جیسنڈا آرڈن وزیراعظم نہیں مسیحا ہیں

192

15مارچ 2019کو جمعہ کے دن نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں دو جامع مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے اندوہ ناک واقعے نے ساری دنیا کے سوز دل رکھنے والے انسانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ غم ہے کہ کم ہونے کو نہیں آرہا۔ دنیا میں ایسے سانحات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور ان پر حکمران اور معاشرے خاص انداز سے ردعمل بھی ظاہر کرتے رہے ہیں تاہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن جس انداز سے پہلے روز سے اس واقعے کے بارے میں اپنی انسان دوستی، اعلیٰ ظرفی، درد مندی، سوز دلی اور ہمدردی کے مظاہرے کررہی ہیں، اس نے زخمی دلوں پر مرہم کا کام کیا ہے اور دل یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ جسینڈا آرڈن وزیراعظم نہیں مسیحا ہیں۔ان کے اندر ایک تڑپ دکھائی دیتی ہے، یوں لگتا ہے کہ ان کے دل پر اس واقعے نے جس قدر اثر کیا ہے وہ اسے پوری طرح بیان نہیں کر پا رہیں۔ اس سانحے کے بعد نیوزی لینڈ میں قومی پرچم سرنگوں کیا گیا۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی۔
اتوار کے روز انھوں نے نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن کی کلیرنی مسجد میں نمازیوں سے تعزیت کی۔اس موقع پر انھوں نے سیاہ رنگ کا سکارف زیب تن کیا ہوا تھا اور وہ مردوں اور خواتین پر مشتمل لواحقین کے ہجوم میں کھڑے ایک ایک شخص کے ساتھ گلے لگ کر ان سے ذاتی طور پر افسوس کررہی تھیں۔ ویلنگٹن کی کلیرنی مسجد میں نمازیوں سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی وائرل ہونے والی تصاویر میں وہ فکر سے اپنی بھنویں اچکاتی نظر آتی ہیں اور انھو ں نے اپنے ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ وہ بات کر نہیں رہیں بلکہ صرف سن رہی ہیں۔

آج(19مارچ) جب ہم یہ سطور سپرد قلم کررہے ہیں تو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پوری دنیا میں دیکھی اور سنی جا رہی ہے۔ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم جسینڈا آرڈن خطاب کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں انھوں نے کہا کہ وہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجدمیں حملہ کرنے والے حملہ آور کا نام کبھی نہیں لیں گے۔انھوں نے کہا کہ اُسے اس دہشت گردانہ عمل سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں ان میں سے ایک شہرت بھی تھی، اس لیے آپ مجھے کبھی اس کا نام لیتے نہیں سنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دہشت گرد ہے، وہ مجرم ہے، وہ انتہا پسند ہے لیکن میں جب بھی اس کے بارے میں بات کروں گی وہ بے نام رہے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں آپ سے التجا کرتی ہوں اُن کا نام لیں جنھوں نے اس واقعے میں جان گنوائی ہے نہ کہ اس کا جس نے اس کام کو انجام دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کا آغاز انھوں نے مسلمانوں کے روایتی طریقے سے السلام علیکم کہہ کر کیا اور پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا:peace be upon you and peace be upon all of us.

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپیل کی کہ کرائسٹ چرچ کے بندوق بردار کی ویڈیو یعنی لائیو سٹریمنگ کو نشر نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا ہم چب چاپ بیٹھ کر یہ قبول نہیں کریں گے۔ اس قسم کے پلیٹ فارم اپنا وجود رکھتے ہیں اور ان پر جو کچھ کہا جاتا ہے وہ ان کی ذمہ داری نہیں جہاں وہ شائع ہوتا ہے۔وہ اسے شائع کرنے والے ہیں، محض پیغام رساں نہیں ہیں، وہ بغیر کسی ذمہ داری کے صرف تمام قسم کے منافع کے حقدار نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم آرڈن نے اراکین پارلیمان کو یقین دلایا کہ حملہ آور کو نیوزی لینڈ کے قانون کی پوری قوت کا سامنا کرنا ہوگا۔ انھوں نے نیوزی لینڈ کے تمام باشندوں سے کہا کہ اس جمعے کو مسلمانوں کو پہنچنے والے صدمے کا اعتراف کریں جو کہ مسلمانوں کی عبادت کا اہم دن بھی ہے اور حملے کے بعد کا پہلا ہفتہ بھی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ملک میں اسلحے کے حصول کے بارے میں قانون میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے سانحہ کے شہدا کے لواحقین کے لیے دس دس ہزار ڈالر دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

حکومت اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے یہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے سینے میں اپنے شہریوں اور تمام انسانوں کے لیے کس قدر ہمدردی اور محبت کے جذبات موجزن ہیں۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کے لیے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی 39سالہ وزیراعظم نے واقعی ماں ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے طرح طرح کے اقدامات کیے ہیں، یہاں تک کہ غم کے اظہار کے لیے سیاہ لباس پہنا، سیاہ دوپٹہ اوڑھا، یوں ایک سوگ نشیں مسلمان عورت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد سلسلہ رک نہیں گیا، ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھایا جارہا ہے جہاں قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے اس کا فیصلہ کیا جارہا ہے، پوری قوم کو مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے ابھارا جارہا ہے۔ خود عوام بھی مسلمانوں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔ کرائسٹ چرچ یونیورسٹی میں اذان ظہر یونیورسٹی کے سپیکر سے نشر کی گئی جسے ہزاروں طلبہ نے احترام سے کھڑے ہو کر سنا ہے۔ غم زدہ اور پریشان مسلمانوں کے گھروں میں نیوزی لینڈ کے شہریوں نے نہ فقط جا کر اظہار ہمدردی کیا ہے بلکہ کئی ایک کو کھانا فراہم کیا ہے چونکہ ممکن تھا کہ وہ صدمے کی وجہ سے کھانا نہ کھا رہے ہوں۔ ان کے پاس جا کر بیٹھے ہیں۔ مسجد کے باہر پھول رکھنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک پوری فضا سوگ میں ڈوبی ہوئی اور ہمدردی کا پیکر بنی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ آفرین ہے، سینے میں ماں کا دل رکھنے والی وزیراعظم جسینڈا آرڈن پر اور اس کی قوم پر۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی دیگر ممالک سے بھی حوصلہ افزا خبریں آ رہی ہیں اور انسانی ہمدردی کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں اگر کچھ پاکستانیوں کے زخم ہرے ہو گئے ہیں اور انھیں اپنے سانحات کی یاد ستانے لگی ہے کہ جب ہمارے حکمرانوں کے لب بھی ہمدردی کے لفظوں کے لیے نہ کھلے تو یہ فطری ہے۔ اس اظہار رنج پر برا منانے کی کوئی وجہ نہیں۔ ایسے ہی اگر بعض مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں دیگر مسلمانوں کے شہروں، بستیوں، آبادیوں، مسجدوں، بازاروں اور ہسپتالوں کی تباہی بعض لوگوں کو یاد آرہی ہے اور خون کے آنسو رلا رہی ہے تو اس پر اظہار ہمدردی نہیں کر سکتے تو کم ازکم مذمت نہ کیجیے، کہ لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے.جنھیں آپ کافر اور غیر سمجھتے ہیں ان کی زبان سے ہمدردی اور دلسوزی کے الفاظ اپنوں کی ستم گری کو یاد دلا ہی دیتے ہیں۔ سچ کہیں تو زخمی دل کو تو وہی ہاتھ اپنے لگتے ہیں جو مرہم لگاتے ہیں نہ کہ وہ جو چرکے دیتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...