آئیے، پائیکٹو کی طوفانی ہواؤں کی روح کے ساتھ جینے اور کام کرنے کاعزم کریں

سپریم لیڈر کوریا، کم یونگ اُن کا اپنی جماعت اور فوج کے سینئر افسران سے خطاب کا خلاصہ

369

آج میں کوہ پائیکٹوپر چڑھا، اس کی چوٹی پر پہنچا تو اس کے شان دار مناظر اور ہوا کے طوفانوں کے مقابلے میں اس کی استقامت کی تعریف کیے بنا  میں رہ نہ سکا۔

کوہ پائیکٹو ہمارا آبائی پہاڑ ہے، انقلاب کی یادگار یہ ایک مقدس پہاڑ ہے۔ یہ ہماری قوم کی روح سے وابستہ اور Songun (فوج کانظریہ حکومت)کوریا کے جذبے اور استقامت کا نمایندہ ہے۔ یہ جوچے (Juche) انقلاب کی جنم گاہ، اس کی فتح کی علامت اور اس کا رہنما نشانِ منزل ہے۔

یہ شان دار پہاڑ تبدیلی کے تسلسل کا امین ہے۔ پائیکٹو کے پہاڑوں کا سلسلہ اسی عظیم کوہ پائیکٹو سے شروع ہوتا ہے۔ گویا اس پہاڑ کی رسائی پورے ملک میں ہے۔ یہ پہاڑ کوریائی قوم کی عظمت کا نشان ہے۔

عظیم جرنیل کم یونگ ال نے فرمایا تھا کہ کوریا کے تمام انقلابیوں کو پائیکٹو کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے، اس کی انقلابی روح کو اپنے اندر  سمونا چاہیے تاکہ جوچے (Juche)کا انقلابی مقصد، جس نے پائیکٹو پر جنم لیا، آنے والی نسلوں کو منتقل کیا جا سکے۔عظیم جرنیل کی ان قیمتی ہدایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، میں پہلی بار گزشتہ بیس برسوں میں کوہ پائیکٹو پر چڑھا تھا۔ آج میں اس پر دوبارہ چڑھا ہوں تاکہ زیادہ گہرائی سے جان سکوں کہ پائیکٹو کی انقلابی روح جو کم ال سنگ کی قوم اور کم یونگ ال کے کوریا کے دل و دماغ کی عظیم طاقت کا بنیادی منبع ہے، اس کی تخلیق  کیسے ہوئی، اور اس بات کو یقینی بنا سکوں کہ سارا ملک انقلابی جذبے سے معمور اور پائیکٹو کے حفاظتی حصار میں مامون ہے۔

ملک آج  تناؤ کے حالات کا شکار ہے۔ امریکہ کا سامراجی ایجنڈا اور اس کی طفیلی فوجیں اپنی آخری سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح ہمارے  عوامی طرز کے سوشل ازم کو  ختم کر ڈالیں، اور سرخ انقلاب کے پرچم، جسے ہماری فوج اور ہمارے لوگوں نے بلند کر رکھا ہے،  کو سرنگوں کر دیں۔ اب وہ مزید منفی ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے ملک کو سیاسی طور پر غیر نمایاں کر دیں، معاشی طور پر تنہا کر دیں اور پھر اپنی مسلح افواج سے اس پر حملہ کر دیں۔ دوسری طرف وہ  “انسانی حقوق”  کےنام پر کوریا  مخالف مہم میں بھی مصروف ہیں اور ہمیں بدنام کرنے کے لیے اخلاق باختہ نفسیاتی مہم میں بھی لگے ہوئے ہیں تاکہ اپنی ان احمقانہ کوششوں سے ہمارے عظیم اور معزز ملک کی عزت پر دھبہ لگا سکیں، اور ہماری فوج اور لوگ، جو مکمل اعتماد کے ساتھ صرف اور صرف اپنی اس پارٹی کے پیچھے چلتے ہیں، کے انقلابی یقین کو ہلا کر رکھ دیں۔

مسقبل میں صورت حال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں ایسی مشکلات سے گزرنے پر مجبور کریں جو شدید مارچ اور جبریہ مارچ کے دنوں سے زیادہ کٹھن ہوں۔ تاہم، اس انقلاب کی راہ  میں ہمیں خواہ جس قسم کے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، ہم آزادی ،سن گن (Songun) اور سوشل ازم کے اس راستے پر چلتے چلے جائیں گے، جسے ہم نے خود چنا ہے، ہم اس انقلاب کی فتح حاصل کر کے ہی دم لیں گے۔ دشمن کے خلاف اس کشمکش کے ساتھ، آخری کامیابی کے حصول کے لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرکاری ملازمین اور عوام کو کوہ پائیکٹو کی پوری سمجھ ہو۔ انھیں اس بات کی بھی سمجھ ہو کہ زندگی ہو یا کام، انھیں پائیکٹؤ کی انقلابی روح، اس کی طوفانی ہواؤں کے پیغام کو زندہ رکھنا ہے، یہاں تک یہ انقلابی روح ان کے خون میں دوڑتی  ہوئی محسوس ہونی چاہیے۔

کھیل کے میدان کے شہسواروں کو بھی پائیکٹؤ کی انقلابی روح کو، اس کے طوفانی ہواؤں کی روح کو اپنے اندر سموتے ہوئے، گوریلا انداز کی جارحانہ تکنیک کے ساتھ ہر مقابلہ جیتنا چاہیے۔ انھیں ہمیشہ یہ نعرہ بلند کرنا ہے کہ “ہمیں جاپان مخالف گوریلوں کی طرح وسائل پیدا کرنا، پڑھنا اور زندہ رہنا ہے!” تمام شعبہ جات اور یونٹوں کو چاہیے کہ وہ جاپان مخالف گوریلوں کا رویہ اور طرزِ زندگی اپنائیں اور انقلابی اور فوجی انداز میں زندگی بسر کریں، تاکہ پورا سماج ایسی زندگی اور جذبے سے سرشار ہو جائے۔

تمام سرکاری ملازمین اور عوام پائیکٹو کے جنگلوں میں چھائے ہوئے اس عزم کے ساتھ کہ وہ اپنے قائد کا دفاع مرتے دم تک کریں گے، سُن کے کامسوسن محل اور جماعت کی مرکزی کمیٹی کی حفاظت کے لیے بھی پر عزم ہوں کہ وہ اپنی جان دے کر بھی ان کی حفاظت کریں گے، اور اپنی جماعت کے مقصد سے متفق رہیں گے اور اپنی قسمت اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے وابستہ کیے رکھیں گے۔

افسران اور عوامی فوج کے جوانوں کو، پائیکٹؤ کی انقلابی روح کو، اس کی طوفانی ہواؤں کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے سخت تربیت کا ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے جو کوہ پائیٹؤ کے لشکر کے شایان شان ہو اور جنگ کے لیے مکمل تیاری رکھتا ہو، تاکہ سوشلزم کے دفاع میں اہم کردار ادا کر سکے اور قومی اتحادِ نو کی عظیم جنگ میں کام یابی حاصل کر سکے۔

نظریاتی تعلیم ایک ضروری امر ہے، ایک مضبوط سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے پورے عمل کے پیچھے اس کا موجود ہونا بہت ضروری ہے، حتی کہ مستقبل میں بھی، جب ہمارے لوگ خوش حال ہو جائیں گے، ہمیں اپنی نظریاتی تعلیم پر زور دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے لوگوں کو مسلسل اور کامل استقامت کے ساتھ تعلیم دینا ہوگی اور انھیں بیدار رکھنا ہوگا۔

جماعتی تنظیمیں اور عوامی کارکن تنظیمیں، جماعت کے ممبران، سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور طلبہ کی نظریاتی تعلیم کے لیے مؤثر انتظامات کریں۔ اس کے لیے مختلف صورتیں اور طریقے اختیار کریں جن میں انقلابی رزم گاہوں اور دیگر تاریخی مقامات کی زیارتیں  کرنا شامل ہونا چاہیے۔

کوہ پائیکٹو کے مرکزی خیال پر مبنی فنون لطیفہ اور ادبی کام بڑے پیمانے پر کرائے جائیں۔ اس پہاڑ کے لیے ایک اچھا نغمہ تشکیل دیا جائے۔ اس نغمے میں جماعت کے ممبران، سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور طلبہ کے ناقابلِ شکست عزم کا اظہار ہو۔

مترجم: ڈاکٹرعرفان شہزاد

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...