ہم نے جینا ہے اور بھر پور جینا ہے

260

وقاص نے زہر کھا لیا ، اسداللہ نے پھندالے لیا، مقدس نے تیزاب پی لیا۔ یہ وہ خبریں ہیں جو آئے روز اخبارات کی زنیت بنتی ہیں۔آپ کوہر اخبار کے دوسرے یا آخری صفحے پریہ نیوز ضرور ملے گی،جو تین سے پانچ افرادکے بارے میں ہوگی ۔ایک محتاطاندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ چار افراد خودکشی کرتے ہیں۔ یہ وہ تعدادہے جو رپورٹ ہوتی او ر خبر کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو رپورٹ نہیں ہوتی اس کے حوالے سے اعدادوشماردستیاب نہیں۔کہیں یہ خبر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے حوالے سے ہوتی ہے تو کہیں گھریلو جھگڑے اور ڈانٹ ڈپٹ کی بنیادپر۔

تعلیمی دباؤ کا سامنا ہر دور میں طلبہ کو رہا ہے،یہی حال کسی بھی گھر کی معیشت کا بھی ہوتا ہے۔ ہرگھرمیں جھگڑے بھی ہوتے ہیں جو کہ نئے نہیں ہیں،بڑوں سے ڈانٹ بھی پڑ جاتی ہے مگر اس کامطلب خود کشی ہر گزنہیں ہوتا۔ مگر آج کا انسان ان باتوں کو بہت سنجیدہ لینے لگا ہے خاص طور پرہمارا نوجوان طبقہ۔وہ پرھائی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہے  نہ کم آمدنی کا۔اسے سب کچھ من پسند چاہیے اورمحنت کے بغیر چاہیے ۔بہت کم بچے ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں، جو سمجھ جاتے ہیں انہیں زمانے نے عروج پاتے بھی دیکھا اور مطمئن بھی، اطمنان قلب و روح کا تعلق پیسے سے نہیں ہے ،یہ ہم اپنے بچوں کو سمجھانے میں ناکام ہیں شاید۔ماں باپ بھی، استاد بھی اور ہم لکھنے والے بھی۔

گذشتہ دنوں تعلیمی اداروں سے وابستہ دوستوں کے ساتھ اس ایشو پر بحث چھڑ گئی، خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رحجان ، جس کو وہ مرنے سے قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کرتے ہیں ۔ سب ایم فل پڑھے لکھے استاد،جو روزانہ چالیس چالیس طلبہ پر مشتمل کئی کلاسز پڑھاتے ہیں اور ان کے ذہنی رحجانات کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ ان سب کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ آج کے بچوں،خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، ان میں ’’صبر‘‘ کا مادہ کم ہوگیاہے۔ انہیں سب کچھ چاہیے اور وقت سے پہلے چاہیے اور صبرکیوں کم ہوا ،اس کی وجہ اکثریت نے ’’جنک فوڈ‘‘ کو قرار دیا۔ جنک فوڈ جو اب بڑے بڑے ہوٹلوں سے نکل کر گلی محلوں کے ٹھیلوں تک سے بھی دستیاب ہے۔ جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جو ہو رہا ہے اسے بیان کرنا بہت مشکل ہے ، کیونکہ وہ سچ قبول کرنا بہت مشکل ہے۔ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ظاہر ہے کہ مڈل کلاسیئے تو گھس نہیں سکتے، اشرافیہ کے بچے ہی آتے ہیں اور اگر شومئی قسمت مڈل کلاس کا کوئی بچی یا بچہ کسی سپورٹ کی بنیاد پر وہاں چلا گیا ، وہ تو اس دنیا کی چمک میں ہی کھو جاتا ہے اور اس کا احساس محرومی اسے ان راستوں کا راہی بناتا ہے جن کا انجام ایسی بند گلی پر ہوتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

اساتذہ کے اس گروپ کا کہنادرست ہے ،کیونکہ اپنے بچپن کی طرف دیکھتی ہوں تو امی کھانے پکاتے ہوئے اللہ کا کلام پڑھا کرتی تھیں، ہم سب ایک جگہ بیٹھ کر گھر کاپکا ہوا کھاتے تھے۔یہی حال ارد گردکے ہر گھر کا تھا۔ ٹفن ہمارے ساتھ ہوتے تھے جو بریک میں ہم اکیلے نہیں کھاتے تھے بلکہ دوستوں کے ساتھ مل کر کھاتے تھے۔میں سکول کے بعد کالج میں بھی ٹفن لیکر جاتی تھی ،انڈا پراٹھا  ،آلو کی بھجیا پراٹھایاپھر کباب پراٹھا،جو میرے ساتھ میرے سہیلیاں ثروت اور الوینہ بھی بڑے شوق سے کھاتی تھیں۔ ایک پراٹھے کے تین حصے ہم پوری دیانت داری سے کرتے تھے، پھر کالج سے کچھ لیکر کھالیتے تھے، امی کو بتایا تو پراٹھے ایک سے دو ہوگئے۔ وہ دونوں بھی خوش ہو گئیں اور دوستی مزید پکی۔

مگر آج کے بچوں کے ٹفن میں ماں کے ہاتھ کا پکا کھانا نہیں ہوتا، صبح ناشتہ بھی ماں نہیں کراتی۔ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آج کی بعض مائیں اپنے بچوں سے پیار بھی نہیں کرتیں۔ ان کے لیے بچے بوجھ ہیں۔ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ باپ ملازمت میں مصروف اور یہ اپنی خود ساختہ سوشل سرگرمیوں میں۔ بچہ نظر انداز ہوتے ہوتے احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر پہلے نشے کا عادی ہوتا ہے اور پھر اچانک جب ماں باپ کو احساس ہوتا ہے ،تو سختی اسے ان سے مزید دور لے جاتی ،اتنی دور کہ وہ کفن اُوڑھ کر سو جاتا ہے۔پھر صرف ایک پچھتاوا اور بس۔

کہیں محبت میں ناکامی پر لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں،زندگی میں سب کچھ ویسا نہیں ملتا جیسا کہ ہم سوچتے ہیں۔ زندگی ہماری سوچ سے مختلف ہے اور ہمارے خوابوں اورہماری اُمیدوں سے بہت ہٹ کر ہے اور الگ سی جیسی ہم نہیں چاہتے و یسی ہے زندگی۔ دراصل ایک عمر ہوتی ہی پاگل ہے جو سرابوں کے پیچھے بھاگتی ہے،دھوکا کھاتی ہے ،لٹ جاتی ہے یا لوٹ لی جاتی ہے، کبھی راہزن کے ہاتھوں یا کبھی رہبر کے ہاتھوں۔لوٹنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے ساتھ کیا کچھ لے کر جا رہے ہیں اور پیچھے کتنا اندھیرا چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔لوٹنے والے تو فقط اپنے تھیلے بھرتے ہیں اور چل دیتے ہیں ۔پیچھے مڑ کر بھلا کون دیکھتا ہے۔زندگی کا یہ ایسا روپ دیکھ کرکمزور زندگی کو بوجھ سمجھتا ہے اور جان دے دیتا ہے۔

یعنی خود کشی کی اہم ترین وجوہات جو ہمیں سمجھ آتی ہیں ان میں تعلیمی دباؤ،معاشی مسائل ، محبت میں ناکامی اوربڑوں کی ڈانٹ ڈپٹ شامل ہے اور ان سب کو برداشت نہ کرنے کا سبب آج کے انسان میں صبر کا نہ ہونا ہے۔صبر مذہب کی تعلیمات پر کاربند رہنے سے آتا ہے،یہ سمجھنے سے آتا ہے کہ ہمارا خالق بہت مہربان ہے ،ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ ہمیں کسی بھی حالت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔صبر ماں باپ کی قربت، محبت اور تربیت سے پیدا ہوتا ہے،تعلیم انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔صبروقت اورحالات کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہے اور انسان میں غیر معمولی حالات میں بھی قائم رہنے کا ہنر پیدا کرتا ہے۔سقراط نے کہا تھا کہ ’’تعلیم یافتہ آدمی مسرتوں کے ہجوم میں آپے سے باہر نہیں ہوتا اور نہ ہی غموں کی موجودگی میں مایوس ہوتا ہے‘‘۔

کہنے کو تو پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ۔97 فیصد آبادی مسلمان ہے مگر شاید ہم نے صرف کلمہ پڑھ رکھا ہے ،ہم آدھے تیتر،آدھے بیٹر بنتے جا رہے ہیں، ہماری خوارک میں ایسی ایسی چیزیں شامل ہو گئی ہیں جو ہمیں دین سے تو دور کر چکی ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود سے بھی دور کرتی جا رہی ہیں۔نوالے توڑکر کھانے کی بجائے جب ہم برگر، شوارمہ ،پراٹھا رول اور اس جیسی دوسروں اشیاکو دانتوں سے توڑ کر کھائیں گے تو شاید بے صبرا پن ہی ہماری شخصیت کا حصہ بن کر ہماری زندگی کو گھن کی طرح کھا جائے گاجیسے اب کھا رہا ہے اور بہت تیزی سے کھا رہا ہے۔ مجھ جیسے لکھنے والے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصے کی شمع روشن کرجائیں گے مگر خوشی تب ہوگی جب اندھیروں کا کوئی ایک راہی بھی راہ پر آجائے اور زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں گے ہمت ہے تو سامنے آ، ہم نے جینا ہے اور بھر پور جینا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...