پولیس اور تفتیشی اداروں کے ہاتھوں عوام کی تذلیل

91

چند روز قبل برگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر نے نیب کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کئے جانے پر خودکشی کر لی۔ خودکشی سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں اسد منیر نے تفتیش کرنے والے نیب افسران کو نااہل اور بدتمیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے سنے بغیر ہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ میں نے کرپشن کی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے محض الزامات کی بنیاد پر نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی وجہ سے پریشان تھے۔ چند روز قبل نیب کی جانب سے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کی خبریں چلنے کے بعد اسد منیر نے نیب کے ہاتھوں مزید بے عزتی اور تذلیل سے بچنے کے لیے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ چیف جسٹس کے نام خط میں انہوں نے نیب کے طریقہ کار میں اصلاحات کی امید ظاہر کی تھی۔ اس سے قبل سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید اقبال کی ہتھکڑیوں کے ساتھ لاش کی ہسپتال منتقلی کی تصویر کچھ عرصہ تک موضوع بحث رہی۔ کچھ وقت کے لیے غم وغصہ کا اظہار کیاگیااس کے بعد میڈیا اور عوام  جاوید اقبال کو بھول کر کسی نئے موضوعات پر تبصرے اور تجزیے کرنے لگے۔

یہ دو واقعات ایسےہیں جو میڈیا پر سامنے آنے کے بعد موضوع بحث بنے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تحقیقاتی اور قانون نافد کرنے والے اداروں نے محض الزامات کی بنیاد پر لوگوں کی عزتیں اچھالنا اور ان کی تذلیل کرنا معمول بنا لیا ہے۔ جبکہ رہی سہی کسر ہمارا میڈیا اور عدالتی نظام پوری کردیتا ہے۔ آئے روز اخبارات میں ایسی خبریں پڑھنے میں ملتی ہیں ہیں کہ دس سال، بیس سال یا اس سے زائد کا عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد ملزم کو الزامات ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کردیا گیا۔ معزز عدلیہ زیادہ سے زیادہ معذرت کرکے خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ جبکہ حکمرانوں کو ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے، ایک دوسرے کو چور اور غدار کہنے سے فرصت نہیں ملتی۔ کبھی کسی نے اس جانب دھیان نہیں دیا کہ کیا صرف بری کردینے یا معذرت کرلینے سے اس کی زندگی کے ایام واپس لوٹ سکتے ہیں،اس دوران اس کے اہل خانہ جن مالی مشکلات اور ذہنی اذیت سے دوچار رہتے ہیں کیا اس کا ازالہ ہوسکتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں الزام عائد کرنا یا محض شک کی بنیاد پر کسی پر مقدمہ درج کردینا کسی صاحبِ اختیار فرد کیلئے کتنا آسان ہے یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔ بس تھانیدار کی خدمت کریں اور ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے اس کے بعد اس شہری اور اس کے اہل خانہ کی عزت کا جنازہ نکالنا پولیس والوں کا کام ہے۔ الزام کی بنیاد پر گرفتاری ہوتی ہے۔ اگر ایف آئی  آر درج کرانے والا کسی پولیس والے  کا تعلق دار ہو تو تھانے میں ملزم پر تشدد کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور پھر جیل روانہ کردیا جاتا ہے۔ ایک عام شہری کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں بھی کئی مہینے اور سال لگ جاتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے واقعات  ہیں کہ جعلی ایف آئی آر کی بنیاد پر شہری کئی کئی سال قید کاٹ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں پڑے آدھے سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جن پر لگائے گئے الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں لیکن اس کے باوجود وہ جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے تو ایک عجیب روایت چل پڑی ہے۔ الزامات کی بنیاد پر نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر تصاویر ٹی وی چینلزاور سوشل میڈیا پر بھی جاری کی جاتی ہیں۔ انہیں ملزم کی بجائے مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اگر کسی ”صاحب ” کے کہنے پر نامی گرامی شخصیت کی مزید تذلیل کرنی اور اس کی انا کو ٹھیس پہنچانی ہو تو پھر میڈیا کے نمائندوں کو اس کی عدالت میں پیشی کی اطلاع کردی جاتی ہے اس کے بعد ہمارے صحافی دوست ہر قسم کے ضابطہ اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی رپورٹ میں ملزم کی اس قدر خوفناک انداز میں منظر کشی کرتے ہیں کہ الزامات غلط ثابت ہونے یا رہا ہونے کے بعد بھی وہ شخص ساری زندگی معاشرے کا سامنا نہیں کرپاتا۔ وہ اور اس کے اہل خانہ  اپنےعزیز و اقارب کی غمی خوشی میں شریک ہونے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ کہیں کوئی پھر سے اس واقعہ کا ذکر نہ کردے۔ قانون کی کتابوں میں ہتک ِعزت سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن لوگ انہیں استعمال کرنے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کہ تفتیشی عمل کے دوران وہ اور اس کے اہل خانہ جس اذیت سے پہلے گزر چکےہوتے ہیں اس کے بعد وہ نہیں چاہتے کہ ان تحقیقاتی و قانون نافد کرنے والے اداروں سے ایک مرتبہ پھر اختلافات مول لے کر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کو اجیرن بنائیں۔ یا پھر عمومی طور پہ شہریوں کو ایسے قوانین کا علم ہی نہیں ہوتا اس لیے اطلاق بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نہ صرف نیب بلکہ ایف آئی اے، پولیس اور اینٹی کرپشن کے اداروں کے  قوانین میں اصلاحات کریں بلکہ ان کے ملازمین واہلکاروں کے رویوں اور تفتیش کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے بھی اقدامات کریں۔ محض الزامات کی بنیاد پر شہریوں کےمیڈیا ٹرائل کا سلسلہ بند کیا جائے اور الزامات ثابت نہ ہونے تک کسی بھی شہری کی تصویر کویا اس خبر کو  ٹی وی چینلز اور سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری نہ کیا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...