نیوزی لینڈسانحہ: یورپ کے لیے خطرے کی علامت

گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے مسجد النور پر حملہ کرکے تقریبا 49 مسلم نمازیوں کو شہید کردیا۔ یہ واقعہ جس انداز سے پیش آیا اُس نے اس کے اثرات کو مزید پھیلادیا ہے اور اس کے نتائج دیرتک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ حملہ آور کی جانب سے ظاہر کی گئی علامتوں اور اس کی اپنی تحریروں کے مطابق اس کے پیش نظر دو مقاصد تھے،مسلمانوں سے نفرت کا اظہار اور سفیدفام برتری کا اعلان۔ یہ ایک آسٹریلوی شہری تھا لیکن اس نے اپنی شناخت یہ نہیں بتائی بلکہ خود کو یورپی ثقافت وسفید فام نسل کا محافظ ظاہر کیا۔ یہ سانحہ دو لحاظ سے یورپ کے لیے خطرے کی علامت بن کر ابھرا ہے:

یورپی سماج میں نسل کی بنیاد پر تقسیم زیادہ گہری ہوگی۔ نسلی برتری کی اساس پرتفریق یورپ وامریکا میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے،خصوصا پچھلی ایک دہائی سے نسل پرست و دائیں بازو کے سخت گیر نظریات کے حامل سیاستدان سماج میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ نظریاتی تشدد اب پچھلے کچھ عرصہ سے آہستہ آہستہ دہشت گردی میں تبدیل ہو رہا ہے۔نیوزی لینڈ کا واقعہ یورپ کے نسل پرستوں اور دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے جدوجہد کا استعارہ بن سکتا ہے جو متنوع نسلوں و ثقافتوں کے حامل اس سماج میں سخت مشکلات پیدا کردے گا۔

اس کے بعدعام مسلمانوں کے اندر یورپ کے خلاف نفرت زیادہ ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ داعش جیسی متشدد جماعتیں اٹھائیں گی اور یورپ میں رہنے والے مسلم نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرکے انہیں اپنے اہداف کے لیے استعمال کریں گی۔سانحے کے فورا بعد داعش یورپ سے انتقام کا اعلان بھی کرچکی ہے اور مسلم نوجوانوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ سخت ترین انتقام کے لیے آگے آئیں۔اگر مسیحی ومسلم متشدد جماعتوں کے مابین جنگ کا یہ سلسلہ آگے چلتا ہے تو مغربی ممالک میں امن وامان بہت زیادہ متأثر ہوگا۔

قارئینِ تجزیات اس بارے اپنی رائے کااظہار اسی صفحے پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...