کالعدم تنظیموں کے خلاف حالیہ ایکشن اور مضمرات

144

حکومت پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں مثلا جماعة الدعوة، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، جیش محمد وغیرہ کے جملہ اثاثہ جات بشمول ایمبولینس گاڑیوں اور دیگر فلاحی اداروں  کو حکومتی تحویل میں لیا جارہا ہے۔ کالعدم تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مکمل طور پر معطل کردیں اور کسی بھی سرگرمی کے نتیجے میں سخت کارروائی کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

ملک میں ان تنظیموں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات نئے نہیں ہیں۔ پرویز مشرف دوربلکہ اس سے بھی پہلے بے نظیر بھٹو کے دور  سے کالعدم تنظیموں پر پابندی کا  سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دو طرح کی کالعدم تنظیمیں سامنے آئیں تھیں۔ ایک وہ تنظیمیں اور گروپس تھے جن سے ریاست نے واقعی آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم کیا تھا اور جس کے نتیجے میں ان کے کارکنان کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا، ماورائے قانون گمشدگیوں اور پولیس مقابلوں کی بازگشت سنائی دی اور انہی عناصر کے خلاف آپریشنز بھی کیے گئے۔دوسری تنظیمیں وہ تھیں جنہیں بار بار ناموں کی تبدیلی کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے اور اس سلسلے میں جماعة الدعوة کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ جماعت مختلف ناموں سے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے گذشتہ الیکشن کے دوران ملی مسلم لیگ کے پیراہن میں سامنے آئی اور  اب تک کھلم کھلا سرگرم عمل رہی ہے۔ تقریباً یہی معاملہ جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ وہی تنظیمیں ہیں جن کی وجہ سے نواز شریف حکومت اور ملٹری  اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئے تھے۔ نواز حکومت کے خلاف جہاں متعدد محاذ کھولے گئے تھے، ان میں سوشل میڈیا کمپین بھی شامل تھی جس میں ” مودی کے یار اور غدار” کی تکرار کچھ اس انداز  میں کی گئی کہ نواز لیگ اس حملے کو مؤثر انداز  میں سہہ نہیں سکی تھی۔ اس کمپین کو سوشل میڈیا پر پروان چڑھانے کے لیے بعض جہادی تنظیموں کی سوشل میڈیا ٹیموں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا اور نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے پر جس انداز میں فتح کے شادیانے بجائے گئے تھے، وہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ سب کچھ محض کچھ عرصہ پہلے تک  بعض عناصر کی سرپرستی میں ہوتا رہا اور مخصوص جہادی جماعتوں کے ذمہ داران نجی محفلوں میں فخریہ انداز  میں یہ کہتے رہے کہ ہمارے دفاع کے لیے سرگرم ادارے حکومتوں کے مقابلے میں کھڑے ہوکر ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔

بہرحال اب بظاہر حالات نے پلٹا کھایا ہے اور ایک مرتبہ پھر یہ کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی جہادی و کالعدم تنظیم کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ اس مرتبہ ان اقدامات کی نوعیت کیا ہے اور کتنی سنجیدگی سے یہ ایکشن لیا جائے گا۔ اگر وقتی طور پر ایف اے ٹی ایف وغیرہ کے دباؤ سے نکلنے کے لیے ایک مرتبہ پھر دکھلاوے کے طور پر کچھ کاروائیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس سے دیرپا نقصان اور عدم استقرار کا شدید احتمال ہے۔ مقتدر حلقوں میں شاید کسی لیول پر کچھ لوگ یہ سوچتے ہوں کہ کچھ مزید وقت حاصل کر کے وقتی پریشر سے جان چھڑوا لی جائے تاکہ افغانستان میں جاری مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے ثمرات کی آڑ میں پاکستان اس پریشر سے بھی امریکی آشیرباد سے نکل جائے۔ اگر کہیں اس طرح کی سوچ ابھی بھی موجود ہے تو یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ خود کو دھوکے میں رکھنے کے بھی مترادف ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اب تک جو اقدامات حالیہ اعلان سے قبل اٹھائے گئے ہیں، ان سے اس فیصلے کی سنجیدگی صرف اس حد تک ثابت ہوتی ہے کہ اس مرتبہ کالعدم تنظیموں کو کچھ عرصے کے لیے کم از کم مکمل طور پر خاموش اور غیر متحرک کر دیا جائے گا۔ گو کہ یہ بھی اپنی جگہ ایک موثر حکمت عملی ہے مگر یہ کسی طور پر اس مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ اور اثاثہ جات کو حکومتی تحویل میں لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان تنظیموں کے پورے ملک میں مساجد و مدارس کے نیٹ ورکس موجود ہیں۔ ان نیٹ ورکس کو اگر روز مرہ کی تبلیغی و دعوتی سرگرمیوں کے لیے ان تنظیموں سے وابستہ خطیبوں اور انتظامیہ کے حوالے ہی رکھا گیا تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ معاملہ وقتی ابال کا ہی ہے۔ جوں ہی موجودہ پریشر ختم یا کم ہوگا یہ تنظیمیں کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سر اٹھا لیں گی۔ ریاستی اداروں اور فیصلوں کی قطعیت اسی وقت ثابت ہوگی جب کالعدم تنظیموں کے پورے نیٹ ورک کو تنظیمی افراد و طاقت سے آزاد کروا کر کسی دوسرے سیٹ اپ کے حوالے نہیں کیا جاتا۔

یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس وقت جن کالعدم تنظیموں کے بارے میں بین الاقوامی پریشر پروان چڑھ رہا ہے ان کا تعلق دیوبندی اور اھل حدیث مکتب فکر سے ہے۔ مقتدر قوتوں کے ساتھ بدقسمتی سے ان دونوں مکاتب فکر کی غیر متشدد سیاسی قوتوں کے تعلقات پہلے سے بوجوہ تلخی کا شکار ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اس وقت ملک کے طول و عرض میں بڑے بڑے اجتماعات کر رہے ہیں اور ریاستی اداروں کی سیاسی پالیسی و مداخلت پر شکوہ کناں ہیں۔ کچھ یہی حال پروفیسر ساجد میر کا بھی ہے۔ کالعدم تنظیموں کے کارکنان کی مین اسٹریمنگ کا ایک ممکنہ طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ انہیں اپنی نظریاتی وابستگی کے قریب تر دستیاب نان جہادی سیاسی و مذہبی تنظیم کے نیٹ ورک کے سائے میں آنے کا آپشن دیا جاتا تو بہت سے مسائل سرے سے جنم ہی نہ لیتے۔ مگر موجودہ سیاسی کشمکش میں اس حل کے بارے میں سوچنا بھی عبث ہے۔ اس اعتماد کے فقدان کی موجودگی میں یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ اگر ریاستی ادارے اس مرتبہ واقعی سنجیدہ ہیں تو ان  کالعدم تنظیموں کے بارے میں لانگ ٹرم پلان کیا ہے؟ میں اسٹریمنگ کی بات کرنا تو آسان  ہے مگر اس کی تفصیلات و جزیات جب تک سامنے نہیں آتیں، اس وقت تک یہی کھٹکا لگا رہے گا کہ یہ سب کچھ وقتی ابال کا شاخسانہ ہے اور ان تنظیموں نے کسی اور شکل میں دوبارہ نمودار ہوجانا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...