ایک تازہ دم مہم

عسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کی تازہ مہم بھارت کے ساتھ تناؤ کی اس صورتِ حال میں ملک کو اخلاقی و سفارتی میدانوں میں مضبوطی اور توانائی فراہم کرے گی۔ اس سے پاکستان کو نیشنل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی اور اس مہم کا طویل دورانیہ یقیناً داخلی و سرحدی سلامتی اور ہمسایہ مملک کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں کارگر ثابت ہوگا۔
درحقیقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ، ہر دو طبقات نے اب کی بار اس مہم کو غیرروایتی اور سنجیدہ بنانے کے لیے مطابقت اور ہم آہنگی کے ساتھ کردار ادا کیا ہے۔جنوری 2002 میں جب جنرل پرویز مشرف نے متعدد عسکریت پسند گروہوں پر پابندی عائد کی ، ان دنوں میں اپنے ایک تحقیقی کام کے لیے پاکستان کی جہادی تنظیموں سے متعلق اعداد و شمار اکٹھے کررہا تھا۔آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں میں جہادی تنظیموں کے دفاتر بند کردیے گئے تھے۔اس طرح کے انتہائی حالات میں عسکریت پسندوں کو اپنا مستقبل مخدوش نظر آ رہا تھا۔ان تنظیموں کی قیادتیں یا تو گھروں میں نظر بند کردی گئی تھیں پا پھر وہ روپوش ہو چکی تھیں ، اور اس سبب ان جہادی کارکنوں کا اپنے قائدین سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔اس صورتِ حال میں بیشتر عسکریت پسندوں نے اپنی عام زندگی کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کیا اور ان میں سے چند ایک نے ایسا کیا بھی۔
میرے پبلشر مجھے جلد از جلد کتاب کا مسودہ جمع کروانے پر اصرار کررہے تھے، انہیں اس بات کا خوف لاحق تھا کہ جہادی تنظیموں پر پابندی اور ان کی ممکنہ تحلیل اس مضمون میں عوام کی دلچسپی نہ کم کردے۔ تاہم 2003 میں جب پرویز مشرف نے ان تنظیموں پر پابندی کا اعادہ کیا تو میرے پبلشر میری کتاب کے متعدد ایڈیشن فروخت کرچکے تھے۔2002میں عسکریت پسندوں پر پابندی کے پہلے فیصلے سے ابھرنے والا یہ تاثر یقینی طور پر غلط ثابت ہوا تھا کہ اس پابندی سے عسکریت پسند گروہ اپنے انجام کو پہنچ چائیں گے۔بیش تر جہادیوں نے نظریاتی اور عملی بنیادوں میں تبدیلی جیسے اقدامات سمیت ، اپنی بقا کے نئے راستے تلاش کرلیے تھے۔ان کالعدم جماعتوں میں سے وہ جماعتیں جو بنیادی طور پر کشمیر کے محاذ پر کام کررہی تھیں اور اپنے آپ کو وطن پرست قرار دیتی تھی، تبدیلی کے کئی اہم مراحل سے گزریں۔پابندی کے بعد ان میں سے کئی ایک جماعتیں ریاست کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور وہ جماعتیں جو کشمیر کے حوالے سے اپنے کاز سے وفادار رہیں، حکومت ان کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہو گئی۔جنرل پرویز مشرف، جنہوں نے ان جماعتوں پر پابندی عائد کی تھی، بعد ازاں وہ اپنے آپ کو لشکرِ طیبہ اور جماعۃ الدعوۃ کے سب سے بڑے حامی کے طور پر پیش کرتے نظر آئے۔
جہادی تنظیموں پر پابندی کے اولین اقدام کے 17برس بعد پاکستان ایک بار پھر دوراہے پر کھڑا ہے اور اپنے آپ کو ان کالعدم جہادی گروہوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کن گھڑی میں کھڑا پاتا ہے۔ان تمام سالوں میں، یہ عسکریت پسند کئی مواقع پر ملک کے لیے سفارتی و تزویراتی دباؤ کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی و فوجی قیادت کے مابین تناؤ کا سبب رہے ہیں، انہوں نے ملک کی ساکھ کوخراب کیا ہے اور اقتصادی نمو میں سست روی کی وجہ بنے ہیں۔کئی بار انہوں نے اپنے خلاف اقدام کے ریاستی عزم کو آزمائش میں ڈالا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں نے ان گروہوں کے مکمل خاتمے کی ٹھان لی ہے۔ سیاسی حکومت فخریہ طور پر یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ اس معاملے میں سیاسی قیادت اور عسکری ادارے ایک ہی صفحے پر ہیں اور یہ ہم آہنگی ہمہ قسم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کیے گئے نئے فیصلوں کے اطلاق میں انتہائی معاون و مددگار ثابت ہوگی۔اگرچہ ان گروہوں کے خلاف اٹھائے گئے حالیہ اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں تاہم ان گروہوں، اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے کارکنوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت اور طویل لائحہِ عمل درکار ہو گا۔ باوجودیکہ اب یہ گروہ اس قدر مضبوط نہیں ہیں جیسے 2002 میں تھےتاہم ایک شکست خوردہ وجود کے آخری وار کی شدت کا غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔
عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ مستقل بنیادوں پر معاملات طے کرنے کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت میں کئی مفاہمتی منصوبے زیرِ گردش ہیں جن میں سے زیادہ تر پہلے بھی اسی حوالےسے ریاستی اداروں میں زیرِ غور رہے ہیں۔مثال کے طور پر ان گروہوں کے اراکین کی نیم فوجی اداروں میں شمولیت کی تجویز پرویز مشرف کے دور میں ان پر پابندی کے پہلے فیصلے کے بعد سامنے آئی تھی جس پر بوجوہ عملدرآمد نہیں کیا جا سکا، جن میں سے ایک وجہ یہ خوف بھی تھا کہ اس طرح یہ نیم فوجی اداروں میں بنیاد پرستی کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں۔بنیاد پرستانہ رجحانات کی بیخ کنی کے ایک جامع عمل سے گزرنے کے بعد ہی یہ عسکریت پسند افراد نیم فوجی اداروں میں مختلف حیثیتوں سے شامل کیےجا نے کے اہل ہوسکتے ہیں۔
عسکریت پسند تنظیموں کے اراکین سے مصالحت اور ان میں بنیاد پرستانہ رجحانات کے خاتمے کا عمل ایک مشکل اور وقت طلب کام ہو گا۔حکومت پہلے ہی سے صوبائی سطحوں پر اس طرح کے مصالحتی مراکز کے قیام کو زیرِ غور لا رہی ہے۔فوج اگرچہ عسکریت پسند قیدیوں کی ذہن سازی کے لیے اس طرح کے تربیتی مراکز چلا رہی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے سول ادارے اس طرح کا کوئی نظم نہیں چلا رہے اور انہیں ایسا کوئی بھی نظم قائم کرنے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔
ایک اور مسئلہ جس کا تعلق ان گروہوں کے مالی وسائل کے انتظام سے ہے، کیوں کہ یہ جماعتیں ہزاروں کی تعداد میں سکول، مدرسے، صحت مراکز اور فلاحی تنظیمیں چلارہی ہیں۔ حکومت ان مدرسوں کو قابلِ اعتماد تعلیمی اداروں کی زیرِ سرپرستی مثالی مذہبی اسکولوں میں بدل دینے کی تجویز زیرِ غور لاسکتی ہے۔ اسی طرح فلاحی مراکز بھی قانونی فلاحی اداروں یا مقامی حکومتوں کے سپرد کیے جا سکتے ہیں۔
ریاست کچھ مخصوص کالعدم جماعتوں کے ساتھ بھی مفاہمت و مصالحت کا ارداہ رکھتی ہے۔ یہ خیال کسی طور درست نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ گروہ اس مصالحتی عمل اور قومی دھارے میں واپسی کو اپنی بقا کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں، اس لیے کہ یہ گذشتہ چار دہائیوں سے جن نظریات کا پرچار کررہے ہیں، ان نظریات سے اپنے آپ کو لا تعلق کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ بجائے اس کے کہ ان تنظیموں کو اپنی سیاسی جماعتیں تشکیل دینے کی اجازت دی جائے ، ان تنظیموں کے ایسے افراد جو کسی جرم یا ممنوعہ سرگرمی کا حصہ نہیں رہے ہیں ، انہیں قومی سیاسی جماعتوں،جو مذہبی سیاسی جماعتیں بھی ہو سکتی ہیں میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کالعدم گروہوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی لائحہِ عمل درکار ہوتا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمان اور سماج کے تمام متعلقہ طبقات کی مدد ومعاونت اور رضا مندی سے یہ لائحہِ عمل طے کرے۔ حالیہ پاک بھارت تناؤ کے دوران بنیاد پرست اور عسکریت پسند گروہ کسی بھی طرح کے جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں سے دوررہے جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا امر ہے۔ اس کے برعکس سماج کے تمام طبقات نے یک زبان ہو کر افواجِ پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔یہ بات اس بیانے کی نمو میں کردار ادا کرسکتی ہے کہ عوام کی جانب سے پذیرائی اور حمایت سے کوئی بھی حکومتی اقدام سندِ جواز حاصل کرسکتا ہے جبکہ یہی حمایت اگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ہو تو اثرات الٹ پڑ سکتے ہیں۔اس سے ریاستی اداروں میں بھی یہ اعتماد پیدا ہو گا کہ پاکستان اور اس کے عوام’’Hybrid Warfare‘ ‘ کے خطرے کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا حوصلہ اور اہلیت رکھتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ نقطہِ نظر جو وفاقی دار الحکومت کے دفاعی حلقوں میں گردش کررہا ہےاور امریکا طالبان بات چیت کے ممکنہ نتیجے کے حوالے سے ہے، اور یہ رجائیت پسندانہ خیال کہ افغان امن عمل خطے میں بالآخرعسکریت پسندانہ عوضی جنگ کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ کم از کم ایک لمحے کواسے ایک خوش فہمی پر مبنی خیال قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم وہ امید جو اسلام آباد نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر کے باندھی ہے، اس خیال کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...