یومِ پاکستان: ایک عزم اور بھی

212

23 مارچ پاکستان کے لیے دو وجوہات سے اہم ہے۔ ایک اس لیے کہ 1940 میں اس دن آل انڈیا مسلم لیگ نےبرصغیر کے شمال مغربی مسلم اکثریت پر مشتمل علاقوں کے لیے الگ ملک کا مطالبے پر مبنی ایک قرار داد منظور کی اور دوسرا اس وجہ سے کہ 1956 میں اسی دن پہلا آئین منظور ہوا۔ 1956 سے پہلے 23 مارچ کو کسی سرکاری دن کے طورپر نہیں منایا جاتا تھا۔ 1956 سے آئین کی منظوری کی یاد میں 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جانے لگا۔ اسی تاریخ سے ہم نے تاجِ برطانیہ سے حقیقی آزادی حاصل کی تھی۔ اس سے قبل اہم سفارتی وسرکاری دستاویزات کی منظوری ملکہ برطانیہ سے لی جاتی تھی۔ پہلی بار سربراہ مملکت کا انتخاب ہوا، آئین بنا اور اہم دستاویزات پر ملکہ برطانیہ کی بجائے صدرِپاکستان نے دستخط  کیے۔ تاہم 1958 میں جب آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تقرر کیا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اس دن کو یوم جمہوریہ کی حیثیت سے کیسے منایاجاسکتا ہے لہذا یہ طے کیا گیا کہ اسے قردار پاکستان کے حوالے سے یوم جمہوریہ کی بجائے، یوم پاکستان کے نام سے منا لیا جائے۔

بعض مؤرخین  کے مطابق قرار داد پاکستان 24مارچ 1940 کو منظور ہوئی تھی۔ 23 مارچ کو اس کی منظوری اس لیے مشہور کی گئی تاکہ یوم جمہوریہ جو 23 مارچ ہی کو منایا جارہا تھا کے متبادل کے طور پر اسے منایا جا سکے۔ تاریخی طور پر ریکارڈ درست رکھنا ضروری ہے تاہم یہ بحث  غیر اہم ہے کہ اب یومِ قراردادِ پاکستان 23 مارچ کو منانا چاہیے یا 24 کو۔ لیکن 1956 سے شروع ہونے والا سفر جو یوم جمہوریہ کی صورت میں سامنے آیا تھا اور جس کے ذریعے سے جمہوریت، آئین اور عوام کی طاقت کے ذریعے سے سیاسی تبدیلیوں کا  درست سفر شروع ہوا تھا اس کو بھلا دیا گیا۔ جمہوری روایات کو کمزور کرنے کے  لیے یوم جمہوریہ کو فراموش کرانا ضروری سمجھا گیا۔ افسوس اس بات کا  ہےکہ جمہوری حکومتوں کے دور میں یومِ جمہوریہ کی بحالی کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ اب نہ نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ یومِ جمہوریہ کیا ہوتا ہے ،حقیقی آزادی کیا ہوتی ہے، نہ ہی سماج میں یہ شعور موجود ہے کہ ترقی کا سفرعوامی طاقت واختیار سے شروع ہوتا ہے۔

ٹھیک ہے یوم جمہوریہ نہ سہی، یوم پاکستان ہی سہی، لیکن اس دن کو جس طرح سے منایا جاتا ہے اس کا قراردادِ پاکستان سےعلامتی طور پر بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ جہاں سے تبدیلی کے سفر کی ابتدا ہوئی یہ دن بھی اسی تاریخ اور حالات کی نمائندگی کرے گا۔ ملک  جب  ایک فلاحی ریاست کی بجائے سکیورٹی اسٹیٹ بنا تو اس کے تمام مظاہر اسی ساخت کی عکاسی کریں گے۔ مزید برآں، ناقابل تسخیر دفاع کے دعوے کے ساتھ  جب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون سروس بھی بند کر دی جاتی ہے اورکئی جگہ سڑکوں پر عوام کی آمد و رفت پر بھی پابندی لگانی پڑتی ہے تو دفاع کے دعوؤں پر  کئی سوالات  پیدا ہوجاتے ہیں کہ لگ بھگ 80 ہزار سے زائد فوجی جوانوں اور عام شہریوں کی شہادتوں اور اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود دہشت گردی کے خطرات کم نہیں کیے جاسکے۔ کیوں اس میں اب بھی اتنی  طاقت ہے کہ فوجی پریڈ بغیر ان حفاظی اقدامات کے منعقد نہیں کی جا سکتی؟

23 مارچ ہماری تاریخ کا اہم دن ہے۔ اسے یوم جمہوریہ اور یوم پاکستان دونوں مواقع کی نسبت سے منانا چاہیے۔ لیکن اس دن مضبوط دفاع کے عزم کے ساتھ ایک اورعزم سیاستدانوں اور عوام کو بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ جمہوریت کی رُوح کو زندہ کریں گے،معاشی طور پہ ملک کو ناقابلِ تسخیر بنائیں گے اور شعور وعلم کی پرورش کریں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...