پی ایس ایل: نوجوان، شہرکاری اور وطن پرستی

88

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل) کافائنل کراچی میں آج 17مارچ کوکھیلاجارہاہے۔ اس سے قبل ابتدائی میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے اورشیڈول میں تبدیلی کرکے پاکستان میں کھیلے جانے والے باقی آٹھ میچ بھی کراچی میں ہی کھیلے گئے۔ چوتھے پی ایس ایل میں چھ اہم شہری مراکز کراچی، اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور اور کوئٹہ کی ٹیمیں شریک ہورہی ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے سال مزید شہروں کی ٹیمیں حصہ لیں گی اورتمام میچ پاکستان میں ہی کھیلے جائیں گے۔

پاکستان میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح کرکٹ نوجوانوں اور شہری مراکز سے زیادہ منسلک ہے اوریہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان ان دونوں معاملات میں جنوبی ایشیا میں سب سے آگے ہے۔ یواین ڈی پی کےمطابق پاکستان میں 15 تا 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا 64 فیصد ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے بڑا تناسب ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان  میں شہرکاری(urbanization)  کا عمل جنوبی ایشیا کے باقی ممالک کی نسبت تیزتر ہے۔ پاکستان میں کل آبادی کا 39 فیصد شہری آبادی پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے دس بڑے شہر جن میں سے چھ پی ایس ایل میں حصہ لے رہے ہیں، کل شہری آبادی کے 54 فیصد کی جائے سکونت ہیں۔ یہ شہرپاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شہری مراکز پاکستان کے سب سے مقبول کھیل کرکٹ کے بھی اہم مراکز ہیں۔ زیادہ ترشہروں میں اگرچہ کھیل کے میدانوں کی کمی ہے، مثال کے طور پر کراچی میں گراؤنڈز کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ تر کرکٹ گلی کوچوں میں کھیلی جاتی ہے لیکن چھٹی والے دن شہر کے مرکزاوراس کے اطراف میں سڑکوں پروالہانہ انداز میں کرکٹ کھیلتے نوجوانوں کانظارہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کھیل کے میدانوں میں ایک ساتھ کئی ٹیمیں میچ کھیل رہی ہوتی ہیں۔

اگرچہ دیہی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے عام طورپر اپنے ہی علاقوں کے لوگوں کے قریب رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کام کے مقامات، کاروباری مراکز اوراداروں میں یہ گھل مل جاتے ہیں۔ اب شہروں کی سطح پرایک مختلف قسم کا کلچر فروغ پا رہا ہے جس نے پرانے صوبائی اورعلاقائی بندھنوں کوایک طرح سے زک بھی پہنچائی ہے۔ شہروں میں جہاں تنوع پایاجاتاہے و ہاں انضمام کے محرکات وعوامل بھی موجود ہیں ،گویا شہری مراکز ایک بہت پیچیدہ کُل کی شکل  میں نظرآتے ہیں لیکن اس کُل میں کرکٹ کی بنیاد پر پاکستانی وطن پرستی(nationalism) کا پرتو واضح طور پر محسوس کیاجاسکتا ہے۔ یہ نئی مڈل کلاس کے اندر زیادہ راسخ نظر آتا ہے۔ اس کایہ مطلب نہیں کہ اس نے تمام تر تعصبات سے نجات حاصل کرلی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ کرکٹ کے میدان کی حد تک یہ تعصبات  دفن ہو جاتے ہیں اور مختلف علاقوں وثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ حیرت انگیز طور پر یکجا ہوجاتے ہیں۔  یوں کرکٹ وطن پرستی کو راسخ کرنے کے ساتھ شہروں کے سیاسی منظرنامے پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔ لوگوں کے اندر علیحدگی پسندیت کی جانب جھکاؤ کم ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی شہرکاری، نوجوانوں کے کرکٹ سے والہانہ لگاؤ اور پختہ ہوتی وطن پرستی میں ایک تعلق ڈھونڈا جاسکتاہے۔ یہ  چیز ریاست کے فیصلہ سازوں اورسیاست دانوں کے لیے پی ایس ایل کو اہم بنا دیتی ہے۔ ملک کے حکمران و مقتدر طبقات یہ سمجھتے ہیں کہ  کرکٹ کے ذریعہ بننے والے ماحول سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کرکٹ سے وجود میں آنے والی ہم آہنگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کو دہشت گردی اور نسلی تعصبات کے توڑ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول کے طلبہ کو 2016 کے پی ایس ایل کےلیے خصوصی طورپردبئی مدعو کیا گیا۔ یہ وہ اسکول ہے جس میں طالبان نے دسمبر 2014 میں حملہ کرکے  ڈیڑھ سو کے قریب طلبہ شہید کردیے تھے۔ نجم سیٹھی نے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف اوران کے سیاسی مخالف عمران خان کوپی ایس ایل میں ایک ساتھ مدعو کیا تھا۔ اسی طرح 2017 کا پی ایس ایل، جس میں بہت زیادہ جوش وخروش دیکھنے میں آیا تھا اس کا فائنل لاہورمیں کھیلا گیا تھا اور اس میں  پاکستان کے دو سب سے زیادہ جنگ زدہ شہروں پشاور اور کوئٹہ کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ یہ میچ اس لیے بھی اہم گردانا گیا تھا کہ میچ سے دوماہ قبل مال روڈ پرپنجاب اسمبلی کے قریب بم دھماکے ہوئے تھے۔ یوں کرکٹ پاکستانی حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کےلیے صرف کھیل نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ وقعت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے پی ایس ایل میں سیاستدانوں کی دلچسپی نمایاں ہوتی ہے۔

دیہات سے شہروں کی طرف آنے والے اب ایک نئی طرح کے دلچسپ مظاہر سے آشنا ہورہے ہیں۔ جب انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کا معاملہ آتاہے تو مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے مختلف  قومیتوں کے نوجوان مل کر پاکستانی ٹیم کی حمایت کرتے ہیں، خاص طورپرجب پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہوتو ایک جذباتی فضا بن جاتی ہے۔ یہاں سندھی، پشتون، سرائیکی، گلگلتی، بلتی، کشمیری اورپنجابی سب متحد نظرآتے ہیں۔ پاکستان کی جیت پر شہروں میں نوجوان سڑکوں پرنکل کر جشن مناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پراس کااظہا روالہانہ طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں سے بالکل مختلف صورتحال ہے۔

ماضی میں پشتون قوم پرستوں کا جھکاؤ بھارت کی ہاکی اورکرکٹ ٹیم کی طرف ہوتا تھا۔ اب وہی لوگ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرتے نظر آتےہیں۔ جئے سندھ سے وابستہ نوجوان ہاسٹلوں میں پاکستان کی جیت پر مٹھائی تک بانٹتے دیکھے گئے ہیں۔ اس کا 1980 کی دہائی میں تصور بھی محال تھا۔ اب شہروں کی سطح پر کرکٹ کے میدان میں ایسا ماحول نظر آتاہے جس میں ایک طرف دیگر قومیتوں کے خلاف تعصب بھی موجود ہے اوراس کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ منزل کی جستجواورباہمی انضمام بھی پایا جاتا ہے۔ بعض افراد کے نزدیک کرکٹ کی بنیاد پر فروغ پانے والی پاکستانی وطن پرستی کو کرکٹ تک ہی محدودرکھنا چاہیے لیکن بغور دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ اس کے ذریعے شہروں کی سطح پرایک مشترکہ کلچر وجود پارہا ہےاور یہ ایک مثبت شے ہے۔ اس کے اثرات جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے ملکی سیاست میں بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ پاکستان کےموجودہ وزیراعظم ایک سابقہ کرکٹرہیں جن کی سربراہی میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتاتھا اور ان کی سیاسی جیت میں بھی کرکٹ ورلڈکپ کی فتح کا اہم کردار ہے۔

لہذا یہ کہنا بے محل نہیں ہوسکتا کہ کرکٹ نے پاکستانی شہروں کے  پروفیشنل اور مڈل کلاس طبقے کے اندر وطن پرستی کے رجحانات کو مضبوط کرنے میں خاصا کردار ادا کیاہے اور انہیں نچلی سطح کے تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...