دہشت گردی انا کا نہیں، ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے

339

بدهہ کی شام پلوامہ حملہ کے بعد پاک بهارت تنازعہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرے، اگر بهارت میں  کوئی اور بڑا حادثہ وقوع پذیر ہوا تو پاکستان کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔

اس بیان سے ایک بار پهر جو چیز واضح ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان پر بهروسہ نہیں کرتی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی تمام کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکهتی ہے۔ حالیہ تنازعہ میں ایک طرف بھارت کا یہ موقف تھا کہ پلوامہ حملہ پاکستان نے کرایا ہے، بطور شاہد ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ پاکستان نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ مضبوط شواہد پیش کیے جائیں۔ دوسری طرف بھارت کا یہ دعوی بھی تھا کہ اس نے بالاکوٹ میں فضائی کاروائی کی ہے اور اس کے بعد دوبارہ بھی اس کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

اس منظرنامے میں پہلی چیز بھارت کی محض اپنے دعوے کی بنیاد پر دو مرتبہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر چاہیے تو یہ تھا کہ عالمی برادری بھارت کی سرزنش کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اِس خلاف ورزی کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھاگیا۔ اوراس کے ساتھ پلوامہ حملہ تھا جس پر پاکستان کے مطابق قوی شواہد موجود ہی نہیں تھے لیکن دنیا نے پاکستان پر اعتبار نہیں کیا بلکہ بھارت کی کاروائی کو بھی پلوامہ کے ردِعمل کے طور پر دیکھا گیا۔ پاکستان یہ بھی کہتا رہا کہ حملہ آوار مقامی کشمیری تھا دنیا اس واقعہ کو کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے تناظر میں دیکھے مگر اسے بھی نظر انداز کردیا گیا۔

ہم ایک عرصے سے عالمی برادری کوقائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم امن پسند ہیں۔ ہم ہر فورم پر کہتے ہیں کہ پاکستان ستر ہزار شہریوں کی قربانی دے چکا ہے پھر بھی ہم پہ کوئی اعتماد کرنے کوتیار نہیں، بلکہ ہمیشہ یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ کاروائی کی جائے۔ بہت زیادہ قربانیوں اور کوششوں کے اعتراف کے ساتھ ہمیں سوچنے ضرورت ہے کہ کیا واقعی پاکستان اس قضیہ پر مضبوط ،ٹھوس اورر بلاتفریق اقدامات کر رہا ہے یا نہیں۔ اس صورتحال میں کہ جب اپوزیشن سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی کئی بار اعادہ کرچکے ہیں کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی، باقی دنیا ہم پر کیسے اعتبار کرے گی؟

کہیں ایساتو نہیں کہ ہم اس لیے دہشت گردوں کو کٹہرے میں نہیں لارہے کہ ایسا کرنے کا مطالبہ ہم سے بھارت جیسا ملک بھی کرتا ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ وہ بھی اپنے شدت پسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے، ہم بھی اپنے شدت پسندوں کو اثاثے سمجھ کر انہیں تحفظ دیتے رہیں گے؟ بھارت جس منزل کی جانب جارہا ہے ہم وہاں سے ہوکر آئے ہیں۔ ہم بار بار وہ تجربات کرنے کے متحمل نہیں جن کے نتائج کا بخوبی علم ہے۔ محض کسی حریف کو نیچا دکھانے کی خاطر ہمیں اپنے گھر کے امن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ دہشت گردی انا کا نہیں بلکہ ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...