے علاوہ افغانستان کے دیگر رہنماؤں  کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ 9/11 کے بعد  سے سابق صدر حامد کرزئی اورموجودہ سربراہ  ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ  تمام قوم پرست سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے تعلقات انتہائی خوشگوارہیں۔ پاکستان کی طرف سے حال ہی میں کیے جانے والے اقدامات جن میں پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگانا اور یک طرفہ سرحدی پابندیاں شامل ہیں، کی وجہ سے جہاں عام افغان باشندے پاکستان سے بہت زیادہ خفا دکھائی دیتے ہیں وہیں اس کے ساتھ دو اہم قوم پرست جماعتوں، عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی حکومت پر متعددبار تنقید کی ہے۔ البتہ  نئے پانچ جماعتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا پاکستان کے ان اقدامات پر واضح موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے اگرچہ اتحاد کے نکات میں افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔

اتحاد ی جماعتوں کے رہنماؤں میں  سے آفتاب احمد شیرپاؤ اور میر حاصل بزنجو ماضی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ملکی اور صوبائی معاملات پر اس اتحاد کا باقی جماعتوں کے ساتھ کیا رویہ ہوگا۔ باقی یہ اتحاد  کب تک چلے گا اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ افضل خاموش  کے تو آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔ اولسی تحریک ایک مختصر سا گروہ ہے جبکہ میر حاصل بزنجو اور یوسف مستی خان کی جماعتیں ترقی پسندسیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ مؤخرالذکر دونوں جماعتیں شاید زیادہ عرصہ اتحاد کا حصہ نہ رہ پائیں کیونکہ ترقی پسند ذہنیت رکھنے والے سیاسی کارکن ملک بھر میں منقسم ہیں۔ بہر حال اس نئے اتحاد سے بہت زیادہ توقعات تو وابستہ نہیں کی جاسکتیں البتہ اتنا ہوسکتا ہے کہ یہ کچھ عرصہ کے لیے پختونخوا کی باقی دو اہم قوم پرست سیاسی جماعتوں،عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...