تقلید و عقیدت اورمتوازن رویہ 

200

کسی بھی علمی شخصیت سےاتفاق یااس کی رائے کو قابل تقلید ماننے سے پہلے، دو باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

اوّل: علمی شخصیت کی رائے، اس کے اپنے ذوق اور مذاق کے زیراثر بھی ہوتی ہےجسے وہ ترجیحاً اختیار کرتا ہے لیکن اس پر حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہےجیسے کھانے سے پہننے تک ،قیام سے سفر تک، خلوت سے جلوت تک ،معاشرت سے خانگی زندگی تک ،مختلف مقامات و اوقات میں، انسان اپنے مذاق اور ذوق کا اظہار کرتا ہےاور وہ صرف طبع وذوق کے تابع ہوتا ہے۔

ثانیاً: عالمِ اپنی رائے تحقیق و تفحص کے بعد قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مطالعہ و تحقیق کی بنیاد پر اسے لازمی اورضروری قراردیتا ہے۔اس کے نزدیک ،وہ ”فرض” صرف اس کے مطالعہ و تحقیق کے بعدقرار پاتا ہے۔

ان دو کی روشنی میں ایک عالمِ اور اسکالر کی ذمہ داری یہ قرار پاتی ہے کہ وہ اپنے ذوق اور میلانِ طبع کا دوسروں کو پابند نہ ٹھہرائے کہ وہ بھی ویسے ہی سوچیں جیسے وہ سوچتا ہے،یا وہی رائے قائم کریں۔۔ اسے یہ بھی چاہیے کہ وہ اپنی رائے کے بارے میں بتا دے کہ یہ میری رائے ہے۔۔۔میں نے اسے اپنے ذوق کے مطابق یا تحقیق  کے بعد اختیار کیا ہے۔ آپ اس سے بہتر رائے اور دلیل پائیں تو مجھے بتائیں،میں اپنی رائے سے رجوع کرلوں گااور آپ فقط میری رائے پر عمل کریں یہ بھی ضروری نہیں ہے۔ وہ اپنےشاگردواحباب کے حلقہ میں، اس کلچر کو پروان چڑھائے جس میں وہ حرفِ آخر نہ ہو۔۔حرفِ آخر مسلمانوں میں صرف ”دین” ہوتا ہے جو قرآن مجید کی صورت میں رسول اللہ کے ذریعے امت کو عطا کیا گیاہے۔۔

متعلقین و متعلمین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے استاذ کے ذوق اور میلان طبع کو اپنے لیے لازمی اور حتمی نہ سمجھیں۔ قرآن  مجید میں، اس کی سب سے اعلیٰ اور عمدہ مثال حضرت یعقوب علیہ السلام کے حوالے سےاونٹ کے گوشت کی ہے جسے حضرت یعقوب ؑنے میلانِ طبع یا کسی اور وجہ سے ترک کیا اور قوم یہود نے اسے اپنے پر حرام سمجھ لیا۔ جب پیغمبر خدا کی میلانِ طبع اور ذوق کو اختیار کرنا امت پر لازم و فرض نہیں ہے تو پھر ہما شما کی حیثیت کیا ہے؟اس لیے ائمہ و فقہا کرام نےاسے سنت،مستحب اورمندوب میں تقسیم کیا ہے۔

اہل عقل و شعور کو ایسے ماحول میں شدید الجھن کا احساس ہوتا ہے جس میں تعلق اوروابستگی اس حالت کو پہنچ چکی ہوکہ ایک ہی علمی شخصیت کی رائے اور تحقیق کو حجت تسلیم کر لیا جائے،فقط رائے کو ہی نہیں بلکہ مکمل ماحول اس کی عقیدت و پیروی میں ڈھل جاتا ہے۔۔۔۔ٹوپی سے لے کر جوتے تک، مسکراہٹ  سے لے کر رونے تک، کلام سے  چہرے کے اُتار چڑھاؤ تک۔ ۔۔۔ایسے ماحول میں اہل عقل و شعورمحسوس کرتے ہیں کہ ان کی فطری آزادی ان سے سلب کی جارہی ہے۔علمی شخصیات کے نام پر ایسی صورت حال تب وجود میں آتی ہے جب فرقہ وجود میں آتا ہے، اس فرقے کے مقابل فرقہ اور پھر اس کے مقابل فرقہ بس پھر چل سو چل۔۔۔۔۔

مجھ سے ایک صاحب نے ایک مسئلے کا ذکر کیا کہ قرآن مجید میں اس حوالے سے فقط یہی حکم موجود ہے، لیکن دوسرے صاحب کہتے ہیں نہیں اس کے علاوہ بھی ضروری ہے،میں نے انہیں اس فرق سے بات سمجھائی کہ آپ نے براہ راست قرآن مجید پڑھا اور اللہ کے حکم کو پا لیا۔ جن صاحب کی آپ بات کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے علما کرام سے وہ مسئلہ سنا ہے۔علما کرام نے انہیں بتاتے ہوئے میلانِ طبع،تحقیق و مطالعہ اور دین کے درمیان فرق نہیں بتایا۔ اگر وہ اس فرق کے ساتھ بتاتے تو وہ اتنا ہی مسئلہ بتاتے جتنا کہ آپ نے قرآن مجید سے سمجھا ہے۔ یا پھر غلطی آپ کے دوست کی ہے کہ وہ ان کی گفتگو سے اس فرق کو نہیں سمجھ پائے کہ اللہ کا حکم کیا ہے؟میلانِ طبع اور تحقیق و مطالعہ سے قائم کر دہ رائے کیا ہے؟

عوام کی مشکل یہی ہے،اسے اس فرق سے بات سمجھادی جائےتواس کے لیےسمجھنا ہی نہیں بلکہ عمل بھی آسان ہو جائے گاورنہ وہ دین، جس کاپیغمبر اُسے”دین آسان”کہتا ہے،اس کو سمجھنے اوراس پر عمل کرنے میں مسلمان کو مشکل کیوں محسوس ہوتی ہے؟ مسلمان کی مشکل وہی ہے جو قومِ یہودونصاریٰ کی تھی کہ انہوں نے ”دین آسان” کو اپنے احبار و رحبان سے عقیدت ،ان کے میلانِ طبع اور فتاویٰ کی وجہ سے ‘دین مشکل” بنا لیا تھا۔ یقیناً آج کا مسلمان بھی اسی مشکل کا شکار ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...